دلِ پریشاں

دل پریشاں ہوا جاتا ہے

اور ساماں ہوا جاتا ہے

داغؔ خاموش ، نہ لگ جائے نظر

شعر دیوان ہوا جاتا ہے

داغ ؔ دہلوی کی پریشانی کا سبب اگرچہ کچھ اور تھا پر وہ بھی، اکثر لوگوں کی طرح، دیگر وجوہ کی بِنا پر ،تمام عمر دل کے ہاتھوں ہی پریشان رہے۔ دلِ ناداں سے تعارف اور زندہ دلی اور طمانینت کے حوالے سے یہ جاننے کے بعد ، کہ ذکرِ الٰہی سے دل کو سکون ملتا ہے اور یہ سکون ایک الگ نوعیت کا ہے جس میں دل ایک نکتے پر ، یقین کی حالت میں ٹھہر جاتا ہے ، اب بات آتی ہے اُس سوال کی کہ . . . اللہ کے نیک بندوں پہ بھی تکالیف آتی ہیں تو وہ کیسے خوف، ملال اور حزن سے محفوظ ہوئے ؟ بلکہ ایک عام مشاہدہ ہے کہ کٹھن گھڑیاں زیادہ تر اللہ کے پیاروں پر ہی آتی ہیں۔ اولوا العزم رسولوں پہ سب سے زیادہ آزمائشیں آئیں۔

اس کا جواب یہ ہے کہ خوف و حزن ، دل کی ایک کیفیت کا نام ہے ۔ جو لوگ اللہ کی یاد میں جیتے ہیں ، اُن کے اردگرد وقتی طور پر پریشان کن حالات پیدا ہوسکتے ہیں، مگر اُن کے دل پر اطمئنان کی وہ کیفیت طاری رہتی ہے جس سے انسان ہمیشہ پُرسکون رہتا ہے۔

جیسا کہ ہجرتِ مدینہ کے موقعے پر، غارِ ثور میں رسولُ اللہ ﷺ نے اپنے رفیقِ غار ، ابوبکرِ صدیق رضی اللہ عنہ سے فرمایا :” اُن دو کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے جن کا تیسرا رفیق خود اللہ ہے؟ (بخاری3453)

دل کا یہ اطمئنان یقین سے پیدا ہوتاہے ۔ اور انسانی دل کے ٹھہراؤ کے لئے یقین سے بہتر کوئی چیز نہیں۔ بے یقینی بہت ذہنی تکلیف کا سبب بنتی ہے۔ اسی ذہنی یکسوئی کو آج کی دنیا میڈیٹیشن ، فوکسنگ، یوگا، مراقبہ وغیرہ کے مختلف ناموں سے جانتی ہے اور اس یکسوئی تک پہنچنے کے لئے نِت نئے ذہنی حربے اور مشقیں عمل میں لائی جاتی ہیں۔ کئی جدید تجربہ گاہیں اس پہ کام کر رہی ہیں کہ ذہن اور اعصاب کو پرسکون رکھنے کے لئے دل کی کیا کیفیت ہونی چاہیئے۔

مرا دل مری رزم گاہِ حیات

گمانوں کے لشکر ، یقیں کا ثبات

یہی کچھ ہے ساقی، متاعِ فقیر

اسی سے فقیری میں ہوں میں امیر

اقبال

ایک بندہء مومن پر جب زندگی کی مشکلات آتی ہیں تو اُس کا ایمان اُسے بتاتا ہے کہ اللہ چاہے تو بآسانی اُسے اِن مشکلات سے نکال سکتا ہے۔ چنانچہ وہ اپنے رب ہی کو پکارتا ہے اور اُسی سے مدد چاہتا ہے، جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ اُس کی مشکل دور کردیتے ہیں۔ تاہم اُسے یہ بھی یقین ہوتا ہے کہ کہ یہ مشکلات اگر دور نہیں ہورہیں تب بھی، اللہ کے ہاں اُس کے درجات بلند کرنے کا سبب بن رہی ہیں اور آخرت میں اُسے نجات دلائیں گی ۔ چنانچہ مشکلات اور تکالیف بھی اُسے یہ اطمئنان فراہم کرتی ہیں کہ اس کی تکلیف کا ہر ایک لمحہ جنت میں اس کی راحتوں میں اضافے کا سبب بنے گا ۔ جو شخص اطمئنان کی اس کیفیت میں جیتا ہو اُس کے لئے ہر حالت اور ہر کیفیت ہی سکون ہے۔

سلفِ صالحین میں سے کسی نے اِس طمانینت کی صفت بیان کرتے ہوئے کہا: بے چارے دنیا والے، دنیا سے آکر چلے بھی گئے اور دُنیا کی سب سے طیّب، سب سے لذیذ چیز کو چکھا تک نہیں۔ اِن سے پوچھا گیا کہ دُنیا کے اندر سب سے طیّب چیز کیا ہے؟

جواب دیا : دل میں اللہ کی محبت اور اُنسیت رکھنا اور اُس سے ملاقات کے لئے مشتاق رہنا۔

heart-hugs

سورۃ المطففین کی آیت 22 کی تفسیر میں، امام ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

إ

ِانَّ الْأَبْرَارَ لَفِي نَعِيمٍ

اللہ تعالیٰ کے قول ” نعیم” کو صرف آخرت کے لئے گمان نہ کریں، بلکہ اِس میں ساری نعمتیں، یہاں تک کہ دُنیاوی نعمتیں بھی شامل ہیں۔ جیسا کہ “ابرار’ یعنی اللہ کے نیک اور متقی بندے اپنے دلوں کے اندر قلبی سکون اور لذت و سعادت محسوس کرتے ہیں۔ اسی لئے فرمایا ” لَفِي نَعِيمٍ” کہ یقیناََ نعمتیں اور اس میں دنیا اور آخرت ، دونوں کی نعمتیں شامل ہیں۔ الجواب الكافي لمن سأل عن الدواء الشافي ص85
گویا کہ دل کے معاملے میں بہت گہرائی ہے اور دل کی واردات، دل کا تعلق، یقین اور ایمان کا بڑھنا یا گھٹنا، طمائنینت پانا، . . . یہ سب معاملات بہت باریک بینی سے نبھانے کے ہیں۔ زندگی کی بھاگ دوڑ میں اکثر دلِ پریشاں تنہا رہ جاتا ہے اور یوں مزید پریشان ہوتا ہے۔انسان کی تمام ہستی کے سلجھاؤ کی گُتھی دراصل دل کے سکون میں ہے۔ مال ، معاش، اولاد، احباب اور کچھ بھی انسان کے سکون کا ضامن نہیں . . . جب تک کہ . . . دل راضی باش نہ ہو، قلق سے آزاد اور ایک رب کی ہستی سے جُڑا ہوا نہ ہو۔ سوز و گداز کے ذائقے سے آشنا نہ ہو اور پھر اس سوز سے لطف حاصل نہ کرتا ہو۔

کوئی دل سوز ہو تو کیجیئے بیاں

سرسری دل کی واردات نہیں

حالی

دلِ پریشاں3- رمضان 2014

images

زندہ دلی اور طمانینت

زندگی ، زندہ دلی کا نام ہے

مردہ دل کیا خاک جیا کرتے ہیں

یعنی زندگی ، وہی ہے جو زندہ دلی سے عبارت ہو، دل نہ رہے تو انسان کے لئے دنیا کی ہر نعمت کا مزہ ختم ہوجاتا ہے۔ وہ جو ناصر نے کہا تھا کہ اپنا دل اداس ہو تو لگتا ہے کہ شہر سائیں سائیں کررہا ہے۔ اور پھر بقولِ اقبال :

دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یا رب

کیا لطف انجمن کا ، جب دل ہی بجھ گیا ہو . .

اسی لئے بہت ضروری ہے کہ دل پر خاص توجہ دی جائے کہ دل بجھ نہ جائے ، اس کی رضامندی کا خیال رکھا جائے، دل کی آراستگی اور مضبوطی کا سامان کیا جائے اور ایسے اقدامات کئے جائیں جن سے دل کو طاقت ملِے۔دل کی تقویت اور ٹھہراؤ انسان کو زندگی کی کشاکش میں مدد دیتی ہے۔ جب انسان کا دل مطمئن ہو تو اُس کو ہر مشکل چھوٹی لگتی ہے اور وہ بڑے سے بڑی رکاوٹ کو عبور کرجاتا ہے۔

clipart_heart_2[1]

زندہ دل آدمی اپنے اندر طمانینت، سعادت اور راحت محسوس کرتا ہے۔ زندہ دلی انسان کو بھلائی اور طاعتوں کی طرف راغب کرتی ہے۔ اور کئی طرح کی نفسیاتی آسانیاں پیدا کرتی ہے۔ کلفت اور مشقت محسوس کئے بغیر، اعمالِ خیر کا کا سر انجام دینا آسان بنا دیتی ہے ۔ مثبت سوچ جنم لیتی ہے۔

زندہ دلی یا دل کی زندگی ، اِس چیز میں ہے کہ دل اپنے خالق کا تابع ہو، نیکی کی طرف راغب ہو اور اپنے رب کے ذکر سے توانائی حاصل کرتا ہو. . .

اللہ عزوّجل فرماتا ہے، سورۃ الرعد میں :

الذین آمنوا و تطمئنُ قلوبھم بذکراللہ ، الاٰ بذکرِ اللہِ تطمئنُ القلوب ٭

ترجمہ: جو لوگ ایمان لائے، اُن کے دل اللہ کے ذکر سے اطمئنان حاصل کرتے ہیں، یاد رکھو، اللہ کے ذکر سے ہی دِلوں کو اطمئنان ہوتا ہے۔

” مگر ہمارے ہاں لوگ عام طور پر یہ شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ اللہ کا ذکر کرکے بھی دل بےچین اور مضطرب رہتا ہے۔ وہ صبح شام تسبیحات پڑھتے ہیں مگر پھر بھی زندگی حزن و ملال اور بےچینی و انتشار میں گزرتی ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ اس آیت میں اطمئنان سے مراد سکون کی وہ کیفیت نہیں ہے جو کسی نشے کو اختیار کرنے کے بعد انسان پر طاری ہوجاتی ہے۔اور جس کے بعد انسان دنیا و ما فیہا کے ہر غم سے بے نیاز ہوجاتا ہے ۔ بلکہ یہاں اطمئنان سے مراد وہ ذہنی کیفیت ہے جس میں انسان کا دل ایک نکتے پر یقین کی حالت میں سکون حاصل کرتا ہے۔وہ سکون جو یقین سے پیدا ہوتا ہے ۔ اس میں انسان کو یہ یقین ہوتا ہے کہ جس ہستی پر وہ ایمان لایا ہے ، جس کو اُس نے اپنا رب اور معبود مانا ہے، وہی درحقیقت خالق اور مالک ہے۔ اُس رب کے ہاتھ میں کُل کائنات کی بادشاہی ہے ، اور جس نے اپنا ہاتھ اُس کے ہاتھ میں دے دیا ، اللہ تعالیٰ اُسے کبھی رُسوا اور محروم نہیں کرے گا۔

تاہم یہ یقین اللہ کے جس ذکر سے پیدا ہوتا ہے وہ محض تسبیح پر انگلیاں پھیرنے کا عمل نہیں بلکہ اس کی یاد میں جینے کا نام ہے۔ یہ محض کچھ اذکار کو زبان سے ادا کرنے کا عمل نہیں، بلکہ اس کے ذکر سے منہ میں شیرینی گھُل جانے کا نام ہے۔ یہ صرف اُس کے نام کی مالا جپنے کا نام نہیں ، بلکہ ہمہ وقت اللہ تعالیٰ کو اپنے ساتھ سمجھنے کی کیفیت کا نام ہے۔ یہ ‘اللہ ہو’ کا وِرد کرنے کا عمل نہیں، بلکہ رب کی محبت میں ڈر کر زندگی گزارنے کا نام ہے۔

قرآن نے اس بات کو واضح کیا ہے کہ اطمئنانِ قلب کی وہ کیفیت جس میں انسان کو نہ کوئی خوف ہوتا ہے اور نہ کوئی اندیشہ، اللہ کے دوستوں کو عطا کی جاتی ہے۔ فرمایا :

سُن لو کہ اللہ کے دوستوں کے لئے نہ کوئی خوف ہے اور نہ کوئی اندیشہ،

یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور اللہ سے ڈرتے رہے۔

ِن کے لئے خوشخبری ہے، دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی

اللہ کی باتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی، یہی بڑی کامیابی ہے۔

سورۃ یونس – آیت62،63، 64

قرآن یہ بھی بتاتا ہے کہ اللہ کے یہ دوست کون ہوتے ہیں؟ یہ کوئی پہنچے ہوئے، ولی یا بزرگ قسم کے لوگ نہیں ہوتےبلکہ وہ سچے اہلِ ایمان ہیں جو اپنے ایمان کا ثبوت دیتے ہیں، تقویٰ سے۔ یعنی رب کی یاد ان کا یوں احاطہ کرلیتی ہے کہ زندگی کے ہر کمزور لمحے میں وہ یہ سوچ کر گناہ سے بچتے ہیں کہ اللہ میرے ساتھ ہے اور مجھے دیکھ رہا ہے۔ بس اللہ کا دوست اور ولی ہونے کی یہی نشانی ہے۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ کے نیک بندوں پر بھی تکالیف آتی ہیں تو وہ کس طرح خوف، ملال اور حزن سے محفوظ ہوئے ؟ ( انشاءاللہ آئندہ)

زندہ دلی اور طمانینت ۔ ، رمضان2014۲

دلِ ناداں

دلِ ناداں

wpid-ytkmjmxte.jpeg

دلِ ناداں، تجھے ہوا کیا ہے ؟

آخر اِس درد کی دوا کیا ہے ؟

غالب نے اپنے دل کو بڑے چاؤ سے نادان کہہ کر پکارا ہے۔ اِس نادان کہنے میں یہ اشارہ چھُپا ہے کہ دردِ دل کی دوا ہونا ایسا آسان نہیں اور دل کے علاج کی خواہش کرنا ، غالب کے دل کی معصومیت اور نادانی ہے۔ صرف غالب ہی کیا، سبھی انسانوں کی زندگی کے بہت سے جھمیلے دل کی معصومیت اور نادانی کے مرہونِ منت ہوتے ہیں۔

ایک اور جگہ غالب دل کے ہاتھوں تڑپ کر یوں کہتے ہیں :

عاشقی صبر طلب اور تمنا بے تاب

دل کا کیا رنگ کروں خونِ جگر ہونے تک

گویا کہ دل ہی ہے کہ بےتاب رہتا ہے۔ دلِ ناتواں کو دنیا میں کئی کاروبار درپیش ہیں . . . دل کا آنا، دل آزمانا، دل اُٹھ جانا، . . . دل پھسل جانا، دل اُچھلنا ، دل بجھنا، . . . دل کا بندھنا، دل بہلنا، دل پتھر ہوجانا، دل پھٹنا ، دل پرچانا، دل ٹھہرنا ، دل جھُکنا، دل بستگی، دل پسندی، دل سوزی، دل فریبی، . . . دل لگی، دل کی لگی، دل رُبائی، دل کھِلنا، دل گرمانا، دل جلانا، دل پھڑکنا، دل دھڑکنا، دل میں سمانا، . . . .اور بھی بہت کچھ . . .

تو بات غالب کی بھی ٹھیک ہوئی . . . کہ ایک دلِ ناداں اور ہزار آزار . .

wpid-happy_heart.png

دل کی اس گونا گُوں مصروفیت کا ایک سبب ہے . . اور وہ یہ کہ انسان کے وجود میں دل کو مرکزی مقام حاصل ہے ۔ اس مرکزیت کی وجہ یہی نہیں کہ دل کو ٹوٹنے ، جُڑنے اور مچلنے سے کام ہے بلکہ دل کے نازک کندھوں پر اور بھی بہت سی ذمہ داریاں ہیں۔ دل کی بنیادی ذمہ داری ، جو ڈاکٹر لوگوں کو ، آلات لگا کر معلوم ہوئی ، وہ یہ کہ اِس عضویاتی دل کو تمام عمر دھڑک دھڑک کر ، تمام جسم کو خون کی سپلائی کا کام کرنا ہے۔ دل دھڑکنے کا ایک سبب، ناصر کاظمی نے بھی پیش کیا :

دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا

وہ تیری یاد تھی، اب یاد آیا

سو، نادانیوں کے باوجود اور دھڑکنے کے علاوہ، انسان کی عقل و شعور کا محور یہی دل ہے جہاں سے انسان کے تمام اعمال و افعال اور نظریات کنٹرول ہوتے ہیں۔ دل کی اہمیت سے کسی طور انکار ممکن نہیں۔

امام ابن القیّم ؒ فرماتے ہیں کہ انسان کے جسم میں سب سے اشرف اور اعلیٰ اس کا دل ہے جس سے وہ اللہ کی معرفت حاصل کرتا ہے ، اُس کی جانب اقدام کی کوششیں کرتا ہے، اُس کی محبت کے قابل بنتا ہے۔ یہی دل ایمان و عرفان کا محل ہے۔پیغمبروں کی بعثت اِسی کی طرف ہوئی۔ خدائی پیغام کا مخاطب بھی یہی دل ہے۔ اللہ کی ذات ہی انسان کو دل کا تحفہ دینے والی ہے اور تحفے کی شان ، اِس تحفے کو عطا کرنے والے کی شان جیسی ہے۔

انسانی جسم میں دل بادشاہ کے مقام پر ہے ، تمام اعضاء اور جوارح اِس کے تابع ہیں، دل انھیں استعمال کرتا ہے جیسے بادشاہ اپنے غلاموں کا اور راعی اپنی رعیت کا استعمال کرتا ہے۔

دل کی مرکزیت پہ پیغمبر آخر الزمان ﷺ کے بہت سے اقوال ثابت ہیں۔ رسول اللہﷺ فرماتے ہیں:آگاہ رہو، جسم کے اندر ایک ایسا عضو ہے۔ جب وہ صحیح رہا تو پورا جسم صحیح رہا اور جب وہ بگڑگیا تو پورا جسم بگڑ گیا، آگاہ رہو، وہ قلب ہے۔

چنانچہ دل کی اہمیت اور اصلاح خصوصی توجہ کی متقاضی ہے۔ اور اس کا کام محض دھڑکنے اور مچلنے تک ہی محدود نہیں ہے۔

دل؛ تعارف-1 حصہ

A Saturated Heart

image

“Gaining”, as a word, on consulting a dictionary, stands for, . . . .
To come into possession or use of something,
To acquire,
To attain,
To have as profit or reward, 
To gather, collect and increase. . .
    A great number of meanings, infact ! All of which show increase in possession,  that is a good sign.

As a common use, gaining power means to reach a specific position or seat, gaining profit indicates some good deal, bonus or unexpected fortune, and so on. . .many more meanings. Except gaining weight n pounds, all others synonyms for gaining are used in good sense.

image

image

One thing to notice: in any type of gaining,  are we keeping the profit to ourselves ? Or just handing it over to someone else?

Spending, passing or sharing is not rare, people do share and spend lavishly,  but what is missing, is to retain the fruits of our gains inside ourselves. Very little that we enjoy what we gained.

For example, after gaining money, we come across expenditures at once, without actually realising the blessing of that gain, without a mind to enjoy or to be thankful to be in a position to spend. And by here, ignoring all the positive impacts that this gain should place in our inner selves. Materially,  there may be seen goodies, but no contentment inside the heart.

image

Gaining knowledge , either to earn a good life, or to deliver it further to students, or just to proof one’s intellectual value, is not just enough, for this gain. Very rare to find a situation, in which knowledge,  of any kind, is gained to soothe and enlighten one’s inner self and soul. It is ok with commercial aspects of knowledge, but hopeless to find, that this knowledge, havent given a chance , to make some light and kindle the heart and mind of the bearer.

Retaining the impact of every gain in life, to be more positive, can bring out harmony and calm in life, to a considerable extent. Many of our gains, dont put any positive effect on our heart and psychological health. This leads to a kind of educated people with illiterate behaviours, wealthy persons with poorly sick attitudes, ill manners in well dressed bodies, weak and abnormal thoughts coming out of good looks, stuffed pockets and empty hearts, filled stomachs and hungry eyes.

The behaviour of not realising and containing a gain, makes us never feel content and saturated. A saturated heart is the actual fruit of life, a heart in peace, with zero negative feelings. 

image

روزہ . . . بھوک پیاس کیوں ؟

روزہ . . . بھوک پیاس کیوں ؟

ramadan-2012-calendar-dates-and-sehri-iftar-timetable1

روزے کی غرض و غایت تقویٰ ہے ۔ یہ فرضیت اور ماہِ مبارک کی آمد اور اہتمام ، اِس سب کے پیچھے جو مقصد کارفرما ہے ، وہ تقویٰ کا حصول ہے۔ اور دلیل اِس بات کی ، قرآن کی یہ آیت ہے :

يا ايا الذين آمنوا كُتب َ عليكم الصّيام كما كُتب علىٰ الذّين مِن قبلكُم لعلّكم تتّقون۔ البقرہ- 183

ترجمہ: اے ایمان والو تم پر روزہ فرض کیا گیا ہے جیسا کہ ان لوگوں پر فرض کیا گیا تھا جو تم سے پہلے تھے، تاکہ تم تقوی اختیار کرو-

ایسے روزے کے لئے ، جو دِل میں تقویٰ پیدا کرے ، انسان کو کچھ تقاضے پورے کرنے ہوں گے۔

پہلی اساسی بات یہ ہے کہ ، ایسا روزہ کبھی تقویٰ پیدا نہیں کرسکتا ، جس میں کسی بھی وجہ سے انسان کی کوئی نماز ضائع ہوجائے۔

رواج بن گیا ہے کہ رمضان کے خصوصی اہتمام کے سلسلے میں، سحر اور افطار میں اکثر کھانے کی مقدار ہی نہیں بڑھتی . . . بلکہ معیار اور تنوّع میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔ اِسی سے متعلقہ . . . .

دوسری نکتے کی بات یہ ہے کہ . . . .سحر اور افطار میں اعتدال سے زیادہ کھانے پینے کے ساتھ . . تقویٰ پیدا کرنے والا روزہ حاصل نہیں ہوسکتا ۔

روزے میں مخصوص اوقات میں ، کھانے پینے سے موقوف ہو کر، بھوک کی حالت میں . . . تمام جسم میں اُس بھوک کے لطیف اثرات کو محسوس کرنا اَزحد ضروری ہے۔ کیونکہ جب پیٹ بھوکا ہو تو باقی تمام اعضاء کو سَیری حاصل رہتی ہے۔ اور پیٹ جب بھر جائے تو دیگر اعضائے جسم کی بھوک جاگ اُٹھتی ہے اور وہ اپنی اپنی طلب پوری ہونے کا تقاضا کرنے لگتے ہیں ۔ اِسی لئے عام مشاہدہ ہے کہ رمضان میں شیاطین بند ہونے کے باوجود کئی منکرات اور برائیاں بڑھ جاتی ہیں۔

ایسا اِس لئے ہوتا ہے کہ کثرتِ طعام، ذہنی غفلت، کاہلی اور نیند کی زیادتی سے انسانی نفس کی خواہشات بھڑکتی ہیں اور . . .یہ خواہشاتِ نفسی انسان کے دِل پر مضر اثر ڈالتی ہیں۔

انسانی نفس میں بھوک کی جبلّت بہت اہمیت رکھتی ہے اور بھوک کے اثرات کو، عرصہء دراز سے، کئی طرح استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن روزے میں ، نفس پر بھوک اور پیاس سے پیدا ہونے والے ، اثر کو مختلف طرح ضائع کرلیا جاتا ہے۔ جیسے . . روزے کے دوران تکبر کے گمان اور زعم میں رہنا اور بار بار جتانا کہ بہت ہی پیاس لگی . . .بھوک نے کام کردیا . . روزہ لگا . . وغیرہ، روزے نہ رکھنے والوں کو حقارت سے دیکھنا ، بھوکا پیاسا ہونے کی وجہ سے اضطراب اور جھنجھلاہٹ کا شکار ہونا ، غصہ ہونا، زبردستی بہت زیادہ سو کر وقت گزاری کرنا . . . یا اپنے ہی بھوکا پیاسا ہونے پر خود ترسی میں مبتلا رہنا . . .

یہ سب باتیں نفسِ انسانی کو روزے میں پیدا ہونے والے اثر سے محروم کردیتی ہیں اور انسان کو روزے کی اِس کیفیت کا سرور، ٹھہراؤ اور آہنگی محسوس کرنے سے روک دیتی ہیں۔ انسان کی حسِیّات ایک دوسری جانب چل پڑتی ہیں اور اپنے نفس میں آنے والی اِس خوشگوار ، پاکیزہ چمک کو محسوس نہیں کرپاتی۔ روزے کی حالت میں انسانی دل اور جوارح میں ایک سکون قائم ہوتا ہے، جس سے سوچ کے نئے زاویے نظر آتے ہیں ، خضوع اور عبودیت کی لذت تک رسائی ہوتی ہے، باہر کی دنیا کی نسبت اندر کی دنیا کا دَرکھُلتا ہے۔

روزے کا وقت ختم ہوتا ہے تو انسان کا معدہ ناکو ناک کھانے سے بھر جاتا ہے ۔ معدے کے ساتھ ساتھ ذہن الگ کنفیوژن کا شکار ہوتا ہے کہ طعام کی اِس رنگا رنگی میں کیا کھایا جائے اور کیا چھوڑا جائے ۔ اِسی ذہنی اور جسمانی انتشار کے عالم میں انسان غیر صحت مند کھانا . . . غیر صحت مند انداز میں ٹھونس لیتا ہے۔

کھانے پینے کا کام جاری ہونے کے ساتھ ذہن اور جسم کی دیگر آوارگیوں کا وقت بھی آن پہنچتا ہے جس میں الیکٹرانک میڈیا، سگریٹ نوشی، بازاروں کے اخلاقی اور معاشی مفاسد وغیرہ شامل ہیں۔

13
12
Ramzan-Ramadan-Jokes-and-Humour-Eye-Specialist-checking-the-eyes-of-a-shopkeeper-during-Ramzan-Funny-Jokes-during-Ramzan

تو گویا تمام دن کی تپسیّا کے بعد ، روزے کو جو اثرات مرتّب کرنے تھے، وہ سب ختم ہوجاتے ہیں اور جن فوائد کو پیدا ہونا تھا ، اُن کا نام و نشان بھی نہیں ہوتا ۔ ایسے میں دِل کی سختی مزید بڑھ جاتی ہے، نفس مزید غافل ہوجاتا ہے ، دِل کو بینائی حاصل ہونے کی جگہ اندھیرا بڑھ جاتا ہے ۔

ایسے میں انسان اطاعت کے لئے رغبت اور شوق میں کمی محسوس کرتا ہے ۔ لذّتِ شوق اور عبودیت میں اضافہ نہیں ہوتا بلکہ یہ نعمتیں ہاتھ سے جانے لگتی ہیں ۔

روزے کے ساتھ تقویٰ کی نعمت ، اُس وقت نصیب ہوتی ہے جب کھانے پینے سے باز رہنے کے ساتھ ساتھ، اپنے نفس کو پابند اور محبوس کرکے ، غفلت کے اثر سے نکالا جائے اور خواہشات اور تقاضے کرنے سے روک کر اپنا تابع کیا جائے، نہ کہ خود نفس کی اتباع کی جائے۔

ماہِ مقدس کے اچھے آغاز کی شان یہ ہے کہ وہ اچھے نتائج پر اختتام پذیر ہو جن میں تربیتِ نفس لازمی ہے۔ یہ عزم ضروری ہے کہ روزے کے ساتھ تقویٰ کا حصول حتمی ہو کیونکہ اللہ رب العزت کے ہاں قبولیت کی ایک شرط تقویٰ ہے ۔ “اِنّما یتقبّلُ اللہُ منَ المتّقین”

ترجمہ و مفہوم از ڈاکٹر خالد بن عثمان السبت رحمہ اللہ

Phases-of-Ramadan-Symbol-Moon-Pictures-Images-Photos-2013

The Monk depicts Cresus – 30

خوبصورت اور بہادر جُوڈتھ کے ہاتھوں،اولفرنو کی دردناک موت کا ماجرا سنانے کے بعد ، جیفری چاوسر کے مونک نے ، پانچویں صدی قبل مسیح میں، لیڈیا کے بادشاہ، کری سَس کا آٹھواں عبرت ناک انجام پیش کیا۔ کری سس کی کہانی کو ، بوکاچیو نے بھی اپنی المیہ داستانوں کی کتاب میں شامل کیا ہے۔

-کری سَس:

کری سس،580ق م سے547ق م تک لِیڈیا کا حکمران تھا۔ لیڈیا ، قدیم زمانے میں ترکی کے اناطولیہ صوبے میں مَنیسا کے مقام پر واقع ایک ریاست تھی۔ کری سس کے زیرِ انتظام یہ ریاست قائم و دائم تھی۔

Lydia

Lydia


display-155

کری سس لیڈیا کا بے انتہا امیر بادشاہ تھا جس کی دولت، خزانہ اور خوشحالی ضرب المثل تھی۔کری سس ٹیکسوں اور محصول لگان وغیرہ کی وصولی کے معاملے میں کوئی رعایت نہیں برتتا تھا۔

Croesus by Claude Vignon_

Croesus by Claude Vignon_

لیڈیا کے لوگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ پہلی ٹکسال انہی لوگوں نے قائم کی ۔ سکّہ سازی کا ہنر یہیں شروع ہوا اور کری سس کے نام والے سونے کے سکّے ڈھالے گئے۔ آج بھی یہ سکّے مختلف نمائش گھروں میں محفوظ ہیں ۔ کری سس کے عہد کے سکّوں میں سونے اور دوسری دھات کا تناسب دیگر زمانوں میں دریافت کردہ سکوں سے الگ ہے جو اُسی کے سکّوں سے مخصوص ہے۔

images

Gold coin of Croesus, Lydian, around 550 BC, from modern Turkey.

Gold coin of Croesus, Lydian, around 550 BC, from modern Turkey.


lydia02

کئی روایات اور تاریخی شواہد کے مطابق کری سس ہی قارون تھا ۔ بہرحال مونک کے مطابق ، کری سس اور سولن کی ملاقات ہوئی۔ سولن، پرانے یونان میں ایتھنز کا ایک شاعر، دانشور، سیاستدان اور قانون دان تھا ۔ سولن نے قدیم ایتھنز کی سیاسی اور معاشی اصلاح میں نمایاں کردار ادا کیا۔

قبل مسیح کے مؤرخ ، ہیروڈوٹس کے مطابق، سولن اناطولیہ کا سفر کرتے ہوئے سارڈِس پہنچا جہاں کری سس نے بڑے تپاک سے ، اپنے شاندار محل میں اُس کا استقبال کیا۔ کری سس اپنے یہاں ایسی بڑی شخصیت کو پا کر بہت خوش تھا ۔ سولن نے اُسے اُمورِ سلطنت پر کئی مشورے دئیے اور دانائی کی باتیں بتائیں۔ کری سس نے ان مشوروں پر کان نہ دھرا اور خطا کھائی۔ بعد ازاں، جب چڑیاں چُگ گئیں کھیت، کری سس کو سولن کی نصیحت کی قدر معلوم ہوئی۔

Croesus showing Solon his riches

Croesus showing Solon his riches

سولن کے قیام کے دوران کری سس نے اُسے اپنا عالی شان محل، بیش قیمت نوادرات، خزانوں کے انبار، سکّے اور جواہرات اور خوبصورت باغات دکھائے۔اور پوچھا کہ کیا اِس قدر دولت کا مالک ہونے کے سبب میں دنیا کا سب سے خوش ترین انسان نہیں ہوں؟

سولن نے اُسے جواب دیا :

Count no man happy until he be dead.

Judge no man’s happiness before the moments of his death

یعنی موت کا لمحہ آنے سے پہلے حالات پلٹنے کا امکان باقی رہتا ہے۔ زندگی کا کوئی بھی لمحہ ایساہوسکتا ہے جب کایا پلٹ ہوجائے، شان و شوکت جاتی رہے، انسان جن باتوں پر ناز کرتا ہو وہ چھِن جائیں ، زوال آجائے اور خوشی زائل ہوجائے۔ لہٰذا غرور سے اجتناب کرکے ہمیشہ تواضع اور عاجزی سے رہنا چاہیئے۔

Croesus and Solon

Croesus and Solon

کری سس اور سولن کے مابین یہ مکالمہ کئی حوالوں میں ملتا ہے اور مصوروں نے اس منظر کو متعدد طرح پیش کیا ہے۔

croesus
School_Croesus-And-Solon

کری سس کو سولن کی یہ بات آخری لمحات میں یاد آئی جب وہ سائرس کے ہاتھوں تختہء دار پہ پہنچا۔ مونک کے الفاظ ملاحظہ ہوں:

CROESUS

This wealthy Croesus, once the Lydian king
Whom even Persia’s Cyrus held in dread
Was caught in pride until men said to bring
Him to the fire, and that’s where he was led
But such a rain the clouds above then shed
The fire was quenched and he was to escape
This was a lesson, though, he left unread
Till Fortune on the gallows made him gape

When he escaped, the urge he couldn’t stem
To go and start a whole new war again.
And well he might, as Fortune sent to him
Such good luck that he’d made off through the rain
Before he by his foes could there be slain

This rich Croesus, formerly the king of Lydia, albeit he was sorely feared by Cyrus, yet was he caught in the midst of his pride and led to the fire to be burned. But such a rain poured from the sky that it slew the fire and let him escape. Yet he had not the grace to beware until Fortune made him hang, mouth open, upon the gallows

When he was escaped, he could not refrain from beginning a new war again. He deemed well, since Fortune sent him such good luck as to escape by help of the rain, that he could never be killed by his foes

کری سس نے اپنی طاقت کے گھمنڈ میں فارس کے بادشاہ سائرس پر چڑھائی کی اور شکست کھائی۔ سائرس نے اُسے زندہ جلانے کا حکم دیا ۔ چنانچہ چِتا جلانے کی طرح ، لکڑیوں کا انبار لگایا گیا ،آگ بھڑکائی گئی اور کری سس کو زندہ جلانے کی تیاری مکمل ہوگئی۔

creosus on pyre ..depicted on a vase

creosus on pyre ..depicted on a vase

کری سس کو اس موقعے پر سولن کی بات یاد آئی اور اُس نے بے اختیار تین بار سولن کو پکارا ۔ اتنے میں موسلا دھار بارش شروع ہوئی اور آگ بجھ گئی۔ کری سس جان بچانے میں کامیاب ہوگیا۔ اِس واقعے کے بعد وہ مزید خودسر اور محتاط ہوگیا۔ اور اُس نے تائب ہونے کی بجائے دوبارہ فارس سے جنگ کا ارادہ کیا۔خواب کے بارے میں مونک کہتا ہے:

There also was a dream he dreamt one night
That made him feel so eager, proud, and vain
On vengeance he set all his heart and might

He was upon a tree, in dream he thought
Where Jupiter bathed him down every side
And Phoebus a fair towel to him brought
To dry himself. This added to his pride
And of his daughter standing there beside
Him–she in whom, he knew, was to be found
Great insight–he asked what it signified
And she at once his dream set to expound

“The tree,” she said, “the gallows signifies
And Jupiter betokens snow and rain
And Phoebus, with his towel so clean, implies
Beams of the sun, as best I can explain
By hanging, Father, surely you’ll be slain
Washed by the rain, by sun you shall be dried
Such was the warning given, short and plain
By Phania, his daughter at his side

and he dreamed a dream one night; of which he was so glad and proud that he set his whole heart upon vengeance

He was upon a tree, he dreamed, and Jupiter washed him, back and sides, and Phoebus brought a fair towel to dry him. With this he was all puffed up, and bade his daughter, who stood beside him and he knew abounded in high learning, to tell what it signified. She began in this very manner to expound his dream. “The tree,” she said, “betokens the gallows, and Jupiter betokens the rain and snow, and Phoebus with his clean towel, they are the beams of the sun. You shall be hanged, father, in truth; the rain shall wash you and the sun dry you. Thus flat and plainly she warned him, his daughter, called Phania

اِسی دوران کری سس نے ایک خواب دیکھا جو اُس کے اپنے اندازے کے مطابق خوش بختی کی دلالت کرتا تھا۔ کری سس نے دیکھا کہ وہ ایک درخت کی شاخ پر بیٹھا ہے۔ دیوتا مشتری اُس کی کمر پر پانی ڈال رہا ہے اور دیوتا فیبس اپالو اُس کے گیلے جسم کو تولیے سے خشک کررہا ہے۔ کری سس نے اِس خواب کو اچھا سمجھا اور مزید مغرور ہوگیا۔

اُس نے اپنا خواب اپنی بیٹی فانیا کو سنایا جو بہت سے علوم کی ماہر تھی اور ذہین لڑکی تھی۔ کری سس نے بیٹی سے اپنے خواب کی تعبیر پوچھی کہ تائید ہوسکے۔ بیٹی نے کہا کہ درخت تختہء دار کی علامت ہے، دیوتا مشتری بارش اور برفباری کو ظاہر کرتا ہے اور اپالو سورج کا یونانی دیوتا ہے۔ خواب بتاتا ہے کہ بابا ، آپ کو پھانسی دی جائے گی۔ آپ پر بارش اور برفباری پڑتی رہے گی اور سورج کی تمازت آپ کے جسم کو خشک کرے گی۔

وقت نے ثابت کیا کہ خواب کی یہ تعبیر درست تھی۔

And hanged indeed was Croesus, that proud king
His royal throne to him was no avail
No tragedies may signify a thing
There’s naught in song to cry out and bewail
Except that Fortune always will assail
With sudden stroke the kingdom of the proud
For when men trust her, that’s when she will fail
And cover her bright visage with a cloud

.

So Croesus, the proud king, was hanged; his royal throne did not help him

Tragedy is no other thing than to cry and bewail in song Fortune’s attacks and unexpected strokes upon proud thrones. For when men trust her, then she fails them and covers her bright face with a cloud

کری سس کو پھانسی پر لٹکایا گیا اور بے بہا خزانوں کا مالک ہونے کے باوجود وہ ایسی کسمپرسی والی موت سے نہ بچ سکا۔ اور ٹریجیڈی ہوتی ہی یہی ہے کہ انسان صرف افسوس ہی کرسکتا ہے کیونکہ قسمت کا پھیر جب آتا ہے تو بتا کر نہیں آتا، انسان جس بلند بختی اور قسمت پر غرور اور اندھا اعتماد کرتا ہے، وہی بِنا بتائے ساتھ چھوڑ جاتی ہے ۔ چنانچہ عاقبت سے ڈرتے رہنا چاہیئے۔ اقتدار، دولت اور گھمنڈ میں اپنا آپ بھلا نہیں دینا چاہیئے۔

اب انگریزی میں کری سس کا نام ، اکثر بیش بہا دولت یا قیمتی اور مہنگی چیز کی طرف اشارہ کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ مختلف مشہورِ زمانہ کمپنیاں اپنی مصنوعات کی پبلسٹی اور دنیا کے مشہور ہوٹلز اپنی خدمات کے لئے اس نام کا اضافہ کرتی نظر آتی ہیں۔

croesus-4pr-copy
11357893

اس کے علاوہ یہ نام ڈزنی گیمز کھیلنے والے بچوں کے لئے بھی نیا نہیں ہوگا کیونکہ کئی گیمز میں خزانے تلاش کرنے کا چیلنج دیا جاتا ہے اور کئی جگہ یہ خزانہ کری سس کا خزانہ کہلاتا ہے ۔

l_d94012b2
l_d94012b1

Treasury Of Croesus_cover

Treasury Of Croesus_cover

The monk narrates of De Oloferno -29

اپریل کا مہینہ ہے اور لندن کے مضافات سے زائرین کا ایک قافلہ کینٹربری کے لئے سفر پر نکلتا ہے۔ میزبان اور راوی سمیت، لگ بھگ اُنتیس زائرین سفر کی کٹھنائی اور طوالت سے بچنے کے لئے ، باہم طے کرتے ہیں کہ ہر مسافر اپنی اپنی باری پر کہانی سنائے گا ۔ اور بہترین کہانی سنانے والے کے لئے ایک موزوں انعامی پیکیج بھی اناؤنس کیا جاتا ہے۔ چاوسر کا مونک روایتی کہانی کی جگہ مشہور شخصیات کے المیہ انجام سنانے کا آغاز کرتا ہے۔ چھٹی صدی قبل مسیح میں، بابُل کے بادشاہ بخت نصر اور بیلشضر کے بعد، مونک نے، ساتواں ماجرا ، بخت نصر کے ہی ایک سپہ سالار ، ہولوفرنس یا اولو فرنس ، کا سنایا ۔

-ہولوفرنس:

-600ق م میں ، بابُل، اِشوریہ اور نینوا میں مطلقُ العنان اور خود سر بادشاہ بُخت نصر کی حکومت تھی۔ ہولو فرنس، بخت نصر کی فوج کا سپہ سالار تھا۔

بادشاہت اور مطلقُ العنانیت ایسی ظالم ، نشہ آور کیفیت ہے کہ انسان اپنی اوقات بھول جاتا ہے۔ جب بھی آدمی احتساب اور پکڑ کے ڈر سے آزاد ہو جائے، اُس کا گمراہ ہونا لامحالہ طور پر یقینی ہے۔

بابل کے بختُ نصر پہ بھی بادشاہت کی ہوس اور گھمنڈ کا بھوت ایسا سوار ہوا کہ اُس نے اپنی بِلا شرکتِ غیرے حاکمیت اور سلطنت کو وسیع کرنے کا عزم کرلیا۔

مغرب کی جانب کچھ قبائل بخت نصر کے خلاف تھے اور باغیانہ رحجان رکھتے تھے۔ خدائی مذاہب سے انکاری ، بخت نصر نے اپنے سپہ سالار ، ہولو فرنس کو مغرب کی جانب اُن قبائل پہ قہرِ انتقام ڈھانے بھیجا ، جنھوں نے بخت نصر کی نینوا میں حکومت کی تا ئید نہیں کی تھی۔ ہولوفرنس نے مغربی ساحل کے ساتھ ساتھ تمام قبائل کو شکست دی اور وہاں موجود معابد اور بت کدے تباہ کردئیے، تاکہ وہ سب لوگ، نبو گڈ نصر کے مجسمے کی پوجا کریں۔ مونک کے مطابق ، ہولوفرنس نے وہاں کے عوام سے کہا:

“Nebuchadnezzar is our god,” said he
“No other god on earth shall worshipped be
Against him only one town made a case
Bethulia, a strong community
Eliachim the high priest of the place

people_forced_to_worship_idol_by_king_nebuchadnezzar

people_forced_to_worship_idol_by_king_nebuchadnezzar

محلِ وقوع کے اعتبار سے وہ علاقہ ہے جہاں آج اُردن کا دارالحکومت عمّان واقع ہے ۔ اُس وقت وہاں سامی النسل عمونی قبیلہ آباد تھا۔ اِس اسرائیلی قبیلے کے سردار ایچوئر/ ایلیاچم نے ہولوفرنس کو خبردار کیا کہ وہ یہودیوں کے خلاف کاروائی سے باز رہے۔ ہولوفرنس مُصر رہا کہ نبو گُڈ نصر ہی پوجا کے لائق ہے اور یہ لوگ گمراہ کُن ہیں۔

Neo-Babylonian_Empire

سپہ سالار ہولوفرنس نے اسرائیلیوں کے شہر بیتھولیا کا محاصرہ کرکے وہاں پانی کی فراہمی روک دی ۔ وہاں کے لوگوں نے طے کیا کہ اگر پانچ دن تک کہیں سے بھی کُمک نہ پہنچی تو وہ ہتھیار ڈال دیں گے۔

اِسی اثنا میں یہودی عبرانی نسل کی ایک عورت جوڈتھ کا کردار سامنے آتا ہے جس نے کسی نہ کسی طرح ہولوفرنس تک رسائی حاصل کی اور اپنے لوگوں کی جاسوسی کرنے کا یقین دِلا کر ہولوفرنس کا اعتماد حاصل کیا۔ ایک رات جوڈتھ اپنی خادمہ کے ساتھ ہولوفرنس کے خیمے میں داخل ہوئی، اور شراب کے نشے میں مدہوش ہولوفرنس کا سر تن سے جُدا کردیا ۔

Caravaggio's painting Judith Beheading Holofernes

Caravaggio’s painting Judith Beheading Holofernes

ہولوفرنس کا کٹا ہوا سر لے کر اپنے قبیلے کے لوگوں کے پاس آئی اور اپنے شہر بیتھولیا کو ظالِم اور لادین ہولوفرنس کے عتاب سے بچا لیا۔

A painting by Andrea  Mantegna

A painting by Andrea Mantegna

مصّوری میں ایک موضوع کے طور پر جوڈتھ اور ہولوفرنس کو بے شمار مصّوروں نے اپنے اپنے تخیّل کے مطابق دِکھانے کی کوشش کی۔ عبرانی انجیل کے مخصوص نسخوں میں جوڈتھ کا یہ عمل اُس کے کردار کی استقامت اور پرہیزگاری کے طور پر بیان کیا گیا ہے، جو اپنی قوم کو مشکل سے بچانے کے لئے ، اپنی جان ہتھیلی پہ رکھ کر ایک سفّاک سپہ سالار کو جُل دینے میں کامیاب ہوئی۔

475px-Judith_with_the_head_of_Holofernes

لیکن اس موضوع کو پیش کرنے والے ، ہر عہد کے مصوّروں نے اپنے شہ پاروں اور پینٹنگز میں جوڈتھ کے کردار کو حسبِ منشا . . اور . . .حسبِ پسند رنگین اور نمکین پیش کیا ہے۔ اِس موضوع پہ اس قدر وافر اور شوخ امیجیز ملتے ہیں کہ انتخاب کرنے میں دقّت کا سامنا ہونے لگتا ہے۔

Judith by August Riedel

Judith by August Riedel


Artemisia Gentileschi's painting Judith Beheading Holofernes

Artemisia Gentileschi’s painting Judith Beheading Holofernes


Judith by  Giorgione

Judith by Giorgione


Judith is commonly depicted as being assisted by an older maidservant

Judith is commonly depicted as being assisted by an older maidservant


Judith Cutting Off the Head of Holofernes by Trophime Bigot ( 1640)

Judith Cutting Off the Head of Holofernes by Trophime Bigot ( 1640)

چاوسر کا مونک کہتا ہے کہ اِس سپہ سالار ہولوفرنس کا انجام بھی اُس کی استبداد والی زندگی کے برعکس افسوسناک ہوا ۔

According to the Book of Judith, the Jewish widow Judith saved the Israelites from the Assyrians by decapitating their general Holofernes, whose army had besieged her city. She did this after having made him drunk at a banquet. Judith is commonly depicted as being assisted by an older maidservant in placing the head in a sack. The contrast between Holofernes’s crude features and the heroine’s beauty underlines the moral message of the eventual triumph of virtue over evil

Judith with the head of Holofernes  by Cristofano Allori

Judith with the head of Holofernes by Cristofano Allori