Home » Life » 3rd part of Character Sketch by Quran

3rd part of Character Sketch by Quran

حصہ تیسرا ، قُرآنِ پاک میں بیان کردہ شخصی اوصاف میں سے چند ایک ، اختصار کے ساتھ:

Part 3 : A little effort to put down some good qualities of a character, described by the Holy Qura’an. What qualities Quran guides us to:

-پارہ 3:

-1- مالی امداد کرکے ایذارسانی نہ کرنا

-اللہ کی رضا کے لئے مال خرچ کرنے کے بعد احسان نہ جتانا اور جسے صدقہ دیا گیا ہے اُسے نفسیاتی یا ذہنی اذیت نہ دینا

– سورۃ البقرہ/ آیت262/ الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ لَا يُتْبِعُونَ مَا أَنفَقُوا مَنًّا وَلَا أَذًى ۙ لَّهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ/ جو لوگ اپنے مال الله کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر خرچ کرنے کے بعد نہ احسان رکھتے ہیں اور نہ ستاتے ہیں انہیں کے لیے اپنے رب کے ہاں ثواب ہے اوران پر نہ کوئی ڈر ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے

-2- نرم بات کہنا اور معاف کردینا

– انسان کی نرم گوئی اور درگزر کرنا ، اِس صدقہ سے بہتر ہے جس کے بعد ایذا رسانی ہو یا تکلیف پہنچائی جائے۔ تکلیف پہنچانے سے مراد صدقہ کرنے کے بعد احسان جتانا ، تکبر کرنا اور جسے صدقہ دیا گیا ہو اُس کی تحقیر و تذلیل کرنا

-سورۃ البقرہ/آیت 263/ قَوْلٌ مَّعْرُوفٌ وَمَغْفِرَةٌ خَيْرٌ مِّن صَدَقَةٍ يَتْبَعُهَا أَذًى ۗ وَاللَّهُ غَنِيٌّ حَلِيمٌ/ مناسب بات کہہ دینا اور درگزر کرنا اس خیرات سے بہتر ہے جس کے بعد ستانا ہو اور الله بے پروا نہایت تحمل والا ہے

-3-لین دین کے معاملات کو تحریر کرنا

-ایمان والوں کو چاہیئے کہ جب بھی آپس میں لین دین کریں تو مالی معاہدہ تحریر کرکے گواہ کا اہتمام کریں۔محض زبانی کلامی سودے پہ اکتفا نہ کریں۔ زبانی معاملے میں بھول چُوک بھی ہوسکتی ہے۔ بد گمانی پیدا ہوتی ہے اور بے ایمانی کرنے والے کو موقعہ ملتا ہے

-سورۃ البقرہ/آیت 282/ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَدَايَنتُم بِدَيْنٍ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوهُ ۚ وَلْيَكْتُب بَّيْنَكُمْ كَاتِبٌ بِالْعَدْلِ ۚ وَلَا يَأْبَ كَاتِبٌ أَن يَكْتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ اللَّهُ ۚ فَلْيَكْتُبْ وَلْيُمْلِلِ الَّذِي عَلَيْهِ الْحَقُّ وَلْيَتَّقِ اللَّهَ رَبَّهُ وَلَا يَبْخَسْ مِنْهُ شَيْئًا ۚ فَإِن كَانَ الَّذِي عَلَيْهِ الْحَقُّ سَفِيهًا أَوْ ضَعِيفًا أَوْ لَا يَسْتَطِيعُ أَن يُمِلَّ هُوَ فَلْيُمْلِلْ وَلِيُّهُ بِالْعَدْلِ ۚ وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِن رِّجَالِكُمْ ۖ فَإِن لَّمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ مِمَّن تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ أَن تَضِلَّ إِحْدَاهُمَا فَتُذَكِّرَ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَىٰ ۚ وَلَا يَأْبَ الشُّهَدَاءُ إِذَا مَا دُعُوا ۚ وَلَا تَسْأَمُوا أَن تَكْتُبُوهُ صَغِيرًا أَوْ كَبِيرًا إِلَىٰ أَجَلِهِ ۚذَ‌ٰلِكُمْ أَقْسَطُ عِندَ اللَّهِ وَأَقْوَمُ لِلشَّهَادَةِ وَأَدْنَىٰ أَلَّا تَرْتَابُوا ۖ إِلَّا أَن تَكُونَ تِجَارَةً حَاضِرَةً تُدِيرُونَهَا بَيْنَكُمْ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَلَّا تَكْتُبُوهَا ۗ وَأَشْهِدُوا إِذَا تَبَايَعْتُمْ ۚ وَلَا يُضَارَّ كَاتِبٌ وَلَا شَهِيدٌ ۚ وَإِن تَفْعَلُوا فَإِنَّهُ فُسُوقٌ بِكُمْ ۗ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖوَيُعَلِّمُكُمُ اللَّهُ ۗ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ / اے ایمان والو! جب تم کسی وقت مقرر تک آپس میں ادھار کا معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو اور چاہیئے کہ تمہارے درمیان لکھنے والے انصاف سے لکھے اور لکھنے والا لکھنے سے انکار نہ کرے جیسا کہ اس کو الله نے سکھایا ہے سو اسے چاہیئے کہ لکھ دے اور وہ شخص بتلاتا جائے کہ جس پر قرض ہے اور الله سے ڈرے جو اس کا رب ہے اور اس میں کچھ کم کر کے نہ لکھائے پھر اگر وہ شخص کہ جس پر قرض ہے بے وقوف ہے یا کمزور ہے یا وہ بتلا نہیں سکتا تو اس کا کارکن ٹھیک طور پر لکھوا دے اور اپنے مردوں میں سے دو گواہ کر لیا کرو پھر اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دوعورتیں ان لوگوں میں سے جنہیں تم گواہو ں میں سے پسند کرتے ہوتاکہ اگر ایک ان میں سے بھول جائے تو دوسری اسے یاد دلا دے اور جب گواہوں کو بلایا جائے تو انکار نہ کریں اور معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا اس کی معیاد تک لکھنے میں سستی نہ کرو یہ لکھ لینا الله کے نزدیک انصاف کو زیادہ قائم رکھنے والا ہے اور شہادت کا زیادہ درست رکھنے والا ہے اور زیادہ قریب ہے اس بات کے کہ تم کسی شبہ میں نہ پڑو مگر یہ کہ سوداگری ہاتھوں ہاتھ ہو جسے آپس میں لیتے دیتے ہو پھر تم پر کوئی گناہ نہیں کہ اسے نہ لکھو اور جب آپس میں سودا کرو تو گواہ بنا لو اور لکھنے والے اور گواہ بنانے والے کو تکلیف نہ دی جائے اور اگر تم نے تکلیف دی تو تمہیں گناہ ہوگا اور الله سے ڈرو اور الله تمہیں سکھاتا ہے اور الله ہر چیز کا جاننے والا ہے

-4- نیک اور پاک اولاد کے لئے دعا کرنا

حضرت زکریا ؑ نے بڑی عاجزی کے ساتھ اللہ سے طیب ذریت کی دعا کی۔ اُن کی دعا سے یہ بات پتہ چلتی ہے کہ ایک تو اولاد کے لئے اللہ ہی سے دعا کی جائے اور اولاد کے حق میں نیکی اور صلاح کا سوال کیا جائے۔ یہی اللہ کے نبیوں کا شیوہ رہا ہے۔

-سورۃ آل عمران/ آیت 38/ هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهُ ۖ قَالَ رَبِّ هَبْ لِي مِن لَّدُنكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً ۖ إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ/ زکریا نے وہیں اپنے رب سے دعا کی کہا اے میرے رب! مجھے اپنے پاس سے پاکیزہ اولاد عطا فرما بے شک تو دعا کا سننے والا ہے۔

-1- Spending wealth on the needy without hurting or teasing. Quran stops a Muslim to follow a favor with discriminating, mentioning or insult. Quran says: Albaqara/262/ Those who spend their wealth in the Cause of Allah, and do not follow up their gifts with reminders of their generosity or with injury, their reward is with their Lord. On them shall be no fear, nor shall they grieve.

-2- A Muslim must be soft spoken and forgiving. A softly spoken word is better than an insulting favor. Quran says: Albaqara/ 263/ Kind words and forgiving of faults are better than Sadaqah (charity) followed by injury. And Allah is Rich (Free of all needs) and He is Most-Forbearing.

-3- Any financial deals with delayed time limits must documented in a written form with the presence of two male witnesses, in case two males are not available then two females and one male will do the same. It will not be sinful if urgent deals are not written, that are carried out, on the spot. Quran says: Albaqara/282/ O you who believe! When you contract a debt for a fixed period, write it down. Let a scribe write it down in justice between you. Let not the scribe refuse to write as Allah has taught him, so let him write. Let him (the debtor) who incurs the liability dictate, and he must fear Allah, his Lord, and diminish not anything of what he owes. But if the debtor is of poor understanding, or weak, or is unable to dictate for himself, then let his guardian dictate in justice. And get two witnesses out of your own men. And if there are not two men (available), then a man and two women, such as you agree for witnesses, so that if one of them (two women) errs, the other can remind her. And the witnesses should not refuse when they are called (for evidence). You should not become weary to write it (your contract), whether it be small or big, for its fixed term, that is more just with Allah; more solid as evidence, and more convenient to prevent doubts among yourselves, save when it is a present trade which you carry out on the spot among yourselves, then there is no sin on you if you do not write it down. But take witnesses whenever you make a commercial contract. Let neither scribe nor witness suffer any harm, but if you do (such harm), it would be wickedness in you. So be afraid of Allah; and Allah teaches you. And Allah is the All-Knower of each and everything.

-4- A Muslim must ask only Allah for righteous kids, the question must include righteousness and nobility for the kid. Quran tells us that the messenger of Allah, Zikriya, peace be upon him, asked Allah for the offspring. Quran says: Aal e Imran/38/ There did Zakariya pray to his Lord; he said: My Lord! grant me from Thee good offspring; surely Thou art the Hearer of prayer.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s