بیمارئ دل اور تدبیر

بیمارئ دل اور تدبیر

الٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا

دیکھا اِس بیماری ءدل نے آخر کام تمام کیا

bandaged-heart

شاعر اُس کیفیت کا ذکر کر رہا ہے جب انسان دل کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچ جاتا ہے۔ یعنی دل کی بیماری، جاں لیوا ثابت ہوتی ہے اور کبھی کبھی دل کے علاج کی تدبیریں کارگر نہیں ہوتیں۔ ڈاکٹروں کے یہاں بھی دردِ دل یا کارڈک مرض کو خطرے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اور معاملے کی تہہ میں ساری بات ہے، اِس ناہنجار دل کی ہی، جس کے ہاتھوں قیس نے صحرا کی خاک چھانی اور لیلٰی کے محمل کی آرزو میں مجنوں کہلایا ۔ غالب کا دل، نادان ٹھہرا، داخ بے تاب رہے، میر نے کہا۔ ۔ ۔بےقراری مین عمر گءی، دل کو قرار اتا نہین ہنوز ۔ ۔ ۔ کبھی سینے میں ایسی شورش اُٹھائی کہ پسلیاں توڑ باہر ہی آنکلے گا .. . اور شاعر نے بھی دل کی یہ حقیقت یوں کھول کے رکھ دی کہ . . .

بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا

جو چِیرا تو اِک قطرہ ءخون نکلا

یہ چھوٹا سا “ٹكڑا” اس كی شان عجيب ہے ۔ خالقِ کائنات نے بدن كا ہر عضومخصوص كام كے لئے پيدا كيا ہے ۔ ہر عضو الگ الگ اپنا مخصوص كام بخوبی انجام ديتا رہے٬ یہی تمام بدن کی صحت وتندرستی ہے۔ اور بيماری یہ ہے کہ ہر عضو اپنا كام ، جس كے لئے اسے بنايا گيا ہے ٬ صحيح طریقے سے ادا نہ كر سكے۔ مثلا ہاتھ پكڑنے اور گرفت کرنے پر قادر نہ ہو٬ تو یہ ہاتھ كی بيماری ہے ۔ آنكھ ديكھنے سے معذور ہو٬ تو یہ آنكھ بيمار قرار پاتی ہے ۔ زبان کی بیماری یہ ہے کہ وه بولنے سے عاجز رہے۔ فطری حركتوں کی طاقت نہ ركھنا ، کمزوریء بدن کی بیماری کہلاتی ہے ۔ معدہ خوراک کو ، ٹھیک سے ہضم کرکے ، جزوِ بدن نہ بنا سکے تو یہ معدے کا مرض ہوگا ۔
لہذٰا . . .دل بھی جسم کا ایک عضو ہے تو دل کی بیماری کا تعّین کیسے ہوگا ، مرضِ قلب كيا هے؟

دل کی بیماری یہ ہے کہ وه جس كام كے لئے پيدا كيا گيا هے٬ وه اس سے نہ ہونے لگے ۔ مثلا الله عز وجل كی معرفت حاصل كرنا٬ . . اس سے محبت كرنا٬ . . اس سے ملنے كا شوق ركھنا٬ . . اس كی جانب رجوع کرنا، . . اطاعت کے لئے اپنی تمام تر خواہشات كو قربان كردينا، . . رب کی محبت میں دنیا کو ہیچ سمجھنا، . . رب کی رضا کے لئے بندوں سے نرم روئی کا معاملہ کرنا، اگر کسی کا دل ، اِس درجے تک نہیں پہنچتا تو اس کا مطلب ہے کہ دل کا فنکشن ٹھیک نہیں اور ا س كا دل صحيح سالم وتندرست نہیں ہے اور اُس کو مرض لاحق ہے ، دل کا مرض . .. .

جس طرح سےآنكھ میں بینائی کا نہ ہونا، یا نظر کم ہونا، آنکھ کی علت اور بيماری ہے اسی طرح دل كا الله عزوّجل كی معرفت٬ اس كی محبت اور اس كی رضا حاصل کرنے کی لگن سے خالی ہونا، دل کی علّت یا دل کا مرض ہے۔

بعض بلکہ اکثر ، صاحبِ قلب اپنی بیماریء دل کا احساس ہی نہیں کرپاتے۔ بسا اوقات محسوس ہو بھی جائے٬ تو دواؤں كی كڑواہٹ كا جھيلنا ان پر شاق گزرتا ہے ۔ وہ اس مرض کو معمولی سمجھتے ہیں جو کہ آہستہ آہستہ اُن کے وجود کو کھوکھلا کرتا رہتا ہے ۔ جب حقیقت بات تو یہ ہے کہ . . . .ہر مسلمان کو اپنے دل كی صحت وسلامتی كا خيال ركھنا ضروری ہے کیونکہ بندے کی اصلاح وفلاح اور اس كے اعمال كا دار ومدار “دل” پر منحصر ہے ۔ الله تعالے فرماتاہے :

يَوْمَ لَا يَنفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ * إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ

ترجمه: جس دن کہ مال اور اولاد كچھ كام نہ آئے گی ٬ ليكن (فائده والا )جو الله تعالے كے سامنے بے عيب دل لے كر جائے۔

قلبی امراض كی متعدد شكليں ہيں۔ كچھ لوگوں كے دلوں ميں شبہات كی بيماری ہوتی ہے۔ جب بھی كوئی شك وشبہ والی بات سن لی ٬ بے چين ہو گئے۔ اور كبھی كبھی اس قدر متاثر ہو جاتے ہيں کہ شكوك وشبہات كی كچھ باتيں ان كے دل ميں جگہ بنا لیتی ہیں اور اجاگر ہونے لگتی ہیں۔ايسے لوگ شبہا ت كی باتيں غور سے سننے والے ہوتے ہيں۔ ان سے متأثر ہوتے ہيں اور انھيں قبول بھی كر ليتے ہيں۔ یہی وه لوگ ہيں جو مريض ِ قلب ہيں جنھيں شبہات كی بيماری لاحق ہوگئی ہے۔

بعض لوگ شہوات كے مريض ہوتے ہيں۔ ان كے دلوں ميں شہوت كا مرض غالب ہوتا ہے خاص طور پہ صنفِ مخالف کے لئے ۔ قلبی امراض كی اس نوع كا ذكر الله عز وجل نے اپنے اس قول ميں بيان فرمايا ہے:

يَا نِسَاء النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِّنَ النِّسَاء إِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلاً مَّعْرُوفاً

ترجمہ: اے نبی كی بيويو! تم عام عورتوں كی طرح نہیں ہو٬ اگر تم پرہيزگاری اختيار كرو٬ تو نرم لجے سے بات نہ كرو٬ کہ جس كے دل ميں روگ ہو٬ وه كوئی برا خيال كرے اور ہاں قاعدے كے مطابق كلام كرو۔

اس آيت پر غور كريں٬ دل کے مرض کا واضح ذکر ہے، كس طرح الله تعالے نے واضح فرمايا کہ محض بات چيت كے انداز ميں اگر عورت نرم پڑ جائے٬ تواس ميں اپنی ہوس كا طمع، وه كرتا ہے جس كا دل بيمار ہے یعنی شہوت كا مريض ہے۔كيوں کہ وه اس كے لئے پہلے سے تيار بيٹھا ہوتا ہے۔ جيسے ہی كوئی عورت ديكھی٬ فوراََ اس كی طرف راغب ہوا۔ اس كےاسباب ومحركات كتنے ہی حقير ٬ بلکہ محض نرم گفتاری ہی كيوں نہ ہو۔ عورت كی طرف سے ہلكے سے ہلكے وسائل كو بھی اس كا دل قبول كر ليتا ہے۔ اس طرح كے لوگ ہر معاشره ميں پائے جاتے ہيں۔ یہی وه لوگ ہيں٬ جو عورتوں كو تانك جھانك كرتے يا ان كا پيچھا كرتے ہوئے نظر آتے ہيں۔ اوریہ سب كچھ محض شدت شہوت كی بناء پر نہیں ہوتا ، نہ ہی یہ اُن کی مردانگی کی دلیل ہے٬ بلکہ یہ دل كی بيماری كے سبب ہوتا ہے۔ ايسا انسان مريض قلب ہے اور علاج كا محتاج ہے۔

كچھ لوگوں كے دلوں ميں مال جمع كرنے كی بيماری ہوتی ہے۔ ايسے لوگ ، ہر حال میں، مال اكٹھا كرنے كے حريص ہوتے ہيں۔ خواه اسے حاصل كرنے كا كوئی بھی طریقہ ہو۔ وه مال جمع كر كے ا س كا ذخيره بناتے ہيں۔ اور اسے خرچ كرنے كے بجائے سختی اور کنجوسی سے اس كی حفاظت كرتے ہيں۔ مال کی محبت نے ان كے دلو ں كو مسخر كر ركھا ہوتا ہے۔ اُن کے لئے مال تما م رشتوں، عبادات اور ذات سے زیادہ فوقیت رکھتا ہے۔ ايسے لوگ بھی مريض قلب ہوتے ہيں۔

كچھ لوگوں كا دل لہو ولعب كا مريض ہوتا ہے۔ ۔ وه ہمیشہ كھيل كود٬ موج مستی، ہنسی مذاق اور غفلت ميں پڑے رہتے ہیں۔ یہ بھی قلبی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں۔

اس طرح پتہ چلتا ہے کہ قلبی امراض كی مختلف اقسام ہيں۔ اس لئے مسلمان كو چاہیئے کہ اپنے دل کی خبر رکھے۔ دل کے معاملات پہ نظر رکھے۔ ہمیشہ اپنے دل كی اصلاح كے لئے كمر بستہ رہے۔ اور اگر دل کو کوئی بیماری لاحق ہو، کوئی عارضہ لگ جائے، تو فورا ا سكا علاج كرے۔ قلبی اعمال ميں سے ايك عمل الله عز وجل كی محبت رکھنا ہے۔ اور یہ قلبی اعمال ميں سب سے عظيم ہے۔ اور اس كا محل قلب یعنی دل ہی ہے۔ جس كی اہميت ايسی ہے٬ جيسے پرندے كے لئے اس كا سر۔ نيز خوف وخشيت اور اميد ورجاء اس كے دو بازو اور پر ہيں۔ اگر محبت معدوم ہو گئی٬ تو ايسے ہے جيسے كسی پرندے كا سر كاٹ ديا گيا ہو۔ ايسے ميں وه اپنے رب عز وجل كی طرف كيسے اقدام كر سكتا ہے؟

لوگوں كے درميان اس محبت كی صفت اور مفہوم ميں بہت زياده فرق پايا جاتا ہے۔اورالله كی محبت كی صداقت كے لئے نبی ﷺ كي اتباع واضح علامت هے۔ جيسا كہ الله تعالے نے سورۃ آلِ عمران کی آیت 21 میں فرمايا:

قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللّهُ

ترجمہ: كہہ ديجئے! اگر تم الله تعالى سے محبت ركھتے ہو تو ميری تابعداری كرو٬ خود الله تعالى تم سے محبت كرےگا۔
الله عز وجل سے محبت كا دعوى تو سبھی كرتے ہيں۔ مگر اس كو پركھنے كا آلہ٬ اور اس ميں صداقت كے لئے برہان نبي ﷺ كي اتباع ہے۔ یہی الله عز وجل سے محبت كی كھلی دليل ہے۔ اور اس محبت كو تقويت پہنچانے والا سب سے بڑا ذريعہ جيسا كہ ابو العباس ابن تيميہ رحمہ اللہ نے فرمايا

اولا : كثرت سے الله سبحانہ وتعالى كا ذكر كرنا٬ كيوں كہ يہ الله كی محبت كو تقويت پہنچانے والا سب سے بڑا ذريعہ ہے۔ بنده جب كثرت سے الله كا ذكر كرتا ہے٬ تو اس كے دل ميں الله كی محبت گہری ہوتی چلی جاتی ہے۔ اس كا دل نرم ہو جاتا ہے۔ اور الله كی جانب بڑھنے اور سرِ تسلیم خم کرنے ميں بڑا كردار نبھاتا ہے۔

ايک آدمي حسن بصری رحمہ الله كے پاس آيا اور كہنے لگا: اے ابو سعيد! ميں اپنے دل ميں قساوت اور سختی محسوس كر رہا ہوں۔ تو حسن بصری نے كہا: كثرت سے الله كے ذكر كے ذريعہ اپنے دل كی سختی كو پگھلاؤ۔ كيوں كہ الله كے ذكر سے زياده كسی بھی چيز سے دل كی سختی كو نہيں پگھلایا جا سكتا ۔سورۃ آلِ عمران کی آیت 191 میں الله تعالى كا فرمان ہے:

الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللّهَ قِيَاماً وَقُعُوداً وَعَلَىَ جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذا بَاطِلاً سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ

ترجمه: جو الله كا ذكر كھڑے اور بيٹھے اور اپنی كروٹوں پر ليٹے ہوئے كرتے ہيں٬ اور آسمانوں و زمين كي پيدائش ميں غور وفكر كرتے ہيں٬ اور كہتے ہيں: اے ہمارے پروردگار ! تو نے يہ بے فائده نہيں بنايا٬ تو پاک ہے٬ پس ہميں آگ كے عذاب سے بچالے۔

ثانياََ: الله عز وجل كي بڑی بڑی نعمتوں اور اس كے احسانات پر غور وفكر كرنا۔ كيوں كہ نفوس كی جبلت ميں اس كے محسن سے محبت ڈالی گئی ہے۔ لوگ اپنے محسن سے جبلی طور پر محبت كرتے ہيں۔ اور الله عز وجل نے اپنے بندوں كوبہت بڑی بڑی لا تعداد وبے شمار نعمتيں عطا كی ہيں۔ اس نےسننے اور ديكھنے كي نعمت اور عقل وصحت وغيره جيسی ان گنت بڑی بڑی نعمتيں عطا كی ہيں٬ جنھيں شمار نہيں كيا جا سكتا۔ جب ان كے بارے ميں غور وفكر كيا جائےگاتواس سے الله كی محبت پيدا ہوگی۔

صحت مند اور سلیم دل انسان کے لئے زندگی میں بہت قیمتی چیز ہے ۔ اللہ کے ہاں انسان کے دل کی بہت منزلت ہے۔

رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا : “اللہ تعالیٰ تمھاری شکلوں یا تمھارے جسموں کی طرف نہیں دیکھتا لیکن تمھارے “دلوں” اور تمھارے اعمال کی طرف دیکھتا ہے۔”

نبی اکرم ﷺ اپنی دعاؤں میں ارشاد فرماتے: “اے دلوں کے پلٹنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ۔ اے دلوں کو موڑنے والے، میرے دل کو اپنی اطاعت پر موڑ دے ۔

علامہ اقبال اسی بات کو یوں کہہ رہے ہیں کہ

دل ِبینا بھی کر خدا سے طلب

آنکھ کا نور دل کا نور نہیں

مرکزی خیال : اعمال القلوب از ڈاکٹر سعد تركي الخثلان۔ بیماریءدل۔۴۔ رمضان2014

دلِ پریشاں

دل پریشاں ہوا جاتا ہے

اور ساماں ہوا جاتا ہے

داغؔ خاموش ، نہ لگ جائے نظر

شعر دیوان ہوا جاتا ہے

داغ ؔ دہلوی کی پریشانی کا سبب اگرچہ کچھ اور تھا پر وہ بھی، اکثر لوگوں کی طرح، دیگر وجوہ کی بِنا پر ،تمام عمر دل کے ہاتھوں ہی پریشان رہے۔ دلِ ناداں سے تعارف اور زندہ دلی اور طمانینت کے حوالے سے یہ جاننے کے بعد ، کہ ذکرِ الٰہی سے دل کو سکون ملتا ہے اور یہ سکون ایک الگ نوعیت کا ہے جس میں دل ایک نکتے پر ، یقین کی حالت میں ٹھہر جاتا ہے ، اب بات آتی ہے اُس سوال کی کہ . . . اللہ کے نیک بندوں پہ بھی تکالیف آتی ہیں تو وہ کیسے خوف، ملال اور حزن سے محفوظ ہوئے ؟ بلکہ ایک عام مشاہدہ ہے کہ کٹھن گھڑیاں زیادہ تر اللہ کے پیاروں پر ہی آتی ہیں۔ اولوا العزم رسولوں پہ سب سے زیادہ آزمائشیں آئیں۔

اس کا جواب یہ ہے کہ خوف و حزن ، دل کی ایک کیفیت کا نام ہے ۔ جو لوگ اللہ کی یاد میں جیتے ہیں ، اُن کے اردگرد وقتی طور پر پریشان کن حالات پیدا ہوسکتے ہیں، مگر اُن کے دل پر اطمئنان کی وہ کیفیت طاری رہتی ہے جس سے انسان ہمیشہ پُرسکون رہتا ہے۔

جیسا کہ ہجرتِ مدینہ کے موقعے پر، غارِ ثور میں رسولُ اللہ ﷺ نے اپنے رفیقِ غار ، ابوبکرِ صدیق رضی اللہ عنہ سے فرمایا :” اُن دو کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے جن کا تیسرا رفیق خود اللہ ہے؟ (بخاری3453)

دل کا یہ اطمئنان یقین سے پیدا ہوتاہے ۔ اور انسانی دل کے ٹھہراؤ کے لئے یقین سے بہتر کوئی چیز نہیں۔ بے یقینی بہت ذہنی تکلیف کا سبب بنتی ہے۔ اسی ذہنی یکسوئی کو آج کی دنیا میڈیٹیشن ، فوکسنگ، یوگا، مراقبہ وغیرہ کے مختلف ناموں سے جانتی ہے اور اس یکسوئی تک پہنچنے کے لئے نِت نئے ذہنی حربے اور مشقیں عمل میں لائی جاتی ہیں۔ کئی جدید تجربہ گاہیں اس پہ کام کر رہی ہیں کہ ذہن اور اعصاب کو پرسکون رکھنے کے لئے دل کی کیا کیفیت ہونی چاہیئے۔

مرا دل مری رزم گاہِ حیات

گمانوں کے لشکر ، یقیں کا ثبات

یہی کچھ ہے ساقی، متاعِ فقیر

اسی سے فقیری میں ہوں میں امیر

اقبال

ایک بندہء مومن پر جب زندگی کی مشکلات آتی ہیں تو اُس کا ایمان اُسے بتاتا ہے کہ اللہ چاہے تو بآسانی اُسے اِن مشکلات سے نکال سکتا ہے۔ چنانچہ وہ اپنے رب ہی کو پکارتا ہے اور اُسی سے مدد چاہتا ہے، جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ اُس کی مشکل دور کردیتے ہیں۔ تاہم اُسے یہ بھی یقین ہوتا ہے کہ کہ یہ مشکلات اگر دور نہیں ہورہیں تب بھی، اللہ کے ہاں اُس کے درجات بلند کرنے کا سبب بن رہی ہیں اور آخرت میں اُسے نجات دلائیں گی ۔ چنانچہ مشکلات اور تکالیف بھی اُسے یہ اطمئنان فراہم کرتی ہیں کہ اس کی تکلیف کا ہر ایک لمحہ جنت میں اس کی راحتوں میں اضافے کا سبب بنے گا ۔ جو شخص اطمئنان کی اس کیفیت میں جیتا ہو اُس کے لئے ہر حالت اور ہر کیفیت ہی سکون ہے۔

سلفِ صالحین میں سے کسی نے اِس طمانینت کی صفت بیان کرتے ہوئے کہا: بے چارے دنیا والے، دنیا سے آکر چلے بھی گئے اور دُنیا کی سب سے طیّب، سب سے لذیذ چیز کو چکھا تک نہیں۔ اِن سے پوچھا گیا کہ دُنیا کے اندر سب سے طیّب چیز کیا ہے؟

جواب دیا : دل میں اللہ کی محبت اور اُنسیت رکھنا اور اُس سے ملاقات کے لئے مشتاق رہنا۔

heart-hugs

سورۃ المطففین کی آیت 22 کی تفسیر میں، امام ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

إ

ِانَّ الْأَبْرَارَ لَفِي نَعِيمٍ

اللہ تعالیٰ کے قول ” نعیم” کو صرف آخرت کے لئے گمان نہ کریں، بلکہ اِس میں ساری نعمتیں، یہاں تک کہ دُنیاوی نعمتیں بھی شامل ہیں۔ جیسا کہ “ابرار’ یعنی اللہ کے نیک اور متقی بندے اپنے دلوں کے اندر قلبی سکون اور لذت و سعادت محسوس کرتے ہیں۔ اسی لئے فرمایا ” لَفِي نَعِيمٍ” کہ یقیناََ نعمتیں اور اس میں دنیا اور آخرت ، دونوں کی نعمتیں شامل ہیں۔ الجواب الكافي لمن سأل عن الدواء الشافي ص85
گویا کہ دل کے معاملے میں بہت گہرائی ہے اور دل کی واردات، دل کا تعلق، یقین اور ایمان کا بڑھنا یا گھٹنا، طمائنینت پانا، . . . یہ سب معاملات بہت باریک بینی سے نبھانے کے ہیں۔ زندگی کی بھاگ دوڑ میں اکثر دلِ پریشاں تنہا رہ جاتا ہے اور یوں مزید پریشان ہوتا ہے۔انسان کی تمام ہستی کے سلجھاؤ کی گُتھی دراصل دل کے سکون میں ہے۔ مال ، معاش، اولاد، احباب اور کچھ بھی انسان کے سکون کا ضامن نہیں . . . جب تک کہ . . . دل راضی باش نہ ہو، قلق سے آزاد اور ایک رب کی ہستی سے جُڑا ہوا نہ ہو۔ سوز و گداز کے ذائقے سے آشنا نہ ہو اور پھر اس سوز سے لطف حاصل نہ کرتا ہو۔

کوئی دل سوز ہو تو کیجیئے بیاں

سرسری دل کی واردات نہیں

حالی

دلِ پریشاں3- رمضان 2014

images

زندہ دلی اور طمانینت

زندگی ، زندہ دلی کا نام ہے

مردہ دل کیا خاک جیا کرتے ہیں

یعنی زندگی ، وہی ہے جو زندہ دلی سے عبارت ہو، دل نہ رہے تو انسان کے لئے دنیا کی ہر نعمت کا مزہ ختم ہوجاتا ہے۔ وہ جو ناصر نے کہا تھا کہ اپنا دل اداس ہو تو لگتا ہے کہ شہر سائیں سائیں کررہا ہے۔ اور پھر بقولِ اقبال :

دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یا رب

کیا لطف انجمن کا ، جب دل ہی بجھ گیا ہو . .

اسی لئے بہت ضروری ہے کہ دل پر خاص توجہ دی جائے کہ دل بجھ نہ جائے ، اس کی رضامندی کا خیال رکھا جائے، دل کی آراستگی اور مضبوطی کا سامان کیا جائے اور ایسے اقدامات کئے جائیں جن سے دل کو طاقت ملِے۔دل کی تقویت اور ٹھہراؤ انسان کو زندگی کی کشاکش میں مدد دیتی ہے۔ جب انسان کا دل مطمئن ہو تو اُس کو ہر مشکل چھوٹی لگتی ہے اور وہ بڑے سے بڑی رکاوٹ کو عبور کرجاتا ہے۔

clipart_heart_2[1]

زندہ دل آدمی اپنے اندر طمانینت، سعادت اور راحت محسوس کرتا ہے۔ زندہ دلی انسان کو بھلائی اور طاعتوں کی طرف راغب کرتی ہے۔ اور کئی طرح کی نفسیاتی آسانیاں پیدا کرتی ہے۔ کلفت اور مشقت محسوس کئے بغیر، اعمالِ خیر کا کا سر انجام دینا آسان بنا دیتی ہے ۔ مثبت سوچ جنم لیتی ہے۔

زندہ دلی یا دل کی زندگی ، اِس چیز میں ہے کہ دل اپنے خالق کا تابع ہو، نیکی کی طرف راغب ہو اور اپنے رب کے ذکر سے توانائی حاصل کرتا ہو. . .

اللہ عزوّجل فرماتا ہے، سورۃ الرعد میں :

الذین آمنوا و تطمئنُ قلوبھم بذکراللہ ، الاٰ بذکرِ اللہِ تطمئنُ القلوب ٭

ترجمہ: جو لوگ ایمان لائے، اُن کے دل اللہ کے ذکر سے اطمئنان حاصل کرتے ہیں، یاد رکھو، اللہ کے ذکر سے ہی دِلوں کو اطمئنان ہوتا ہے۔

” مگر ہمارے ہاں لوگ عام طور پر یہ شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ اللہ کا ذکر کرکے بھی دل بےچین اور مضطرب رہتا ہے۔ وہ صبح شام تسبیحات پڑھتے ہیں مگر پھر بھی زندگی حزن و ملال اور بےچینی و انتشار میں گزرتی ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ اس آیت میں اطمئنان سے مراد سکون کی وہ کیفیت نہیں ہے جو کسی نشے کو اختیار کرنے کے بعد انسان پر طاری ہوجاتی ہے۔اور جس کے بعد انسان دنیا و ما فیہا کے ہر غم سے بے نیاز ہوجاتا ہے ۔ بلکہ یہاں اطمئنان سے مراد وہ ذہنی کیفیت ہے جس میں انسان کا دل ایک نکتے پر یقین کی حالت میں سکون حاصل کرتا ہے۔وہ سکون جو یقین سے پیدا ہوتا ہے ۔ اس میں انسان کو یہ یقین ہوتا ہے کہ جس ہستی پر وہ ایمان لایا ہے ، جس کو اُس نے اپنا رب اور معبود مانا ہے، وہی درحقیقت خالق اور مالک ہے۔ اُس رب کے ہاتھ میں کُل کائنات کی بادشاہی ہے ، اور جس نے اپنا ہاتھ اُس کے ہاتھ میں دے دیا ، اللہ تعالیٰ اُسے کبھی رُسوا اور محروم نہیں کرے گا۔

تاہم یہ یقین اللہ کے جس ذکر سے پیدا ہوتا ہے وہ محض تسبیح پر انگلیاں پھیرنے کا عمل نہیں بلکہ اس کی یاد میں جینے کا نام ہے۔ یہ محض کچھ اذکار کو زبان سے ادا کرنے کا عمل نہیں، بلکہ اس کے ذکر سے منہ میں شیرینی گھُل جانے کا نام ہے۔ یہ صرف اُس کے نام کی مالا جپنے کا نام نہیں ، بلکہ ہمہ وقت اللہ تعالیٰ کو اپنے ساتھ سمجھنے کی کیفیت کا نام ہے۔ یہ ‘اللہ ہو’ کا وِرد کرنے کا عمل نہیں، بلکہ رب کی محبت میں ڈر کر زندگی گزارنے کا نام ہے۔

قرآن نے اس بات کو واضح کیا ہے کہ اطمئنانِ قلب کی وہ کیفیت جس میں انسان کو نہ کوئی خوف ہوتا ہے اور نہ کوئی اندیشہ، اللہ کے دوستوں کو عطا کی جاتی ہے۔ فرمایا :

سُن لو کہ اللہ کے دوستوں کے لئے نہ کوئی خوف ہے اور نہ کوئی اندیشہ،

یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور اللہ سے ڈرتے رہے۔

ِن کے لئے خوشخبری ہے، دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی

اللہ کی باتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی، یہی بڑی کامیابی ہے۔

سورۃ یونس – آیت62،63، 64

قرآن یہ بھی بتاتا ہے کہ اللہ کے یہ دوست کون ہوتے ہیں؟ یہ کوئی پہنچے ہوئے، ولی یا بزرگ قسم کے لوگ نہیں ہوتےبلکہ وہ سچے اہلِ ایمان ہیں جو اپنے ایمان کا ثبوت دیتے ہیں، تقویٰ سے۔ یعنی رب کی یاد ان کا یوں احاطہ کرلیتی ہے کہ زندگی کے ہر کمزور لمحے میں وہ یہ سوچ کر گناہ سے بچتے ہیں کہ اللہ میرے ساتھ ہے اور مجھے دیکھ رہا ہے۔ بس اللہ کا دوست اور ولی ہونے کی یہی نشانی ہے۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ کے نیک بندوں پر بھی تکالیف آتی ہیں تو وہ کس طرح خوف، ملال اور حزن سے محفوظ ہوئے ؟ ( انشاءاللہ آئندہ)

زندہ دلی اور طمانینت ۔ ، رمضان2014۲

دلِ ناداں

دلِ ناداں

wpid-ytkmjmxte.jpeg

دلِ ناداں، تجھے ہوا کیا ہے ؟

آخر اِس درد کی دوا کیا ہے ؟

غالب نے اپنے دل کو بڑے چاؤ سے نادان کہہ کر پکارا ہے۔ اِس نادان کہنے میں یہ اشارہ چھُپا ہے کہ دردِ دل کی دوا ہونا ایسا آسان نہیں اور دل کے علاج کی خواہش کرنا ، غالب کے دل کی معصومیت اور نادانی ہے۔ صرف غالب ہی کیا، سبھی انسانوں کی زندگی کے بہت سے جھمیلے دل کی معصومیت اور نادانی کے مرہونِ منت ہوتے ہیں۔

ایک اور جگہ غالب دل کے ہاتھوں تڑپ کر یوں کہتے ہیں :

عاشقی صبر طلب اور تمنا بے تاب

دل کا کیا رنگ کروں خونِ جگر ہونے تک

گویا کہ دل ہی ہے کہ بےتاب رہتا ہے۔ دلِ ناتواں کو دنیا میں کئی کاروبار درپیش ہیں . . . دل کا آنا، دل آزمانا، دل اُٹھ جانا، . . . دل پھسل جانا، دل اُچھلنا ، دل بجھنا، . . . دل کا بندھنا، دل بہلنا، دل پتھر ہوجانا، دل پھٹنا ، دل پرچانا، دل ٹھہرنا ، دل جھُکنا، دل بستگی، دل پسندی، دل سوزی، دل فریبی، . . . دل لگی، دل کی لگی، دل رُبائی، دل کھِلنا، دل گرمانا، دل جلانا، دل پھڑکنا، دل دھڑکنا، دل میں سمانا، . . . .اور بھی بہت کچھ . . .

تو بات غالب کی بھی ٹھیک ہوئی . . . کہ ایک دلِ ناداں اور ہزار آزار . .

wpid-happy_heart.png

دل کی اس گونا گُوں مصروفیت کا ایک سبب ہے . . اور وہ یہ کہ انسان کے وجود میں دل کو مرکزی مقام حاصل ہے ۔ اس مرکزیت کی وجہ یہی نہیں کہ دل کو ٹوٹنے ، جُڑنے اور مچلنے سے کام ہے بلکہ دل کے نازک کندھوں پر اور بھی بہت سی ذمہ داریاں ہیں۔ دل کی بنیادی ذمہ داری ، جو ڈاکٹر لوگوں کو ، آلات لگا کر معلوم ہوئی ، وہ یہ کہ اِس عضویاتی دل کو تمام عمر دھڑک دھڑک کر ، تمام جسم کو خون کی سپلائی کا کام کرنا ہے۔ دل دھڑکنے کا ایک سبب، ناصر کاظمی نے بھی پیش کیا :

دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا

وہ تیری یاد تھی، اب یاد آیا

سو، نادانیوں کے باوجود اور دھڑکنے کے علاوہ، انسان کی عقل و شعور کا محور یہی دل ہے جہاں سے انسان کے تمام اعمال و افعال اور نظریات کنٹرول ہوتے ہیں۔ دل کی اہمیت سے کسی طور انکار ممکن نہیں۔

امام ابن القیّم ؒ فرماتے ہیں کہ انسان کے جسم میں سب سے اشرف اور اعلیٰ اس کا دل ہے جس سے وہ اللہ کی معرفت حاصل کرتا ہے ، اُس کی جانب اقدام کی کوششیں کرتا ہے، اُس کی محبت کے قابل بنتا ہے۔ یہی دل ایمان و عرفان کا محل ہے۔پیغمبروں کی بعثت اِسی کی طرف ہوئی۔ خدائی پیغام کا مخاطب بھی یہی دل ہے۔ اللہ کی ذات ہی انسان کو دل کا تحفہ دینے والی ہے اور تحفے کی شان ، اِس تحفے کو عطا کرنے والے کی شان جیسی ہے۔

انسانی جسم میں دل بادشاہ کے مقام پر ہے ، تمام اعضاء اور جوارح اِس کے تابع ہیں، دل انھیں استعمال کرتا ہے جیسے بادشاہ اپنے غلاموں کا اور راعی اپنی رعیت کا استعمال کرتا ہے۔

دل کی مرکزیت پہ پیغمبر آخر الزمان ﷺ کے بہت سے اقوال ثابت ہیں۔ رسول اللہﷺ فرماتے ہیں:آگاہ رہو، جسم کے اندر ایک ایسا عضو ہے۔ جب وہ صحیح رہا تو پورا جسم صحیح رہا اور جب وہ بگڑگیا تو پورا جسم بگڑ گیا، آگاہ رہو، وہ قلب ہے۔

چنانچہ دل کی اہمیت اور اصلاح خصوصی توجہ کی متقاضی ہے۔ اور اس کا کام محض دھڑکنے اور مچلنے تک ہی محدود نہیں ہے۔

دل؛ تعارف-1 حصہ