The Canterbury Tales – Ending Note – 47

چودہویں صدی کے جیفری چاوسر کی کینٹربری کہانیاں، ایک نایاب ادبی کام ہے جو قدیم انگریزی میں پائے جانے والے چند ادبی نوادرات میں سے ایک ہے۔ اِس کی انگریزی زبان ایسی ہے جو آج کا قاری ، از خود، تشریح کے بغیر نہیں پڑھ سکتا ۔لیکن اِن کہانیوں کو پڑھتے ہوئے چاوسر اپنے قارئین کو اپنے ہمراہ چودہویں صدی کی زندگی میں لے جاتا ہے اور پڑھنے والا اُس زمانے کے کرداروں کو اپنے اطراف حرکت کرتا، بولتا اور چلتا محسوس کرتا ہے۔

canterbury-tales-3

تاریخ کی کھڑکی میں سے جھانک کر گزرے وقتوں کو دیکھنا ہمیشہ سے بنی آدم کا پسندیدہ عمل رہا ہے۔ کبھی کبھی اِس عمل پہ سوال بھی اُٹھایا جاتا ہے کہ . . . ماضی کا مطالعہ آخر انسان کو کیا دے سکتا ہے؟ اِس سوال کا جواب مہیا کرنے کی کوشش میں یوں ہوا کہ تاریخ پڑھنے اور جاننے کی لگن کسی حد تک گھٹ گئی۔ اور دوسری طرف، یہ بھی ہوا کہ بڑی بڑی یونیورسٹیوں میں تاریخِ قدیم کے شعبہ جات کھلنے لگے۔ تاریخ دان پرانے آثار کو کھوج کھوج کر ماضی کے اوراق میں دفن راز معلوم کرنے کے جویا ہونے لگے اور دنیا کو عہدِ رفتہ کے رہن سہن سے آگاہ کرنے لگے۔

Most of the times, we come across a question, that is, what can we gain from stories of old times? This is a genuine question that marked a shift in the studies of historical subjects. But the question remained there. In the mean while we find people working on historical studies, and finding out how people in the earlier eras made their lives. There must be an appropriate and satiating answer. Let’s place some possibilities in the answers box, people may find solutions to their problems or may learn from the life of old times. It may help and may be a solid reason, because we came to know many times that despite all the evolution, occurred throughout the human history, a human remained the same, it loves, hates, eats, sleeps in the same way. A human feels anger, pride, revenge, joy, hatred, jealousy etc etc. These Canterbury Tales provide us with a proof for all this. So better to study the past in a sufficient proportion for a better life today.

اِس سب کے دوران وہ طبقہ اپنے سوال پر ڈٹا رہا . . . کہ صاحب، گرد آلود کتابوں اور نوادرات سے کیا حاصل ہوگا ؟ نئے دور کے تقاضوں میں ماضی کی تحقیقات کا کیا مقام ہے؟

یہ بحث ایسی آسان نہیں کہ اِسے چند لفظوں میں حتمی طور پر سمیٹا جاسکے۔ البتہ طرفین سے متعلق دلائل جانے جاسکتے ہیں۔

بہت سالوں پہلے بسنے والے انسانوں کی زندگی کا حال جاننا ایک دلچسپ بات ہے . . . کہ آج سے کئی سال پہلے ، جب انسان نے سائنس کے اعتبار سے ارتقا کی منازل طے نہیں کی تھیں ، اُس وقت کا انسان شعور اور جذبات کے اعتبار سے آج کے انسان سے کتنا مختلف تھا۔ صدیوں پرانے انسان کے محسوسات کیسے تھے، اُس کی محبت، نفرت، احساسِ عزت، تفاخر کی حرص، لالچ، دغابازی، دھوکہ دہی، یہ سب ہوبہو ایسے ہی تھے جیسے کہ آج . . . .

وہ انسان بھی دوسروں کو زیر کرکے خود کو برتر ثابت کرنے کا خواہاں تھا ۔ خود کو برتر ثابت کرنے اور برتری محسوس کرنے کے لئے انسان ہر جتن آزمانے کی سعی کرتا تھا۔ اور اُس وقت کے انسان کو بھی چار لوگوں کے اکٹھ میں یہ بات عزیز تھی کہ اُسے عزت اور ادب سے پکارا جائے جیسا کہ چاوسر کا میزبان دورانِ سفر اپنے ہم رکاب ساتھیوں سے مخاطب ہوتا ہے۔

تو گویا . .ایک بات جو صاف ظاہر ہے کہ صدیاں گزر جانے کے بعد بھی انسان کا اندرونی سافٹ وئیر وہی ہے جو پہلے تھا۔

چنانچہ نکتہ چیں اور دور رس سوچ کے مالک افراد ، تاریخ کے اوراق کی خاک چھاننے کے بعد آج کے انسان کے لئے اُس کے حالیہ مسائل کا حل ڈھونڈ لاتے ہیں۔ گزشتہ اقوام اور افراد کے حالات سے واقفیت حاصل کرنا سنتِ الٰہی بھی ہے کیونکہ کتابِ الٰہی میں اکثر مقامات پر سابقہ اقوام کے حالات سنا کر عبرت اور نصیحت دی گئی ہے۔

چودہویں صدی کے انگریزی ادب کا یہ شہ پارہ اختتام پذیر ہوا جس کے دوران بہت سے دیدہ ریز، چونکا دینے والے اور لطیف واقعات سامنے آئے۔ شاعر کی مہارت اور علمی لیاقت کی داد دینی تو بنتی ہی ہے، اِس پر پِتّہ پانی کرنے والی طوالت پر، جہاں نظم کے طالبعلموں کی جرات لائقِ تحسین ہے وہیں اِس بلاگ کے قارئین کی استقامت اور حوصلہ آفرین کے قابل ہے۔

000-frontispiece1

Advertisements

The Parson’s Tale – 45

پارسن کی کہانی اور پیش لفظ کے ساتھ ہی چاوسر کی کینٹربری کہانیاں اختتام پذیر ہوتی ہیں۔

پارسن سے مراد اُس حلقے کا پادری ہے جس کے ساتھ کوئی وقف جائیداد یا جاگیر ملحقہ ہو۔ اِسی پادری کے مکان کو پارسنیج Parsonage کہا جاتا ہے ۔

– پارسن کی کہانی :

By that the maunciple hadde his tale al ended, the sonne fro the south lyne was descended so lowe, that he nas nat, to my sighte, degrees nyne and twenty as in highte..

.

By the time the manciple had finished his tale, the sun had abandoned the southern half of the sky and was no more than twenty-nine degrees above the horizon, I would guess; it was probably about four o’clock in the afternoon, because my shadow was around eleven feet long – feet, that is, that would divide my height into six equal lengths

کہانیوں کے اختتام کے تذکرے پر یقیناََ ذہن میں کئی سوال اُٹھتے ہیں کہ . . . مسافروں میں سے کئی کردار ایسے ہیں جن کا تعارف تو کروایا گیا مگر انھوں نے کوئی کہانی نہیں سنائی۔ اسی طرح میزبان اور مسافروں کے مابین چار چار کہانیاں طے ہوئیں تھیں اور وہ بات بھی پوری نہیں ہوئی۔ بلکہ اِس مقام پہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ پارسن کی کہانی اس خیال سے وضع کی گئی ہے کہ وہ اِس تمام کام کا آخری حصہ ثابت ہو۔ پارسن کی کہانی میں ایسے بہت سے اشارے ملتے ہیں جو کہ اپنے اندر اختتامیہ پہلو لئے ہوئے ہیں۔ خود پارسن کی کہانی میں دیگر زائرین کی مہمل اور بےمقصد کہانیوں پر دیدہ ریزی سے تنقید اور طنز موجود ہے۔

the_parson

دن ڈھلے، چار بجے سہ پہر یہ قافلہ ایک گاؤں جا پہنچا جہاں میزبان نے پارسن کو دعوتِ کلام دی۔ میزبان نے پارسن سے کہانی پیش کرنے کی درخواست کی لیکن . . . پارسن نے فرضی روایتی کہانی سنانے سے انکار کردیا۔ اور اِس انکار کی وضاحت یوں کردی کہ . . . سینٹ پال نے ، دنیاوی، مہمل اور لا حاصل کہانیاں سنا کر لطف اُٹھانے اور اُن میں وقت ضائع کرنے کی ممانعت فرمائی ہے۔

چنانچہ کہانی کی جگہ، پارسن نے ایک بہت، بہت ہی طویل ناصحانہ خطاب یا وعظ پیش کیا۔ کینٹربری کہانیوں میں سب سے طویل ، یہی خطاب ہے جو کہ ابدی حیات کی کامیابی کے متعلق ہے اور بہت سے پند و نصائح پر مشتمل ہے۔

The Parson’s tale is not a narrative at all, however, rather an extended sermon on the nature of sin and the three parts necessary for forgiveness, 1) Contrition of the heart, 2)Confession of the mouth, 3)Satisfaction in the heart.

Contrition is the pain and anguish a man feels in his heart for his sins, with a serious intent to confess them, do penance for them and never to do them again.
A man should repent every pleasure that he has ever had thinking about something that is against God’s law, for such thoughts constitute a deadly sin. Certainly, there is no deadly sin that was not first conceived in a man’s thoughts, which were delighted in, consented to and finally carried out.
Here is an example. A great wave may approach a ship with such violence that it overwhelms it and fills it with water. But the same swamping can be caused by little drops of seawater that leak in through a crack in the boat’s hull and settle in the bilges, if sailors are negligent and do not see what is happening and fail to pump the water out. Although there is a difference between these two causes of swamping, the net result is the same.

اِس خطاب کا موضوع توبہ، ندامت اور شرمساری ہے۔ وہ ندامت، جو گناہ کے بعد انسان کو گھیر لیتی ہے۔ گناہ کی نوعیت کی وضاحت کی گئی ہے جن میں چھوٹے اور بڑے گناہوں پہ بات کی گئی ہے۔ اور اس کے ساتھ ہی اُن تین اجزاء پر بحث ہے جو معافی یا بخشش کے لئے ضروری ہیں۔

یہ اجزاء یوں ہیں:
1-پشیمانی، تاسف، ندامت
2-اعتراف، ایجاب اور اقبالِ خطا
3-سکون اور اطمئنانِ قلب

پارسن گناہ اور معصیت کے ضمن میں سات گناہوں کا ذکر کرتا ہے جو کہ سات مہلک گناہوں کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ اور انگریزی ادب میں کئی جگہ اِن کا ذکر ملتا ہے۔ کرسٹوفر مارلو کے ڈاکٹر فاسٹس میں انہی سات مہلک گناہوں کا تذکرہ ہے۔یہ گناہ غرور، حسد، کینہ، غصہ، کاہلی، کام چوری، لالچ، طمع، پیٹو ہونا، بسیار خوری، ہوس اور شہوت. . .ہیں۔
سات گناہوں کے ساتھ ہی تلافی، کفّارہ اور نجات کے لئے ضروری تفصیلات بتائی گئی ہیں۔

The tale gives examples of the seven deadly sins and explains them, and also details what is necessary for redemption. These deadly sins are as follows:
1. Pride
2. Envy
3. Wrath/ Anger
4. Sloth/Laziness
5. Avarice/ Covetousness
6. Gluttony
7. Lust/Lechery

Although it is impossible to estimate the number of evil branches and twigs that grow directly from the stem of Pride, yet I will demonstrate some of them. They are: disobedience, boasting, hypocrisy, conceit, arrogance, impudence, contempt, insolence, pomposity, impatience, rebelliousness, resistance to authority, presumption, lack of respect, stubbornness, vanity and a host of other things that I could mention.

اِس خطاب کا موضوع خاصی وضاحت کا متقاضی ہے چنانچہ پارسن ایک بہت ہی طویل اور کئی حصوں پر مشتمل ناصحانہ خطاب پیش کرتا ہے۔ سات مہلک گناہوں کے بیان کے ساتھ ساتھ پارسن نے اِن گناہوں سے بچنے کے طریقوں کا ذکر کیا اور اِن گناہوں کا مداوا اور علاج کا طریقہ بھی بتایا ۔

اِن طریقوں میں احتراز اور پرہیز گاری شامل ہیں۔ دیگر طریقے حسبِ ذیل ہیں: نفس کو اپنے قابو میں کرنا، بےصبری اور بھوک کی شدت سے بچاؤ، بسیارخوری کو ترک کردینا اور نفس کشی کی مشق کرنا، امنے آپ کو کٹھنائی سے گزارنا، جسم کی آسودگی کے تابع نہ ہونا، لذت اور ہوس سے منہ موڑنا، بیت العفو کا رُخ کرنا جہاں عفوِ گناہ کی رسم ادا کی جاتی ہے، مذہبی اجتماعات کا التزام کرنا تاکہ نصیحت کا عمل تواتر سے جاری رہے اور یاد دہانی ہوتی رہے۔

پارسن کی کہانی میں کئی اعتبار سے اختتامی رنگ نظر آتا ہے ۔ معلام یہی ہوتا ہے کہ جیفری چاوسر نے پارسن کی کہانی کے ذریعے کنٹربری کہانیوں کو ختم کرنے کا ارادہ باندھا ہے اور رنگ برنگی، کھٹی میٹھی کہانیوں کے بعد ، اُس عہد کی روایات کے مطابق ادبی پارے کا اختتام دعائے خیر اور پند و نصیحت پر ہونے جارہا ہے۔

vol-3-112-parsons-tale

The Manciple’s Tale – 44

کالج کے مطبخ کے لئے جنس خریدنے والے سربراہِ کار یا داروغہء مطبخ کو “مین سی پَل” کہا گیا ہے۔

-مین سی پل کی کہانی:

چاوسر کے قافلے میں ایک مینسیپل بھی شامل ہے جس نے ایک روایتی خیالی کہانی سنائی۔ فیبس اپالو، اور اُس کے پالتو کوّے کے بارے میں یہ کہانی، اِس فلسفیانہ بحث اور وجہء آغاز پر مشتمل ہے کہ “کوّے کا رنگ کالا کیوں ہوا”؟

272-the-manciples-tale

اِس کہانی سے پہلے، میزبان نے کوشش کی کہ وہ باورچی کو کہانی سنانے پر آمادہ کرسکے۔ اُدھر باورچی اِس قدر نشے میں تھا کہ وہ ربط کے ساتھ بات بھی نہیں کرپارہا تھا۔ میزبان نے باورچی کو طنز کا نشانہ بنایا جو کہ قافلے کے اخیر میں ہوش و خرد سے بےگانہ سفر کررہا ہے۔ اِسی اثنا میں باورچی اپنے گھوڑے سے گر پڑا اور تمام مسافر اُس کی حالت پہ افسوس کرنے لگے۔

Wite ye nat wher ther stant a litel toun • which that y-cleped is Bob-up-and-doun • under the Blee, in Caunterbury weye

– Do you know a little town called Bob-up’n-down that lies at the edge of Blean Forest near Canterbury? Well, here our host began to laugh and joke: ‘Look! Over there behind us!’ he called. ‘Dun has strayed into a bog! Will no one help him out, for love nor money? Wake him up, somebody, or a thief will come and tie him up and steal all he has! Look! He’s fast asleep! He’s falling off his horse! Is this that London cook by any misfortune

‘Since drink has taken such a hold of him,’ said our host to the manciple, ‘I imagine he will tell a filthy tale, by my salvation! For be it wine, or old or new ale that he’s drunk, he seems to be having difficulty speaking. Also, he has enough to keep himself occupied just guiding his horse and keeping it out of the ditch. And if he falls off again, we’ll have to lift up his heavy, drunken body once more. So tell your tale, manciple. I’m going to take no notice of him

باورچی کی حالت کے پیشِ نظر ، مینسپل نے اپنی کہانی کا آغاز کیا ۔ داورغہء مطبخ کی کہانی ایک سفید کوّے کے بارے میں ہے۔ کچھ ماہرینِ ادبیات کا یہ بھی گمان ہے کہ داروغہ والی کہانی ، رومی شاعر اووِڈ Ovid کی تصنیف میٹامورفوسِس Metamorphosis اور عریبین نائٹز Arabian nights سے ماخوذ ہے۔

تو کہانی کچھ یوں ہے کہ فیبس Phoebus کے پاس ایک سفید کوّا تھا جو کہ انسانی زبان میں بات کرنے اور دِلنشین گانا گانے کی قدرت رکھتا تھا۔ فیبس کی خوبصورت بیوی اُسے بہت عزیز تھی لیکن فیبس اپنی بیوی کو زیادہ میل جول سے بچانے کے لئے گھر میں بند رکھتا تھا۔

When the god Phoebus lived here on Earth, as is written in old books, he was the most accomplished and energetic young man in the whole world

Phoebus had a wife at home whom he loved more than his own life. He strived day and night to honour her and to please her in every way that he could. He worshipped and respected her, although he was also a little jealous, if the truth be told, and would gladly have been able to limit her freedom somewhat

اِس مقام پہ مینسپل نے اِس رائے سے اِختلاف کیا کہ کسی مخلوق کو اُس کی طبعی فطرت کے خلاف ڈھالا جاسکتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ انسان، پودے یا جانور، اپنی بنیادی عادات سے پوری طرح دستبردار نہیں ہوسکتے۔ داروغہ نے مثال دی کہ ایک پالتو بلی کو خواہ کتنی ہی اعلٰی خوراک دی جائے، پھر بھی وہ چوہوں پہ جھپٹنا نہیں چھوڑے گی۔ چنانچہ کسی مخلوق کی جبلی اور اندرونی تحریک کو دبایا نہیں جاسکتا۔

فیبس کی بیوی ، کم نسل لوگوں سے ملنے کی خواہش رکھتی تھی جو کہ فیبس کو پسند نہیں تھا ۔ سفید کوّے کو شک گزرا کہ فیبس کی بیوی کسی کم تر رتبے کے شخص میں دلچسپی رکھتی ہے۔ چغل خوری کے شوق میں، یہ بات ، اِسی طرح فوراََ ، کوّے نے فیبس کو جا بتائی کہ اُس کی بیوی اُس سے بےوفائی کی مرتکب ہورہی ہے جس کی وجہ ایک کم نسل شخص ہے۔

فوری اشتعال اور غصے میں فیبس نے ہتھیار اُٹھایا اور بیوی کو قتل کردیا ۔ بعد ازاں ، بہت سے شوہروں کی طرح، اپنی حرکت پر نادم ہوا اور کوّے کو لعن طعن کرنے لگا جس نے بِلا تحقیق اُس کی بیوی پر الزام لگایا تھا ۔ فیبس نے کوّے کو ملامت کی ، رنگ کالا ہونے کی بدعا دی اور بہت بُرا بھلا کہا۔ فیبس نے کسی ایسی ساعت میں کوّے کو اچھی آواز چھِن جانے کی بددعا دی کہ کہ وہ ہمیشہ کے لئے بےسُرا اور سیاہ ہوگیا۔

manciples tale 2

اور اِس طرح ، داروغہء مطبخ کے مطابق ، آج ہم کوّے کو کالے رنگ کا ، پاتے ہیں اور کوؤں کی ناگوار کائیں کائیں سنتے ہیں۔ یہ کوے صاحب کی اپنی کرتوتوں کا کیا دھرا ہے کہ وہ گورا صاحب سے کالا صاحب ہوگئے اور اُن کے گلے کا سوز و ساز بھی جاتا رہا۔

نہ ہی کوا بھاگا بھاگا جاکر شوہرِ نامدار کے حضور چغلیاں کرتا اور نہ ہی حسنِ تابناک اور حسنِ آواز سے ہاتھ دھوتا ۔ ٹھیک ہی ہے کہ میاں بیوی میں نِفاق ڈالنا شیطانی کام ہے جس کا انجام آج بھی کالے کوے کے صورت میں نشانِ عبرت ہے۔ اور اُس پر مستزاد یہ کہ انتہائی بھدی آواز کی کائیں کائیں ، ہمارے ہاں جیب پر ناگہانی بوجھ پڑنے کا اشارہ بھی سمجھی جاتی ہے۔

داروغہ کی کہانی کی کڑیاں سینکڑوں اقساط پر مشتمل سوپ ڈراموں سے ملائی جائیں تو ایک نادر تحقیق سامنے آتی ہے کہ اوّل اوّل زوجین میں پھوٹ ڈالنے کا کام اِس سفید کوّے سے شروع ہوا اور اب ارتقا کی منازل طے کرتے ہوئے کلف زدہ لباس میں ملفوف کرداروں تک جا پہنچا ہے۔

مینسپل نے اختتام میں یہ کہا کہ زبان پر قابو رکھنا بہت اچھی چیز ہے اور انسان کو فائدہ دیتی ہے۔ چنانچہ تصدیق کئے بغیر کوئی بات نہیں کہہ دینی چاہیئے۔ بدخواہی، کینہ وری اور بد باطنی کی نیت سے کی گئی بات کبھی اپنے ہی گلے پڑجاتی ہے۔ جیسا کہ اِس کہانی میں کوے کو اپنی بات کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔ تو صاحبو، میرے بچو، بات کہنے سے پہلے پرکھ کرلو اور پھر بولو اور ہاں …کوے کا انجام ضرور ذہن میں رکھنا۔

A thing that is said, is said. Out it goes into the world, whether the speaker likes it or not. It is too late to repent. He is at the mercy of a person who may have heard words that are now bitterly regretted. My son, be wary and never be the instigator of any tittle-tattle, whether it be false or true. Wherever you are, amongst high or low, kepe wel thy tonge, and thenk up-on the crowe.

The Canon’s Yeoman’s Tale – 43

-کینن کے یومین کی کہانی :

اُنتیس زائرین کا سفر کینٹربری کے بڑے کلیسا کی جانب جاری ہے اور وقت کا بہتر استعمال کرنے کے لئے کہانی سننے سنانے کا شغل ہورہا ہے۔ سفر اپنے آخری مرحلے میں داخل ہوچکا ہے ۔ابھی کچھ دیر پہلے، سیکنڈ نن نے بہت دلجمعی سے اپنی کہانی سنائی جو کہ سینٹ سیسلیا کی سوانح حیات پر مشتمل تھی ۔ اِس میں راہبہ کی پاکیزہ زندگی اور آزمائشوں کا بیان تھا۔ اِس کہانی کے ختم ہونے کے بعد ابھی قافلے نے پانچ میل کا فاصلہ بھی عبور نہ کیا تھا کہ اُنہیں دو آدمی دِکھائی دئیے ۔

Two travelers overtook them

Two travelers overtook them

Whan ended was the lyf of seint Cecyle, er we had riden fully fyve myle

When the Second Nun had finished telling us about the life of Saint Cecilia, and before we had completed five miles on this final leg of our journey, at Boughton-under-Bleen we were overtaken by a man clothed in black with a white surplice visible underneath his outer clothes. His horse was dapple-grey and sweating profusely, as though it had just galloped for three miles; its chest and withers were covered in so much white foam that it looked piebald, like a magpie! Behind this man’s saddle, a pannier was strapped on either side but it seemed as though he was travelling light and I began to wonder what sort of a man he was, until I noticed that his cloak was sewn onto his hood and I began to realise that he must be some sort of canon. The perspiration dripped down his forehead like the condensation from a medical distillation process

اِن میں سے ایک آدمی ، سیاہ چوغے میں ملبوس تھا اور چوغے کے نیچے سے اُس کا اندرونی سفید گاؤن نظر آرہا تھا ۔ اِس کا چتکبرا سرمئی گھوڑا، پسینے میں بُری طرح شرابور تھا ، معلوم ہوتا تھا کہ وہ قریب تین میل سے گھوڑے کو بھگاتا چلا آرہا ہے۔ اِس آدمی کے گھوڑے کی زین سے ایک ٹوکرا یا کھانچا سا لٹک رہا تھا۔ اِس کے چوغے سے ایک ٹوپ یا ٹوپی بھی جُڑی ہوئی تھی چنانچہ گمان ہوا کہ یہ ایک کینن تھا یعنی پادریوں کی مجلس کا کارکن یا بڑے پادری کا متعین کردہ عہدے دار ۔ اُس کی پیشانی سے پسینے کے قطرے ایسے ٹپک رہے ہیں جیسے کہ کسی طبّی عملِ تقطیر کے دوران کثافت کا عمل ہورہا ہو۔

اُس کینن کے ساتھ ایک ملازم یا یومین بھی تھا۔ قریب آتے ہی اُس کینن نے سفر میں شریک ہونے کی خواہش ظاہر کی۔ میزبان نے اُن دونوں کو خوش آمدید کہا اور دورانِ سفر جاری، کہانی مقابلے کا بتایا ۔ کینن اور اُس کا ملازم ، دونوں ہی بہت مہذب اور خوش اخلاق معلوم ہوتے تھے۔ میزبان نے اُن دونوں کو دعوت دی کہ اگر وہ کوئی کہانی سنانا چاہیں تو پیش کرسکتے ہیں۔

یہ دعوت سُن کر کینن کے ملازم کی باچھیں کھِل گئیں اور وہ آہستہ آہستہ کھُلنا شروع ہوا۔ پہلے تو اُس نے اپنے مالک کی تعریف میں زمین اور آسمان کے قلابے ملائے ، اُسے ذہین و فطین بتایا اور اِس حد تک مبالغے سے کام لیا کہ وہ تعریف کی جگہ تمسخر معلوم ہونے لگی۔ اپنے بارے میں یہ بھی بتایا کہ وہ شہر سے باہر ، مضافات میں ، پوشیدہ جگہوں پر رہتے ہیں۔

میزبان نے، اچانک اُسے اُس کی اُڑی ہوئی رنگت کے بارے میں پوچھا ، اِس سوال کے جواب میں تو ملازم سے بالکل ہی نہ رہا گیا اور اُس نے صاف صاف بتادیا کہ سارا دِن بھٹی میں پھونکنی چلا چلا کر اُس کی رنگت جھُلس گئی ہے ۔ یہ سوال پوچھ کر تو گویا میزبان نے اُس کی دُکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا تھا۔ وہ کیمیا گری کی سب قلعی کھولنے پر آگیا تھا۔ ۔ کینن نے اُسے تنبیہ کی لیکن وہ بے روک بولتا ہی چلا گیا۔

کینن نے ملازم کو بے لگام دیکھا تو ایک طرف کو دُبکا ہورہا اور منہ چھُپا کر نکل لینے میں ہی عافیت جانی۔ یہ دیکھ کر ملازم اور شیر ہوگیا۔ کینن کے یومین کی کہانی کے دو حصے ہیں ۔ پہلے حصے میں اِس نے کیمیا گری کے اسرار و رموز سے پردہ ہٹایا ۔ جبکہ دوسرا حصہ ایک باقاعدہ کہانی ہے۔ اِس ملازم نے اپنے مالک کے ساتھ گزرے ہوئے وہ سب تجربات بیان کئے جن میں مختلف کیمیاوی طریقوں سے قیمتی اور نادر دھاتیں بنانے کی مہمل سعی کی جاتی ہے۔ یومین کا کینن بھی سونا بنانے کی سر توڑ کوشش کرتا رہا تھا۔

I have lived with that canon for seven years, but I’ve never come anywhere near to understanding what he was doing. I’ve lost everything because of him, and God knows, so have many others as well. I was young and carefree once. I dressed myself in fine clothes, but now I wear my stockings on my head! My complexion, which was once rosy and healthy, is now pale and leaden. Whoever follows this path will surely come to regret it. My study has ruined my eyesight, Lo! Who would want to be an alchemist? The shifting sands of this science have taken so much from me that I am left with nothing. I’m so in debt because of all the gold I’ve borrowed that I’ll never be able to pay it all back, however long I live. Let my example be a warning to you all. Whoever sets out along this path can say goodbye to success. But enough of that, I shall speak of our work

.

ملازم نے سات سال لاحاصل ضائع ہوجانے پر پچھتاوے کا اظہار کیا۔ اُلٹا یہ نقصان ہوا کہ اُس کی گُل رنگ جلد خراب ہو کر پیلی ا ور بھدی ہوگئی، گلابی چہرہ کملا گیا اور اُس کی نظر بھی کمزور ہوگئی۔ اِس سب کے باوجود یہ پراسرار اور بے فائدہ سائنس اُسے سمجھ نہیں آئی۔

اور اب حال یہ آن پہنچا کہ . . . کیمیاگری کے نیچ اور گھٹیا کام کے سبب وہ کوڑی کوڑی کو محتاج ہوچکا ہے۔ نہ صرف یہ کہ اُس کی تمام جمع پُونجی لُٹ چکی ہے بلکہ وہ بُری طرح مقروض بھی ہوچکا ہے۔ کیونکہ اکثر سونا بنانے کی آس میں اُدھار لیا جاتا اور نتیجے میں کچھ بھی ہاتھ نہ آتا۔ اپنی لگائی ہوئی رقم بھی ڈوب جاتی اور اُدھار الگ چڑھ جاتا ۔

کینن کے ملازم نے کیمیاگری کے عمل کے بارے میں تکنیکی اصطلاحات استعمال کرتے ہوئے تفصیل سے بتایا ۔ پہلے تو یہاں وہاں سے اُدھار مانگ کر دھاتیں خریدی جاتیں۔ یہ تمام عملیات چار مستحکم عناصر اور سات دھاتوں کے بل بُوتے پر کئے جاتے۔ کیمیاگری کے دیوانے پارس کا پتھر The philosopher’s stoneبنانے کی کوشش کرتے مگر یہ پتھر کبھی بن نہ سکا۔ کئی کئی دن بھٹی دہکائی جاتی، تجربات ہوتے، کئی برتن توڑے، زمین میں دبائے اور چھت سے لٹکائے لیکن کچھ ہاتھ نہ آیا ۔

جب بھی کوئی تجربہ بُری طرح ناکام ہوتا اور ہانڈی ٹوٹ جاتی تو کینن اُسے باقی ماندہ دھات کے ساتھ باہر پھینکوادیتا ۔ ہر ناکام تجربے کے بعد کینن کسی نامعلوم اور احمقانہ وجہ کو موردِ الزام ٹھہراکر دوبارہ تجربہ کرنے کی ٹھان لیتا . . . پر ایسا کرنے کے دوران کبھی بھی قیمتی دھات وجود میں نہ آسکی۔ اُس نے اِس پیشے کی مذمت کی اور سب حاضرین کو اِس سے بچنے کی ہدایت کی۔

آخرکار کینن کا یومین کہنے لگا کہ ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی اور دانا نظر آنے والا ہر شخص دانشمند نہیں ہوتا۔ اکثر ہوتا یہی ہے کہ جو سب سے قابلِ اعتماد نظر آتا ہو وہی دھوکہ دے جاتا ہے۔

260-the-canons-yeomans-tale

اِس کے بعد کینن کے ملازم نے باقاعدہ کہانی کا آغاز کیا کہ . . . لندن میں ایک بےایمان دھوکے باز کینن رہتا تھا جس کی مکّاری کو شمار میں لانا ممکن ہی نہیں تھا۔ ہاں. . اِس تعارف کے ساتھ ہی اُس نے فوراََ صفائی پیش کردی کہ یہ بات بالکل اتفاق ہے کہ کہانی ایک کینن کے بارے میں ہی ہے۔ اُس نے تمام کینن ز سے معافی چاہی اور کہا کہ میری اِس کہانی کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ سب کینن دغاباز ہوتے ہیں، بلکہ کبھی کبھی پورے ٹوکرے میں کوئی دانہ خراب نکل ہی آتا ہے ، ایسے ہی ، یہ کہانی والا کینن بےحد چالاک تھا۔

اچھا تو، اُسی شہر میں ایک پریسٹ بھی رہتا تھا جو جنازوں پر مناجات اور دعائیں پڑھتا اور گاتا تھا۔ ایک دن، یہ کہانی والا کینن، اِس پریسٹ کے پاس آیا اور کچھ سونا اُدھار مانگا ۔ کینن نے بڑی لجاجت سے اُدھار کا مطالبہ کیا اور اِس بات کا یقین دلایا کہ وہ وعدے کے مطابق مقررہ وقت پر اُدھار لیا گیا سونا واپس لوٹا دے گا۔

تیسرے دن ، کینن حسبِ وعدہ اُدھار واپس کرنے آن پہنچا۔ پریسٹ بہت خوش ہوا اور کہنے لگا کہ اُسے اُمید تو نہیں تھی کہ دوبارہ کبھی اپنا مال دیکھے گا۔ اِسی کے ساتھ ، پریسٹ نے ایفائے عہد اور صداقت کی تعریف کی۔ کینن نے جواباََ، فراخ دلی کا ثبوت دیتے ہوئے، پریسٹ پر اپنی کیمیاگری کے کچھ اسرار کھولنے شروع کئے۔

299-canons-yeomans-tale

اُس نے عملی تجربہ پیش کرنے کے لئے پریسٹ کے ملازم سے کچھ پارہ اور کوئلہ منگوایا ۔ اپنے کوٹ کی اندرونی جیب سے ایک کٹھالی نکالی ۔ کٹھالی، مٹی یا چینی کا وہ برتن ہوتا ہے جو کیمیائی تجربات میں کسی چیز کو آگ پر پکانے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ کئی کرتبوں کے بعد اِس کینن نے پریسٹ پر ثابت کردیا کہ پارہ کامیابی سے چاندی میں تبدیل ہوچکا ہے۔

‘Sir,’ replied the priest, ‘it shall be done.’ He instructed his servant to fetch what had been asked for; his servant got ready to go at once, went off, shortly returned with the quicksilver and gave three ounces to the canon. The canon laid it down and asked for charcoal to be fetched, so that he could do what he intended to do. The coals were brought and the canon produced a crucible from inside his coat and showed it to the priest

‘Take this instrument that you can see, in your hands,’ he said, ‘put an ounce of quicksilver into it and take your first step, in the name of Christ, towards becoming a philosopher. There are few men indeed whom I honour with a demonstration of my science. You will see that this quicksilver will disappear, right before your eyes, and change into silver as pure as any coin that is in your purse or mine, or anywhere else – silver of such quality that it could be minted

170-canons-yeomans-tale

اُس کینن نے پریسٹ سے کہا اب اگلا تجربہ تانبے پر ہوگا۔ تانبا مہیا کردیا گیا۔ کینن نے پریسٹ سے کہا کہ وہ کٹھالی کے نیچے بھٹی میں کوئلہ ڈال دے ۔ اِسی اثنا میں کینن نے اپنی آستین سے چاندی کا ایک ٹکڑا کٹھالی میں ڈال دیا اور تانبے کو غائب کردیا ۔ اب پریسٹ کو کہا کہ بھیا ذرا کٹھالی میں غور فرماؤ . . کچھ دِکھائی دیتا ہے۔ پریسٹ کو بِلا دِقت چاندی کا ٹکڑا نظر آگیا ۔ قصّہ مختصر یہ کہ پہلے پارہ، پھر چُونا اور پھر تانبا، اِن سب سے کینن نے ، پریسٹ کو فریبِ نظر دے کر چاندی بنا کر دکھائی۔ مختلف تجربات سے حاصل شدہ چاندی کے ٹکڑوں کی تصدیق کے لئے وہ بازار میں ایک سونے چاندی والے کے ہاں گئے جس نے خوب ٹھونک بجا کر تسلّی کی اور پھر اصلی چاندی ہونے کی تائید کی ۔ پریسٹ پورا پورا معترف ہوکر ایسی کیمیاگری سیکھنے کے لئے تیار ہوگیا۔

275-canon-yeomans-tale

This canon put the ounce of copper into the crucible, placed it on the fire, threw in the powder and asked the priest to stoop down low above the coals and blow, as he had done before. But it was all a joke – just as the canon intended, he was making a complete monkey out of the priest. When the crucible was hot enough, the canon cast the contents into the mould and from there into the pan of water, putting his hand in to swish it about. And in his sleeve (as I explained before) he had this strip of silver which he let fall into the bowl and sink to the bottom, this cursed wretch. The priest suspected nothing at all. Then, swishing the water about some more, the canon retrieved the copper with great dexterity, hid it at once, then clasped the priest around the shoulders and said: ‘Lean over, man, come on, help me to find the ingot.’
The priest found the strip of silver without any difficulty and took it out. The canon said: ‘Let’s go at once to a goldsmith, to have these three silver ingots tested for purity; for, by my hood, we can’t be sure whether the silver is pure or not until we’ve done so. Let’s get them quickly assayed.’

So off they went to a goldsmith, the metal was investigated with fire and hammer and there was no doubt; it was all pure silver. Who was more pleased than this ecstatic priest! No bird was ever more pleased to see the dawn, no nightingale in May more delighted to sing, no lady more pleased to speak about love and no knight more eager to perform deeds of arms than this priest was to learn alchemy.

پریسٹ نے کینن سے یہ فارمولا مانگا جو کہ کینن صاحب نے اُسے پورے پروٹوکول کے ساتھ بڑی بھاری رقم کے عوض بیچا ۔ علاوہ ازیں پریسٹ کو پابند کیا کہ تمام معاملہ صیغہءراز میں رکھے ۔ پریسٹ کے ہاں سے رقم قابو کرتے ہی کینن نے اگلے ہی دن شہر چھوڑ دیا ۔ پریسٹ کو بہت بعد میں معلوم ہوا کہ اُسے بہت مہارت سے بےوقوف بنا کر چکمہ دیا گیا تھا۔

کہانی ختم ہوئی اور کہانی سنانے والے کینن نے ویلانو کے آرنالڈس، ہرمس ٹرس میکٹس اور افلاطون کا ذکر کیا ، یہ سب وہ لوگ ہیں جنھوں نے پارس کے پتھر کے بارے میں تحقیقات کیں اور مقالے، مضامین لکھے ہیں۔

اور کہانی کے اختتام پہ وہ کہتا ہے کہ میرے احباب، چونکہ اِس پتھر کے بنانے کی ترکیب کو اوجھل رکھنا ہی رب کی مرضی ہے چنانچہ انسان کو اِس حقیقت پر سرِ تسلیم خم کردینا چاہیئے ۔ بصورتِ دیگر اِس پتھریا دھات کو بنانے میں محض وقت اور سرمائے کی بربادی ہی ہاتھ آتی ہے۔

My tale is done. God send every honest man relief from his sorrows. Amen.

The 2nd Nun’s Tale – 42

کینٹربری کہانیوں کا سلسلہ جاری ہے، نن کی ہمراہی میں سفر کرنے والے پریسٹ نے لومڑ اور چانٹی کلیر کی شگفتہ کہانی سنائی۔ اِس کے بعد میزبان ، سیکنڈ نن کی طرف متوجہ ہوا اور کہانی سنانے کو کہا۔ یہاں یہ بات واضح ہو کہ اِس کردار کو چاوسر نے خود بھی سیکنڈ نن کہہ کر متعارف کروایا ہے چنانچہ یہ اسی نام سے ادبی حوالوں میں نظر آتا ہے ۔

244-the-2nd-nuns-tale

-سیکنڈ نن کی کہانی:

سیکنڈ نن کی کہانی شاہی بندRime Royalکی شکل میں ہے جبکہ دیگر کہانیاں مثنوی یا رباعی کی صورت میں تھیں۔ شاہی بند میں سات سات مصرعے ہوتے ہیں ، پہلا اور تیسرا، دوسرا اور چوتھا، جبکہ پانچواں ، چھٹا ور ساتواں ہم قافیہ ہوتا ہے ۔

Here bigynneth the Seconde Nonnes Tale of the lyf of Seinte Cecile

کہانی کے آغاز میں نن/ راہبہ نے گناہوں اور شیطانی چالوں سے پناہ مانگی ہے ۔ کاہلی اور بےکاری کی مذمت کی ہے، اور پھر مقدس مریم کے لئے دعائیہ مناجات ہے اور مدد کی التجا ہے کہ بنی نوع آدم کو گناہوں سے محفوظ رکھے . . . اور راہِ حق پر قائم رہنے کی توفیق دے۔ راہبہ، کاہلی کے نقصانات کے ضمن میں کہتی ہے :

The devil cunningly waits with a thousand cords to tie us up, and when he sees a man idle he can quickly catch him in his trap and the man may not even be aware that the devil has hold of him until it’s too late. We should therefore work and avoid idleness. Even if a man doesn’t fear death and judgement, reason ought to be enough to persuade him that idleness is nothing but rotten laziness from which nothing useful is created and no increase is engendered. Sloth keeps us in a cage, where there is nothing to do but sleep and eat, drink and consume what other people have worked hard to produce

So in order to keep us all from idleness, which is a cause of such great distraction, confusion and harm, I have worked on the legend, in translation, of your glorious life and death – you, with your garland of rose and lily – I mean you, maiden and martyr, Saint Cecilia!

سیکنڈ نن نے سینٹ سیسلیا کے صبر و استقامت کی کہانی سنائی۔ نن نے زائرین کی معلومات کے لئے اُس راہبہ کے نام سیسلیا کے بارے میں بتایا کہ اِس نام کا مطلب ہی آسمانی کنول ہے جو کہ اُس راہبہ کے پاکیزہ کردار کی دلالت کرتا ہے۔

First wolde I yow the name of Seint Cecilie
Expowne, as men may in hir storie see.
It is to seye in Englissh “hevenes lilie,”
For pure chaastnesse of virginitee;
Or, for she whitnesse hadde of honestee,
And grene of conscience, and of good fame
The soote savour, “lilie” was hir name.
Or Cecilie is to seye “the wey to blynde,
For she ensample was by good techynge;
Or elles Cecile, as I writen fynde,
Is joyned, by a manere conjoynynge
Of “hevene” and “Lia”; and heere, in figurynge,
The “hevene” is set for thoght of hoolynesse,
And “Lia” for hire lastynge bisynesse

First I will explain to you the name Cecilia, as it is recorded in her legend; her name means Heavenly Lily, from the Latin word Caelum meaning heaven, and signifies her pure virginity or the whiteness of her honesty and the greenness of her conscience; and for the sweet perfume of her high repute she was called Lily. Or perhaps Cecilia means Path for the Blind, from the Latin word Caecus meaning blind, because her life was an example that we can all learn from. Or else, as I find it written, Cecilia may be formed from a joining of the words ‘heaven’ and ‘lia’, and in this context, heaven signifies her holy thoughts and ‘lia’ her holy and active life

سیکنڈ نن کہنے لگی کہ راہبہ سیسلیا پیدائشی رومن تھی۔ وہ اعلٰی خاندانی والدین کے ہاں پیدا ہوئی اور اُس کو عیسائی تعلیمات کے مطابق تربیت دی گئی ۔ یہ وہ وقت تھا جب روم میں رومن دیوتاؤں کی پوجا کی جاتی تھی اور عیسائی تعلیمات کی اتباع کرنا ممنوع اور جان جوکھوں کا کام تھا۔

جب سیسلیا جوان ہوئی اور شادی کی عمر کو پہنچی تو اُسے اِس بات کا خوف لاحق ہوا کہ خدانخواستہ وہ کسی گناہ کی مرتکب نہ ہوجائے۔ چنانچہ اُس نے شادی کی پہلی رات اپنے شوہر کو پوپ اربن کے پاس جا کر ایمان لانے اور مقدس پانی چھڑکاؤ کروانے کی درخواست کی ۔ سیسلیا کا شوہر ویلیرین مان گیا ۔ اگرچہ اُس وقت عیسائیت پر کاربند ہونا قابلِ قتل جرم تھا۔ غالب گمان ہے کہ تاریخی حوالوں کے اعتبار سے یہ پانچویں صدی عیسوی سے پہلے کی بات ہے۔

This maiden, bright Cecilia, was a Roman and she had been born to noble parents. Since her birth she had been nurtured in the Christian faith and held the Gospels of Jesus in her mind always. She never ceased from prayer, as I find it written, and always held in her mind a love and fear of God, asking constantly, in particular, that He might protect her virginity

When the time came that she should be married, Cecilia was betrothed to a young man named Valerian and as the day of her wedding unfolded, she very devoutly and courageously wore an undergarment of coarse hair beneath her golden wedding dress. And while the music played and the organ sounded, she sang in her heart to God alone: ‘Oh lord, keep my soul and my body under Your protection, unblemished, so that I will not be destroyed.’ For the love of He who died upon a tree, she was accustomed to spending every second or third day fasting and in constant prayer

Her wedding night quickly arrived, when she had to go to bed with her husband, as was the custom. She said to him softly: ‘Oh my sweet and well-beloved spouse, there is something that I must tell you, if you will listen, something that I have great joy in telling you, but you must promise not to betray this confidence to anybody

Valerian swore at once that he wouldn’t divulge a word of what she was going to say to him; not to a living soul. Then she said to her husband: ‘I have an angel who loves me so greatly that, whether I am asleep or awake, he is always ready to protect my body. If he perceives that you have touched me or tried to have sex with me, be in no doubt that he will kill you. You will then die at a tragically young age. But if you can learn to love me in a way that does not involve any sex, then he will love you for your cleanness as much as he loves me and he will reveal to you his beauty and his joy

Valerian, instructed as God desired, answered: ‘So that I can trust you, let me see this angel. If it is a real angel then I will do as you have asked, but if it is another man whom you love, I will kill you both with this sword that I am carrying

‘If this is what you want, you shall see my angel,’ replied Cecilia. ‘But you must first believe in Christ and receive baptism. Go to the Appian Way, which is only three miles from this town, and speak to the poor folk who live there, tell them that I, Cecilia, have sent you to meet the good and aged Urban, with a good will and for a private purpose. When you meet Saint Urban, tell him what I have said to you, and when he has purged you of all your sins, then you will be able to see this angel, before you part from him

ولیرین پاکیزہ چھڑکاؤ لے کر واپس گھر پہنچا تو ایک فرشتہ اُن دونوں کے لئے بہشت سے پھولوں کے دو تاج لایا۔ فرشتے نے بتایا کہ صرف متقی اور پرہیزگار ہی اِن پھولوں کو دیکھ سکیں گے ۔

272-2nd-nuns-tale..
CeciliaCrownsDomenichino

ہدایت کی اِس نعمت سے ویلیرین اِس قدر خوش تھا کہ اُس نے فرشتے سے، اپنے بھائی ٹیبرٹس کی ہدایت کا سوال کیا۔ ٹیبرٹس نے خوف ظاہر کیا کہ اگر روم کے لوگوں کو ہمارے عقیدے کا پتہ چل گیا تو وہ ہمیں قتل کردیں گے ۔ سیسلیا نے سب کو ڈھارس دی، بلند ہمتی یاد دلائی اور اِس دنیا کی بے ثباتی کا ذکر کیا کہ اگر ہم قتل ہوگئے تو آخرت میں ایک اچھی زندگی ہماری منتظر ہوگی۔ سیسلیا نے مقدس عقیدہء تثلیث کی تشریح کی اور دیگر نصرانی اصول اور عقائد بیان کئے۔ اِن باتوں نے ٹیبرٹس کے دِل پر اثر کیا ، اس طرح ویلیرین کے بھائی ٹیبرٹس نے بھی حقیقی ہدایت کا راستہ اپنا لیا اور وہ تینوں اچھی زندگی گزارنے لگے۔ اُن پر خدائی برکات اور فیوض نازل ہوتے رہے۔

کچھ عرصے بعد اُن کا راز لوگوں پر کھُل گیا اور شہرِ روم کے لادین سپاہیوں نے ویلیرین اور ٹیبرٹس کو گرفتار کرکے گورنر کے سامنے پیش کردیا ۔ گورنر نے دونوں کی ہلاکت کا حکم جاری کیا ۔ گورنر کا ایک کارندہ میکسمز کہانت کا دعوے دار تھا ۔ سزا کی عمل درآمد کے دوران میکسمز نے اِس بات کا اقرار اور اعلان کیا کہ اُس نے ویلیرین اور ٹیبرٹس کی ارواح کو بہشت کی طرف جاتے ہوئے دیکھا ہے۔

یہ سن کر مجمع میں سے کئی لوگ عیسائیت پر ایمان لے آئے۔ اِس بات پر گورنر نے میکسمز کے قتل کا حکم جاری کردیا ۔ سیسلیا نے اپنے شوہر اور اُس کے بھائی کی نصرانی طریقے سے تدفین کی اور اِس سپاہی کو بھی اُنہی کے ساتھ دفنا دیا۔ گورنر نے سیسلیا کو پیغام بھیجا کہ اپنے فعل پر شرمندہ ہوکر مذہب تبدیل کرلے لیکن سیسلیا نے انکار کردیا اور گورنر کو جھوٹے دیوتاؤں کی پوجا کرنے پر سخت ملامت کی۔

vol-3-063-second-nuns-tale
vol-3-064-second-nuns-tale..

گورنر نے سیسلیا کے لئے ایک کڑی سزا تجویز کی کہ اُسے کھولتے ہوئے پانی میں ڈالا جائے۔ سیسلیا کو پانی میں ڈال کر ایک رات اور ایک دِن آگ بھڑکائی جاتی رہی لیکن . . پھر بھی پانی گرم نہ ہوا۔ اور سیسلیا محفوظ رہی۔

second nuns tale

گورنر نے جلّاد کو اُس کی گردن اُڑانے کا حکم دیا ۔ جلاد نے سیسلیا کی گردن پہ تین کاری ضربیں لگائیں پر سر کو تن سے جُدا نہ ہونے دیا ۔ سیسلیا تین دِن جانکنی کے عالم میں پڑی رہی اور اِس حالت میں بھی تبلیغ اور مناجات کرتی رہی۔ اُس نے اپنی جائیداد غریبوں میں تقسیم کرنے کی وصیت کی ۔

Cecilia2PoorDomenichino

Cecilia said this, and a lot more, and Almachius grew so angry with her that he commanded that she be led back to her house and put to death in a bath of scalding water, amidst roaring flames. His orders were quickly carried out. They secured her in a bath and spent all that night, and all the next day, stoking and fanning a great fire beneath it. But all this time, despite the heat of the flames and the bath, she sat in the cold and felt no discomfort. She produced not a drop of sweat! But she had to die in that bath, because Almachius had given strict and wicked orders to that effect, so her executioner gave her three sharp blows to the neck with his sword, but he did not cut it in two. And because there was at that time a law which decreed that nobody should have to suffer more than three attempts at beheading, he dared not make a fourth attempt, either harshly or to lessen her suffering. So he left her lying there, half dead, with her neck partially severed, and went on his way

OLYMPUS DIGITAL CAMERA

تین دن بعد اُس کی وفات ہوئی تو لوگ اُس کی میت کو پوپ اربن کے پاس لے گئے۔ پوپ اربن نے اُسے رات کے وقت گرجا کے احاطے میں دیگر راہبوں اور راہباؤں کے ساتھ دفنایا اور وہ گرجا گھر آج بھی اُسی کے نام سے پوجا جاتا ہے۔

050424-003santaCecilia
gohistoric_16039_z

 Mosaic/  Valerian and Cecilia

Mosaic/ Valerian and Cecilia

اور اِس طرح سینٹ / سیسلیا کی بائیوگرافی اختتام پذیر ہوئی ۔ اِس کہانی کو ناقدین اور ماہرینِ انگریزیات نے وائف آف باتھ کی کہانی کا متضاد اور تقابلی موضوع بھی ٹھہرایا ہے ۔ کیونکہ وائف آف باتھ کا کردار اور کہانی ، دونوں دنیاوی لذّات اور فطری جبلتوں سے متعلق ہیں . . . جبکہ سیکنڈ نن کی کہانی میں مذکور سینٹ سیسلیا کی زندگی، روحانی اصلاح ، ابدی فلاح اور عقیدے کی استقامت کے بارے میں ہے۔

473px-St_cecilia_guido_reni

The Nun’s Priest’s Tale – 41

کُل سترہ ٹریجیڈی احوال کے بعد میزبان نے مونک کا شکریہ ادا کیا اور اُسے اپنی کہانی موقوف کرنے کو کہا ۔ اب نن کی ہمراہی میں سفر کرنے والے پریسٹ/Priest کی باری تھی کہ وہ اگلی کہانی سنائے۔ مونک کی المیہ کہانیوں کے پیشِ نظر ، میزبان نے پریسٹ کو تاکید کی کہ کہانی پُرلطف ہونی چاہیئے ۔

نن کے پریسٹ کی کہانی:

پریسٹ نے ایک معمر بیوہ کی کہانی سنائی ۔ ایک جنگل کے کنارے، قدرے نشیب میں اُس بڑھیا کا جھونپڑا تھا۔ وہ ایک چھوٹے سے کھیت میں محنت مزدوری کرکے اپنا اور اپنی بیٹیوں کا پیٹ پالتی تھی۔ گھر کے صحن میں بڑھیا کی مرغیوں کا ڈربہ تھا ۔ بڑھیا کا پولٹری فارم کُل سات مرغیوں اور ایک مرغے سے آباد تھا۔ مرغے کا نام ‘چانٹی کلیر’ Chanticleer تھا جو کہ بانگیں دینے میں ثانی نہیں رکھتا تھا۔ اُس کا رنگ دیدہ زیب، شوخ اور چونچ سیاہ تھی۔ اِن مرغیوں میں ایک خوش بخت ‘پرٹی لوٹ’Pertelote مرغے کی محبوب اور منہ چڑھی تھی۔

ایک صبح جنابِ چانٹی کلیر بہت متفکر اور خاموش ، اپنے باغیچے میں ٹہل رہے تھے۔ ذہین پرٹی لوٹ نے اُداسی بھانپ کر سبب پوچھا ۔

مرغے نے کہا کہ ایک بُرا خواب دیکھ کر پریشان ہوں، جانے کیا معاملہ ہو، اُس نے خُدا سے دعا کی کہ خواب کی تعبیر نیک ہو۔ خواب سناتے ہوئے مرغے نے کہا : کیا دیکھتا ہوں کہ شکاری کتے جیسا کالے کانوں والا، ایک سُرخ اور پیلا جانور ہمارے صحن میں ہے جس نے میرا تعاقب کرتے ہوئے مجھے ہلاک کردیا ہے۔

پرٹی لوٹ نے اُسے حوصلہ دیا کہ ضروری نہیں کہ ہر خواب ہی سچا ہو۔ کبھی کبھی پیٹ کی گڑبڑ سے نیند ٹھیک نہیں آتی اور مضمحل طبیعت کے سبب بھی بےمعنی خواب نظر آتے ہیں ۔ وہ خاطر جمع رکھے اور پریشانی کو دل میں جگہ نہ دے ۔ بی مرغی نے مرغے میاں کے لئے کچھ جڑی بوٹیاں لانے کا ارادہ ظاہر کیا جن سے اُس کی طبیعت ٹھیک ہوجائے گی۔

چانٹی کلیر نے اپنی بات پر مُصر رہتے ہوئے کہا کہ خواب ضرور اہمیت رکھتے ہیں اور آنے والے واقعات کا اشارہ دیتے ہیں۔ وہ بھی اپنی جگہ پورا دانشور تھا اس لئے اُس نے اپنی بات کی تائید میں کئی مثالیں دیں جیسے کہ ایک شخص نے خواب میں اپنے دوست کو قتل ہوتے دیکھا ۔ جس کی لاش کو گوبر اُٹھانے والے چھکڑے پر چھپایا گیا تھا۔ وہ شخص اپنے خواب کے مطابق، اُسی جگہ گیا جہاں کی نشاندہی کی گئی تھی تو وہاں اُسے اپنے دوست کی لاش مِلی۔

اِسی طرح ، چانٹی کلیر نے اُن دو دوستوں کی مثال بھی دی جن کو ایک سمندری سفر کرنا تھا اور اُن میں سے ایک دوست نے خواب دیکھا کہ وہ ڈوب رہا ہے۔ اُس نے دوسرے کو خواب سنایا تو دوسرے نے اُس کا مذاق اُڑایا اور وہ سفر پر روانہ ہوگئے۔ سفر کے دوران کشتی کے پیندے میں سوراخ ہوا اور وہ ڈوب گئے۔ چانٹی کلیر نے کچھ اور بھی مثالیں دیں۔

خواب اور تعبیروں کے موضوع سے اُکتا کر ، چانٹی کلیر نے پرٹی لوٹ سے کہا: میری نازنیں، زندگی تو فنا ہونے والی چیز ہے، اِس کے لئے پریشانی اور قلق کیسا ؟ آؤ پیاری کچھ دِل لگی کی باتیں کریں جن سے طبیعت بہل جائے۔ جانے دو اِن غیب کی الہامی باتوں کو ، آج تمہارے رُخسار اور زلف کی کچھ بات ہو، تمہاری مدُھر کُٹ کٹاک سے میرے من کے تار گُنگنائیں، تمہارے چہرے کے حُسن میں کھو جاؤں ۔ کتنے نصیب کی بات ہے کہ تم میری شریکِ حیات ہو۔ تمہارے پیار بھرے ساتھ کی وجہ سے میں تمام عالم کے غم سے بےگانہ ہوجاتا ہوں۔ آؤ دِل کے بہلانے کو کچھ میٹھی دِلنشیں باتیں ہوں۔

پھر اُس نے پرٹی لوٹ کو ایک ضرب المثل سنائی کہ . . .وہ جو کہتے ہیں کہ . . اچھی عورت کے دم سے مرد کی زندگی نعمت بن جاتی ہے۔ اِسی طرح وہ دیر تک اپنی محبوب بیوی پرٹی لوٹ سے راز و نیاز کی باتیں کرتا رہا، اور اس کے دل سے خواب کی پریشانی جاتی رہی۔

مارچ کا مہینہ تقریباََ گزر چکا تھا جب ایک دن مُرغا چانٹی کلیر بڑے تپاک سے صحن میں چہل قدمی کررہا تھا ۔ اُس کی مرغیاں ، اُس کے دائیں بائیں ٹہلتی ہوئی ٹھونگیں لگا رہی تھیں۔ اِسی اثنا میں ایک سیاہ لُومڑ اُس طرف آنکلا ۔

026-chanticleer-and-dan-russell

چانٹی کلیر فرار ہونے کے لئے کے لئے پر تول ہی رہا تھا کہ لومڑ نے سلام دعا شروع کرتے ہوئے کہا کہ وہ تو چانٹی کلیر کے ماں باپ کا پرانا واقف ہے۔ لومڑ نے چانٹی کلیر کے باپ کی خوبصورت بانگ کی تعریف کرتے ہوئے ویسی ہی بانگ کی فرمائش کی۔ چانٹی کلیر نے بانگ دینے کے لئے ابھی گردن اکڑائی ہی تھی کہ لومڑ نے اُسے گردن سے دبوچا اور جنگل کی طرف بھاگ گیا ۔ مرغیوں نے اپنے سرتاج کے اغوا ہونے پر دُہائی ڈال دی۔

056-after-him-the-fox nun s oriest

بے چاری بڑھیا اور اُس کی دو بیٹیوں نے مرغیوں کی کٹ کٹاک اور آہ و فغوں سنی تو وہ بھی جنگل کی طرف بھاگیں۔ گاؤں کے کچھ مرد اور بچے بھی ساتھ بھاگ پڑے ۔ چانٹی کلیر نے بڑی دقّت سے آواز نکالتے ہوئے لُومڑ سے کہا کہ دیکھو شکاری بھیا، اب مزہ تو تب ہے کہ . . تم اِن پیچھا کرنے والوں کو گالیاں دو اور کہو کہ پیچھا کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا کیونکہ . . اب تم مجھے کھا جاؤ گے ۔

113-all-the-neighbors-joined
A Scene from The Nun's Priest's Tale

لومڑ کو آئیڈیا اچھا لگا اور جیسے ہی اُس نے منہ کھولا . . .چانٹی کلیر پھڑپھڑاتا ہوا اُڑ کر ایک درخت کی ٹہنی پر جا بیٹھا ۔ لومڑ نے ہزار کہا کہ . . بھیا ، نیچے آجاؤ، میں تمہیں سچ میں کھا ہی تو نہ جاؤں گا۔

Renart_illumination

مگر چانٹی کلیر موت کے منہ میں جا کر واپس آیا تھا اور دوبارہ ایسی سنگین غلطی نہیں کرسکتا تھا ۔ لومڑ نے ہار مان لی ، بہت پچھتایا اور اُن سب پہ ملامت کی . . . جو خاموش رہنے کے وقت بول پڑتے ہیں ۔ کبھی کبھی بات کرنے کا وقت نہیں ہوتا ، خاموش رہنے کی ساعت ہوتی ہے، جن وقتوں میں خاموش رہنا ، عافیت کا وسیلہ ہوتا ہے اور نادان لوگ ایسے میں بول کر اپنا نقصان کرلیتے ہیں۔

So you see, this is what happens when you allow yourself to fall prey to flattery. But all those of you who think that this tale is just a foolish fable about a fox, or a cockerel and a hen, be aware of the moral of the story, good men. Saint Paul wrote that all that is written is there for our instruction. Take the heart of the matter, and let the rest blow away like chaff in the wind

Now goode God, if that it be thy wille,
As seith my lord, so make us alle goode men,
And brynge us to his heighe blisse. Amen۔
Now God, if it is your desire, make us all into good men and grant us heaven at last. Amen

میزبان نے اِس شگفتہ کہانی کا لُطف اُٹھاتے ہوئے، تمام مسافروں کو اِس کے مرکزی خیال کی طرف توجہ دینے کا مشورہ دیا اور یوں . . . نن کے پریسٹ کی کہانی ختم ہوئی اور زائرین کا سفر جاری رہا ۔

‘Sir Nun’s Priest,’ said our host. ‘God bless the seat of your pants and every one of your balls! This was a merry tale of Chanticleer. By my faith, if you were not of the clergy I bet you would be a proper breeding-fowl, having hens to keep you satisfied to the number of seven times seventeen and more – yes! – do you see the muscles on this noble priest, his great neck and manly chest? His eyes are like a sparrow-hawk’s! His complexion is like an artists’ pigments, and no need to embellish them with colours from Portugal! May fortune smile upon you, sir, for this tale

Then, with a merry laugh, he turned to another of the pilgrims

269-nus-priests-tale

The End of Monk’s Tale – 40

اپریل کا مہینہ ہے جس میں اُنتیس زائرین کینٹربری کے بڑے کلیسا کی جانب مذہبی زیارت کے لئے رواں دواں ہیں اور چودہویں صدی کے سفر کی صعوبت کے پیشِ نظر ، اِن مسافروں نے باہم کہانیاں سناکر وقت گزاری کا منصوبہ بنایا۔ سفر کی مشکلات سے نبرد آزما ہونے کے علاوہ، کہانی سنانے کا فن ، کم از کم اُتنا ہی پرانا ہے جس قدر پرانا خود انسان ہے۔ کہانی سناکر، کہانی سُن کر اور نسل در نسل کہانی منتقل کرکے ہی روایات کا ایک بڑا حصہ ارتقائی منازل طے کرتا ہوا آج کی موجودہ شکل تک پہنچا ہے۔ کلاسیکی سٹیج ڈرامے، فلم سازی، جدید دور کا ڈرامہ، تھری ڈی ، اینیمیٹیڈ اور تاریخی فلمیں، سب کہانی کاری کے پہلو سے ہی نمودار ہونے والی اصناف ہیں۔

اب ایسا ہوا کہ جب میزبان نے مونک سے کہانی کی فرمائش کی تو مونک نے اُس چلن سے ہٹ کر کہانی سنائی جو کہ پہلے سے مسافروں میں چل رہا تھا۔ مونک نے اپنے منصب کے اعتبار سے ، اپنی علمی لیاقت کی غمازی کرتے ہوئے، دیومالائی، تاریخِ قبل مسیح اور ماضی قریب کی چند شخصیات کا حال سنایا ۔

The monk says: I will lament, then, in the manner of tragedy, the suffering of those who once enjoyed a high status in this world and then fell from grace in such a dreadful way that there was no hope of them ever recovering from it. Certainly, when fortune flies from us, no one has the power to alter her course. So let no man feel secure in his prosperity. Draw caution from these old and true stories

.

اِن سب شخصیات کے چُناؤ میں یہ بات مماثل تھی کہ یہ سب کردار بدترین انجام سے دوچار ہوئے ۔ زندگی میں، کسی نہ کسی سبب انہوں نے عروج پایا لیکن اپنی خطا یا قسمت کے پھیر کی وجہ سے زوال کا سامنا کیا ، دردناک موت دیکھی، بےبسی اور ذلّت اِن کا مقدّر ہوئی۔

اِن کرداروں میں سے بیشتر کا ماخذ بائبل ہے اور چونکہ مونک خود ایک کلیسائی کردار ہے تو ظاہری بات ہے کہ اُس کی علمی مہارت کا شعبہ یہی تھا۔ مونک نے لوسیفر، آدم، ہرکولیئس، سیمپسن، بخت نصر، بیلشضر ، ہولوفرنو، کریسص، سکندرِ اعظم، ملکہ زینوبیا، انطیوخوس، جولئیس سیزر، نیرو، ہوگولینو، بارنابو وِزکونٹی، پیٹر آف قبرص اور پیٹر آف قشتالہ کی المناک رودادیں سنائی۔

The monk tells a series of tragic falls and claims to have a hundred of these stories but the Knight stops him after only seventeen, saying that they have had enough sadness and depression. In all these stories, noble figures are brought low and experience a fall from grace. The Knight finds his listing of historical tragedies monotonous and depressing

کل سترہ ٹریجیڈی احوال سنانے کے بعد ، نائٹ نے مونک کو ٹوکنا مناسب سمجھا کیونکہ پے در پے زوال ، ہزیمت اور موت کے تذکرے سُن سُن کر تمام زائرین یاسیت کا شکار ہونے لگے تھے۔دل ڈوبنے لگے تھے اور اُن کے چہروں سے ہبوطِ نفس اور ہیبت عیاں تھی۔ میزبان نے بھی، مونک کی بات کی تائید کی اور اِن تاریخی المیوں کو روک دینے میں ہی عافیت جانی۔

Here the Knight “stynteth” (stops) the monk’s tale

نائٹ نے کہا کہ یوں تو تاریخی واقعات میں عبرتِ عالم ہوتی ہے اور زوال پذیر ہونے والے افراد کا حال جان کر انسان سبق اور تجربہ حاصل کرتا ہے مگر اب یہ سلسلہ روک دینا اچھا ہے کہ ماحول بہت بوجھل اور سوگوار ہوچلا ۔

The Canterbury Pilgrims

ہونے کو تو یہ اتفاقیہ بات بھی ہوسکتی ہے کہ نائٹ ہی وہ شخص ٹھہرا جس نے مونک کو الم و غم بھرے حالات سنانے سے روکا۔ لیکن ، کہانیوں کے آغاز میں ، نائٹ کا جو شخصی خاکہ پیش کیا گیا ہے اُس کے مطابق تاریخ، تخت اور مبارزت سے متعلق واقعات نائٹ کی دلچسپی کا محور ہوتے . . . اور یہاں نائٹ ہی اُکتاہٹ کا شکار ہوا۔

ماہرینِ ادب نے کڑی سے کڑی ملا کر ، اِس بات کی یہ توجیہہ پیش کی ہے کہ نائٹ کے تعارف میں یہ بات بتائی گئی ہے کہ وہ بہت سے صلیبی معرکوں میں اپنے جوہر دکھا چکا ہے جن میں سکندریہ پر حملے کی جنگی مہم کا ذکر تھا ۔ چنانچہ اگر وہ سکندریہ پر لشکر کشی کرنے والے صلیبی دستے میں شامل تھا تو یہ وہی صلیبی جنگ ہوئی جس کی کمان قبرص/سائپرس کا پیٹر اوّل کررہا تھا۔

یہی بات ہے کہ نائٹ اپنے سابقہ آرمی چیف کا المیہ سُن کر دلبرداشتہ ہوگیا، اپنے سپہ سالار کے لئے ایسا محسوس کرنا بالکل فطری تھا ، اُس سے رہا نہ گیا اور وہ بول پڑا۔ یوں مونک کی المیہ داستانوں کا سلسلہ سترہ سے آگے نہ بڑھ سکا۔ سترہ شہرہ آفاق شخصیات کے مؤلم انجام کے بعد مونک خاموش ہوا اور میزبان نے قافلے میں شامل ایک پریسٹ سے درخواست کی کہ اگلی کہانی وہ سنائے۔

‘Ho!’ quod the knight, ‘good sir, namore of this, that ye han seyd is right y-nough, y-wis, and mochel more…

‘Hey!’ exclaimed the knight. ‘Good sir, no more of this! What you have said is quite enough – in fact, I would say, too much! A small amount of seriousness is enough for most people. For myself, I think it’s a great shame when someone who’s enjoyed wealth and comfort loses it all suddenly. It’s a huge pleasure to hear of its opposite, in fact. If a man who has been poor betters himself and climbs up the social ladder, has some good luck and ends up living in prosperity – a thing like this is a pleasure to hear, to my way of thinking, and makes for a much better tale.’
‘I totally agree!’ exclaimed our host. ‘By the bell of Saint Paul’s, you’re right! This monk chimes on and on about “fortune overshadowed by a cloud” or some other crap
‘Sir Monk, may God bless you, but no more of this. Your tale is annoying us. Such talk is not worth a butterfly. There is no pleasure to be gained from it. Therefore Sir Monk, Sir Peter rather, I plead with you, tell us about something else. If it wasn’t for the clinking of all the bells hanging from your bridle
‘No,’ replied the monk. ‘I can’t be bothered any more. Let someone else have their go, for I have finished.’
‘Come here then, Sir Priest, come over here Sir John,’ said the host to one of the Nuns’ Priests, rather roughly and insistently. ‘Tell us something that will make us laugh. Be upbeat, although I can see you’re riding an old nag; but so what if your horse is mangy and thin? If he serves your purpose, he’s good enough, so be in good spirits.’
‘Yes, sir,’ replied the Nun’s Priest. ‘Yes, host, I will be merry, may good luck come to me, or else I will annoy you all, I understand this.’
Then he began his tale and spoke out to everybody, this sweet priest, Sir John.