10 th part, Charatcer hints by Quraan

قُرآنِ پاک میں بیان کردہ شخصی اوصاف میں سے چند ایک ، اختصار کے ساتھ ، حصہ دسواں

A little effort to put down some good qualities of a character, described by the Holy Qura’an. Part 10

-1- اللہ کی محبت پر کوئی چیز غالب نہ آئے:

– انسان کی تمام محبتوں کا دارومدار اللہ کی ذات ہو۔ اللہ کی محبت انسان کی زندگی کا محور و مرکز ہو۔

– سورۃ التوبہ / آیت24/

قُلْ إِن كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُم مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّىٰ يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ ۗ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ

-ترجمہ: کہہ دو اگر تمہارے باپ اور بیٹے اور بھائی اوربیویاں اور برادری اور مال جو تم نے کمائے ہیں اور سوداگری جس کے بند ہونے سے تم ڈرتے ہو اور مکانات جنہیں تم پسند کر تے ہو تمہیں الله اور اس کے رسول اوراس کی راہ میں جہد کرنے سے زیادہ پیارے ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ الله اپنا حکم بھیجے اور الله نافرمانوں کو راستہ نہیں دکھاتا

-2- ایمان والے باہم ایک دوسرے کے معاون و مددگار ہوتے ہیں۔

– اہلِ ایمان مِل جُل کر نیکی کے کاموں کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے ہیں۔ بھلائی کے کاموں کی اشاعت کے ساتھی اور برائیوں کی روک تھام میں مددگار بنتے ہیں۔

– سورۃ التوبہ/ آیت 71/

وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۚ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَيُطِيعُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ۚ أُولَـٰئِكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللَّهُ ۗ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ

-ترجمہ: اور ایمان والے مرد اور ایمان والی عورتیں ایک دوسرے کےمددگار ہیں نیکی کا حکم کرتے ہیں اوربرائی سے روکتے ہیں اورنماز قائم کرتے ہیں اور زکواة دیتے ہیں اور الله اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرتے ہیں یہی لوگ ہیں جن پر الله رحم کرے گا بے شک الله زبردست حکمت والا ہے

Juz’ 10:

-1-

Allah’s love should dominate a person’s whole life.
No other love should have a first place except Allah’s.
Quraan says: Al Tauba/24/ Say: If it be that your fathers, your sons, your brothers, your mates, or your kindred; the wealth that ye have gained; the commerce in which ye fear a decline: or the dwellings in which ye delight – are dearer to you than Allah, or His Messenger, or the striving in His cause;- then wait until Allah brings about His decision: and Allah guides not the rebellious

-2-

There should be a cooperating environment among the believers, and they should be helpful for each other, stand for the right and abandon the false things.
Quran says: Al Tauba/ 71/ The believing men and believing women are allies of one another. They enjoin what is right and forbid what is wrong and establish prayer and give zakah and obey Allah and His Messenger. Those – Allah will have mercy upon them. Indeed, Allah is Exalted in Might and Wise

Advertisements

MAY THE NEW YEAR BE A HAPPY ONE

سالِ نو 2016

انسان کی تمام تاریخ اور ارتقاء ، بہت سی لسانی اور نسلی اقسام پہ مشتمل ہے۔ کرہء ارض کے اردگرد انسانی جِلد کا رنگ بدلتا چلا جاتا ہے۔ انسانی تاریخ میں گُوناگوں زبانیں پائی جاتی ہیں اور خود ہر زبان کے بےشمار لہجے ہیں۔ مترجمین اور رابطہ کاروں کو ایک پیغام کو دوسری زبان اور دنیا کے دوسرے خطّے کے لئے قابلِ فہم بنانے میں بہت محنت کرنا پڑتی ہے۔ ڈب شدہ مواد کو ترجمہ کے کڑے عمل سے گزارا جاتا ہے۔ یہی معاملہ سب ٹائٹل یعنی تحریر کردہ ترجمے کا ہے۔

ترجمہ شدہ عالمی ادب بھی قارئین میں بہت پسندیدہ رہا ہے۔ ایک بار رنگا رنگ ادب کا ذائقہ منہ کو لگ جائے، تو پڑھنے والا بار بار اُسی لذت کی خواہش کرتا ہے۔

مختلف زبانوں، نسلوں اور معاشروں کو قریب لانے کے لئے ترجمے اور رابطے کی کوشش کے باوجود ہر انسان کے لئے جذبات و احساسات ، ایک سے ہیں۔

سب انسان ایک ہی طرح روتے ہیں۔

آنسوؤں کو ترجمے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کوئی بھی نسل ہو، سب کو درد ایک ہی جیسا ہوتا ہے۔ ہر انسان کے زخم سے خون ہی بہتا ہے اور دنیا کے سب انسانوں کا ، ہر فلم میں، ہر تحریر میں خون کا رنگ ، سُرخ ہی ہے۔ اِس بات سے قطع نظر کے وہ کیا زبان بولتی ہے، ہر عورت اپنے بچے کو اپنی کوکھ میں رکھ کر، درد سہہ کر، اِس دنیا پہ ایک نئی زندگی جنم دیتی ہے۔ ہر نومولود اپنی آبائی زبان سے انجان، اپنے خاندان کے اطوار و رسوم سے بےخبر روتا ہے۔ ایک بچے کی معصوم مسکراہٹ ہمیشہ قیمتی ہوتی ہے خواہ وہ کسی زبان کا کوئی لفظ بولنا نہ جانتا ہو۔

نفرت، لالچ، ظلم، رحمدلی، مہربان، مسکراہٹ اور محبت ، اِن سب کی اپنی مواصلاتی علامتیں ہیں، لسانیات اور زبان دانی سے پرے

. . . . .

ایک اور مشترکہ عمل، جس کا سب انسانوں کو مزہ چکھنا ہے، وہ موت کا عمل ہے۔ موت کا سامنا، ہر رنگ و نسل، قبیلے، قوم، خاندان اور نسل کو ہے، خواہ خطہء ارض پہ اُن کی کوئی بھی جگہ ہو، وہ کسی بھی جگہ ہوں۔

سو سادہ لفظوں میں، یوں کہہ لیجیئے کہ تمام انسانوں کا اندرونی سافٹ وئیر ایک ہی ہے چاہے ظاہری، زمانی اور مکانی اعتبار سے فرق بھی ہو۔

اللہ سے دعا ہے کہ، یہ اعدادی تبدیلی، یعنی2015سے2016، بہت سا سکون، اطمئنان، امن اور خوشی لے کر آئے، جو سرحدوں، نسلوں، زبانوں اور براعظموں کے قید سے آزاد ہو۔ کیونکہ انسان، کرہء ارض پہ کہیں کا بھی ہو ، اُسے ایک ہی طرح درد ہوتا ہے، اس کا ایک ہی طرح خون بہتا ہے، وہ ایک طرح محسوس کرتا اور مسکراتا ہے۔

دعا ہے کہ نیا سال خوشیاں اور آسانیاں لائے

سب کے لئے دِلی خواہشات

ثروت ع ج

THE YEAR 2016
rose in a book
Humans are divided in a diverse variety of languages and races. Skin colors vary around the globe. There are so many languages and every language has so many accents. It needs a lot of effort in the area of translation and correspondence to convey one message from one part of world to another. Dubbed content undergoes intense translation job to meet an exact impact in the re-produced work. Same is the case with the subtitling.

Translated foreign literature is majorly favorable among the readers. Once addicted to the immense variety of world literature, one desires for more of such festivities.

Despite all those translating and conversing steps that are taken to interconnect the humans of various languages and ancestry, feelings remain the same for every single human.

All humans cry in the same way.

Tears need not to be translated. Pain is equally suffered in the same way, whatever may be the race. All they bleed in the same way and human blood is always red in every part of world. A woman holds her child in her womb and bears labor pains to originate a new life on the planet, across all the continents, regardless of what she speaks in. A newborn cries with no specification of language, not knowing what is the color of his skin and whatever could be the rituals of his family for a newborn. A child’s smile is the most precious in every part of the world, even if he don’t knows to say any single word.
Hate, greed, cruelty, jealousy, generosity, kindness, smile and love have their own communication codes, that are beyond the limitations of linguistics and languages.

Another common phenomenon, that all humans face equally, is the end of life. Death is faced by each and every tribe, nation, family and ancestry of humans, whatever may be their location on the planet.

So, in simple words, let me put down, that all humans have a similar software inside, even if the hardware, location, language is different.
May this change in digit, that is, 2015 to 2016, brings a universal tranquility, contentment, peace and happiness, transcending beyond the limits of borders, races, languages and continents, because the man hurts, bleeds, feels and smiles in the same way throughout the globe.
MAY THE NEW YEAR BE A HAPPY ONE.
MY HEARTILY WISHES FOR ALL
Sarwat AJ

fa43d9e8606cfe72a28af59d68809d351

6th Part, Character Guidelines by Qura’an

حصہ چھٹا، قُرآنِ پاک میں بیان کردہ شخصی اوصاف میں سے چند ایک ، اختصار کے ساتھ

-6th part of/A little effort to put down some good qualities of a character, described by the Holy Qura’an.

-پارہ 6:

-1- بدی کے ذکر سے گریز

– بُری بات/کام کے اعلانیہ ذکر سے بچا جائے، اگر معلوم ہو تو بھی ذکر نہ کریں، صرف ایک صورت کے علاوہ کہ بدی کے ذکر سے مظلوم کی مدد کرنا مقصود ہو

-سورۃ النساء / آیت 148/

لَّا يُحِبُّ اللَّہ الْجَہرَ بِالسُّوءِ مِنَ الْقَوْلِ إِلَّا مَن ظُلِمَ ۚ وَكَانَ اللَّہ سَمِيعًا عَلِيمًا

ترجمہ: الله کو کسی بُری بات کا ظاہر کرنا پسند نہیں مگر جس پر ظلم ہواہو اور الله سننے والا جاننے والا ہے

-2- تمام نبیوں کا احترام اور بےجا بحث سے پرہیز

-اس موضوع پہ مسلمان اُن معلومات پہ موقوف رہیں جو اللہ اور اُس کے نبیﷺ کے ذریعے حاصل ہوئیں اور لاحاصل بحث میں نہ پڑیں

– سورۃ النساء / آیت 150 /

إِنَّ الَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِاللّہِ وَرُسُلِہِ وَيُرِيدُونَ أَن يُفَرِّقُوا بَيْنَ اللَّہِ وَرُسُلِہِ وَيَقُولُونَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَكْفُرُ بِبَعْضٍ وَيُرِيدُونَ أَن يَتَّخِذُوا بَيْنَ ذَ‌ٰلِكَ سَبِيلً

ترجمہ: بے شک جو لوگ الله اور اس کے رسولوں کے ساتھ کفر کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ الله اوراس کے رسولوں کے درمیان فرق رکھیں اور کہتے ہیں کہ ہم بعضوں پر ایمان لائے ہیں اور بعضوں کے منکر ہیں اور چاہتے ہیں کہ کفر اور ایمان کے درمیان ایک راہ نکالیںً

-3- پاکی کا اہتمام کرنا اور پاکی اختیار کرنا

– وضو اور تیمم کے مسائل کا حکم بتایا گیا تاکہ مسلمان ہر حالت اور مقام پر پاکیزگی حاصل کرسکے

– سورۃ المائدہ/ آیت 6/

يَا أَيُّہَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوھَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ۚ وَإِن كُنتُمْ جُنُبًا فَاطَّہَّرُوا ۚ وَإِن كُنتُم مَّرْضَىٰ أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِّنكُم مِّنَ الْغَائِطِ أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوہَكُمْ وَأَيْدِيكُم مِّنْہُ ۚ مَا يُرِيدُ اللَّہُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُم مِّنْ حَرَجٍ وَلَـٰكِن يُرِيدُ لِيُطَہِّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَہُ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ

ترجمہ: اے ایمان والو! جب تم نماز کے لیے اٹھو تو اپنے منہ دھو لو اور ہاتھ کہنیوں تک اور اپنے سروں پر مسح کرو اور اپنے پاؤں ٹخنوں تک دھو لو اور اگر تم ناپاک ہو تو نہا لو اور اگرتم بیمار ہو یا سفر پر ہو یا کوئی تم میں سے جائے ضرورت سے آیا ہو یا عورتوں کے پاس گئے ہو پھر تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کر لو اور اسے اپنے مونہوں او رہاتھوں پر مل لو الله تم پر تنگی کرنا نہیں چاہتا لیکن تمہیں پاک کرنا چاہتا ہے اور تاکہ اپنا احسان تم پر پورا کرے تاکہ تم شکر کرو

-Juz’u 6
-1. One must avoid to describe any evil, bad or mischievous things. Bad must not be a topic of discussion except one case that is to report some one’s suffering.
-Quraan says: Alnisa/ 148/ Allah does not like that the evil should be uttered in public except by him who has been wronged. And Allah is Ever All-Hearer, All-Knower.

-2. Respecting all the messengers of Allah, accordingly as they are described in Quraan, without unnecessary debate and discussion on unclear details.
-Quraan says: Alnisa/ 150/ Verily, those who disbelieve in Allah and His Messengers and wish to make distinction between Allah and His Messengers (by believing in Allah and disbelieving in His Messengers) saying, “We believe in some but reject others,” and wish to adopt a way in between

-3. Adopting cleanliness and neatness through wuzu, in the specified cases and to rely on Tayam-mum, if certain conditions do apply and water is not available.
-Quraan says: Al maida/ 6/ O you who believe! When you intend to offer As-Salat (the prayer), wash your faces and your hands (forearms) up to the elbows, rub (by passing wet hands over) your heads, and (wash) your feet up to ankles . If you are in a state of Janaba (i.e. after a sexual discharge), purify yourselves (bathe your whole body). But if you are ill or on a journey, or any of you comes after answering the call of nature, or you have been in contact with women (i.e. sexual intercourse), and you find no water, then perform Tayammum with clean earth and rub therewith your faces and hands. Allah does not want to place you in difficulty, but He wants to purify you, and to complete His Favour to you that you may be thankful

A Glimpse of Character Sketch – 1

قُرآنِ پاک میں بیان کردہ شخصی اوصاف میں سے چند ایک ، اختصار کے ساتھ

A little effort to put down some good qualities of a character, described by the Holy Qura’an

-پارہ1:

-1-سیدھے راستے کی دعا ، لگن اور آرزو کرنا
انسان میں اِس خواہش کا ہونا کہ اُسے سیدھی راہ کا علم ہو اور اللہ تعالیٰ اُسے سمجھ عطا فرمائے جس کے لئے وہ دعا کرتا ہو۔
سورۃ الفاتحہـ آیت6/ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ/ہمیں سیدھے راستے کی ہدایت عطا فرما

-2-حقیقت جانتے بوجھتے ہوئے، حق کو باطل کے ساتھ خلط ملط نہ کرنا اور نہ ہی سچ بات کو چھُپانا، سچ اور جھوٹ کو الگ الگ واضح رہنے دینا
سورۃ البقرہ- آیت42/ وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُوا الْحَقَّ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ/ اور سچ میں جھوٹ نہ ملاؤ اور جان بوجھ کر حق کو نہ چھپاؤ

-3-تمام حالات اور خاص طور پہ مشکل حالات میں ، صبر اور نماز سے مدد حاصل کرنا ۔ صبر سے مراد ثابت قدمی، بلند ہمتی اور مستقل مزاجی پہ قائم رہنا اور دل تھوڑا نہ کرنا
سورۃ البقرہ-آیت45/ وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ ۚ وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلَّا عَلَى الْخَاشِعِينَ/ اور صبر کرنے اور نماز پڑھنے سےمدد لیا کرو اوربے شک نماز مشکل ہے مگر ان پر جو عاجزی کرنے والے ہیں

-4-معافی تلافی اور صَرفِ نظر سے کام لینا
سورۃ البقرہ-آیت109/ فَاعْفُوا وَاصْفَحُوا حَتَّىٰ يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ/ سو معاف کرو اور درگزر کرو جب تک کہ الله اپنا حکم بھیجے

-1- Seeking the right way and praying Allah for guidance. Holy Quran starts with a longing for the righteous direction.
Quran says: Al-Fatiha/6/ Guide us to the Straight Way.

-2-Neither to mix between truth and false, nor to conceal the facts since one knows the facts out of false.
Quran says: Al-Baqara/42/ And do not mix up the truth with the falsehood, nor hide the truth while you know (it)

-3-Persistence and praying in tough times. Being courageous and never to loose heart.
Quran says: Albaqara/45/ And seek assistance through patience and prayer, and most surely it is a hard thing except for the humble ones

-4- Making a habit of forgiveness and letting go.
Quran says: Albaqara/109/ But forgive and overlook, till Allah brings His Command. Verily, Allah is Able to do all things

روزہ . . . بھوک پیاس کیوں ؟

روزہ . . . بھوک پیاس کیوں ؟

ramadan-2012-calendar-dates-and-sehri-iftar-timetable1

روزے کی غرض و غایت تقویٰ ہے ۔ یہ فرضیت اور ماہِ مبارک کی آمد اور اہتمام ، اِس سب کے پیچھے جو مقصد کارفرما ہے ، وہ تقویٰ کا حصول ہے۔ اور دلیل اِس بات کی ، قرآن کی یہ آیت ہے :

يا ايا الذين آمنوا كُتب َ عليكم الصّيام كما كُتب علىٰ الذّين مِن قبلكُم لعلّكم تتّقون۔ البقرہ- 183

ترجمہ: اے ایمان والو تم پر روزہ فرض کیا گیا ہے جیسا کہ ان لوگوں پر فرض کیا گیا تھا جو تم سے پہلے تھے، تاکہ تم تقوی اختیار کرو-

ایسے روزے کے لئے ، جو دِل میں تقویٰ پیدا کرے ، انسان کو کچھ تقاضے پورے کرنے ہوں گے۔

پہلی اساسی بات یہ ہے کہ ، ایسا روزہ کبھی تقویٰ پیدا نہیں کرسکتا ، جس میں کسی بھی وجہ سے انسان کی کوئی نماز ضائع ہوجائے۔

رواج بن گیا ہے کہ رمضان کے خصوصی اہتمام کے سلسلے میں، سحر اور افطار میں اکثر کھانے کی مقدار ہی نہیں بڑھتی . . . بلکہ معیار اور تنوّع میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔ اِسی سے متعلقہ . . . .

دوسری نکتے کی بات یہ ہے کہ . . . .سحر اور افطار میں اعتدال سے زیادہ کھانے پینے کے ساتھ . . تقویٰ پیدا کرنے والا روزہ حاصل نہیں ہوسکتا ۔

روزے میں مخصوص اوقات میں ، کھانے پینے سے موقوف ہو کر، بھوک کی حالت میں . . . تمام جسم میں اُس بھوک کے لطیف اثرات کو محسوس کرنا اَزحد ضروری ہے۔ کیونکہ جب پیٹ بھوکا ہو تو باقی تمام اعضاء کو سَیری حاصل رہتی ہے۔ اور پیٹ جب بھر جائے تو دیگر اعضائے جسم کی بھوک جاگ اُٹھتی ہے اور وہ اپنی اپنی طلب پوری ہونے کا تقاضا کرنے لگتے ہیں ۔ اِسی لئے عام مشاہدہ ہے کہ رمضان میں شیاطین بند ہونے کے باوجود کئی منکرات اور برائیاں بڑھ جاتی ہیں۔

ایسا اِس لئے ہوتا ہے کہ کثرتِ طعام، ذہنی غفلت، کاہلی اور نیند کی زیادتی سے انسانی نفس کی خواہشات بھڑکتی ہیں اور . . .یہ خواہشاتِ نفسی انسان کے دِل پر مضر اثر ڈالتی ہیں۔

انسانی نفس میں بھوک کی جبلّت بہت اہمیت رکھتی ہے اور بھوک کے اثرات کو، عرصہء دراز سے، کئی طرح استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن روزے میں ، نفس پر بھوک اور پیاس سے پیدا ہونے والے ، اثر کو مختلف طرح ضائع کرلیا جاتا ہے۔ جیسے . . روزے کے دوران تکبر کے گمان اور زعم میں رہنا اور بار بار جتانا کہ بہت ہی پیاس لگی . . .بھوک نے کام کردیا . . روزہ لگا . . وغیرہ، روزے نہ رکھنے والوں کو حقارت سے دیکھنا ، بھوکا پیاسا ہونے کی وجہ سے اضطراب اور جھنجھلاہٹ کا شکار ہونا ، غصہ ہونا، زبردستی بہت زیادہ سو کر وقت گزاری کرنا . . . یا اپنے ہی بھوکا پیاسا ہونے پر خود ترسی میں مبتلا رہنا . . .

یہ سب باتیں نفسِ انسانی کو روزے میں پیدا ہونے والے اثر سے محروم کردیتی ہیں اور انسان کو روزے کی اِس کیفیت کا سرور، ٹھہراؤ اور آہنگی محسوس کرنے سے روک دیتی ہیں۔ انسان کی حسِیّات ایک دوسری جانب چل پڑتی ہیں اور اپنے نفس میں آنے والی اِس خوشگوار ، پاکیزہ چمک کو محسوس نہیں کرپاتی۔ روزے کی حالت میں انسانی دل اور جوارح میں ایک سکون قائم ہوتا ہے، جس سے سوچ کے نئے زاویے نظر آتے ہیں ، خضوع اور عبودیت کی لذت تک رسائی ہوتی ہے، باہر کی دنیا کی نسبت اندر کی دنیا کا دَرکھُلتا ہے۔

روزے کا وقت ختم ہوتا ہے تو انسان کا معدہ ناکو ناک کھانے سے بھر جاتا ہے ۔ معدے کے ساتھ ساتھ ذہن الگ کنفیوژن کا شکار ہوتا ہے کہ طعام کی اِس رنگا رنگی میں کیا کھایا جائے اور کیا چھوڑا جائے ۔ اِسی ذہنی اور جسمانی انتشار کے عالم میں انسان غیر صحت مند کھانا . . . غیر صحت مند انداز میں ٹھونس لیتا ہے۔

کھانے پینے کا کام جاری ہونے کے ساتھ ذہن اور جسم کی دیگر آوارگیوں کا وقت بھی آن پہنچتا ہے جس میں الیکٹرانک میڈیا، سگریٹ نوشی، بازاروں کے اخلاقی اور معاشی مفاسد وغیرہ شامل ہیں۔

13
12
Ramzan-Ramadan-Jokes-and-Humour-Eye-Specialist-checking-the-eyes-of-a-shopkeeper-during-Ramzan-Funny-Jokes-during-Ramzan

تو گویا تمام دن کی تپسیّا کے بعد ، روزے کو جو اثرات مرتّب کرنے تھے، وہ سب ختم ہوجاتے ہیں اور جن فوائد کو پیدا ہونا تھا ، اُن کا نام و نشان بھی نہیں ہوتا ۔ ایسے میں دِل کی سختی مزید بڑھ جاتی ہے، نفس مزید غافل ہوجاتا ہے ، دِل کو بینائی حاصل ہونے کی جگہ اندھیرا بڑھ جاتا ہے ۔

ایسے میں انسان اطاعت کے لئے رغبت اور شوق میں کمی محسوس کرتا ہے ۔ لذّتِ شوق اور عبودیت میں اضافہ نہیں ہوتا بلکہ یہ نعمتیں ہاتھ سے جانے لگتی ہیں ۔

روزے کے ساتھ تقویٰ کی نعمت ، اُس وقت نصیب ہوتی ہے جب کھانے پینے سے باز رہنے کے ساتھ ساتھ، اپنے نفس کو پابند اور محبوس کرکے ، غفلت کے اثر سے نکالا جائے اور خواہشات اور تقاضے کرنے سے روک کر اپنا تابع کیا جائے، نہ کہ خود نفس کی اتباع کی جائے۔

ماہِ مقدس کے اچھے آغاز کی شان یہ ہے کہ وہ اچھے نتائج پر اختتام پذیر ہو جن میں تربیتِ نفس لازمی ہے۔ یہ عزم ضروری ہے کہ روزے کے ساتھ تقویٰ کا حصول حتمی ہو کیونکہ اللہ رب العزت کے ہاں قبولیت کی ایک شرط تقویٰ ہے ۔ “اِنّما یتقبّلُ اللہُ منَ المتّقین”

ترجمہ و مفہوم از ڈاکٹر خالد بن عثمان السبت رحمہ اللہ

Phases-of-Ramadan-Symbol-Moon-Pictures-Images-Photos-2013
Once again on this Ramadan, with best of wishes.

آ بتاؤں تجھ کو رمز آیہء “ان الملوک

آ بتاؤں تجھ کو رمز آیہء “ان الملوک”

“ان الملوک” . . . یہ دو لفظ ایک قرآنی قصّے کی طرف اشارہ کرتے ہیں

اور اِس پورے قصّے میں سے ، اِن ہی دو لفظوں کا انتخاب ، اِس بات کی دلیل ہے کہ علامہ اقبال کا قرآنِ کریم سے بہت الگ تعلق تھا اور انھوں نے بہت گہرائی سے اللہ کے کلام کی روشنی میں دنیا کے معاملات کو سمجھا اور اپنے اشعار میں سمویا ۔

اس قرآنی قصے کی طرف آتے ہیں ،سورۃ نمل کی آیت نمبر34 کی طرف اشارہ ہے . . . جب سباء کی ملکہ بلقیس کو ہُدہُد کے ذریعے حضرت سلیمان ؑ کا پیغام پہنچا۔

“وہ کہنے لگی: اے سردارو ! میری طرف ایک باوقعت خط ڈالا گیا ہے۔”

“یہ کہ تم میرے سامنے سرکشی نہ کرو اور مسلمان بن کر میرے پاس آجاؤ۔”

“اُس نے کہا : اے میرے سردارو! تم میرے اِس معاملے میں مجھے مشورہ دو۔ میں کسی امر کا قطعی فیصلہ نہیں کِیا کرتی، جب تک کہ تمھاری موجودگی اور رائے نہ ہو۔”

“اُن سب (سرداروں)نے جواب دیا: ہم طاقت اور قوّت والے، سخت لڑنے بِھڑنے والے ہیں۔ آگے آپ کو اختیار ہے ، آپ خود ہی سوچ لیجیئے کہ ہمیں آپ کیا حکم فرماتی ہیں۔”

“اُس (ملکہ)نے کہا: جب بادشاہ کسی بستی میں گھُستے ہیں تو اُسے اُجاڑ دیتے ہیں اور وہاں کے باعزّت لوگوں کو ذلیل کردیتے ہیں اور . . .یہ لوگ بھی ایسا ہی کریں گے۔”

” میں انہیں ایک ہدیہ بھیجنے والی ہوں ، پھر دیکھ لُوں گی کہ قاصد کیا جواب لے کر لَوٹتے ہیں۔”

سورۃ نمل- آیت29-35 ، ترجمہ مصحف الحرمین

گویا کہ ملکہ کے مشیر اور عمائدین ، ملکہ کو اپنے ساتھ کا بھر پور یقین دِلا رہے ہیں کہ آپ ہمارے قوّتِ بازو پہ بھروسہ کر سکتی ہیں، ہم اپنا بھر پور دفاع کریں گے لیکن ملکہ، جنگ کے نقصانات کے پیشِ نظر مصالحت کی طرف آمادہ ہیں۔

ـ “ان الملوک” . . . کا لفظی ترجمہ ہوا ” جب بادشاہ” جو کہ ملکہء بلقیس کے الفاظ ہیں کہ . . .

-1:” جب بادشاہ” کسی بستی میں گھُستے ہیں تو اُسے اُجاڑ دیتے ہیں اور

-2: وہاں کے باعزّت لوگوں کو ذلیل کردیتے ہیں۔

اس مصرعے میں علامہ اقبال نے “ملکہء بلقیس” کے اِن دو الفاظ کی مدد سے بادشاہت، بیرونی حملہ آوروں اور حاکمیت، محکومیت کے بارے میں اسرار و رموز کی سب بات کہہ دی ہے ، وہ اِس کے لئے رمز کا لفظ استعمال کرکے بات کی گہرائی کی طرف اشارہ کر رہے ہیں . . . کہ جب کوئی بادشاہ یا حکومت دوسری قوم پر غالب آجاتی ہے، تو وہ محکوم قوم کو تباہ و برباد کردیتی ہے اور اِس کے شرفاء کو ذلیل کر دیتی ہے۔ اُنھیں عزت دار اور با شرف لوگوں کی تمیز نہیں ہوتی اور محض اپنی حکومت مضبوط کرنے کے لئے مغلوب قوم کو ذلیل و رُسوا کردیتی ہے۔ بیرونی آقا ہر وہ حربہ استعمال کرتے ہیں جس کے ذریعے اپنا استعمار وہاں گاڑ سکیں ، اُس جگہ کی بنیادیں کمزور کرسکیں، اُس قوم کے وسائل اور مالیات پر قبضہ کرلیتے ہیں، احساسِ خودی ، عزّتِ نفس اور دفاع کی حِس کو مفلوج کردیتے ہیں . . . تاکہ محکوم میں مزاحمت ٹوٹ جائے۔

اِسی شعر کا دوسرا مصرعہ ہے :

سلطنتِ اقوامِ غالب کی ہے اِک جادوگری

اِن غالب اقوام کی سلطنت اور بادشاہت کا یہی راز ہے ، اور یہی ہنر ہے کہ یہ کسی قوم پر غالب ہو کر اُس کے اہلِ عزت اور معزز لوگوں کو رُسوا کردیتے ہیں۔ اسی طریقے سے یہ اپنا غلبہ قائم رکھ سکتی ہیں۔ اِن کے پاس یہی جادو کا ، وہ نسخہ ہے ، جس سے اقتدار اور تحکّم پہ قابض رہا جاسکتا ہے . . . .کہ عزّت اور غیرت مِٹا دو۔ اپنا استعمار اور تسلط قائم رکھنے کا یہی طریقہ ہے کہ جس قوم پہ قبضہ کرو ، اُسے بےعزت کردو، اُس کی حمیّت ختم کردو۔یہ مصرعہ استعمار کی تمام شکلوں کی بخوبی وضاحت کرتا ہے۔

۔ یہ بانگِ درا کی نظم ” خضرِ راہ” کا چھٹا بند ہے۔

اسلامیہ ہائی سکول لاہور کا مقام ہے، اپریل 1922 کا زمانہ ہے، انجمن حمایتِ اسلام کا سالانہ جلسہ جاری ہے ، علامہ محمد اقبال یہ نظم پڑھتے ہوئے رونے لگتے ہیں، رِقّت طاری ہوجاتی ہے اور سامعین بھی رونے لگتے ہیں۔

pic_iqbal_001 :::::: ”

خضر راہ“نظم اقبال نے انجمن حمایت اسلام کے 37 ویں سالانہ اجلاس میں جو 12 اپریل 1922ءاسلامیہ ہائی سکول اندرون شیرانوالہ میں منعقد ہوا تھا میں ترنم سے پڑھ کر سنائی۔ بعض اشعار پر اقبال خود بھی بے اختیار روئے اور مجمع بھی اشکبار ہو گیا۔ عالم اسلام کے لئے وہ وقت بہت نازک تھا۔ قسطنطنیہ پر اتحادی قابض تھے ۔ اتحادیوں کے ایماءپر یونانیوں نے اناطولیہ میں فوجیں اتار دی تھیں۔ شریف حسین جیسے لوگ انگریزوں کے ساتھ مل کر اسلام کا بیڑہ غرق کرنے میں پیش پیش تھے۔ خود ہندوستان میں تحریک ہجرت جاری ہوئی۔ پھر خلافت اور ترک موالات کا دور شروع ہوا۔ ادھر دنیائے اسلام کے روبرو نئے نئے مسائل آگئے۔ اقبال نے انہی میں سے بعض اہم مسائل کے متعلق حضرت خضر کی زبان سے مسلمانوں کے سامنے صحیح روشنی پیش کی۔ اور نظم کا نام خضر راہ اسی وجہ سے رکھا۔

بیمارئ دل اور تدبیر

بیمارئ دل اور تدبیر

الٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا

دیکھا اِس بیماری ءدل نے آخر کام تمام کیا

bandaged-heart

شاعر اُس کیفیت کا ذکر کر رہا ہے جب انسان دل کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچ جاتا ہے۔ یعنی دل کی بیماری، جاں لیوا ثابت ہوتی ہے اور کبھی کبھی دل کے علاج کی تدبیریں کارگر نہیں ہوتیں۔ ڈاکٹروں کے یہاں بھی دردِ دل یا کارڈک مرض کو خطرے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اور معاملے کی تہہ میں ساری بات ہے، اِس ناہنجار دل کی ہی، جس کے ہاتھوں قیس نے صحرا کی خاک چھانی اور لیلٰی کے محمل کی آرزو میں مجنوں کہلایا ۔ غالب کا دل، نادان ٹھہرا، داخ بے تاب رہے، میر نے کہا۔ ۔ ۔بےقراری مین عمر گءی، دل کو قرار اتا نہین ہنوز ۔ ۔ ۔ کبھی سینے میں ایسی شورش اُٹھائی کہ پسلیاں توڑ باہر ہی آنکلے گا .. . اور شاعر نے بھی دل کی یہ حقیقت یوں کھول کے رکھ دی کہ . . .

بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا

جو چِیرا تو اِک قطرہ ءخون نکلا

یہ چھوٹا سا “ٹكڑا” اس كی شان عجيب ہے ۔ خالقِ کائنات نے بدن كا ہر عضومخصوص كام كے لئے پيدا كيا ہے ۔ ہر عضو الگ الگ اپنا مخصوص كام بخوبی انجام ديتا رہے٬ یہی تمام بدن کی صحت وتندرستی ہے۔ اور بيماری یہ ہے کہ ہر عضو اپنا كام ، جس كے لئے اسے بنايا گيا ہے ٬ صحيح طریقے سے ادا نہ كر سكے۔ مثلا ہاتھ پكڑنے اور گرفت کرنے پر قادر نہ ہو٬ تو یہ ہاتھ كی بيماری ہے ۔ آنكھ ديكھنے سے معذور ہو٬ تو یہ آنكھ بيمار قرار پاتی ہے ۔ زبان کی بیماری یہ ہے کہ وه بولنے سے عاجز رہے۔ فطری حركتوں کی طاقت نہ ركھنا ، کمزوریء بدن کی بیماری کہلاتی ہے ۔ معدہ خوراک کو ، ٹھیک سے ہضم کرکے ، جزوِ بدن نہ بنا سکے تو یہ معدے کا مرض ہوگا ۔
لہذٰا . . .دل بھی جسم کا ایک عضو ہے تو دل کی بیماری کا تعّین کیسے ہوگا ، مرضِ قلب كيا هے؟

دل کی بیماری یہ ہے کہ وه جس كام كے لئے پيدا كيا گيا هے٬ وه اس سے نہ ہونے لگے ۔ مثلا الله عز وجل كی معرفت حاصل كرنا٬ . . اس سے محبت كرنا٬ . . اس سے ملنے كا شوق ركھنا٬ . . اس كی جانب رجوع کرنا، . . اطاعت کے لئے اپنی تمام تر خواہشات كو قربان كردينا، . . رب کی محبت میں دنیا کو ہیچ سمجھنا، . . رب کی رضا کے لئے بندوں سے نرم روئی کا معاملہ کرنا، اگر کسی کا دل ، اِس درجے تک نہیں پہنچتا تو اس کا مطلب ہے کہ دل کا فنکشن ٹھیک نہیں اور ا س كا دل صحيح سالم وتندرست نہیں ہے اور اُس کو مرض لاحق ہے ، دل کا مرض . .. .

جس طرح سےآنكھ میں بینائی کا نہ ہونا، یا نظر کم ہونا، آنکھ کی علت اور بيماری ہے اسی طرح دل كا الله عزوّجل كی معرفت٬ اس كی محبت اور اس كی رضا حاصل کرنے کی لگن سے خالی ہونا، دل کی علّت یا دل کا مرض ہے۔

بعض بلکہ اکثر ، صاحبِ قلب اپنی بیماریء دل کا احساس ہی نہیں کرپاتے۔ بسا اوقات محسوس ہو بھی جائے٬ تو دواؤں كی كڑواہٹ كا جھيلنا ان پر شاق گزرتا ہے ۔ وہ اس مرض کو معمولی سمجھتے ہیں جو کہ آہستہ آہستہ اُن کے وجود کو کھوکھلا کرتا رہتا ہے ۔ جب حقیقت بات تو یہ ہے کہ . . . .ہر مسلمان کو اپنے دل كی صحت وسلامتی كا خيال ركھنا ضروری ہے کیونکہ بندے کی اصلاح وفلاح اور اس كے اعمال كا دار ومدار “دل” پر منحصر ہے ۔ الله تعالے فرماتاہے :

يَوْمَ لَا يَنفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ * إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ

ترجمه: جس دن کہ مال اور اولاد كچھ كام نہ آئے گی ٬ ليكن (فائده والا )جو الله تعالے كے سامنے بے عيب دل لے كر جائے۔

قلبی امراض كی متعدد شكليں ہيں۔ كچھ لوگوں كے دلوں ميں شبہات كی بيماری ہوتی ہے۔ جب بھی كوئی شك وشبہ والی بات سن لی ٬ بے چين ہو گئے۔ اور كبھی كبھی اس قدر متاثر ہو جاتے ہيں کہ شكوك وشبہات كی كچھ باتيں ان كے دل ميں جگہ بنا لیتی ہیں اور اجاگر ہونے لگتی ہیں۔ايسے لوگ شبہا ت كی باتيں غور سے سننے والے ہوتے ہيں۔ ان سے متأثر ہوتے ہيں اور انھيں قبول بھی كر ليتے ہيں۔ یہی وه لوگ ہيں جو مريض ِ قلب ہيں جنھيں شبہات كی بيماری لاحق ہوگئی ہے۔

بعض لوگ شہوات كے مريض ہوتے ہيں۔ ان كے دلوں ميں شہوت كا مرض غالب ہوتا ہے خاص طور پہ صنفِ مخالف کے لئے ۔ قلبی امراض كی اس نوع كا ذكر الله عز وجل نے اپنے اس قول ميں بيان فرمايا ہے:

يَا نِسَاء النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِّنَ النِّسَاء إِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلاً مَّعْرُوفاً

ترجمہ: اے نبی كی بيويو! تم عام عورتوں كی طرح نہیں ہو٬ اگر تم پرہيزگاری اختيار كرو٬ تو نرم لجے سے بات نہ كرو٬ کہ جس كے دل ميں روگ ہو٬ وه كوئی برا خيال كرے اور ہاں قاعدے كے مطابق كلام كرو۔

اس آيت پر غور كريں٬ دل کے مرض کا واضح ذکر ہے، كس طرح الله تعالے نے واضح فرمايا کہ محض بات چيت كے انداز ميں اگر عورت نرم پڑ جائے٬ تواس ميں اپنی ہوس كا طمع، وه كرتا ہے جس كا دل بيمار ہے یعنی شہوت كا مريض ہے۔كيوں کہ وه اس كے لئے پہلے سے تيار بيٹھا ہوتا ہے۔ جيسے ہی كوئی عورت ديكھی٬ فوراََ اس كی طرف راغب ہوا۔ اس كےاسباب ومحركات كتنے ہی حقير ٬ بلکہ محض نرم گفتاری ہی كيوں نہ ہو۔ عورت كی طرف سے ہلكے سے ہلكے وسائل كو بھی اس كا دل قبول كر ليتا ہے۔ اس طرح كے لوگ ہر معاشره ميں پائے جاتے ہيں۔ یہی وه لوگ ہيں٬ جو عورتوں كو تانك جھانك كرتے يا ان كا پيچھا كرتے ہوئے نظر آتے ہيں۔ اوریہ سب كچھ محض شدت شہوت كی بناء پر نہیں ہوتا ، نہ ہی یہ اُن کی مردانگی کی دلیل ہے٬ بلکہ یہ دل كی بيماری كے سبب ہوتا ہے۔ ايسا انسان مريض قلب ہے اور علاج كا محتاج ہے۔

كچھ لوگوں كے دلوں ميں مال جمع كرنے كی بيماری ہوتی ہے۔ ايسے لوگ ، ہر حال میں، مال اكٹھا كرنے كے حريص ہوتے ہيں۔ خواه اسے حاصل كرنے كا كوئی بھی طریقہ ہو۔ وه مال جمع كر كے ا س كا ذخيره بناتے ہيں۔ اور اسے خرچ كرنے كے بجائے سختی اور کنجوسی سے اس كی حفاظت كرتے ہيں۔ مال کی محبت نے ان كے دلو ں كو مسخر كر ركھا ہوتا ہے۔ اُن کے لئے مال تما م رشتوں، عبادات اور ذات سے زیادہ فوقیت رکھتا ہے۔ ايسے لوگ بھی مريض قلب ہوتے ہيں۔

كچھ لوگوں كا دل لہو ولعب كا مريض ہوتا ہے۔ ۔ وه ہمیشہ كھيل كود٬ موج مستی، ہنسی مذاق اور غفلت ميں پڑے رہتے ہیں۔ یہ بھی قلبی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں۔

اس طرح پتہ چلتا ہے کہ قلبی امراض كی مختلف اقسام ہيں۔ اس لئے مسلمان كو چاہیئے کہ اپنے دل کی خبر رکھے۔ دل کے معاملات پہ نظر رکھے۔ ہمیشہ اپنے دل كی اصلاح كے لئے كمر بستہ رہے۔ اور اگر دل کو کوئی بیماری لاحق ہو، کوئی عارضہ لگ جائے، تو فورا ا سكا علاج كرے۔ قلبی اعمال ميں سے ايك عمل الله عز وجل كی محبت رکھنا ہے۔ اور یہ قلبی اعمال ميں سب سے عظيم ہے۔ اور اس كا محل قلب یعنی دل ہی ہے۔ جس كی اہميت ايسی ہے٬ جيسے پرندے كے لئے اس كا سر۔ نيز خوف وخشيت اور اميد ورجاء اس كے دو بازو اور پر ہيں۔ اگر محبت معدوم ہو گئی٬ تو ايسے ہے جيسے كسی پرندے كا سر كاٹ ديا گيا ہو۔ ايسے ميں وه اپنے رب عز وجل كی طرف كيسے اقدام كر سكتا ہے؟

لوگوں كے درميان اس محبت كی صفت اور مفہوم ميں بہت زياده فرق پايا جاتا ہے۔اورالله كی محبت كی صداقت كے لئے نبی ﷺ كي اتباع واضح علامت هے۔ جيسا كہ الله تعالے نے سورۃ آلِ عمران کی آیت 21 میں فرمايا:

قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللّهُ

ترجمہ: كہہ ديجئے! اگر تم الله تعالى سے محبت ركھتے ہو تو ميری تابعداری كرو٬ خود الله تعالى تم سے محبت كرےگا۔
الله عز وجل سے محبت كا دعوى تو سبھی كرتے ہيں۔ مگر اس كو پركھنے كا آلہ٬ اور اس ميں صداقت كے لئے برہان نبي ﷺ كي اتباع ہے۔ یہی الله عز وجل سے محبت كی كھلی دليل ہے۔ اور اس محبت كو تقويت پہنچانے والا سب سے بڑا ذريعہ جيسا كہ ابو العباس ابن تيميہ رحمہ اللہ نے فرمايا

اولا : كثرت سے الله سبحانہ وتعالى كا ذكر كرنا٬ كيوں كہ يہ الله كی محبت كو تقويت پہنچانے والا سب سے بڑا ذريعہ ہے۔ بنده جب كثرت سے الله كا ذكر كرتا ہے٬ تو اس كے دل ميں الله كی محبت گہری ہوتی چلی جاتی ہے۔ اس كا دل نرم ہو جاتا ہے۔ اور الله كی جانب بڑھنے اور سرِ تسلیم خم کرنے ميں بڑا كردار نبھاتا ہے۔

ايک آدمي حسن بصری رحمہ الله كے پاس آيا اور كہنے لگا: اے ابو سعيد! ميں اپنے دل ميں قساوت اور سختی محسوس كر رہا ہوں۔ تو حسن بصری نے كہا: كثرت سے الله كے ذكر كے ذريعہ اپنے دل كی سختی كو پگھلاؤ۔ كيوں كہ الله كے ذكر سے زياده كسی بھی چيز سے دل كی سختی كو نہيں پگھلایا جا سكتا ۔سورۃ آلِ عمران کی آیت 191 میں الله تعالى كا فرمان ہے:

الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللّهَ قِيَاماً وَقُعُوداً وَعَلَىَ جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذا بَاطِلاً سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ

ترجمه: جو الله كا ذكر كھڑے اور بيٹھے اور اپنی كروٹوں پر ليٹے ہوئے كرتے ہيں٬ اور آسمانوں و زمين كي پيدائش ميں غور وفكر كرتے ہيں٬ اور كہتے ہيں: اے ہمارے پروردگار ! تو نے يہ بے فائده نہيں بنايا٬ تو پاک ہے٬ پس ہميں آگ كے عذاب سے بچالے۔

ثانياََ: الله عز وجل كي بڑی بڑی نعمتوں اور اس كے احسانات پر غور وفكر كرنا۔ كيوں كہ نفوس كی جبلت ميں اس كے محسن سے محبت ڈالی گئی ہے۔ لوگ اپنے محسن سے جبلی طور پر محبت كرتے ہيں۔ اور الله عز وجل نے اپنے بندوں كوبہت بڑی بڑی لا تعداد وبے شمار نعمتيں عطا كی ہيں۔ اس نےسننے اور ديكھنے كي نعمت اور عقل وصحت وغيره جيسی ان گنت بڑی بڑی نعمتيں عطا كی ہيں٬ جنھيں شمار نہيں كيا جا سكتا۔ جب ان كے بارے ميں غور وفكر كيا جائےگاتواس سے الله كی محبت پيدا ہوگی۔

صحت مند اور سلیم دل انسان کے لئے زندگی میں بہت قیمتی چیز ہے ۔ اللہ کے ہاں انسان کے دل کی بہت منزلت ہے۔

رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا : “اللہ تعالیٰ تمھاری شکلوں یا تمھارے جسموں کی طرف نہیں دیکھتا لیکن تمھارے “دلوں” اور تمھارے اعمال کی طرف دیکھتا ہے۔”

نبی اکرم ﷺ اپنی دعاؤں میں ارشاد فرماتے: “اے دلوں کے پلٹنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ۔ اے دلوں کو موڑنے والے، میرے دل کو اپنی اطاعت پر موڑ دے ۔

علامہ اقبال اسی بات کو یوں کہہ رہے ہیں کہ

دل ِبینا بھی کر خدا سے طلب

آنکھ کا نور دل کا نور نہیں

مرکزی خیال : اعمال القلوب از ڈاکٹر سعد تركي الخثلان۔ بیماریءدل۔۴۔ رمضان2014