Home » Heart » روزہ . . . بھوک پیاس کیوں ؟

روزہ . . . بھوک پیاس کیوں ؟

روزہ . . . بھوک پیاس کیوں ؟

ramadan-2012-calendar-dates-and-sehri-iftar-timetable1

روزے کی غرض و غایت تقویٰ ہے ۔ یہ فرضیت اور ماہِ مبارک کی آمد اور اہتمام ، اِس سب کے پیچھے جو مقصد کارفرما ہے ، وہ تقویٰ کا حصول ہے۔ اور دلیل اِس بات کی ، قرآن کی یہ آیت ہے :

يا ايا الذين آمنوا كُتب َ عليكم الصّيام كما كُتب علىٰ الذّين مِن قبلكُم لعلّكم تتّقون۔ البقرہ- 183

ترجمہ: اے ایمان والو تم پر روزہ فرض کیا گیا ہے جیسا کہ ان لوگوں پر فرض کیا گیا تھا جو تم سے پہلے تھے، تاکہ تم تقوی اختیار کرو-

ایسے روزے کے لئے ، جو دِل میں تقویٰ پیدا کرے ، انسان کو کچھ تقاضے پورے کرنے ہوں گے۔

پہلی اساسی بات یہ ہے کہ ، ایسا روزہ کبھی تقویٰ پیدا نہیں کرسکتا ، جس میں کسی بھی وجہ سے انسان کی کوئی نماز ضائع ہوجائے۔

رواج بن گیا ہے کہ رمضان کے خصوصی اہتمام کے سلسلے میں، سحر اور افطار میں اکثر کھانے کی مقدار ہی نہیں بڑھتی . . . بلکہ معیار اور تنوّع میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔ اِسی سے متعلقہ . . . .

دوسری نکتے کی بات یہ ہے کہ . . . .سحر اور افطار میں اعتدال سے زیادہ کھانے پینے کے ساتھ . . تقویٰ پیدا کرنے والا روزہ حاصل نہیں ہوسکتا ۔

روزے میں مخصوص اوقات میں ، کھانے پینے سے موقوف ہو کر، بھوک کی حالت میں . . . تمام جسم میں اُس بھوک کے لطیف اثرات کو محسوس کرنا اَزحد ضروری ہے۔ کیونکہ جب پیٹ بھوکا ہو تو باقی تمام اعضاء کو سَیری حاصل رہتی ہے۔ اور پیٹ جب بھر جائے تو دیگر اعضائے جسم کی بھوک جاگ اُٹھتی ہے اور وہ اپنی اپنی طلب پوری ہونے کا تقاضا کرنے لگتے ہیں ۔ اِسی لئے عام مشاہدہ ہے کہ رمضان میں شیاطین بند ہونے کے باوجود کئی منکرات اور برائیاں بڑھ جاتی ہیں۔

ایسا اِس لئے ہوتا ہے کہ کثرتِ طعام، ذہنی غفلت، کاہلی اور نیند کی زیادتی سے انسانی نفس کی خواہشات بھڑکتی ہیں اور . . .یہ خواہشاتِ نفسی انسان کے دِل پر مضر اثر ڈالتی ہیں۔

انسانی نفس میں بھوک کی جبلّت بہت اہمیت رکھتی ہے اور بھوک کے اثرات کو، عرصہء دراز سے، کئی طرح استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن روزے میں ، نفس پر بھوک اور پیاس سے پیدا ہونے والے ، اثر کو مختلف طرح ضائع کرلیا جاتا ہے۔ جیسے . . روزے کے دوران تکبر کے گمان اور زعم میں رہنا اور بار بار جتانا کہ بہت ہی پیاس لگی . . .بھوک نے کام کردیا . . روزہ لگا . . وغیرہ، روزے نہ رکھنے والوں کو حقارت سے دیکھنا ، بھوکا پیاسا ہونے کی وجہ سے اضطراب اور جھنجھلاہٹ کا شکار ہونا ، غصہ ہونا، زبردستی بہت زیادہ سو کر وقت گزاری کرنا . . . یا اپنے ہی بھوکا پیاسا ہونے پر خود ترسی میں مبتلا رہنا . . .

یہ سب باتیں نفسِ انسانی کو روزے میں پیدا ہونے والے اثر سے محروم کردیتی ہیں اور انسان کو روزے کی اِس کیفیت کا سرور، ٹھہراؤ اور آہنگی محسوس کرنے سے روک دیتی ہیں۔ انسان کی حسِیّات ایک دوسری جانب چل پڑتی ہیں اور اپنے نفس میں آنے والی اِس خوشگوار ، پاکیزہ چمک کو محسوس نہیں کرپاتی۔ روزے کی حالت میں انسانی دل اور جوارح میں ایک سکون قائم ہوتا ہے، جس سے سوچ کے نئے زاویے نظر آتے ہیں ، خضوع اور عبودیت کی لذت تک رسائی ہوتی ہے، باہر کی دنیا کی نسبت اندر کی دنیا کا دَرکھُلتا ہے۔

روزے کا وقت ختم ہوتا ہے تو انسان کا معدہ ناکو ناک کھانے سے بھر جاتا ہے ۔ معدے کے ساتھ ساتھ ذہن الگ کنفیوژن کا شکار ہوتا ہے کہ طعام کی اِس رنگا رنگی میں کیا کھایا جائے اور کیا چھوڑا جائے ۔ اِسی ذہنی اور جسمانی انتشار کے عالم میں انسان غیر صحت مند کھانا . . . غیر صحت مند انداز میں ٹھونس لیتا ہے۔

کھانے پینے کا کام جاری ہونے کے ساتھ ذہن اور جسم کی دیگر آوارگیوں کا وقت بھی آن پہنچتا ہے جس میں الیکٹرانک میڈیا، سگریٹ نوشی، بازاروں کے اخلاقی اور معاشی مفاسد وغیرہ شامل ہیں۔

13
12
Ramzan-Ramadan-Jokes-and-Humour-Eye-Specialist-checking-the-eyes-of-a-shopkeeper-during-Ramzan-Funny-Jokes-during-Ramzan

تو گویا تمام دن کی تپسیّا کے بعد ، روزے کو جو اثرات مرتّب کرنے تھے، وہ سب ختم ہوجاتے ہیں اور جن فوائد کو پیدا ہونا تھا ، اُن کا نام و نشان بھی نہیں ہوتا ۔ ایسے میں دِل کی سختی مزید بڑھ جاتی ہے، نفس مزید غافل ہوجاتا ہے ، دِل کو بینائی حاصل ہونے کی جگہ اندھیرا بڑھ جاتا ہے ۔

ایسے میں انسان اطاعت کے لئے رغبت اور شوق میں کمی محسوس کرتا ہے ۔ لذّتِ شوق اور عبودیت میں اضافہ نہیں ہوتا بلکہ یہ نعمتیں ہاتھ سے جانے لگتی ہیں ۔

روزے کے ساتھ تقویٰ کی نعمت ، اُس وقت نصیب ہوتی ہے جب کھانے پینے سے باز رہنے کے ساتھ ساتھ، اپنے نفس کو پابند اور محبوس کرکے ، غفلت کے اثر سے نکالا جائے اور خواہشات اور تقاضے کرنے سے روک کر اپنا تابع کیا جائے، نہ کہ خود نفس کی اتباع کی جائے۔

ماہِ مقدس کے اچھے آغاز کی شان یہ ہے کہ وہ اچھے نتائج پر اختتام پذیر ہو جن میں تربیتِ نفس لازمی ہے۔ یہ عزم ضروری ہے کہ روزے کے ساتھ تقویٰ کا حصول حتمی ہو کیونکہ اللہ رب العزت کے ہاں قبولیت کی ایک شرط تقویٰ ہے ۔ “اِنّما یتقبّلُ اللہُ منَ المتّقین”

ترجمہ و مفہوم از ڈاکٹر خالد بن عثمان السبت رحمہ اللہ

Phases-of-Ramadan-Symbol-Moon-Pictures-Images-Photos-2013
Once again on this Ramadan, with best of wishes.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s