14th Part, A Character sketch by Al Quran

قُرآنِ پاک میں بیان کردہ شخصی اوصاف میں سے چند ایک ، اختصار کے ساتھ

A little effort to put down some good qualities of a character, described by the Holy Qura’an.

-پارہ 14:

-1-سلامتی اور دلوں سے کدورت کا نکل جانا بہت نعمت کی بات ہے اور یہ کامیابی کی نشانی ہے۔ کامیاب لوگ اِس نعمت سے نوازے جائیں گے۔

-القرآن/ الحجر/ 46/47

-ادْخُلُوهَا بِسَلَامٍ آمِنِينَ۔وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِم مِّنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَىٰ سُرُرٍ مُّتَقَابِلِينَ۔

-ترجمہ: ان باغوں میں سلامتی اور امن سے جا کر رہو۔اور ان کے دلوں میں جو کینہ تھا ہم وہ سب دور کر دیں گے سب بھائی بھائی ہوں گے تختوں پر آمنے سامنے بیٹھنے والے ہوں گے۔

-2- لوگوں کی باتوں پہ ضیقِ صدر ہونا برحق ہے، ایسے میں اللہ کی تسبیح اور نماز سے مدد لینا پیغمبروں کا شیوہ ہے۔

-القرآن/الحجر/97/98/99/

-وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ۔فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُن مِّنَ السَّاجِدِينَ۔وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ۔

-ترجمہ: اور ہم جانتے ہیں کہ تیرا دل ان باتوں سے تنگ ہوتا ہے جو وہ کہتے ہیں۔سو تو اپنے رب کی تسبیح حمد کے ساتھ کیے جا اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہو۔اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہو یہاں تک کہ تمہیں موت آجائے۔

-3-اللہ کی دی گئی نعمتوں سے فضل اور رزق تلاش کرنا اور اللہ ہی کا شکرگزار ہونا چاہئیے

-القرآن/النحل/14/15/16/17/18/

-وَهُوَ الَّذِي سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَأْكُلُوا مِنْهُ لَحْمًا طَرِيًّا وَتَسْتَخْرِجُوا مِنْهُ حِلْيَةً تَلْبَسُونَهَا وَتَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِيهِ وَلِتَبْتَغُوا مِن فَضْلِهِ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ

-وَأَلْقَىٰ فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَن تَمِيدَ بِكُمْ وَأَنْهَارًا وَسُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ

-وَعَلَامَاتٍ ۚ وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُونَ

-أَفَمَن يَخْلُقُ كَمَن لَّا يَخْلُقُ ۗ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ

-وَإِن تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا ۗ إِنَّ اللَّهَ لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ

-ترجمہ: اور وہ وہی ہے جس نے دریا کو کام میں لگا دیا کہ اس میں تازہ گوشت کھاؤ اور اسی سے زیور نکالو جسے تم پہنتے ہو اور تو اس میں جہازوں کو دیکھتا ہے کہ پانی کو چیرتے ہوئے چلے جاتے ہیں اور تاکہ تم اس کے فضل کو تلاش کرو اور تاکہ تم شکر کرو

-اور زمین پر پہاڑوں کے بوجھ ڈال دیے تاکہ تمہیں لے کر نہ ڈگمگائے اور تمہارے لیے نہریں اور راستے بنا دیے تاکہ تم راہ پاؤ

-اور نشانیاں بنائیں اور ستاروں سے لوگ راہ پاتے ہیں

-پھر کیا جو شخص پیدا کرے اس کے برابر ہے جو کچھ بھی پیدا نہ کرے کیا تم سوچتے نہیں

-اور اگر تم الله کی نعمتو ں کو گننے لگو تو ان کا شمار نہیں کر سکو گےبے شک الله بخشنے والا مہربان ہے

-4- عدل، احسان، قرابت داروں سے اچھائی کریں اور بےحیائی، منکر اور تکبر سے باز رہنے کا حکم دیتے رہیں۔

-القرآن/النحل/90

-إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَالْبَغْيِ ۚ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ

-ترجمہ: بے شک الله انصاف کرنے کا اوربھلائی کرنے کا اور رشتہ داروں کو دینے کا حکم کرتا ہے اوربے حیائی اوربری بات اور ظلم سے منع کرتا ہے تمہیں سمجھاتا ہے تاکہ تم سمجھو

-5-حکمت اور اچھے طریقے سے اللہ کے راستے کی طرف بلایا جائے، جب بحث یا اختلاف ہو تو احسن طریقہ اپنایا جائے۔

-القرآن/النحل/125

-ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ۖ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِ ۖ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ

-ترجمہ: اپنے رب کے راستے کی طرف دانشمندی اور عمدہ نصیحت سے بلا اور ان سے پسندیدہ طریقہ سے بحث کر بے شک تیرا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کے راستہ سے بھٹکا ہوا ہے اور ہدایت یافتہ کو بھی خوب جانتا ہے

Part 14:
1-It is a blessing to be safe and free of bitterness, and only the successful will be blessed with these qualities.
-AL Quran/alhijr/46/47/ (It will be said to them): ‘Enter therein (Paradise), in peace and security. And we shall remove from their breasts any deep feeling of bitterness (that they may have). (So they will be like) brothers facing each other on thrones.

2-It is completely natural to get sad on negative talk of people and one should seek help in prayer and Allah’s zikr.
-Al Quran/alhijr/97/98/99/We do indeed know how thy heart is distressed at what they say. But hymn the praise of thy Lord, and be of those who make prostration (unto Him). And serve thy Lord till the inevitable cometh unto thee.

3-Allah’s blessings are countless, in the whole universe and Allah is the merciful.
-Al Quran/alnahal/14/15/16/17/18/
-And He it is Who has subjected the sea (to you), that you eat thereof fresh tender meat (i.e. fish), and that you bring forth out of it ornaments to wear. And you see the ships ploughing through it, that you may seek (thus) of His Bounty (by transporting the goods from place to place) and that you may be grateful.
-And He has affixed into the Earth Mountains standing firm, lest it should shake with you; and rivers and roads, that you may guide yourselves.
-And landmarks (signposts during the day) and by the stars (during the night), they (mankind) guide themselves.
-Is then He, Who creates as one who creates not? Will you not then remember?
-And if you would count the favours of Allah, never could you be able to count them. Truly! Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful.

4-Being good to relatives, justice and kindness, and stopping from shameful deeds, injustice and rebellion is ordered by Allah.
-Al Quran/alnahal/90/Surely Allah enjoins the doing of justice and the doing of good (to others) and the giving to the kindred, and He forbids indecency and evil and rebellion; He admonishes you that you may be mindful.

5-One must use wisdom and beautiful preaching to place invitation to the way of Allah.
-Al Quran/alnahal/125/Invite (all) to the Way of thy Lord with wisdom and beautiful preaching; and argue with them in ways that are best and most gracious: for thy Lord knoweth best, who have strayed from His Path, and who receive guidance.

Advertisements