Part 13, Qualities of a character by the Holy Quran

قُرآنِ پاک میں بیان کردہ شخصی اوصاف میں سے چند ایک ، اختصار کے ساتھ

A little effort to put down some good qualities of a character, described by the Holy Qura’an.

-پارہ 13:

-1-اللہ کی خلقت میں غور و فکر کرنا


-وَهُوَ الَّذِي مَدَّ الْأَرْضَ وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ وَأَنْهَارًا ۖ وَمِن كُلِّ الثَّمَرَاتِ جَعَلَ فِيهَا زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ ۖ يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ ۚ إِنَّ فِي ذَ‌ٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ

-ترجمہ: اور اسی نے زمین کو پھیلایا اور اس میں پہاڑاور دریا بنائے اور زمین میں ہر ایک پھل دوقسم کا بنایا دن کو رات سے چھپا دیتا ہے بے شک اس میں سوچنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں

-2- ذکر اللہ سے دل کو اطمئنان ہونا


– الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُم بِذِكْرِ اللَّهِ ۗ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ

-ترجمہ: وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کے دلوں کو الله کی یاد سے تسکین ہوتی ہے خبردار! الله کی یاد ہی سے دل تسکین پاتے ہیں

-3- اچھی بات کرنا ، ترغیب دلائی گئی کہ اچھی بات کے ظاہری اور باطنی ثمرات بڑھتے رہتے ہیں۔


– أَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ۔ تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ بِإِذْنِ رَبِّهَا ۗ وَيَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ

-ترجمہ: کیاتو نےنہیں دیکھا کہ الله نے کلمہ پاک کی ایک مثال بیان کی ہے گویا وہ ایک پاک درخت ہے کہ جس کی جڑ مضبوط اور اس کی شاخ آسمان ہے۔وہ اپنے رب کے حکم سے ہر وقت اپنا پھل لاتا ہے اور الله لوگوں کے واسطے مثالیں بیان کرتا ہے تاکہ وہ سمجھیں۔

-4- مطلقاََ شکرگزاری اپنائی جائے کہ انسان اللہ کی نعمتوں کو شمار نہیں کرسکتا۔


– وَآتَاكُم مِّن كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ ۚ وَإِن تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا ۗ إِنَّ الْإِنسَانَ لَظَلُومٌ كَفَّارٌ

-ترجمہ: اور جو چیز تم نے ان سے مانگی اس نے تمہیں دی اور اگر الله کی نعمتیں شمار کرنے لگو تو انہیں شمار نہ کر سکو بے شک انسان بڑا بےانصاف اور ناشکرا ہے

Part 13:

  1. Critically thinking in Allah’s creatures and nature and how the system of universer is working.
    -Quarn: Ra’ad/3/ And it is He who spread out the earth, and set thereon mountains standing firm and (flowing) rivers: and fruit of every kind He made in pairs, two and two: He draweth the night as a veil o’er the Day. Behold, verily in these things there are signs for those who consider!

2- Remembering Allah comforts one’s heart.
-Quran: Ra’ad/28/ “Those who believe, and whose hearts find satisfaction in the remembrance of Allah: for without doubt in the remembrance of Allah do hearts find satisfaction.

3- Always being positive and righteous brings many fruits spiritually and apparently.
-Quran: Ibrahim/24/25/Have you not considered how Allah sets forth a parable of a good word (being) like a good tree, whose root is firm and whose branches are in heaven, yielding its fruit in every season by the permission of its Lord? And Allah sets forth parables for men that they may be mindful.

4- One must adopt gratitude because there are countless blessings on the human.
-Quran: Ibrahim/34/And He gives you of all that you ask Him; and if you count Allah’s favors, you will not be able to number them; most surely man is very unjust, very ungrateful.

12th part, character glimpse by Quran

قُرآنِ پاک میں بیان کردہ شخصی اوصاف میں سے چند ایک ، اختصار کے ساتھ

A little effort to put down some good qualities of a character, described by the Holy Qura’an.

Part: 12

پارہ 12:

-1ـ سابقہ اقوام ِ عالم کے حالات سے سبق حاصل کرنا


– ذَ‌ٰلِكَ مِنْ أَنبَاءِ الْقُرَىٰ نَقُصُّهُ عَلَيْكَ ۖ مِنْهَا قَائِمٌ وَحَصِيدٌ

-ترجمہ: یہ بستیوں کے تھوڑے سے حالات ہیں کہ تجھے سنا رہے ہیں ان میں سے کچھ تو اب تک باقی ہیں اورکچھ اجڑی پڑی ہیں۔

إِنَّ فِي ذَ‌ٰلِكَ لَآيَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْآخِرَةِ ۚ ذَ‌ٰلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذَ‌ٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ

– اس بات میں نشانی ہے اس کے لیے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہے یہ ایک ایسا دن ہوگا جس میں سب لوگ جمع ہوں گے اور یہی دن ہے جس میں سب حاضر کیے جائیں گے

-2-دن کے اطراف میں نماز ادا کرنا اور صبر پہ قائم رہنا

-ہود /114/115

– وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِّنَ اللَّيْلِ ۚ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ۚ ذَ‌ٰلِكَ ذِكْرَىٰ لِلذَّاكِرِينَ
– وَاصْبِرْ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ

-ترجمہ: اور دن کے دونو ں طرف اورکچھ حصہ رات کا نماز قائم کر بے شک نیکیاں برائیوں کو دور کرتی ہیں یہ نصیحت حاصل کرنے والوں کے لیے نصیحت ہے

– اور صبر کر بے شک الله نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا

-3- احتیاط کا تقاضا ہے کہ انسان اپنی کامیابیوں اور نعمتوں کی تشہیر نہ کرے تاکہ شیطان کو بدخواہ لوگوں میں حسد پیدا کرنے کا موقعہ نہ ملے۔


– قَالَ يَا بُنَيَّ لَا تَقْصُصْ رُؤْيَاكَ عَلَىٰ إِخْوَتِكَ فَيَكِيدُوا لَكَ كَيْدًا ۖ إِنَّ الشَّيْطَانَ لِلْإِنسَانِ عَدُوٌّ مُّبِينٌ

-ترجمہ: کہا اے بیٹا اپنا خواب بھائیوں کے سامنے بیان مت کرنا وہ تیرے لیے کوئی نہ کوئی فریب بنا دیں گے شیطان انسان کا صریح دشمن ہے

  1. Knowing the history and events from past leads one to be wise and careful.

– These are some of the stories of communities which We relate unto thee: of them some are standing, and some have been mown down (by the sickle of time).
– Indeed in that (there) is a sure lesson for those who fear the torment of the Hereafter. That is a Day whereon mankind will be gathered together, and that is a Day when all (the dwellers of the heavens and the earth) will be present.

2.Being consistent and stay punctual while offering prayers at various times.
– And establish regular prayers at the two ends of the day and at the approaches of the night: For those things, that are good remove those that are evil: Be that the word of remembrance to those who remember (their Lord):
– And be patient; verily, Allah wastes not the reward of the good-doers.

  1. One should not show off his/her blessings and fortune so that bad wishers may not get a chance to be jealous by Satan.

    • He (the father) said: “O my son! Relate not your vision to your brothers, lest they should arrange a plot against you. Verily! Shaitan (Satan) is to man an open enemy!