A Saturated Heart

image

“Gaining”, as a word, on consulting a dictionary, stands for, . . . .
To come into possession or use of something,
To acquire,
To attain,
To have as profit or reward,
To gather, collect and increase. . .
A great number of meanings, infact ! All of which show increase in possession, that is a good sign.

As a common use, gaining power means to reach a specific position or seat, gaining profit indicates some good deal, bonus or unexpected fortune, and so on. . .many more meanings. Except gaining weight n pounds, all others synonyms for gaining are used in good sense.

image

image

One thing to notice: in any type of gaining, are we keeping the profit to ourselves ? Or just handing it over to someone else?

Spending, passing or sharing is not rare, people do share and spend lavishly, but what is missing, is to retain the fruits of our gains inside ourselves. Very little that we enjoy what we gained.

For example, after gaining money, we come across expenditures at once, without actually realising the blessing of that gain, without a mind to enjoy or to be thankful to be in a position to spend. And by here, ignoring all the positive impacts that this gain should place in our inner selves. Materially, there may be seen goodies, but no contentment inside the heart.

image

Gaining knowledge , either to earn a good life, or to deliver it further to students, or just to proof one’s intellectual value, is not just enough, for this gain. Very rare to find a situation, in which knowledge, of any kind, is gained to soothe and enlighten one’s inner self and soul. It is ok with commercial aspects of knowledge, but hopeless to find, that this knowledge, havent given a chance , to make some light and kindle the heart and mind of the bearer.

Retaining the impact of every gain in life, to be more positive, can bring out harmony and calm in life, to a considerable extent. Many of our gains, dont put any positive effect on our heart and psychological health. This leads to a kind of educated people with illiterate behaviours, wealthy persons with poorly sick attitudes, ill manners in well dressed bodies, weak and abnormal thoughts coming out of good looks, stuffed pockets and empty hearts, filled stomachs and hungry eyes.

The behaviour of not realising and containing a gain, makes us never feel content and saturated. A saturated heart is the actual fruit of life, a heart in peace, with zero negative feelings.

image

Advertisements

سونے کا نوالہ

سونے کا نوالہ

image

چہکتے کھلکھلاتے باتیں کرتے بچے ہر جگہ رونق کا سبب ہوتے ہیں ۔ آجکل بچے بہت گہری باتیں کرتے ہیں ۔ اب بچوں کو بہت زیادہ پابند نہیں رکھا جاتا۔ بے تکلفی سے منہ پھٹ ہونے تک کے تمام معاملات عام ہیں۔ تربیت کے اعتبار سے معاشرےمیں بہت تبدیلی آچکی ہے

ایک وقت تھا جب خاموش گم سم اور مودب بچہ آئیڈیل سمجھا جاتا تھا۔ عرصہ دراز تک ہمارے گھروں میں یہ جملے سنائی دیتے تھے، دیکھو فلاں بچہ کتنا اچھا ہے، خاموش رہتا ہے اور کوئی شرارت نہیں کرتا۔ گویا خاموشی ہی قابلِ تعریف تھی اور شرارت کرنے کی خواہش سے عاری ہونا مثالی تھا۔

یہ سونے کے نوالے اور شیر کی آنکھ کا زمانہ تھا۔ سونے کا نوالہ تو وہی کھلاتے جن کے بس میں ہوتا لیکن شیر کی ایک آ نکھ اور بسا اوقات شیر کی دونوں آنکھیں تو ہر ایک کے بس میں تھیں اور وہ بھی بنا کسی لاگت کے۔لہٰذا اُس عہد نے وہ سپوت اور نسل پیدا کی جو گھر میں ہی آنکھیں دیکھ کر سہم جایا کرتی تھی۔

اِس سوچ کے حامل والدین اولاد کو تابعدار بنانا زندگی کا نصب العین سمجھتے تھے۔ اِس تابعداری کا حاشیہ بھی متعین نہیں تھا، نہ ہی کوئی قانون تھا ۔ عام طور پہ تابعداری کا امتحان ایثار اور قربانی سے لیا جاتا۔ خاموشی سعادت مندی کی اولین شرط تھی۔ اور جہاں ضرورت ہوتی فوراً والدین کو اُف تک نہ کہنے کی دلیل پیش کردی جاتی۔

شیر کی آنکھ سے دیکھنے کی ادا کسی حد تک ٹھیک تھی لیکن اس کے اثرات بہت عرصے میں سامنے آئے۔ معلوم ہوا کہ دبے سہمے خاموش طبع بچے جب گھر سے باہر نکلتے ہیں تو انھیں کئی طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ زیادہ تر اس لئے کہ ایسے بچے جدوجہد کی خواہش نہیں رکھتے اور قدم بڑھا کر جگہ لینا نہیں جانتے۔ جبکہ معاشرے کی ترقی کے لئے، اور باشعور انسان بننے کے لئے ہر خوف اور دباوٴ سے مبرا درست اور غلط کا واضح شعور ہونا لازمی ہے۔ آگے بڑھنے کی جستجو، تڑپ اور مقابلے کا رحجان ہونا بہت ضروری ہے۔

والدین کی تابعداری اور فرمانبرداری بہت اچھی چیز ہے مگر یہاں جو امر قابلِ غور ہے وہ یہ کہ تقدس اتنا بلند کردیا گیا کہ والدین سےسوال کرنا فرمانبرداری کے منافی قرار پایا۔ والدہ سے تو پھربھی دبے لفظوں میں کوئی فرمائش یا سوال کرنا روا تھا مگر والد ایسی ہستی تھے جن کے گھر میں قدم رکھتے ہی کایا پلٹ ہوجاتی تھی۔ مسکراہٹیں، قہقہے اور فی البدیہہ سرزد ہونے تمام حرکات معطل کردی جاتیں۔ کسی کو کچھ پوچھنا کہنا روا نہ تھا۔ ایلی شدید خواہش کے باوجود تمام عمر باپ سے سوال کرنے کی جراٴت نہ کرسکا۔

۔ ۔ ۔ یہ سب ادب کے لوازمات تھے۔

حالانکہ ادب اور استفسار کے دائرے الگ الگ ہیں۔ سوال، وضاحت، نصیحت، تشریح، ۔ ۔ ۔ یہ سب باتیں ادب کو متاٴثر نہیں کرتی، لیکن شیر کی آنکھ کا معاملہ تھا۔ بہت سے لوگ جنگل کے بادشاہ کے اس قانون کو آج سنہرے دور سے تعبیر کرتے ہیں۔ لیکن اس قانون کے اثرات پہ نظر نہیں کرتے۔

اس بات پہ کوئی اختلاف نہیں کہ ؂ ادب پہلا قرینہ ہے۔ ۔ ۔ ۔

مگر یہ بھی دیکھئے کہ ادب ”محبت” کے قرینوں میں پہلا قرینہ ہے ۔ ۔ ۔ نہ کہ خوف اور ڈر کے ساتھ ادب کو جوڑا جائے۔

ایسی موٴدبانہ روک ٹوک ہر تعلق کو پھیکا بنا دیتی ہے۔ اس کےساتھ ساتھ نفسیاتی گِرہیں پڑنے کا سبب بھی بنتی ہے۔ لہٰذا یہ بہت ضروری ہے کہ ادب اور بے تکلفی میں فرق کو سمجھا جائے اور سمجھایا بھی جائے۔

دبے اور سہمے ہوئے ماحول میں پلے بڑھے افراد کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ وہ غلط بات کے سامنے مزاحمت کرنے کی کوشش نہیں کرتے، نہ ہی ایسی خواہش رکھتے ہیں۔ ایک عرصے تک دبے سہمے ماحول میں رہنے کے بعد ایسے افراد میں شعورمندمل ہوجاتا ہےاور اگر اس طرح کا کوئی روئیہ ظاہر کریں بھی تو وہ اپنے دبےہوئے ماحول کے ردعمل کے طور پر ہوتا ہے۔ آج ہمارا معاشرہ ہر سطح پہ ایسی ہی دو انتہائی سوچوں کی وجہ سے الجھاوٴ کا شکار ہے۔ بہت سے لوگوں کے بہت سے نظریات کی نہ سمت ہے اور نہ منطق۔

نارمل روئیے پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ افراد کی تربیت میں کسی بھی طرح کی انتہا سے کام نہ لیا جائے۔ اس قدر بےتکلفی نہ ہو کہ کسی حد کا پاس ہی نہ رہے اور نہ ہی اس قدر سختی ہو کہ پابندی میں رہتے ہوئے صحیح اور غلط کا شعور ختم ہوجائے۔

Moment of charm. . .can go more

Moment of charm. . .can go more

happy_face_wall_clock

Not a strange thing for any one of us to move in any moment of past in no time. That one connecting moment takes you to the most of your beautiful feelings. Its recalling your beloved ones, such as, mother, father, brother, sister, friends, toys, car, pet, …….and so on. All such memories mostly come with tears and wet eyes. Thats very natural. Intesity of feeling is what makes you cry and wipe out your eyes

Its a common tradition of love and affection to shadow it with gloomy shades. To listen a sad song in nostagia, to have tearful eyes whenever remembering the persons who were source of love and courage, sighing and smiling on silly things with friends, recalling childhood, school and college days. . . . . . This all seems so ćharming

This charm is endless. Although very first feeling about memories is, a feeling of some thing has happened a long time ago, and slipped out of your hand. Gone. Spend. But this is not all the charm and beauty of our sweet moments. Sweetness of every beauty in life decends in our being. It diffuses in our whole existence. Its not gone, rather present somewhere inside us

You may still love that chips, you once shared with school friends, when the whole world revolved around chips and bottle and cone. I may tap my fingers while listening the music, exactly as my baba used to. Your dinning likes and dislikes may turn out to be same as your mother’s. you still wish to scream and jump after listening to an exciting news. I may be very choosy and picky about my shoes, as my sister or brother

So the charm is there. Dont we have the ability to connect it further? Yes, let it pass through. Be the one,…..who you are missing,…..for those who are around you

Retain the charm of your sweet moments and . . . .be a source of it, once again

Its just like adjusting the bass settings of an audio player, lessen the saddening effect and increase the encouraging and uplifting impact

Add-on sweetness, share it, spread it, be a source, to be remembered some day. . . .after finishing your pile of moments. Expand the charm out of gloomy shade and let it have the joyful shine. Grasp all that beauty that you miss and be its source

دلِ ناداں

دلِ ناداں

wpid-ytkmjmxte.jpeg

دلِ ناداں، تجھے ہوا کیا ہے ؟

آخر اِس درد کی دوا کیا ہے ؟

غالب نے اپنے دل کو بڑے چاؤ سے نادان کہہ کر پکارا ہے۔ اِس نادان کہنے میں یہ اشارہ چھُپا ہے کہ دردِ دل کی دوا ہونا ایسا آسان نہیں اور دل کے علاج کی خواہش کرنا ، غالب کے دل کی معصومیت اور نادانی ہے۔ صرف غالب ہی کیا، سبھی انسانوں کی زندگی کے بہت سے جھمیلے دل کی معصومیت اور نادانی کے مرہونِ منت ہوتے ہیں۔

ایک اور جگہ غالب دل کے ہاتھوں تڑپ کر یوں کہتے ہیں :

عاشقی صبر طلب اور تمنا بے تاب

دل کا کیا رنگ کروں خونِ جگر ہونے تک

گویا کہ دل ہی ہے کہ بےتاب رہتا ہے۔ دلِ ناتواں کو دنیا میں کئی کاروبار درپیش ہیں . . . دل کا آنا، دل آزمانا، دل اُٹھ جانا، . . . دل پھسل جانا، دل اُچھلنا ، دل بجھنا، . . . دل کا بندھنا، دل بہلنا، دل پتھر ہوجانا، دل پھٹنا ، دل پرچانا، دل ٹھہرنا ، دل جھُکنا، دل بستگی، دل پسندی، دل سوزی، دل فریبی، . . . دل لگی، دل کی لگی، دل رُبائی، دل کھِلنا، دل گرمانا، دل جلانا، دل پھڑکنا، دل دھڑکنا، دل میں سمانا، . . . .اور بھی بہت کچھ . . .

تو بات غالب کی بھی ٹھیک ہوئی . . . کہ ایک دلِ ناداں اور ہزار آزار . .

wpid-happy_heart.png

دل کی اس گونا گُوں مصروفیت کا ایک سبب ہے . . اور وہ یہ کہ انسان کے وجود میں دل کو مرکزی مقام حاصل ہے ۔ اس مرکزیت کی وجہ یہی نہیں کہ دل کو ٹوٹنے ، جُڑنے اور مچلنے سے کام ہے بلکہ دل کے نازک کندھوں پر اور بھی بہت سی ذمہ داریاں ہیں۔ دل کی بنیادی ذمہ داری ، جو ڈاکٹر لوگوں کو ، آلات لگا کر معلوم ہوئی ، وہ یہ کہ اِس عضویاتی دل کو تمام عمر دھڑک دھڑک کر ، تمام جسم کو خون کی سپلائی کا کام کرنا ہے۔ دل دھڑکنے کا ایک سبب، ناصر کاظمی نے بھی پیش کیا :

دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا

وہ تیری یاد تھی، اب یاد آیا

سو، نادانیوں کے باوجود اور دھڑکنے کے علاوہ، انسان کی عقل و شعور کا محور یہی دل ہے جہاں سے انسان کے تمام اعمال و افعال اور نظریات کنٹرول ہوتے ہیں۔ دل کی اہمیت سے کسی طور انکار ممکن نہیں۔

امام ابن القیّم ؒ فرماتے ہیں کہ انسان کے جسم میں سب سے اشرف اور اعلیٰ اس کا دل ہے جس سے وہ اللہ کی معرفت حاصل کرتا ہے ، اُس کی جانب اقدام کی کوششیں کرتا ہے، اُس کی محبت کے قابل بنتا ہے۔ یہی دل ایمان و عرفان کا محل ہے۔پیغمبروں کی بعثت اِسی کی طرف ہوئی۔ خدائی پیغام کا مخاطب بھی یہی دل ہے۔ اللہ کی ذات ہی انسان کو دل کا تحفہ دینے والی ہے اور تحفے کی شان ، اِس تحفے کو عطا کرنے والے کی شان جیسی ہے۔

انسانی جسم میں دل بادشاہ کے مقام پر ہے ، تمام اعضاء اور جوارح اِس کے تابع ہیں، دل انھیں استعمال کرتا ہے جیسے بادشاہ اپنے غلاموں کا اور راعی اپنی رعیت کا استعمال کرتا ہے۔

دل کی مرکزیت پہ پیغمبر آخر الزمان ﷺ کے بہت سے اقوال ثابت ہیں۔ رسول اللہﷺ فرماتے ہیں:آگاہ رہو، جسم کے اندر ایک ایسا عضو ہے۔ جب وہ صحیح رہا تو پورا جسم صحیح رہا اور جب وہ بگڑگیا تو پورا جسم بگڑ گیا، آگاہ رہو، وہ قلب ہے۔

چنانچہ دل کی اہمیت اور اصلاح خصوصی توجہ کی متقاضی ہے۔ اور اس کا کام محض دھڑکنے اور مچلنے تک ہی محدود نہیں ہے۔

دل؛ تعارف-1 حصہ

Do Tragedy Appeals ?

Do Tragedy Appeals ?

Tragedy is what evokes a sinking sorrowful feeling in the heart. Most of the times it comes along with a helpless situation. Usually, tragic characters of novels, movies or dramas, gather more sympathies than the gleeful happy characters. A crying mother, jobless son, cruel husband, clever mother-in-law, strict boss, handicapped hero or poor heroine ( but well-dressed ) . . . all these are certified basic formula components of a successful novel or some show on the big or small screen.

A common thing to notice that heart-broken and dejected characters take a soft corner in the heart of reader/audience whereas gleeful, happy and jolly couples are taken as ignorant. Romeo and Juliet, Othello, Oedipus Rex are famous western tragedies which have been repeated, had making and remaking in all the mediums un-numerable times. Same is here, Shakuntla, Anaarkali, HeerWaris, SohniMahiwal have uncountable presentations.

Talking about tragedies, Greeks were best known for tragic theaters since ancients times. For them, there was some solid impulsive working behind the presentation and popularity of tragedy. People used to watch same plays, for many and many times, at various theaters, performed by different actors every time , wept and sighed during the drama but the acceptance and rating remained constant. So, what was the vital element keeping these dramas quite favorite?

In Aristotle’s definition, a good tragedy must be an imitation/ copy of real life situation, narrow in focus and must evoke pity and fear in its audience, causing the readers/viewers to experience a feeling of “catharsis.” In Greek, catharsis means purgation or purification; running through the lowest tone of pity and sorrow that will leave the person feeling elated. Aristotle (Arastoo) was the first to use this term catharsis, to describe emotional purification. He takes it as cleansing of human soul from excessive and illusional emotions. Act of tragedy works here to bring a sudden climax that evokes great feeling of sorrow, pity, mourning, resulting in restoration, renewal and revitalization in audience.

An other side step comes forth, with the idea that catharsis is an experience that shapes fear and pity with in the margin of balanced amount. People, in their real life, may become much or less addicted and familiar with pity, fear, torment and injustice that they may loose courage to behave normally and accordingly. This suppression, modification and delusion of emotions leads to an emotional and psychological numbness. Through watching/ reading a tragedy, the audience learn how to feel and react about these emotions at a proper level, and here tragedy works as a corrective.

Keeping in mind that the whole objective should remain in the positive aspect. Otherwise tragedy may lead many of people to negativity and depression. For a near concept, its like, to cure and heal a tired stiffed body, one gets up from its cozy place and goes for a brisk walk or jogging. On returning, after a gentle blood circulation and warmed-up sweating body, he feels light, vital and fresh.

موٴدت اور رحمت

موٴدت اور رحمت

سورت الروم کی آیت نمبر 21 ہے
وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ

1۔ اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ

2۔ اس نے تمھارے جوڑے تمھی میں سے پیدا کئے

3۔ تاکہ تم اُن کی طرف سکون کر سکو

4۔ اور پھر تمھارے درمیان موٴدت اور رحمت بنادی (کردی)

5۔ کہ اس میں سوچنے والوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں۔

اللہ تعٰالی نے عورت اور مرد کی تخلیق، خلقت اور فطرت کو اپنی نشانی کہا ہے جو ایک عظیم حکمت کی دلالت کرتی ہے۔

* بات کے شروع میں اپنی نشانی قراردے کر باقی بات مکمل کرنا، اس بات کی طرف اشارە ہے کہ اس تمام معاملے کا اللہ کی شان سے خاص تعلق ہے۔

* اندازِ تخاطب اور گرامر کی رُو سےیہاں عورت یا مرد کی تخصیص نہیں۔ یہ ضمیرِ مخاطب (مخاطب کرنے کا یہ لفظ) عورت اور مرد دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔

* اسی طرح لفظ “ازواجاً”، “جوڑا”، ” Spouse” مترادف ہیں یعنی بات ایک ہی وقت میں مردوں اور عورتوں دونوں کو مخاطب کرکے کہا جارہا ہے۔

* تمھاری جنس اور سپیشز سے تمھارا جوڑا بنانے میں اللہ تعٰالی کی حکمت ہے۔ اس نے عورت اور مرد کو ہمزاد بنا کر اُن میں فطری میلان اور جھکاوٴ ناگریز بنا دیا۔ یہ انسان کی فطرت کےایسے اسرار ہیں جن کو اللہ تعٰالی اپنی نشانی کہہ رہا ہے۔

* اس کے بعد ہم جنس بنائے ہوئے جوڑے کو سکون کا سبب بنایا ہے۔ “لتسکنوا الیہا” کا مطلب ہے کہ تم اس جوڑ سے سکون حاصل کرو۔ یہاں سکون بطور “اسم” ازخود پہلے سے موجود نہیں بتلایا گیا بلکہ “اُن کی طرف سکون کرو” بطور فعل بتایا گیا۔ یہ صفت اور خوبی اس تعلق میں ایسی ہے جس کے لئے مرد اور عورت کو تدبیر کرنی ہے۔

* “و جعل بینکم” میں “بینکم” کا لفظ استعمال کرکے مرد اور عورت دونوں کے مابین کی طرف اشارە کیا گیا ہے۔ یہاں بھی مرد اور عورت کو بلا تخصیص اوربلا تفضیل برابر مخاطب کیا گیا ہے۔

* ہم جنس جوڑے میں سکون کے ساتھ دو اور صفات کو اللہ تعٰالی اپنی نشانی بتاتا ہے کہ اللہ تعٰالی تمھارے مابین ۔ ۔ ۔ 1) مودت اور۔ ۔ ۔ 2) رحمت جاری کردیتا ہے۔

یہاں شوہر اور بیوی کے تعلق میں لفظ “محبت” کی جگہ موٴدت اور رحمت استعمال کیا گیا ہے۔ بلاشبہ اس میں رب کائنات کی عظیم حکمت ہے۔

اس حکمت پہ غور کرنے کے لئے یہ دیکھنا ہوگا کہ لغوی اعتبار سے موٴدت اور محبت میں کیا فرق ہے؟

* لغت کے اعتبار سے

محبت: دل اور نفس کی صفت اور کیفیت (صفہ نفسیہ)

موٴدت: عمل، رویے اور سلوک کی صفت اور کیفیت (صفہ عملیہ)

محبت انسان کے دلی جذباتی لگاوٴ کی کیفیت ہے کہ جو کیفیت محبت کی صورت میں دل پہ ہوتی ہے، جبکہ موٴدت انسان کے سلوک اور رویئے کی کیفیت ہے کہ وە سلوک اور برتاوٴ جس سے محبت جھلکتی ہو، ۔ ۔ ۔

اس بات سے یہ اشارە ملتا ہے کہ ازواج اپنی دلی کیفیت پہ اکتفا نہ کریں، خواە وە محبت کے دعویدار ہیں یا نہیں، اچھی ازدواجی زندگی کے لئے دل میں چھپی محبت کافی نہیں، اور لازم بھی نہیں، لیکن اپنے عمل، سلوک اور رویئے میں محبت کا ظاہر ہونا ضروری ہے، چونکہ مرد اور عورت دونوں کو یکساں مخاطب کیا گیا ہے لہذا موٴدت اور رحمت کا معاملہ دونوں ہی کو یکساں طور پہ کرنا ہے۔

ازواج کے باہمی برتاوء، عمل اور گفتگو میں موٴدت (محبت بھرا برتاو)ٴ اور رحمدلی کو اللہ تعٰالی اپنی نشانی قرار دے رہا ہے۔ محبت کے اظہار کے لئے اولین قدم عزت ہے۔ ۔ ۔

؂ ادب پہلا قرینہ ہے ۔ ۔ ۔ محبت کے قرینوں میں

گویا یہ رشتہ قانونی اور شرعی بندھن تو اپنی جگہ ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ انسان کی فطرت سے مطابقت رکھنے والا بھی ہے جس کو انسان کی فطرت بنانے والا خود اپنی نشانی کہہ رہا ہے اور اُن فائدوں کا ذکر کررہا ہے جو اُس نے اِن دونوں ازواج کی فطرت میں سمو دیئے ہیں۔

* یہ مطالب ان کے لئے ہیں جو غور و فکر کرتے ہیں اور سوچنے، تدبر کرنے والوں کے لئے ہی یہ بات اللہ تعٰالی کی نشانیوں میں شمار ہوگی۔

۔ * ۔ * ۔ * ۔ * ۔ * ۔ * ۔ * ۔ * ۔ * ۔ * ۔ * ۔

یہاں تک سورت الروم کی آیت 21 کے ترجمے اور مفہوم کا ذکر ہوا۔ جس سے مندرجہ ذیل نکات سامنے آئے۔

1۔ اللہ تعٰالی اس آیتِ مبارکہ میں مرد اور عورت کی تخلیق، اُن کی باہمی کشش، مطابقت اور کیمسٹری کو اپنی قدرت کی نشانی قرار دے رہا ہے۔ چنانچہ یہ مطابقت اور موٴدت اپنا وجود رکھتی ہے۔ اگر ہم اِسے مفقود پاتے ہیں تو لازمی طور پہ ہم غلط پیمانے میں اس تعلق کو تول رہے ہیں۔ اور اس ضمن میں سب سے بڑی غلطی یہ ہوتی ہے کہ وە توقعات اور ذمہ داریاں وابستہ کرلی یا کردی جاتی ہیں جو خالقِ کائنات نے لاگو نہیں کیں۔ مختلف لوگوں نے مختلف معاشروں میں مختلف روایتی اثرات کے زیرِ اثر اس تعلق کو مختلف مفہوم پہنادئیے جس کی وجہ اس تعلق کی وە حکمت پس منظر میں چلی گئی جو اللہ تعٰالی نے وضع کی تھی۔

2۔ ہم جنس جوڑے ہونے کی وجہ سے اللہ تعٰالی نے ازواج کو ایک دوسرے کے لئے سکون کا سبب بنایا۔

3۔ اور اللہ تعٰالی جوڑوں کے مابین موٴدت اور رحمت پیدا کردیتا ہے، جس کے لئے اُن کو باہمی سلوک میں محبت بھرا رویئہ اپنانا ہے بجائے اس کے کہ زبانی کلامی محبت کا دعوی ہو،( بعض صورتوں میں زبانی دعوے کا تکلف بھی روا نہیں رکھا جاتا) اور عملی رویئے، برتاوٴ، سلوک، محبت کے برعکس اور ناقدری ظاہر کرنے والے ہوں۔

4۔ یہ بات، یہ نشانی، اس تخلیقی میکنزم کی حکمت صرف اُن ہی کو سمجھ آئےگی جو عقل رکھتے ہیں اورتدبر اور غورو فکر کرتے ہیں۔

(font changed )

ٹرافی

ٹرافی
قریب کی نظر کا چشمہ لگائے ہوئے مطالعہ کرتے کرتے جب آنکھیں تھک جاتیں تو خالد کو آنکھیں موندنا پڑتی، دو لمحے کو آنکھوں کو سکون مل جاتا تو دوبارە مطالعہ شروع ہوجاتا ۔ کہانی بہت دلچسپ موڑ پر آپہنچی تھی۔ کہانی کا ہیرو ایک کھلاڑی تھا اور ٹرافی جیتنے کے لئے اَن تھک محنت کررہا تھا۔ خالد نے کتاب اوندھی رکھ دی۔ کہانی کے ہیرو نےخالد کے دل میں ایک معصوم سی خواہش جگا دی تھی ۔ اور اُس کواب یہ خواہش پوری کرنی تھی۔
نپے تُلے قدموں سے خالد اپنے کمرے سے باہر آیا۔ خواہش تھی تو ایسی کہ وە اُڑ کر پوری کرتا لیکن پچاس کا ہندسہ عبور کرچکا تھا چنانچہ احتیاط سے چلتے ہوئے لاوٴنج میں پہنچا۔ ٹی وی جس جگہ رکھا تھا ،اس کے اوپر والے شو کیس پہ نظرپڑتے ہی خالد کے چہرے پہ بہت خوبصورت اور گہری مسکراہٹ بکھر گئی۔ شو کیس میں خالد کی جیتی ہوئی ٹرافیوں کی ایک لائن لگی ہوئی تھی۔ ہر ٹرافی کے ساتھ ایک شاندار یاد وابستہ تھی۔ وە عزم، ولولہ، جوش، ساتھیوں کی ہلاشیری، اور جیت کا نشہ۔ ۔ ۔ واە ، اِن میں سے ہر ٹرافی کو جی جان کی بازی لگا کے اُس نے جیتا تھا۔ ماضی کی بہت سی خوبصورت یادیں خالد کے چہرے پہ مسکراہٹ بن کے جگمگانے لگیں۔
اچانک ٹرافیوں کی ماند پڑتی چمک نے اس کو متفکر کردیا، کبھی وە ان ٹرافیوں کو بڑے اہتمام سے پالش کیا کرتا تھا، دن میں کئی بار ان پہ نظر ٹِکا کرتی تھی، جب بھی وە ٹرافیوں کو دیکھتا اُس میں جیت کی سرشاری اور نشہ دوچند ہو جاتا، ۔ ۔ ۔ ہاں بھئی ۔ ۔ ۔ جیت کا اپنا ہی نشہ ہوتا ہے، اپنے ہم عمر اور ہم جماعتوں میں اُسےتفاخر کی نظر سے دیکھا جاتا تھا، رفتہ رفتہ وقت کی ریت پھسلتی رہی، اور زندگی نصف النہار پہ پہنچ گئی۔ ذمہ داریاں بدل گئیں اور وە بھی بہت سے دوسروں کی طرح خود کو وقت کی زد سے نہ بچا سکا۔ اُس کی جیت کی علامت، یہ ٹرافیاں اسی الماری میں پڑی وقت کی گرد کا نشانہ بنتی رہیں۔ لیکن کسی وفادار پتی ورتا کی طرح ان ٹرافیوں نے اس سے عمر بھر نبھانے کی ٹھانی ہوئی تھی۔ چنانچہ مدتوں اس کے نظر انداز کرنے کے باوجود یہ ٹرافیاں آج بھی اُسی کی تھی۔ بس اتنا فرق پڑا تھا کہ ان کی چمک ماند پڑ گئی تھی۔ اب ان کی لش لش کرتی دمک نہیں رہی تھی جو نگاہ کو خیرە کردیتی تھی۔ شاید ان کو اپنے ٹرافی ہونے کااحساس بھی نہ رہا تھا کہ خالد نے کس لگن سے ان کو حاصل کیا تھا۔ پہلے پہل تو وە ان ٹرافیوں کو یوں دھیرے سے تھاما کرتا، اُٹھاتا، رکھتا گویا یہ جاندار ہی ہوں ۔ اس کے گھر والے، دوست احباب، دیکھنے والے اُس کے جنون اور جذب کو دیکھتے رە جاتے۔
اچانک خالد کو لگا کہ عمر کے اِس موڑ پہ وە اپنے سے منسوب ان ٹرافیوں سے کچھ خجل ہے، جیت کے سفرمیں یہ اس کی ساتھی رہیں لیکن وە اِن سے غفلت برتتا رہا  اور اُس کی بے اعتنائی سے چوٹ کھا کے یہ ٹرافیاں اپنی آب کھو بیٹھی۔ جیسے کوئی داسی اپنا من مار کے دیوتا کے نام ہوجاتی ہے اور اپنے آپ کی نفی کر دیتی ہے۔ یا کوئی مجاور جو صبح شام، اپنے حلیۓ سے بےخبر عشق کی دھمال ڈالنے میں مست رہتا ہو۔
لیکن اب اُسے اِن ٹرافیوں کا احساس کیوں ہوا؟ پہلے کیوں کبھی اس احساس نے سر نہ اُٹھایا؟ اتنی مدت تک وە بےخبری میں کیوں رہا؟  ۔ ۔ ۔ ۔ شاید کسی کی قدر کا احساس تبھی ہوتا ہے جب انسان اُسے حاصل کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے۔ بیشتر کھلاڑی اپنے عروج کا زمانہ گزارنے کے بعد اپنی  صلاحیتوں کااصل ادراک کرتے ہیں ۔ پیسہ خرچ ہوجائے تو پھر کئی بہتر مصارف یاد آتے ہیں۔ دوست بچھڑ جائیں تو اُن کی خوبیاں ستاتی ہیں۔ صحت نہ رہے تو قدر آتی ہے۔ اسی لئے آج خالد کو اپنی ٹرافیوں کا خیال آیا تھا۔ جیت کے نشے میں یہ خیال کب رہتا ہے کہ کون کیسا ہے اور جسے جیتا ہو اُس کا مصرف جیت کے بعد ختم ہوجاتا ہے۔ کسی خوبصورت الماری یا شوکیس میں سجانے سے زیادە کیا ہوسکتا ہے۔ اورپھر آہستہ آہستہ وە ہماری توجہ کا مرکز نہیں رہتا۔ ہماری توجہ کی کمی سے ہماری ٹرافی اور شیلڈ پہ دھول مٹی پڑنے لگتی ہے۔ زمانے کی گردش کے ساتھ ساتھ یہ مٹی ٹرافی کی چمک ختم کر دیتی ہے۔ اور پھر کسی پالش کے ساتھ بھی وە آب وتاب واپس نہیں آسکتی۔ اب خالد کی ٹرافیاں پہلے کی طرح کبھی نہیں چمک سکتی تھیں۔ اور اب ہی تو وە وقت آیا تھا کہ اسے اِن ٹرافیوں سے محبت ہوئی تھی۔ ہاں ، منیر نیازی کےالفاظ یاد آئے،
محبت اب نہیں ہوگی
یہ کچھ دن بعد میں ہوگی
گزر جائینگے جب یہ دن
یہ ان کی یاد میں ہوگی
واقعی ، سچ کہہ گیا شاعر۔ ۔ ۔ ایک پچاس سالہ شخص  ملال لئے اپنےگھر کے لاوٴنج میں کھڑا ہے، آج بیتے دنوں کی یاد نے اُسے بےبسی کا شدت سے احساس دلایا ہے۔ خالد کے گھر میں دنیا کی تقریباً ہر نعمت موجود تھی لیکن پھر بھی خالی پن کا احساس اس کے دل میں بھرا پڑا تھا۔ کس چیز کی کمی تھی۔ اسی احساس کے ساتھ خالد نے ٹرافی کو واپس الماری میں رکھا اور اپنے کمرے کی طرف چل پڑا۔ شاید کسی کتاب میں فرار کی راە ملے۔ کمرے میں آیا تو چند لمحے بعد ہی اُس کی بیوی چائے لے آئی۔ چائے کا وقت ہوگیا تھا۔ خالد نے مدت بعد اپنی بیوی کو غور سے دیکھا ۔ وە ابھی بھی حسین تھی ۔ حسین تو وە سدا سےتھی  اور اب گزرتے سالوں نے رفاقت کی مدھرتا گھول دی تھی اس کے سراپے میں۔ لیکن خالد نے اسے ٹرافی۔وائف ہی سمجھا تھا۔ بڑے مان سے اپنانے کے بعد کبھی اُس کی ماند پڑتی چمک پہ غور نہیں کیاتھا۔ آج اُس کا جی چاہتا تھا کہ اس کی بیوی ایک بار کھکھلا کے اُس کی طرف دیکھے۔ خالد کو دیکھ کے چہک اٹھے ۔ اس کے اطراف میں وە کھنکتی ہوئی ہنسی ہو جس پہ وە مرتا تھا۔ اب اس کی بیوی اس کےسامنے موٴدب ہوجایا کرتی تھی۔ شاید سہم جاتی تھی۔ کیا ٹرافیوں کی طرح وە کبھی پہلے جیسی نہیں ہوسکتی ؟
  ستارے جو دمکتے ہیں
کسی کی چشم حیران میں
ملاقاتیں جو ہوتی ہیں
جمال ابر و باراں میں
یہ نا آباد وقتوں میں
دل ناشاد میں ہوگی
محبت اب نہیں ہوگی
یہ کچھ دن بعد میں ہوگی
گزر جائینگے جب یہ دن
یہ ان کی یاد میں ہوگی