سونے کا نوالہ

سونے کا نوالہ

image

چہکتے کھلکھلاتے باتیں کرتے بچے ہر جگہ رونق کا سبب ہوتے ہیں ۔ آجکل بچے بہت گہری باتیں کرتے ہیں ۔ اب بچوں کو بہت زیادہ پابند نہیں رکھا جاتا۔ بے تکلفی سے منہ پھٹ ہونے تک کے تمام معاملات عام ہیں۔ تربیت کے اعتبار سے معاشرےمیں بہت تبدیلی آچکی ہے

ایک وقت تھا جب خاموش گم سم اور مودب بچہ آئیڈیل سمجھا جاتا تھا۔ عرصہ دراز تک ہمارے گھروں میں یہ جملے سنائی دیتے تھے، دیکھو فلاں بچہ کتنا اچھا ہے، خاموش رہتا ہے اور کوئی شرارت نہیں کرتا۔ گویا خاموشی ہی قابلِ تعریف تھی اور شرارت کرنے کی خواہش سے عاری ہونا مثالی تھا۔

یہ سونے کے نوالے اور شیر کی آنکھ کا زمانہ تھا۔ سونے کا نوالہ تو وہی کھلاتے جن کے بس میں ہوتا لیکن شیر کی ایک آ نکھ اور بسا اوقات شیر کی دونوں آنکھیں تو ہر ایک کے بس میں تھیں اور وہ بھی بنا کسی لاگت کے۔لہٰذا اُس عہد نے وہ سپوت اور نسل پیدا کی جو گھر میں ہی آنکھیں دیکھ کر سہم جایا کرتی تھی۔

اِس سوچ کے حامل والدین اولاد کو تابعدار بنانا زندگی کا نصب العین سمجھتے تھے۔ اِس تابعداری کا حاشیہ بھی متعین نہیں تھا، نہ ہی کوئی قانون تھا ۔ عام طور پہ تابعداری کا امتحان ایثار اور قربانی سے لیا جاتا۔ خاموشی سعادت مندی کی اولین شرط تھی۔ اور جہاں ضرورت ہوتی فوراً والدین کو اُف تک نہ کہنے کی دلیل پیش کردی جاتی۔

شیر کی آنکھ سے دیکھنے کی ادا کسی حد تک ٹھیک تھی لیکن اس کے اثرات بہت عرصے میں سامنے آئے۔ معلوم ہوا کہ دبے سہمے خاموش طبع بچے جب گھر سے باہر نکلتے ہیں تو انھیں کئی طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ زیادہ تر اس لئے کہ ایسے بچے جدوجہد کی خواہش نہیں رکھتے اور قدم بڑھا کر جگہ لینا نہیں جانتے۔ جبکہ معاشرے کی ترقی کے لئے، اور باشعور انسان بننے کے لئے ہر خوف اور دباوٴ سے مبرا درست اور غلط کا واضح شعور ہونا لازمی ہے۔ آگے بڑھنے کی جستجو، تڑپ اور مقابلے کا رحجان ہونا بہت ضروری ہے۔

والدین کی تابعداری اور فرمانبرداری بہت اچھی چیز ہے مگر یہاں جو امر قابلِ غور ہے وہ یہ کہ تقدس اتنا بلند کردیا گیا کہ والدین سےسوال کرنا فرمانبرداری کے منافی قرار پایا۔ والدہ سے تو پھربھی دبے لفظوں میں کوئی فرمائش یا سوال کرنا روا تھا مگر والد ایسی ہستی تھے جن کے گھر میں قدم رکھتے ہی کایا پلٹ ہوجاتی تھی۔ مسکراہٹیں، قہقہے اور فی البدیہہ سرزد ہونے تمام حرکات معطل کردی جاتیں۔ کسی کو کچھ پوچھنا کہنا روا نہ تھا۔ ایلی شدید خواہش کے باوجود تمام عمر باپ سے سوال کرنے کی جراٴت نہ کرسکا۔

۔ ۔ ۔ یہ سب ادب کے لوازمات تھے۔

حالانکہ ادب اور استفسار کے دائرے الگ الگ ہیں۔ سوال، وضاحت، نصیحت، تشریح، ۔ ۔ ۔ یہ سب باتیں ادب کو متاٴثر نہیں کرتی، لیکن شیر کی آنکھ کا معاملہ تھا۔ بہت سے لوگ جنگل کے بادشاہ کے اس قانون کو آج سنہرے دور سے تعبیر کرتے ہیں۔ لیکن اس قانون کے اثرات پہ نظر نہیں کرتے۔

اس بات پہ کوئی اختلاف نہیں کہ ؂ ادب پہلا قرینہ ہے۔ ۔ ۔ ۔

مگر یہ بھی دیکھئے کہ ادب ”محبت” کے قرینوں میں پہلا قرینہ ہے ۔ ۔ ۔ نہ کہ خوف اور ڈر کے ساتھ ادب کو جوڑا جائے۔

ایسی موٴدبانہ روک ٹوک ہر تعلق کو پھیکا بنا دیتی ہے۔ اس کےساتھ ساتھ نفسیاتی گِرہیں پڑنے کا سبب بھی بنتی ہے۔ لہٰذا یہ بہت ضروری ہے کہ ادب اور بے تکلفی میں فرق کو سمجھا جائے اور سمجھایا بھی جائے۔

دبے اور سہمے ہوئے ماحول میں پلے بڑھے افراد کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ وہ غلط بات کے سامنے مزاحمت کرنے کی کوشش نہیں کرتے، نہ ہی ایسی خواہش رکھتے ہیں۔ ایک عرصے تک دبے سہمے ماحول میں رہنے کے بعد ایسے افراد میں شعورمندمل ہوجاتا ہےاور اگر اس طرح کا کوئی روئیہ ظاہر کریں بھی تو وہ اپنے دبےہوئے ماحول کے ردعمل کے طور پر ہوتا ہے۔ آج ہمارا معاشرہ ہر سطح پہ ایسی ہی دو انتہائی سوچوں کی وجہ سے الجھاوٴ کا شکار ہے۔ بہت سے لوگوں کے بہت سے نظریات کی نہ سمت ہے اور نہ منطق۔

نارمل روئیے پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ افراد کی تربیت میں کسی بھی طرح کی انتہا سے کام نہ لیا جائے۔ اس قدر بےتکلفی نہ ہو کہ کسی حد کا پاس ہی نہ رہے اور نہ ہی اس قدر سختی ہو کہ پابندی میں رہتے ہوئے صحیح اور غلط کا شعور ختم ہوجائے۔

Advertisements

Moment of charm. . .can go more

Moment of charm. . .can go more

happy_face_wall_clock

Not a strange thing for any one of us to move in any moment of past in no time. That one connecting moment takes you to the most of your beautiful feelings. Its recalling your beloved ones, such as, mother, father, brother, sister, friends, toys, car, pet, …….and so on. All such memories mostly come with tears and wet eyes. Thats very natural. Intesity of feeling is what makes you cry and wipe out your eyes

Its a common tradition of love and affection to shadow it with gloomy shades. To listen a sad song in nostagia, to have tearful eyes whenever remembering the persons who were source of love and courage, sighing and smiling on silly things with friends, recalling childhood, school and college days. . . . . . This all seems so ćharming

This charm is endless. Although very first feeling about memories is, a feeling of some thing has happened a long time ago, and slipped out of your hand. Gone. Spend. But this is not all the charm and beauty of our sweet moments. Sweetness of every beauty in life decends in our being. It diffuses in our whole existence. Its not gone, rather present somewhere inside us

You may still love that chips, you once shared with school friends, when the whole world revolved around chips and bottle and cone. I may tap my fingers while listening the music, exactly as my baba used to. Your dinning likes and dislikes may turn out to be same as your mother’s. you still wish to scream and jump after listening to an exciting news. I may be very choosy and picky about my shoes, as my sister or brother

So the charm is there. Dont we have the ability to connect it further? Yes, let it pass through. Be the one,…..who you are missing,…..for those who are around you

Retain the charm of your sweet moments and . . . .be a source of it, once again

Its just like adjusting the bass settings of an audio player, lessen the saddening effect and increase the encouraging and uplifting impact

Add-on sweetness, share it, spread it, be a source, to be remembered some day. . . .after finishing your pile of moments. Expand the charm out of gloomy shade and let it have the joyful shine. Grasp all that beauty that you miss and be its source

ٹرافی

ٹرافی
قریب کی نظر کا چشمہ لگائے ہوئے مطالعہ کرتے کرتے جب آنکھیں تھک جاتیں تو خالد کو آنکھیں موندنا پڑتی، دو لمحے کو آنکھوں کو سکون مل جاتا تو دوبارە مطالعہ شروع ہوجاتا ۔ کہانی بہت دلچسپ موڑ پر آپہنچی تھی۔ کہانی کا ہیرو ایک کھلاڑی تھا اور ٹرافی جیتنے کے لئے اَن تھک محنت کررہا تھا۔ خالد نے کتاب اوندھی رکھ دی۔ کہانی کے ہیرو نےخالد کے دل میں ایک معصوم سی خواہش جگا دی تھی ۔ اور اُس کواب یہ خواہش پوری کرنی تھی۔
نپے تُلے قدموں سے خالد اپنے کمرے سے باہر آیا۔ خواہش تھی تو ایسی کہ وە اُڑ کر پوری کرتا لیکن پچاس کا ہندسہ عبور کرچکا تھا چنانچہ احتیاط سے چلتے ہوئے لاوٴنج میں پہنچا۔ ٹی وی جس جگہ رکھا تھا ،اس کے اوپر والے شو کیس پہ نظرپڑتے ہی خالد کے چہرے پہ بہت خوبصورت اور گہری مسکراہٹ بکھر گئی۔ شو کیس میں خالد کی جیتی ہوئی ٹرافیوں کی ایک لائن لگی ہوئی تھی۔ ہر ٹرافی کے ساتھ ایک شاندار یاد وابستہ تھی۔ وە عزم، ولولہ، جوش، ساتھیوں کی ہلاشیری، اور جیت کا نشہ۔ ۔ ۔ واە ، اِن میں سے ہر ٹرافی کو جی جان کی بازی لگا کے اُس نے جیتا تھا۔ ماضی کی بہت سی خوبصورت یادیں خالد کے چہرے پہ مسکراہٹ بن کے جگمگانے لگیں۔
اچانک ٹرافیوں کی ماند پڑتی چمک نے اس کو متفکر کردیا، کبھی وە ان ٹرافیوں کو بڑے اہتمام سے پالش کیا کرتا تھا، دن میں کئی بار ان پہ نظر ٹِکا کرتی تھی، جب بھی وە ٹرافیوں کو دیکھتا اُس میں جیت کی سرشاری اور نشہ دوچند ہو جاتا، ۔ ۔ ۔ ہاں بھئی ۔ ۔ ۔ جیت کا اپنا ہی نشہ ہوتا ہے، اپنے ہم عمر اور ہم جماعتوں میں اُسےتفاخر کی نظر سے دیکھا جاتا تھا، رفتہ رفتہ وقت کی ریت پھسلتی رہی، اور زندگی نصف النہار پہ پہنچ گئی۔ ذمہ داریاں بدل گئیں اور وە بھی بہت سے دوسروں کی طرح خود کو وقت کی زد سے نہ بچا سکا۔ اُس کی جیت کی علامت، یہ ٹرافیاں اسی الماری میں پڑی وقت کی گرد کا نشانہ بنتی رہیں۔ لیکن کسی وفادار پتی ورتا کی طرح ان ٹرافیوں نے اس سے عمر بھر نبھانے کی ٹھانی ہوئی تھی۔ چنانچہ مدتوں اس کے نظر انداز کرنے کے باوجود یہ ٹرافیاں آج بھی اُسی کی تھی۔ بس اتنا فرق پڑا تھا کہ ان کی چمک ماند پڑ گئی تھی۔ اب ان کی لش لش کرتی دمک نہیں رہی تھی جو نگاہ کو خیرە کردیتی تھی۔ شاید ان کو اپنے ٹرافی ہونے کااحساس بھی نہ رہا تھا کہ خالد نے کس لگن سے ان کو حاصل کیا تھا۔ پہلے پہل تو وە ان ٹرافیوں کو یوں دھیرے سے تھاما کرتا، اُٹھاتا، رکھتا گویا یہ جاندار ہی ہوں ۔ اس کے گھر والے، دوست احباب، دیکھنے والے اُس کے جنون اور جذب کو دیکھتے رە جاتے۔
اچانک خالد کو لگا کہ عمر کے اِس موڑ پہ وە اپنے سے منسوب ان ٹرافیوں سے کچھ خجل ہے، جیت کے سفرمیں یہ اس کی ساتھی رہیں لیکن وە اِن سے غفلت برتتا رہا  اور اُس کی بے اعتنائی سے چوٹ کھا کے یہ ٹرافیاں اپنی آب کھو بیٹھی۔ جیسے کوئی داسی اپنا من مار کے دیوتا کے نام ہوجاتی ہے اور اپنے آپ کی نفی کر دیتی ہے۔ یا کوئی مجاور جو صبح شام، اپنے حلیۓ سے بےخبر عشق کی دھمال ڈالنے میں مست رہتا ہو۔
لیکن اب اُسے اِن ٹرافیوں کا احساس کیوں ہوا؟ پہلے کیوں کبھی اس احساس نے سر نہ اُٹھایا؟ اتنی مدت تک وە بےخبری میں کیوں رہا؟  ۔ ۔ ۔ ۔ شاید کسی کی قدر کا احساس تبھی ہوتا ہے جب انسان اُسے حاصل کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے۔ بیشتر کھلاڑی اپنے عروج کا زمانہ گزارنے کے بعد اپنی  صلاحیتوں کااصل ادراک کرتے ہیں ۔ پیسہ خرچ ہوجائے تو پھر کئی بہتر مصارف یاد آتے ہیں۔ دوست بچھڑ جائیں تو اُن کی خوبیاں ستاتی ہیں۔ صحت نہ رہے تو قدر آتی ہے۔ اسی لئے آج خالد کو اپنی ٹرافیوں کا خیال آیا تھا۔ جیت کے نشے میں یہ خیال کب رہتا ہے کہ کون کیسا ہے اور جسے جیتا ہو اُس کا مصرف جیت کے بعد ختم ہوجاتا ہے۔ کسی خوبصورت الماری یا شوکیس میں سجانے سے زیادە کیا ہوسکتا ہے۔ اورپھر آہستہ آہستہ وە ہماری توجہ کا مرکز نہیں رہتا۔ ہماری توجہ کی کمی سے ہماری ٹرافی اور شیلڈ پہ دھول مٹی پڑنے لگتی ہے۔ زمانے کی گردش کے ساتھ ساتھ یہ مٹی ٹرافی کی چمک ختم کر دیتی ہے۔ اور پھر کسی پالش کے ساتھ بھی وە آب وتاب واپس نہیں آسکتی۔ اب خالد کی ٹرافیاں پہلے کی طرح کبھی نہیں چمک سکتی تھیں۔ اور اب ہی تو وە وقت آیا تھا کہ اسے اِن ٹرافیوں سے محبت ہوئی تھی۔ ہاں ، منیر نیازی کےالفاظ یاد آئے،
محبت اب نہیں ہوگی
یہ کچھ دن بعد میں ہوگی
گزر جائینگے جب یہ دن
یہ ان کی یاد میں ہوگی
واقعی ، سچ کہہ گیا شاعر۔ ۔ ۔ ایک پچاس سالہ شخص  ملال لئے اپنےگھر کے لاوٴنج میں کھڑا ہے، آج بیتے دنوں کی یاد نے اُسے بےبسی کا شدت سے احساس دلایا ہے۔ خالد کے گھر میں دنیا کی تقریباً ہر نعمت موجود تھی لیکن پھر بھی خالی پن کا احساس اس کے دل میں بھرا پڑا تھا۔ کس چیز کی کمی تھی۔ اسی احساس کے ساتھ خالد نے ٹرافی کو واپس الماری میں رکھا اور اپنے کمرے کی طرف چل پڑا۔ شاید کسی کتاب میں فرار کی راە ملے۔ کمرے میں آیا تو چند لمحے بعد ہی اُس کی بیوی چائے لے آئی۔ چائے کا وقت ہوگیا تھا۔ خالد نے مدت بعد اپنی بیوی کو غور سے دیکھا ۔ وە ابھی بھی حسین تھی ۔ حسین تو وە سدا سےتھی  اور اب گزرتے سالوں نے رفاقت کی مدھرتا گھول دی تھی اس کے سراپے میں۔ لیکن خالد نے اسے ٹرافی۔وائف ہی سمجھا تھا۔ بڑے مان سے اپنانے کے بعد کبھی اُس کی ماند پڑتی چمک پہ غور نہیں کیاتھا۔ آج اُس کا جی چاہتا تھا کہ اس کی بیوی ایک بار کھکھلا کے اُس کی طرف دیکھے۔ خالد کو دیکھ کے چہک اٹھے ۔ اس کے اطراف میں وە کھنکتی ہوئی ہنسی ہو جس پہ وە مرتا تھا۔ اب اس کی بیوی اس کےسامنے موٴدب ہوجایا کرتی تھی۔ شاید سہم جاتی تھی۔ کیا ٹرافیوں کی طرح وە کبھی پہلے جیسی نہیں ہوسکتی ؟
  ستارے جو دمکتے ہیں
کسی کی چشم حیران میں
ملاقاتیں جو ہوتی ہیں
جمال ابر و باراں میں
یہ نا آباد وقتوں میں
دل ناشاد میں ہوگی
محبت اب نہیں ہوگی
یہ کچھ دن بعد میں ہوگی
گزر جائینگے جب یہ دن
یہ ان کی یاد میں ہوگی