7th Part, Character Hints by Qura’an

حصہ ساتواں/قُرآنِ پاک میں بیان کردہ شخصی اوصاف میں سے چند ایک ، اختصار کے ساتھ

7th part of/ A little effort to put down some good qualities of a character, described by the Holy Qura’an.

-پارہ 7:

-1- ہدایت کا شعور اور تڑپ ہونا

– مسلمان میں بہتری اور ہدایت کی لگن، تڑپ اور جستجو ہونی چاہیئے، جو شخص جس قدر قیمتی اور قابلِ قدر دل کا مالک ہوگا ، اُسے اللہ کا کلام اُسی قدر متاثر کرے گا

-سورۃ المائدہ/ آیت 83، 84، 85 /

-وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَىٰ أَعْيُنَھُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ ۖ يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاھِدِينَ / وَمَا لَنَا لَا نُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَمَا جَاءَنَا مِنَ الْحَقِّ وَنَطْمَعُ أَن يُدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصَّالِحِينَ/ فَاَثَابَھُمُ اللَّہُ بِمَا قَالُوا جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِھَا الْاَنْھَارُ خَالِدِينَ فِيھَا ۚ وَذَ‌ٰلِكَ جَزَاءُ الْمُحْسِنِينَ

-ترجمہ: اور جب اس چیز کو سنتے ہیں جو رسول پر اتری ، تو ان کی آنکھوں کو دیکھے گا کہ آنسوؤں سے بہتی ہیں اس لیے کہ انہوں نے حق کو پہچان لیا، کہتے ہیں اے رب ہمارے کہ ہم ایمان لائے تو ہمیں ماننے والوں کے ساتھ لکھ لے/ اور ہمیں کیا ہے ہم الله پر ایمان نہ لائيں اور اس چیز پر جو ہمیں حق سے پہنچی ہے اور اس کی طمع رکھتے ہیں کہ ہمیں ہمارا رب نیکو ں میں داخل کر ے گا/ پھر الله نے انہیں اس کہنے کے بدلے ایسے باغ دئیے کہ جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ان میں ہمیشہ رہیں گے اور نیکی کرنے والوں کا یہی بدلہ ہے

-2- قمار بازی اور مے خواری کی ممانعت

– مسلمان کو شراب نوشی اور جوئے سے منع کیا گیا کہ باہم عداوت اسی سے جنم لیتی ہے

– سورۃ المائدہ/ آیت 91/

-إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّہِ وَعَنِ الصَّلَاةِ ۖ فَھَلْ أَنتُم مُّنتَھُونَ

-ترجمہ: شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے سےتم میں دشمنی اور بغض ڈال دے اور تمہیں الله کی یاد سے اور نماز سے روکے سو اب بھی باز آجاؤ

-3- اکثریت سے مرعوب نہ ہونا

– مسلمان کو اپنی تمام باتوں میں درست اور ٹھیک بات کو مدِ نظر رکھنا چاہیئے ، اس بات سے بچ رہے کہ لوگ کیا کررہے ہیں یا اکثریت کیا کہتی ہے کیونکہ لوگوں کی اکثریت کا رویہ بھیڑچال ہوسکتا ہے۔

-سورۃ المائدہ/آیت 100/

-قُل لَّا يَسْتَوِي الْخَبِيثُ وَالطَّيِّبُ وَلَوْ أَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِيثِ ۚ فَاتَّقُوا اللَّہَ يَا أُولِي الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

-ترجمہ: کہہ دو کہ ناپاک اور پاک برابر نہیں اگرچہ تمہیں ناپاک کی کثرت بھی معلوم ہو سو اے عقل مندو الله سے ڈرتے رہو تاکہ تمہاری نجات ہو

-Juz’ 7

-1. A Muslim must be very keen to find guidance and to look in Quran with great respect and interest

-Quraan says: Almaida/ 83،84،85 / And when they listen to the revelation received by the Messenger, thou wilt see their eyes overflowing with tears, for they recognise the truth: they pray: “Our Lord! we believe; write us down among the witnesses/ What cause can we have not to believe in Allah and the truth which has come to us, seeing that we long for our Lord to admit us to the company of the righteous?”/ So because of what they said, Allah rewarded them Gardens under which rivers flow (in Paradise), they will abide therein forever. Such is the reward of Al-Muhsinun (the good-doers).

-2. Banishing wine and gambling as these two are forbidden due to curse and indifference they bring to societies.

-Quraan says: Almaida/ 91/ Shaitan (Satan) wants only to excite enmity and hatred between you with intoxicants (alcoholic drinks) and gambling, and hinder you from the remembrance of Allah and from As-Salat (the prayer). So, will you not then abstain?

-3. One must be free of society dilemma and following blindly. Choices must be made on logic. Standing distinguished and righteous is the goal.

-Quraan says: Almaida/ 100/ Say (O Muhammad صلى الله عليه وسلم): “Not equal are Al-Khabith (all that is evil and bad as regards things, deeds, beliefs, persons and foods) and At-Taiyyib (all that is good as regards things, deeds, beliefs, persons, foods), even though the abundance of Al-Khabith may please you.” So fear Allah , O men of understanding in order that you may be successful

6th Part, Character Guidelines by Qura’an

حصہ چھٹا، قُرآنِ پاک میں بیان کردہ شخصی اوصاف میں سے چند ایک ، اختصار کے ساتھ

-6th part of/A little effort to put down some good qualities of a character, described by the Holy Qura’an.

-پارہ 6:

-1- بدی کے ذکر سے گریز

– بُری بات/کام کے اعلانیہ ذکر سے بچا جائے، اگر معلوم ہو تو بھی ذکر نہ کریں، صرف ایک صورت کے علاوہ کہ بدی کے ذکر سے مظلوم کی مدد کرنا مقصود ہو

-سورۃ النساء / آیت 148/

لَّا يُحِبُّ اللَّہ الْجَہرَ بِالسُّوءِ مِنَ الْقَوْلِ إِلَّا مَن ظُلِمَ ۚ وَكَانَ اللَّہ سَمِيعًا عَلِيمًا

ترجمہ: الله کو کسی بُری بات کا ظاہر کرنا پسند نہیں مگر جس پر ظلم ہواہو اور الله سننے والا جاننے والا ہے

-2- تمام نبیوں کا احترام اور بےجا بحث سے پرہیز

-اس موضوع پہ مسلمان اُن معلومات پہ موقوف رہیں جو اللہ اور اُس کے نبیﷺ کے ذریعے حاصل ہوئیں اور لاحاصل بحث میں نہ پڑیں

– سورۃ النساء / آیت 150 /

إِنَّ الَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِاللّہِ وَرُسُلِہِ وَيُرِيدُونَ أَن يُفَرِّقُوا بَيْنَ اللَّہِ وَرُسُلِہِ وَيَقُولُونَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَكْفُرُ بِبَعْضٍ وَيُرِيدُونَ أَن يَتَّخِذُوا بَيْنَ ذَ‌ٰلِكَ سَبِيلً

ترجمہ: بے شک جو لوگ الله اور اس کے رسولوں کے ساتھ کفر کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ الله اوراس کے رسولوں کے درمیان فرق رکھیں اور کہتے ہیں کہ ہم بعضوں پر ایمان لائے ہیں اور بعضوں کے منکر ہیں اور چاہتے ہیں کہ کفر اور ایمان کے درمیان ایک راہ نکالیںً

-3- پاکی کا اہتمام کرنا اور پاکی اختیار کرنا

– وضو اور تیمم کے مسائل کا حکم بتایا گیا تاکہ مسلمان ہر حالت اور مقام پر پاکیزگی حاصل کرسکے

– سورۃ المائدہ/ آیت 6/

يَا أَيُّہَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوھَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ۚ وَإِن كُنتُمْ جُنُبًا فَاطَّہَّرُوا ۚ وَإِن كُنتُم مَّرْضَىٰ أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِّنكُم مِّنَ الْغَائِطِ أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوہَكُمْ وَأَيْدِيكُم مِّنْہُ ۚ مَا يُرِيدُ اللَّہُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُم مِّنْ حَرَجٍ وَلَـٰكِن يُرِيدُ لِيُطَہِّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَہُ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ

ترجمہ: اے ایمان والو! جب تم نماز کے لیے اٹھو تو اپنے منہ دھو لو اور ہاتھ کہنیوں تک اور اپنے سروں پر مسح کرو اور اپنے پاؤں ٹخنوں تک دھو لو اور اگر تم ناپاک ہو تو نہا لو اور اگرتم بیمار ہو یا سفر پر ہو یا کوئی تم میں سے جائے ضرورت سے آیا ہو یا عورتوں کے پاس گئے ہو پھر تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کر لو اور اسے اپنے مونہوں او رہاتھوں پر مل لو الله تم پر تنگی کرنا نہیں چاہتا لیکن تمہیں پاک کرنا چاہتا ہے اور تاکہ اپنا احسان تم پر پورا کرے تاکہ تم شکر کرو

-Juz’u 6
-1. One must avoid to describe any evil, bad or mischievous things. Bad must not be a topic of discussion except one case that is to report some one’s suffering.
-Quraan says: Alnisa/ 148/ Allah does not like that the evil should be uttered in public except by him who has been wronged. And Allah is Ever All-Hearer, All-Knower.

-2. Respecting all the messengers of Allah, accordingly as they are described in Quraan, without unnecessary debate and discussion on unclear details.
-Quraan says: Alnisa/ 150/ Verily, those who disbelieve in Allah and His Messengers and wish to make distinction between Allah and His Messengers (by believing in Allah and disbelieving in His Messengers) saying, “We believe in some but reject others,” and wish to adopt a way in between

-3. Adopting cleanliness and neatness through wuzu, in the specified cases and to rely on Tayam-mum, if certain conditions do apply and water is not available.
-Quraan says: Al maida/ 6/ O you who believe! When you intend to offer As-Salat (the prayer), wash your faces and your hands (forearms) up to the elbows, rub (by passing wet hands over) your heads, and (wash) your feet up to ankles . If you are in a state of Janaba (i.e. after a sexual discharge), purify yourselves (bathe your whole body). But if you are ill or on a journey, or any of you comes after answering the call of nature, or you have been in contact with women (i.e. sexual intercourse), and you find no water, then perform Tayammum with clean earth and rub therewith your faces and hands. Allah does not want to place you in difficulty, but He wants to purify you, and to complete His Favour to you that you may be thankful