Home » Vision » بے لاگ کی تیسری سالگرہ

بے لاگ کی تیسری سالگرہ

گویا تین سال ہونے کو آئے جب بلاگرز کی “بےلاگ” کی تقریب رونمائی عمل میں آئی۔ اچھا یہ واقعہ اپنے دامن میں بہت سے مختلف رنگ لئے ہوئے ہے۔ سب سے انوکھی بات یہ کہ بلاگر نامی مخلوق کا بنیادی وصف بےنیازی ہے۔ یعنی بلاگ لکھ اور دریا میں ڈال۔ اب پڑھنے والے کی رضا کہ وہ کیا چاہتا ہے۔ پڑھے نہ پڑھے، نوازے نہ نوازے۔ اس بات کی تائید بہت سے لوگ کریں گے کہ بلاگ پہ زبردستی کی دعوت پہ مہمان نہیں بلائے جاسکتے اور جب بھی کسی بلاگر نے اپنے مزاج میں تندی، تیزی یا پھرتی پیدا کرنے کی کوشش کی، تو اس کی بلاگی پہچان قدرے متزلزل ہوئی۔

تو اس پس منظر میں جب “بے لاگ” یعنی ایک جیتی جاگتی کتاب وجود میں آئی تو بہت سے بلاگرز کے لئے یہ ناقابل یقین بات تھی گویا واقعی سرخاب کا پر دریافت ہوگیا۔ کیونکہ بلاگ ایسی تحریر ہے جسے آپ بجلی اور انٹرنیٹ کے دوش پر پڑھ سکتے ہیں اور اس کے صفحات کے حاشیے پر کچھ لکھنے اور صفحات کے کونے موڑنے کی شاہانہ سہولت دستیاب نہیں ہوتی۔ میں نے گزشتہ سالوں میں جب بلاگنگ ابھی نومولود تھی بالخصوص ہمارے یہاں، تو ایسے سوال سنے ہیں کہ تو کہاں للھتی ہیں آپ؟ مطلب سائل کا اشارہ اس بات کی طرف ہوتا کہ ثبوت نہیں ہے۔ ٹھوس جامد ثبوت دکھایا نہیں جاسکتا۔ برقی لہروں کے دوش پر آباد دنیا کے کچھ الفاظ کاغذ پر ثبت ہوئے اور کتاب کی شکل نے جنم لیا۔ کم سے کم “بےلاگ” کا حجم اور ماہیت ایسی ہے کہ اسے بآسانی لہرا کے دکھایا جاسکتا ہے۔ رسید کے طور پر رسید بھی کیا جاسکتا ہے۔

پھر بلاگر ایسی مشین ہے جس کا اصل پراسس اس کے دماغ میں ہوتا ہے اور شاید دیکھنے والے کو ایک غیر متحرک انسانی وجود نظر آرہا ہو لیکن اس بلاگر کا دماغ پوری رفتار سے سرگرم عمل ہو۔ جملوں کی تشکیل، موضوع کا چناؤ، کاٹ چھانٹ اور امیج کی جگہ کا تعین، یہ سب کام مل کر ایسا شور کرتے ہیں گویا بڑے پیمانے کا صنعتی یونٹ چل رہا ہو۔لیکن انسان وہیں اپنی جگہ پر اپنے برقی آلے لیپ ٹاپ اور اب سمارٹ فون تک محدود رہتا ہے۔ ایسے میں بےلاگ کی تقریب رونمائی میں بلاگرز کا بنفس نفیس پہنچنا ڈیسک پر بیٹھ کر رابطہ کرنے سے بہت الگ معاملہ ہے۔ بےلاگ کی تقریب میں اردو بلاگرز سے مل کر بلاگی اخوت کا احساس ہوا کہ آخرکار یہ سب روبوٹ نہیں، ہمارے جیسے انسان ہی ہیں۔

اس کتاب کی اشاعت کا سہرا جن محترم دوستوں کے سر جاتا ہے ان کی کوششیں واقعی لائق داد تھی اور ہیں کہ انہوں نے انوکھا کام سرانجام دیا۔

ہاں اب بلاگی دنیا صرف اردو ہی نہیں ، بلکہ بالعموم بھی کچھ سست روی کا شکار ہے۔ اسباب بہت ہیں۔ جن میں ذاتی اور مجموعی اسباب دونوں ہیں۔ جیسے جو وقت بلاگ پر دنیا بینی اور قلم چلانے کے لئےمختص تھا وہ اب دیگر سماجی ایپلیکیشنز میں منقسم ہوگیا ہے۔ وقت کی قلت کے سبب اکثر سیرحاصل مطالعہ ممکن نہیں ہوتا۔ سرسری پڑھنے کا رحجان بڑھ گیا ہے۔ ایک سے دوسرے پیراگراف تک لاڈ کرنے والی تحریر کے نخرے کم ہی کوئی اٹھاتا ہے۔ یہ بات الگ قابل غور کہ جو نسل ایک تحریر کی طوالت برداشت نہیں کرسکتی وہ دلجمعی، تحمل، مستقل مزاجی، دوراندیشی اور صبر کے مطالب سے کچھ اجنبی ہوگی۔

مدعا اس تحریر کا، بےلاگ کی تقریب رونمائی اور بلاگرز کی رونمائی کو تین سال مکمل ہونے کی یادداشت

اور ساتھ ہی اہلِ بلاگ کو اس بات پر سوچنے کی دعوت کہ

1۔ ان تین سالوں میں بلاگنگ میں کیا فرق آیا؟

2۔وہ فرق جو عمومی ہے، ان بلاگز میں جو آپ پڑھتے ہیں اور

3۔وہ فرق جو آپ کے بلاگ میں آیا؟ جو بھی فرق آیا وہ کیوں آیا؟

4۔اور سب سے اہم کہ آپ اب تک اپنے بلاگ کا کوئی مقصد متعین کرپائے؟

کچھ وقت سرکنے کے بعد دنیا کو دیکھنے والی نظر میں کیا تبدیلی آئی؟

دعاؤں کے ساتھ

ثروت ع ج

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s