عقل اور شعور

عقل اور شعور

انسان پر اللہ تعالی کے بےبہا احسانات ہیں۔ جن کا شکریہ ادا کرنا انسان کی بساط سے باہر ہے۔ بہت سی صورتوں میں انسان کو نوازا گیا ہے مگر ایک نعمت ایسی ہے جس کی وجہ سے انسان دیگر نعمتوں کا احساس کرنے کے قابل ہوتا ہے – یہ ‘عقل اور شعور’ کی نعمت ہے ۔

شعور ہی کی وجہ انسان اللہ تعالی کے نظام پر غور کرنے کی صلاحیت پاتا ہے۔ وہ اللہ کی عطا کی گئی بےشمار نعمتوں کا ادراک کرتا ہے۔ کائنات کے نظام کی ہمواریت پہ غور کرتا ہے۔ اللہ کی تخلیق میں کاریگری دیکھتا ہے –

عقل اور شعور کی یہ نعمت انسانوں میں امتیاز کا سبب ہے۔ ہدایتِ کامل،قرآنِ پاک میں اہلِ عقل اور سمجھ رکھنے والوں کو خصوصیت سے مخاطب کیا گیا ہے، جو اِس بات کا ثبوت ہے عقل، شعور، آگہی اور تدبر کی بنیاد پر کچھ انسان فوقیت رکھتے ہیں –

مثال کے طور پہ: سب لوگ کھانا کھاتے ہیں، کچھ کھانے کو دن بھر کے معمول کا حصہ سمجھتے ہیں، اِن کے لئے کھانا اِسی قدر اہم ہے کہ بھوک مٹانے کو کافی ہو ، ذائقے کی تمیز اور پرکھ سے بھی آزاد، کھانے کا وقت ہوا، کھانا کھالیا، – – – عادتاً یاد رہا تو الحمد للہ کہہ دیا ورنہ خیر ۔۔۔

ایک اور قبیل کے لوگ حسبِ مزاج اور حسبِ طلب مین میخ نکالنے کے عادی ہوتے ہیں، پسندیدہ چیز ہو، پکوائی اچھی ہو، ذائقے کا دھیان، عمدہ اور مہنگی چیز کھا کر نفسیاتی تسلی محسوس کرتے ہیں، کسی عزیز کو کھانے کی دعوت دینے میں خوشی اور فخر محسوس کرتے ہیں۔

ایک قسم ہے جس کے کھانے والے نے کھانے کے دوران کھانے کی تیاری کو سوچا، ہر نوالے میں مصالحہ جات کا ذائقہ محسوس کیا، خوشبو اور پیشکش کے طریقے کو مدّنظر رکھا، برتنوں کی ترتیب اور رنگوں کو ملاحظہ کیا۔

ایک اور ندارد درجہ ہے جنہوں نے ہر نوالے کی لذّت کو محسوس کرکے اِحساسِ تشکر محسوس کیا، پسندیدہ کھانے پر رب کی احسان مندی مانی جس نے پسندیدہ شے تک رسائی نصیب کی، اُس سے لذت اُٹھانے کے اسباب مہیا کئے۔ اِس گروہ کے شخص نے سوچا کہ کتنے ہی لوگ من چاہی خوراک حاصل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے، یا اگر قدرت رکھتے ہیں تو وہ چیز اُس کے لئے باعثِ تکلیف ہے، معالج نے منع کر رکھی ہے، معالج کا تذکرہ نہ بھی ہو تو وہ خود جانتا ہے کہ یہ شے کھانے سے اُسے کیا عارضہ ہوگا۔

وہ شخص اس حقیقت کا شعور کرتا ہے کہ من چاہی لذیذ خوراک تو اہلِ جنت کے خصوصی اعزاز میں شامل ہےجو اُس کو زمین پر میسر ہوگئی۔ یہ شخص کھانے سے اُٹھتا ہے تو رب کی بندگی سے لبریز ہے، ہر نوالہ جو اُس نے چبایا تو اپنے دل میں رب سے رابطہ پیدا ہوتا پایا۔

سب نے کھانا ہی کھایا مگر محسوسات کا یہ فرق عقل اور دانش کے فرق کے اعتبار سے تھا۔ ہر طبقے نے اپنی عقل کے معیار کے مطابق سوچا۔

سوال یہ ہے کہ: کیا عقل اور شعور کا عطا ہوجانا اِتمامِ نعمت ہے ؟ – – – یا اگر عقل اور اِدراک ہو مگر انسان اُس عقل کے اِظہار، بیان اور استعمال سے قاصر ہو، اسباب اور ساتھ موافق نہ ہو ۔ ۔ ۔ تو بھی اُس شعور کا محض عطا ہونا کافی ہوگا ؟

(font changed )

Advertisements