Home » Heart » آ بتاؤں تجھ کو رمز آیہء “ان الملوک

آ بتاؤں تجھ کو رمز آیہء “ان الملوک

آ بتاؤں تجھ کو رمز آیہء “ان الملوک”

“ان الملوک” . . . یہ دو لفظ ایک قرآنی قصّے کی طرف اشارہ کرتے ہیں

اور اِس پورے قصّے میں سے ، اِن ہی دو لفظوں کا انتخاب ، اِس بات کی دلیل ہے کہ علامہ اقبال کا قرآنِ کریم سے بہت الگ تعلق تھا اور انھوں نے بہت گہرائی سے اللہ کے کلام کی روشنی میں دنیا کے معاملات کو سمجھا اور اپنے اشعار میں سمویا ۔

اس قرآنی قصے کی طرف آتے ہیں ،سورۃ نمل کی آیت نمبر34 کی طرف اشارہ ہے . . . جب سباء کی ملکہ بلقیس کو ہُدہُد کے ذریعے حضرت سلیمان ؑ کا پیغام پہنچا۔

“وہ کہنے لگی: اے سردارو ! میری طرف ایک باوقعت خط ڈالا گیا ہے۔”

“یہ کہ تم میرے سامنے سرکشی نہ کرو اور مسلمان بن کر میرے پاس آجاؤ۔”

“اُس نے کہا : اے میرے سردارو! تم میرے اِس معاملے میں مجھے مشورہ دو۔ میں کسی امر کا قطعی فیصلہ نہیں کِیا کرتی، جب تک کہ تمھاری موجودگی اور رائے نہ ہو۔”

“اُن سب (سرداروں)نے جواب دیا: ہم طاقت اور قوّت والے، سخت لڑنے بِھڑنے والے ہیں۔ آگے آپ کو اختیار ہے ، آپ خود ہی سوچ لیجیئے کہ ہمیں آپ کیا حکم فرماتی ہیں۔”

“اُس (ملکہ)نے کہا: جب بادشاہ کسی بستی میں گھُستے ہیں تو اُسے اُجاڑ دیتے ہیں اور وہاں کے باعزّت لوگوں کو ذلیل کردیتے ہیں اور . . .یہ لوگ بھی ایسا ہی کریں گے۔”

” میں انہیں ایک ہدیہ بھیجنے والی ہوں ، پھر دیکھ لُوں گی کہ قاصد کیا جواب لے کر لَوٹتے ہیں۔”

سورۃ نمل- آیت29-35 ، ترجمہ مصحف الحرمین

گویا کہ ملکہ کے مشیر اور عمائدین ، ملکہ کو اپنے ساتھ کا بھر پور یقین دِلا رہے ہیں کہ آپ ہمارے قوّتِ بازو پہ بھروسہ کر سکتی ہیں، ہم اپنا بھر پور دفاع کریں گے لیکن ملکہ، جنگ کے نقصانات کے پیشِ نظر مصالحت کی طرف آمادہ ہیں۔

ـ “ان الملوک” . . . کا لفظی ترجمہ ہوا ” جب بادشاہ” جو کہ ملکہء بلقیس کے الفاظ ہیں کہ . . .

-1:” جب بادشاہ” کسی بستی میں گھُستے ہیں تو اُسے اُجاڑ دیتے ہیں اور

-2: وہاں کے باعزّت لوگوں کو ذلیل کردیتے ہیں۔

اس مصرعے میں علامہ اقبال نے “ملکہء بلقیس” کے اِن دو الفاظ کی مدد سے بادشاہت، بیرونی حملہ آوروں اور حاکمیت، محکومیت کے بارے میں اسرار و رموز کی سب بات کہہ دی ہے ، وہ اِس کے لئے رمز کا لفظ استعمال کرکے بات کی گہرائی کی طرف اشارہ کر رہے ہیں . . . کہ جب کوئی بادشاہ یا حکومت دوسری قوم پر غالب آجاتی ہے، تو وہ محکوم قوم کو تباہ و برباد کردیتی ہے اور اِس کے شرفاء کو ذلیل کر دیتی ہے۔ اُنھیں عزت دار اور با شرف لوگوں کی تمیز نہیں ہوتی اور محض اپنی حکومت مضبوط کرنے کے لئے مغلوب قوم کو ذلیل و رُسوا کردیتی ہے۔ بیرونی آقا ہر وہ حربہ استعمال کرتے ہیں جس کے ذریعے اپنا استعمار وہاں گاڑ سکیں ، اُس جگہ کی بنیادیں کمزور کرسکیں، اُس قوم کے وسائل اور مالیات پر قبضہ کرلیتے ہیں، احساسِ خودی ، عزّتِ نفس اور دفاع کی حِس کو مفلوج کردیتے ہیں . . . تاکہ محکوم میں مزاحمت ٹوٹ جائے۔

اِسی شعر کا دوسرا مصرعہ ہے :

سلطنتِ اقوامِ غالب کی ہے اِک جادوگری

اِن غالب اقوام کی سلطنت اور بادشاہت کا یہی راز ہے ، اور یہی ہنر ہے کہ یہ کسی قوم پر غالب ہو کر اُس کے اہلِ عزت اور معزز لوگوں کو رُسوا کردیتے ہیں۔ اسی طریقے سے یہ اپنا غلبہ قائم رکھ سکتی ہیں۔ اِن کے پاس یہی جادو کا ، وہ نسخہ ہے ، جس سے اقتدار اور تحکّم پہ قابض رہا جاسکتا ہے . . . .کہ عزّت اور غیرت مِٹا دو۔ اپنا استعمار اور تسلط قائم رکھنے کا یہی طریقہ ہے کہ جس قوم پہ قبضہ کرو ، اُسے بےعزت کردو، اُس کی حمیّت ختم کردو۔یہ مصرعہ استعمار کی تمام شکلوں کی بخوبی وضاحت کرتا ہے۔

۔ یہ بانگِ درا کی نظم ” خضرِ راہ” کا چھٹا بند ہے۔

اسلامیہ ہائی سکول لاہور کا مقام ہے، اپریل 1922 کا زمانہ ہے، انجمن حمایتِ اسلام کا سالانہ جلسہ جاری ہے ، علامہ محمد اقبال یہ نظم پڑھتے ہوئے رونے لگتے ہیں، رِقّت طاری ہوجاتی ہے اور سامعین بھی رونے لگتے ہیں۔

pic_iqbal_001 :::::: ”

خضر راہ“نظم اقبال نے انجمن حمایت اسلام کے 37 ویں سالانہ اجلاس میں جو 12 اپریل 1922ءاسلامیہ ہائی سکول اندرون شیرانوالہ میں منعقد ہوا تھا میں ترنم سے پڑھ کر سنائی۔ بعض اشعار پر اقبال خود بھی بے اختیار روئے اور مجمع بھی اشکبار ہو گیا۔ عالم اسلام کے لئے وہ وقت بہت نازک تھا۔ قسطنطنیہ پر اتحادی قابض تھے ۔ اتحادیوں کے ایماءپر یونانیوں نے اناطولیہ میں فوجیں اتار دی تھیں۔ شریف حسین جیسے لوگ انگریزوں کے ساتھ مل کر اسلام کا بیڑہ غرق کرنے میں پیش پیش تھے۔ خود ہندوستان میں تحریک ہجرت جاری ہوئی۔ پھر خلافت اور ترک موالات کا دور شروع ہوا۔ ادھر دنیائے اسلام کے روبرو نئے نئے مسائل آگئے۔ اقبال نے انہی میں سے بعض اہم مسائل کے متعلق حضرت خضر کی زبان سے مسلمانوں کے سامنے صحیح روشنی پیش کی۔ اور نظم کا نام خضر راہ اسی وجہ سے رکھا۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s