The Shipman’s Tale – 20

-شِپ مین کی کہانی:

شِپ مین یا ملّاح نے ایک ایسے مرچنٹ کی کہانی سُنائی جس کی کفایت شعاری کنجوسی کی حد کو جا مِلی تھی۔وہ دولت کمانے میں بری طرح مگن تھا ۔ مرچنٹ کاروباری معاملات میں بہت محنت اور تن دہی سے کام کرتا تھا۔ جبکہ مرچنٹ کی بیوی شاہ خرچ اور اچھا پہننے اوڑھنے کی دلدادہ تھی۔ اور اکثر پیسے پورے کرنے میں اُسے دقّت ہی رہا کرتی۔ ایک مونک اِس مرچنٹ کا قریبی دوست تھا۔ اتنا قریبی کہ بہت سے لوگ اُن دونوں کو بھائی سمجھا کرتے۔

ایک بار مرچنٹ کو کاروبار کے سلسلے میں کہیں سفر پر جانا تھا ۔مرچنٹ کے سفر سے پہلے ایک صبح مونک نے باغیچے میں مرچنٹ کی بیوی کو تنہا دیکھا تو اُس سے باتیں کرنے پہنچ گیا۔

frontispiece-vol-04-shipmans-tale

اُس نے خاتون سے ہمدردی کا اظہار کِیا . . .کہ وہ اپنے شوہر سے خوش نہیں لگتی۔ خاتون نے اقرار تو کیا مگر خود کو کمزور ظاہر نہ ہونے دیا ۔باتوں باتوں کے درمیان مرچنٹ کی بیوی نے مونک سے ہزار فرانک مانگے۔ مونک نے اُدھار دینے کا وعدہ تو کرلیا مگر بدلے میں ایک قُربت کا وعدہ لے لیا۔ مرچنٹ کی بیوی سے معاملہ طے کرکے . . .اُدھر مونک نے خاتون کو اُدھار دینے کے لئے خُود مرچنٹ سے ہی ہزار فرانک کا اُدھار لے لیا۔مرچنٹ نے مونک کا مطالبہ پورا کیا اور سفر پر روانہ ہوگیا۔ رقم مہیّا ہوگئی۔ اُن دونوں نے اُدھار کی رقم کے بدلے طے شُدہ وعدہ بہت خوشدلی سے پورا کیا۔

lovers shipman s tale

مرچنٹ سفر سے واپس آیا تو مونک نے اُسے بتایا کہ . . .اُدھار کے ہزار فرانک . . وہ مرچنٹ کی بیوی کو واپس لَوٹا چکا ہے۔مرچنٹ نے اپنی بیوی سے اُدھار کے اُن پیسوں کا پوچھا تو وہ کہنے لگی کہ ہاں، وہ پیسے اُسے ہی موصول ہوئے تھے مگر وہ اُس رقم کو خرچ کر چکی ہے۔ اور . . .اِس کے بدلے وہ اپنا آپ مرچنٹ کے حوالے کررہی ہے۔ مرچنٹ کے پاس راضی ہونے کے سِوا کیا چارہ تھا۔

میزبان نے شِپ مین کی کہانی کو سراہا اور تمام مسافروں کو مونک جیسے چالاک اور مکّار لوگوں سے ہوشیار رہنے کو کہا کہ ہمارے اطراف ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں جن سے ہمیں خبردار رہنا چاہیئے۔ کس قدر چالاکی سے مونک نے خود پہ مذہب کا لبادہ اوڑھ رکھا تھا اور حقیقت میں اپنے دوست کو بے وقوف بنایا اور اُس کی بیوی کو بھی۔ یہ کہانی ایک اور بات کی طرف اِشارہ کرتی ہے کہ میاں بیوی کے درمیان کسی اختلاف کی معمولی سی خبر بھی ، جب کسی تیسرے کو پتہ چلتی ہے تو اُن دونوں کو نقصان ہوتا ہے۔ مونک بہت مہارت سے شوہر اور بیوی ، دونوں کو دغا دے گیا ۔

اِس کے بعد میزبان نے پرائرس کو اگلی کہانی سنانے کا کہا، جو اِس پیشکش پر مشکور ہوئی اور کہانی کا آغاز کیا۔

The Pardoner’s Tale – 19

-پارڈونر کی کہانی:

ڈاکٹر کی اُداس کہانی کے بعد پارڈونر کی باری آئی۔ پارڈونر کی کہانی ادبی اعتبار سے ایک ممتاز مقام رکھتی ہے اور اِس مشرقی کہانی کی کئی دیگر مشابہ صورتیں بھی ملتی ہیں۔ پارڈونر، اپنی کہانی سے پہلے اپنی پیشے کی گمراہ کُن نوعیت کے بارے میں ایک اعتراف پیش کرتا ہے۔ وہ مسافروں کی جماعت کو مخاطب کرکے بتاتا ہے کہ . . . گرجا میں وعظ و تبلیغ کرتے ہوئے اُس کی آواز بہت گُونج دار ہوتی ہے اور اُس کے وعظ کا مرکزی نکتہ لالچ کے مفاسِد کے بارے میں ہوتا ہے. . .کیونکہ تمام برائیوں کی جڑ لالچ ہے۔

Radix malorum est cupiditas
Greed is the root of all evil

028-pardoner

اُس نے اپنے پاس موجود تبرکات کی بوتل دِکھائی جس کو وہ اولیاء سے منسوب کرتا ہے اور اُن کے غیبی اور جادوئی فضائل بتاتا ہے- ۔ پارڈونر نے زائرین سے پوچھا کہ اگر کوئی اپنے گناہ کی تلافی چاہتا ہے تو آئے اور تبرکات کا ہدیہ ادا کرکے گناہوں کا ازالہ کرلے ۔اس کے علاوہ پارڈونر کے پاس پہلے سے تحریر شدہ اور پوپ کی مہر والے مختلف گناہوں کے معافی نامے بھی ہوتے ہیں۔ یہ معافی نامے وہ لوگ خریدتے ہیں جو اپنے گناہوں پہ نادم ہوتے ہیں اور معافی کی تحریری سند حاصل کرنے کے بعد کفّارے کے خواہشمند افراد اپنی خوشی سے گرجا گھر کے لئے چندے کی رقم پارڈونر کو دے دیتے ہیں۔ آہستہ آہستہ چندے کی یہ رقم ہی معافی ناموں کا لازمی جزو سمجھی جانے لگی اور یہ تصوّر عام ہوگیا کہ چرچ اور گرجا پہ چڑھاوے چڑھا کر، پارڈونر کی مٹھی گرم کرکے، نذر نیاز دے کر اور متبرکات پہ رقم خرچ کرکے نیکی اور پارسائی خریدی جا سکتی ہے۔

pardonner

پارڈونر نے صاف بتایا کہ اِس پیشے میں اُس نے بہت کمایا ہے۔ خاص طور پر جب اُس کا سامنا تماش بِین اور کمینے بدکاروں سے ہو، . . . .کیونکہ ایسے لوگ سمجھتے ہیں کہ پیسے کے بَل پر وہ پرہیزگاری اختیار کرسکتے ہیں۔ اور جب سامنے سے ایسے کھُلم کھُلا دولت کی پیشکش ہورہی ہو تو انسان کا بھٹکنا مشکل نہیں ہوتا ۔ چنانچہ ایسے گناہگاروں کی موجودگی میں دل میں لالچ آہی جاتا ہے اور گناہوں کی تطہیر سے توجہ ہٹ جاتی ہے۔خواہ . . مرنے کے بعد ایسے گناہگاروں کی ارواح عالمِ ظلمات میں بھٹکتی رہیں . . لیکن لالچ اور حرص کا شکار ہوکر وہ ظاہری تقوٰی اور پاکیزگی کا ڈھکوسلا کرنے لگتا ہے، . . . . اور اُسی طمع کا شکار ہوجاتا ہے جس کے خلاف وہ خود تبلیغ کرتا ہے۔

اُس نے اپنے ساتھی مسافروں کو یہ بھی بتایا کہ وہ گناہوں کا اعتراف کرنے والوں کو زمانہءقدیم کی سچی جھوٹی غیر مُستند حکایتیں بھی سناتا ہے۔

For lewed peple loven tales olde

The Pardoner from The Gentle Pardoner of Rouncival

اُس نے کہا کہ . . .اگرچہ نہ وہ کوئی دستکار ہے اور ٹوکریاں بُننے جیسا کوئی ہنر نہیں جانتا، لیکن پھر بھی اُسے ہر چیزِ ، پیسے، پنیر، اُون اور گندم کے دانے مِل جاتے ہیں، اور بھلا کیا چاہیئے۔ اِن نذرانوں کے دینے والوں میں گاؤں کی غریب ترین بیوہ سے لے کر کمّی مزدور تک شامل ہوتے ہیں۔ چنانچہ پارڈونر کو ہر جگہ من پسند کھانے اور مشروب مل جاتے ہیں ۔ گویا کہ اُس کا پیشہ لوگوں کو گناہوں سے متنفر کرنے کی بجائے گناہوں سے خوفزدہ کرنے پہ مرکوز ہوتا ہے تاکہ وہ اپنے گناہوں کی بخشش کے لئے زیادہ سے زیادہ نذرانے ادا کریں۔. . . .. . اب مسافرین دِل اور مثانے تھام کر بیٹھیں کہ وہ اپنی کہانی شروع کرنے لگا ہے۔

138-the-pardoners-tale

ایک علاقے، فِلانڈرز میں تین عیّاش اور دنگے باز ڈاکوؤں کا ایک گروہ رہتا تھا جو گھٹیا اور غلط کاموں کے علاوہ کچھ نہیں کرتے تھے۔ پارڈنر نے یہاں ، . . . . نشے . . اور زیادہ کھانے کے بارے میں تلخ تنقید کی، . . شرابیوں کو ملامت کیا اور نشے میں انسان کی بُری حالت پر افسوس کا اظہار کیا ۔

اُن لوگوں کا ذکر بھی کیا جو اپنے معدوں کو اپنا خُدا مان لیتے ہیں۔ اُس نے معدے کو متعفن تھیلا کہا . . . . جس میں صرف وہ چیزیں ڈالی جاتی ہیں جن کو گلانا ہو ، گویا کہ گلنے والی خوراک کا تھیلا ! یہ وہ لوگ ہیں جن کا مقصدِ حیات محض کھانا ہوتا ہے اور وہ اپنے کھانے میں ذرا بھی اُونچ نیچ برداشت نہیں کرتے ۔ اور سچی بات تو یہ ہے کہ ایسے لوگ بہت ہی زیادہ ہوتے ہیں۔

ایک رات تینوں ڈاکو ایک سرائے میں بیٹھے . . پِی رہے تھے کہ اُنھوں نے ایک جنازہ دیکھا ۔ نشے میں غارت تینوں ساتھیوں نے اُس میّت کی موت کا سبب پوچھا تو معلوم ہوا کہ موت نے اُس کا دل ساکت کردیا تھا۔ نشے میں مدہوش دماغوں کے ساتھ اُن تینوں نے طے کیا کہ وہ اِس موت نامی شے کو تلاش کریں گے ، جو بہت سے لوگوں کی وفات کی ذمہ دار ہے اور اُس کو مار ڈالیں گے۔

052-pardoners-tale

وہ سرائے سے نکل کر آدھا مِیل بھی نہیں گئے ہوں گے کہ انھیں ایک بہت بُوڑھا شخص ملا جس نے اُنھیں بہت خوشدلی سے بُلایا ۔ تینوں شرابیوں میں سب سے بد دماغ نے اُس کا تمسخر اُڑایا . .. کہ ایسی پکّی عمر تک پہنچ جانے کے باوجود بھی وہ زندہ کیوں ہے ۔ بڈھے نے بہت ناگواری سے کہا کہ یہ کیا گُستاخ اندازِ گفتگو ہے؟ . . .اور یہ کہ وہ خود چاہ کر تو مر نہیں سکتا ۔ تینوں نے پوچھا کہ موت کا اتا پتا ہو تو بتاؤ ۔بوڑھے آدمی نے بتایا کہ اُنہیں . .موڑ والے راستے پر . . شاہ بلوط کے درخت کے نیچے . . موت مِل سکتی ہے ۔

053-pardoners-tale

وہ تینوں افراتفری میں بھاگتے ہوئے شاہ بلوط کے درخت کے پاس پہنچے اور . . اُن کی حیرت کا ٹھکانہ نہ رہا . . جب اُنہوں نے وہاں . . سونے کے سِکّوں سے بھرے ہوئے آٹھ ٹوکرے دیکھے۔

photo

انہوں نے سوچا کہ اِس خزانے سے اُن کی تمام عمر آسانی سے گزر سکتی ہے . .مگر اِس کو گھر لے جانے کی کیا صورت ہو؟ لوگوں کی نظروں سے چھُپا کر اِسے گھر لےجانا نامُمکن ہے یہاں تک کہ رات کا انتظار کیا جائے۔ تو گویا رات تک اِسی جگہ رہنا ہوگا ۔

055-pardoners-tale

ایک ڈاکو کو اُنہوں نے بازار بھیجا تاکہ . . . وہ کھانا اور شراب لے آئے ، وہ تینوں دن بھر آرام کر سکیں اور رات کو خزانہ منتقل کرنے کا کام ہو سکے۔ تیسرے کے جاتے ہی باقی دونوں کو لالچ نے آن گھیرا ۔ اُنہوں نے طے کیا کہ تیسرے کی واپسی پر اُسے مار دیا جائے اور . . خزانہ دو حصوں میں تقسیم کرلیا جائے ۔ اور . . . اِسی اثنا میں . .بازار جانے والے شخص کے ذہن میں بھی طمع نے ایک خونی منصوبہ پیدا کردیا ۔ اُس نے کھانا اور تین بوتلیں شراب خریدی اور ایک انتہائی تیز اثر رکھنے والا زہر خرید کر دو بوتلوں میں ملا دیا ۔ تیسری بوتل اُس نے اپنے لئے الگ سے چھُپا کے رکھ لی۔

Pardoner`s Tale

اب جونہی تیسرا ساتھی زہریلی شراب کے ساتھ واپس پہنچا ، باقی دو نے اُسے مار ڈالا . . اور اِس ہوشیاری کا جشن منانے کے لئے کھانا کھانے بیٹھ گئے۔ زہریلی شراب پی ۔ تیز اثر زہر سے دونوں فوراََ ہی مر گئے۔ گویا کہ تینوں ڈاکوؤں کو اپنے طمع کی صورت میں موت مل گئی۔

076-pardoners-tale

کہانی کے اختتام پر پارڈونر نے لالچ اور حرص کے بارے میں ایک مختصر وعظ دیا کہ . . میری کہانی یہ سبق دیتی ہے کہ لالچ بھی موت کا دوسرا نام ہے ، اکثر اوقات انسان لالچ کے ہاتھوں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے ۔ اگر جان نہ بھی جائے تو بھی ایسی صورت پیدا ہوجاتی ہے کہ انسان کی زندگی موت سے بدتر ہوجاتی ہے ۔ پارڈونر نے دعا کی کہ خداوند تمام انسانوں سے سرزد ہونے والے گناہ معاف کرے اور لالچ سے بچنے کی توفیق دے۔

135-the-pardoner-had-his-cakes

اِس کے ساتھ ہی اُس نے زائرین کو تبرکات اور معافی نامے خریدنے کی ترغیب دِلائی۔ میزبان کو معافی نامہ لینے کا کہا تو وہ بھڑک اُٹھا اور دونوں میں بہت گھٹیا الفاظ کا تبادلہ ہوا۔ لیکن نائٹ نے درمیان میں پڑ کر صلح کروائی، دونوں کو گلے مِلوایا . . . اور سفر جاری رہا اور شِپ مین کی کہانی شروع ہوئی۔

089-pardoners-tale

The Physician’s Tale – 18

-فزیشن کی کہانی:

فرینکلن نے ڈوری گن کی ، اپنے شوہر کے لئے اُلفت . . . کا قصّہ اختتام کو پہنچایا ، تو اُس کے بعد ، . . . فزیشن نے اپنی کہانی سُنانے کا آغاز کیا ۔ ڈاکٹر صاحب یا فزیشن نے اپنے پیشہ وارانہ کردار جیسی ہی کہانی سنائی۔ ایک بیٹی اور باپ کے تعلق کی ایسی کہانی جو مشرق اور مغرب کی تفریق کے بغیر، زمانہء قدیم سے تاحال پائی جاتی ہے۔

یہ کہانی ہے ایک نائٹ کی، . . . جو بہت دوستوں یاروں والا تھا، خوب دولت مند تھا ، جی دار اور ملنسار تھا۔ وہ اپنی چاہنے والی بیوی اور بے مثل حُسن والی بیٹی وِرجینیا کے ساتھ پُرسکون زندگی گزار رہا تھا۔

128-the-physicians-tale

نائٹ کی بیٹی بے انتہا خوبصورت اور نیک و باکردار تھی۔ وہ ایسے مواقع سے بھی گریز کرتی جہاں بدی یا فساد کا ڈر ہوتا ۔ راوی نے یہاں کہانی روک کر، . . . اولاد کی تربیت میں ماں باپ کے کردار پر روشنی ڈالی . . اور اِس بات کی اہمیت پر زور دیا کہ بچوں کی پرورش میں سیرت کی تربیت پر خاص توجہ دینی چاہیے۔

ایک دن نائٹ کی بیوی اور بیٹی وِرجینیا ایک عبادت گاہ کی طرف جا رہی تھیں کہ ایپئس نامی ایک قاضی نے نائٹ کی بیٹی کو دیکھا . . . اور دیکھتا ہی رہ گیا ۔ اُس نے سوچا کہ

This mayde shal be myn.

بس . . اُسی وقت شیطان نے اُس کے دل میں وسوسہ پیدا کیا اور ایک ایسی چال اُس کے ذہن میں ڈالی جس سے وہ دوشیزہ ہمیشہ کے لئے اُس کی ہوجائے۔ ایپئس نے ایک چالاک ساتھی کو منصوبے میں شامل کیا اور نائٹ پر مقدمہ دائر کردیا کہ دراصل ورجینیا اُس کی غلام تھی جس کو نائٹ نے اغوا کر لیا ہے ۔ مِلّی بھگت کے تحت جج نے مقدمے کی سماعت اور اعتراضات سُنے بغیر ، . . . ورجینیا کو ایپئس کی تحویل میں دینے کا حکم صادر کر دیا ۔

144-physicians-tale

مغموم اور اُداس نائٹ گھر واپس پہنچا ، . . بیٹی کو بُلایا اور . . بتایا کہ اب اُس کے سامنے دو ہی راستے ہیں۔ باعزّت موت یا بےعزّت زندگی ۔ بیٹی نے باعزّت موت کو ترجیح دی اور نائٹ نے . . . بیٹی کا سر تن سے جُدا کر دیا ۔ قلم کیا ہوا سر لے کر عدالت پہنچا ، جہاں ورجینیا کا کٹا ہوا سر دیکھ سب لوگ سمجھ گئے کہ نائٹ پر واقعی جھوٹا مقدمہ کیا گیا تھا جبھی تو وہ بیٹی کی عزت پر حرف برداشت نہیں کرسکا ۔ عدالت میں لوگ اِس ناانصافی پہ بپھر گئے۔ اُنھوں نے ایپئس کو جیل میں ڈال دیا اور اُس کے ساتھی کو سزا دی گئی۔ راوی نے کہانی اِس بات پر ختم کی کہ . . . گناہ کا عتاب گناہگار پر ضرور نازل ہوتا ہے ۔

ڈاکٹر کی کہانی میں چاوسر نے ایک ایسی بات کی طرف اشارہ کیا ہے جو معاشرے میں عزت سے متعلق ہے ۔ اکثر اوقات ، انسان اور خاص طور پہ مرد ، عزت کے بارے میں اُلجھاؤ اور جلد بازی کا فیصلہ کرجاتے ہیں۔ نائٹ دیگر طریقوں سے بیٹی کو بچانے کی کوشش کرسکتا تھا ، بجائے اِس کے کہ، اُس نے بیٹی کی جان ہی لے لی۔

physicianThe Canterbury Pilgrims

ڈاکٹر کی کہانی سُن کر میزبان نے کہا کہ اِس قدر دُکھی اور افسوس ناک کہانی سن کر اُس کا دل کچھ لمحوں کو بند ہی ہوگیا تھا ۔ہائے افسوس ! . . . کہ اُس لڑکی کی خوبصورتی نے ہی اُس کی جان لے لی۔ میزبان نے اِس بات کی ضرورت پر زور دیا کہ اِس قدر مغموم اور دُکھی کہانی کے بعد اب ایک اچھی اور خوش کُن کہانی ہونی چاہیئے ۔

The Franklin’s Tale – 17

- فرینکلن کی کہانی:

franklins tale

فرینکلن چودہویں صدی کا زمیندار ہے جس کی گفتگو ظاہر کرتی ہے کہ وہ معاشرتی مقام اور رُتبے میں بلندی کا شدید متمنّی ہے۔ فرینکلن نے آغازِ کلام کیا اور معذرت چاہی کہ وہ بہت زیادہ ادبی صلاحیت نہیں رکھتا اور نہ ہی بہت شاندار اندازِ بیان کی قُدرت رکھتا ہے ، لہٰذا وہ قدیم بریٹون انداز کی ایک منظوم لوک کہانی سُنائے گا ۔ اِس سادگی کی وجہ یہ ہے کہ وہ فنِ خطابت کے رنگوں سے نا آشنا ہے اور فطرت کے رنگوں پر عبور رکھتا ہے۔

These ancient gentle Bretons, in their days,
Of divers high adventures made great lays
And rhymed them in their primal Breton tongue,
The which lays to their instruments they sung,
Or else recited them where joy might be;
And one of them have I in memory,
Which I shall gladly tell you, as I can.
But, sirs, because I am an ignorant man

فرینکلن کی کہانی ایک نائٹ آرویراگس (Arviragus) اور دوشیزہ ڈوری گن Dorigen کے بارے میں ہے جنھوں نے خوشی خوشی شادی کی ۔ یہ شادی دو برابر اور ہم پلّہ افراد کے درمیان ہوئی تھی اِس لئے کوئی دوسرے کا ماتحت یا سربراہ نہیں تھا۔ وہ دونوں برابر کے ساتھ تھے۔ ہم قبیلہ اور ہم سر ۔ ایک شادی میں . . میاں بیوی کے تعلق کو واضح کرتے ہوئے . . . یہاں فرینکلن ایک بات کہتا ہے جو کہ سولہ آنے درست ہے ۔ وہ کہتا ہے . . . . . . . . .کہ جب کسی تعلق میں برتری یا کمتری کا احساس پیدا ہوجائے تو . . . اُس تعلق سے خلوص اور محبت . . .یکدم غائب ہوجاتے ہیں، اور پھر وہ تعلق آزارِ جان بن جاتا ہے۔

the_franklin_s_tale_page_01_by_orwel-d67hq8n

آرویراگس اور ڈوری گن میں محبت کی شادی ہوئی، دو دل ملے اور گویا ہر طرف چاہت کی بارش ہوا کرتی، دنیا حسین رنگوں میں نہاگئی۔ اور وصل کے لمحوں کا رقیب، فراق آن پہنچا ۔

232-franklins

آرویراگس کو دو سال کے لئے ایک جنگی مہم پہ برطانیہ جانا پڑا۔ اور یہاں فرانس میں ، سراپا اپنے پریتم کی دیوانی، ڈوری گن اُس کے فراق میں رویا کرتی اور اپنے محبوب شوہر کو خطوط لکھا کرتی۔ کبھی کبھی وہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ سمندر کے کنارے چلی جاتی، اُس کی ہم جولیاں اُس کا دل بہلانے کی کوشش کرتیں۔ وہ گہرے پانیوں کو دیکھ کر سوچا کرتی کہ اُس کا محبوب دُور کہیں ان لہروں کے دوش پہ سفر کرتا ہوگا . . .اور اُسے یاد کرتا ہوگا ۔

037-dorigen-the-franklins-tale

اُسے سمندر کے کنارے کالی کالی چٹانوں سے بہت خوف آتا ،محبت کے مارے دل کو اندیشے گھیر لیتے، وہ سوچا کرتی کہ . . . . کہیں ایسا نہ ہو کہ واپسی پر اُس کے محبوب کا جہاز اِن چٹانوں سے ٹکرا کر تباہ ہوجائے۔

152-she-was-prey-to-bitter-despair - franklin

قریب کا ایک نوجوان آریلس (Aurelius) دل ہی دل میں ڈوری گن کو بہت چاہتا تھا اور اُس کی نظرِ التفات کا متمنی تھا۔ اِدھر ڈوری گن اپنے شوہر کے سِوا کسی کا تصوّر بھی نہیں کر سکتی تھی۔اور اِسی لئے وہ کبھی آریلس کی بات نہ سُنتی ۔

038-aurelius-the-franklins-tale

ایک دن اُس نے آریلس کو ٹالنے کے لئے کہہ دیا کہ اگر تم سمندر سے یہ سب کالی چٹانیں ہٹاسکو تو وعدہ کرتی ہوں کہ میں تمھاری ہوجاؤں گی۔

256-franklins-tale

آریلس نے سب ماجرا ایک ماہرِ نجوم کو سنایا ۔ جس نے ایک معاوضے کے بدلے مدد کا یقین دِلایا اور معلوم کیا کہ چاند کی تاریخوں کے حساب سے کب لہریں اتنی بلند ہوں گی کہ چٹانیں نظر نہ آئیں۔ اب آریلس ڈوری گن کے پاس جا پہنچا اور کہنے لگا کہ میری دِلرُبا، تمھاری فرمائش پوری کرنے کا بندوبست ہوگیا ہے۔ ڈوری گن حیران و پریشان رہ گئی کہ اب کیا کرے۔

115-the-meeting-of-dorigen-and-aurelius

اسی اثنا میں آرویراگس کی واپسی ہوئی۔ ڈوری گن خوشی سے نہال ہوئی۔ کہانی کا کلائمکس اُس وقت پیدا ہوا جب ڈوری گن نے آریلس سے کئے گئے وعدے کا معاملہ اپنے شوہر کو سنایا کہ کیسے وہ اُس کے فراق میں باؤلی ہو کر وعدہ کر بیٹھی۔ اُسے کیا پتہ تھا کہ آریلس ایسا کر ہی دِکھائے گا ۔ آرویراگس نے ڈوری گن کو اجازت دی کہ وہ وعدہ خلافی نہ کرے ، اور اُسی نے ڈوری گن کو یقین دلایا کہ حتمی طور پہ آریلس اُس کی قدر کرتا ہے اِسی لئے تو اُس کی خواہش کسی بھی قیمت پہ پوری کر دکھائی۔

آریلس کو یہ بات پتہ چلی تو اُسے ڈوری گن کی شادی شُدہ زندگی خراب کرنے پر افسوس اور ندامت ہوئی۔وہ اُن دونوں کے صاف اور سچے کردار کا معترف ہوا۔ اُس نے ڈوری گن سے وعدہ پورا کرنے کا مطالبہ واپس لے لیا ۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اِس جوڑے کا اعتبار اور شفّافیت داغدار ہو۔ وہ اِس قدر قریب تھے کہ ہر حد تک ایک دوسرے سے سچ کہتے تھے۔ آریلس اُن کی زندگی سے چلا گیا ور ڈوری گن اپنے من چاہے شوہر کے ساتھ پیار محبت سے زندگی گزارنے لگی۔

راوی . . یہاں ایک سوال پہ کہانی ختم کرتا ہے کہ دونوں مردوں میں سے کو ن زیادہ نجیب اور کریم النفس ہے؟

Who was the mooste fre, as thynketh yow?
Who was the most generous /noble, as you think ?
232-the-franklins-tale

اِس کہانی میں بھی دیگر کئی کہانیوں کی طرح شادی اور ازدواجی تعلق ہی زیرِ بحث آیا ہے ۔ ہاں . . . . یہ ضرور ہوا کہ . . . روایتی لوک کہانیوں کی نسبت اِس کہانی میں جادو استعمال نہیں ہوا . . . بلکہ چٹانوں کو غائب کرنے کےلئے ایک ٹھوس سائنسی حقیقت کو زیرِ غور لایا گیا ہے۔ یہ بات چاوسر جیسے ادیب کو ہی زیب دیتی ہے جو کہ خود سائنس کا محقق تھا ور اُس نے “اسطرلاب” کے استعمال پہ ایک کتاب بھی لکھی ۔ یاد رہے کہ اسطرلاب ایک آلہ ہے جس کو مسلمان سائنسدانوں نے ایجاد کیا تھا اور یہ سمت نما (Compass) کی طرح کا ہوتا ہے۔

imagesChaucer_Astrolabe_BM_1909.6-17.1

The Squire’s Tale – 16

-سکوائر کی کہانی:

مرچنٹ سے اگلی کہانی سکوائر نے سُنائی جو کہ ایک اعتبار سے نامکمل معلوم ہوتی ہے ۔سکوائر، ایک علاقے زاریف کے تاتاری حکمران کا احوال سناتا ہے جس کا نام وہ “قام بس خان” بتاتا ہے۔ ناقدین کا غالب گمان ہے کہ اِس نام سے سکوائر کا اشارہ چنگیز خان کی طرف ہے۔ قام بس خان ایک بہادر، خوشحال، ذہین، عادل، روادار، رحم دل، معزز، زندہ دِل اور بلند کردار حکمران تھا۔ اِس تاتاری حکمران کی حکومت بڑی شان و شوکت سے چل رہی تھی، ہر طرف امن و امان کا دور دورہ تھا۔ اپنے اقتدار کے بیسویں سال “قام بس خان” نے ایک شاندار تقریب کا اِنعقاد کیا۔

200-the-squires-tale

تقریب جاری ہے اور بادشاہ اپنی ملکہ الفیتا (Elpheta) ، دو شہزادوں اور ایک شہزادی کے ہمراہ محفل میں جلوہ افروز ہے . . . .کہ ایک اجنبی سوار آن پہنچا . . . اور کچھ قیمتی تحائف پیش کئے۔اِن تحائف میں ایک دھاتی گھوڑا ہے جو پیتل جیسی دھات سے بنا ہے اور ایک گھمانے والی چابی سے چلتا ہے ۔ اِس گھوڑے کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ چیزوں کو آناََ فاناََ جادو کے زور سے ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچا دیتا ہے۔

219-squires-tale

اور ایک آئینہ ہے جو بادشاہ کے دوستوں اور دشمنوں کی ذہنی کیفیت اور دل کا اندرونی حال دِکھا سکتا ہے، مستقبل کا حال اور اقرباء کے دل کی کیفیت کا عکس دکھا سکتا ہے۔ . . . . اِس کے علاوہ ایک انگوٹھی ہے جس کے پہننے سے پیغمبر سُلیمان کی طرح پرندوں کی بولی سمجھنے کی قُدرت عطا ہوجاتی ہے۔ اِس کے علاوہ ایک تلوار ہے جو مہلِک زخموں کو جادوئی انداز میں ٹھیک کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ تقریب تمام رات جاری رہی ۔ تحفے لانے والا سوار بھی تقریب میں شامل ہوا۔

اگلے دن، . . . . شہزادی جادوئی انگوٹھی پہنے باغ کی سیر کو نکلی۔ صبح کا سہانا وقت تھا۔ ہر سُو پرندے چہچہارہے تھے۔ اور جادو کی انگوٹھی پہننے کی وجہ سے، شہزادی کو پرندوں کے حسین اور دل موہ لینے والے نغمات کی معانی سمجھ آرہےتھے ۔

چلتے چلتے وہ ایک پرانے درخت کے قریب آئی تو اُس نے ایک ‘ مادہ باز’ کو آہ و بُکا کرتے ہوئے سُنا . . . جو تکلیف کے عالم میں خود کو زخمی کر رہی تھی۔ خُود اذیتی اور شغلِ سینہ کاوی سے خود کو تڑپانا عاشقوں کے ہاں عام سی بات ہے ۔ یہ ایک بہت تکلیف دہ منظر تھا ۔ شہزادی نے پرندے سے اِس کرب کی وجہ دریافت کی۔

168-canace-and-the-falcon

The falcon and the hawk

The falcon and the hawk

باز نے بتایا کہ اُس کا ساتھی باز ،ایک معمولی سے پرندے کی زُلف کا اسیر ہوا اور اُسے چھوڑ کر چلا گیا ہے۔ وہ غمِ فراق سے چُور ہے ۔ یہ داستانِ الم بتا کر باز ، شہزادی کی گود میں بےہوش ہوگئی ۔ شہزادی باز کو اپنے ساتھ محل میں آئی اور اُس کے زخموں پر مرحم لگایا اور اُس کا خیال رکھا۔

291-squires-tale

There sat a falcon overhead full high,
That in a pitiful voice began to cry,
rill all the wood resounded mournfully.
For she had beaten herself so pitiably
With both her wings that the red glistening blood
Ran down the tree trunk whereupon she stood.
And ever in one same way she cried and shrieked,
And with her beak her body she so pricked

اِس کے بعد سکوائر نے کہا کہ اب . . . وہ ، قام بس خان کے معرکوں کا ذکر کرے گا اور یہ کہ اُس کے بیٹے ‘الگارسف’ نے جادو کے گھوڑے سے کیا کمالات سر انجام دیئے اور . . . دوسرے بیٹے ‘کامبلو’ نے جادو کی تلوار سے کیسی کامیابیاں حاصل کیں۔

Knight. Squire and Yeoman on the way

Knight. Squire and Yeoman on the way

کہانی ابھی یہاں تک پہنچی تھی کہ فرینکلن نے بات کاٹتے ہوئے سکوائر کی بہت تعریف کی کہ اِس کم سنی میں کیسی شاندار کہانی سنائی ہے ، اور خواہش ظاہر کی کہ کاش اُس کا اپنا بیٹا بھی سکوائر جیسی ذہانت اور اُٹھان رکھتا ہو۔ میزبان نے فرینکلن کو کہانی ٹوکنے پر سرزنش کی ، جس کے بعد فرینکلن نے اپنی کہانی کا آغاز کیا۔

سکوائر کی کہانی ، . . . سفرِ مشرق کا موضوع لئے ہوئے ایک منفرد اضافہ ہے۔ کہانی میں سکوائر کے مزاج کے مطابق رومانوی اور افسانوی رنگ ہے ۔ شاہی شان و شوکت ، چمک دمک اور جشن کا تذکرہ ہے۔ تاہم یہ بات نقادوں کے لئے ہمیشہ اچھنبے کا سبب رہی کہ . . . . یہ کہانی ادھوری کیوں رہی ؟

The merchant’s tale – 15

-مرچنٹ کی کہانی:

کلرک کے بعد مرچنٹ کی کہانی سُنانے کی باری تھی۔ مرچنٹ نے گریسِلڈا کی ثابت قدمی اور وفاداری کو سراہا اور کہا کہ بہرحال میری بیوی، والٹر کی بیوی گریسِلڈا جیسی نہیں ہے، بلکہ بہت کایاں اور شریر ہے۔ اور یہ کہ طالب علم کی کہانی سُن کر وہ اپنی بیوی اور گریسِلڈا کا موازنہ کرنے پر مجبور ہوگیا ہے۔

مرچنٹ نے اپنی بات کا آغاز کیا کہ تمام شادی شُدہ مرد اِس روایتی کرب کو جانتے ہیں کہ عورت کے ساتھ رہتے ہوئے کِس قدر طوفانی جذبات انسان کی زندگی میں داخل ہوجاتے ہیں اور ہر وقت ایک ہنسنے، بولنے، رونے، ڈرنے اور پریشان رہنے والی خاتون سے آپ کا سامنا رہتا ہے۔ مرچنٹ نے کلرک کے برعکس ایسی کہانی سنائی جہاں عورت کی طرف سے غلطی اور کوتاہی کا ارتکاب ہوجاتا ہے۔

کہانی ہے . . . ایک نابینا نائٹ جنوری January کی، جس نے زندگی میں بہت سی جنگیں لڑی اور عظیم کارنامے انجام دیئے۔ اور پھر کہیں جا کر اُس نے سوچا کہ اب گھر بسایا جائے۔ راوی نے شادی کرنے اور گھر بسانے کے اچھے اِقدام کو سراہا اور اِسی ضمن میں، قبل مسیح کے ایک فلسفی سائنسدان تھیوفراسٹس (Theophrastus) کا ذکر کیا . . . . جو کہ افلاطون کے نظریات کا پیروکار اور ارسطو کا ہم عصر تھا- تاہم کچھ اعتقادات میں اِس کو ارسطو سے اختلاف تھا۔ راوی نے تھیوفراسٹس (Theophrastus) کے شادی مخالف نظریات پر سخت تنقید کی . . .اور انجیلِ مقدس سے ماخوذ حوالہ جات کی روشنی میں شادی کی افادیت اور نیک اثرات بیان کئے۔ اُس نے نائٹ جنوری کی تائید کی اور اچھی بیوی کو خدا کا سدا قائم رہنے والا تحفہ قرار دیا۔نائٹ کو اپنے دوستوں سے بہت سے مشورے ملے۔ نائٹ نے شادی کے لئے کم عمر لڑکی کو بہتر قرار دیا کہ کم عمر عورت ، موم کی طرح جلد ہی اُس کے نظریات اور مزاج کے مطابق ڈھل سکے گی، یوں اُن کے مابین زیادہ مسائل نہیں ہوں گے۔

اچھی عورت سے شادی کو زمین پر ہی ملنے والی جنت سے مشابہ قرار دیتے ہوئے، نائٹ جنوریؔ نے بہت دُھوم دھام سے شادی کرلی۔ اُس کا نگاہِ انتخاب 20 سالہ مےؔ (May) تھی۔ شادی کی شاندار تقریب میں محبت کی دیوی وینسؔVenus مسکراتی ہوئی تمام مہمانوں کو دیکھتی رہی۔

محبت کی دیوی وینس

محبت کی دیوی وینس

مہمانوں میں جنوری کا مزارع دامینDamain بھی تھا جو عرصے سے مےؔ کو چوری چھپے پسند کرتا تھا۔ وہ مےؔ کی شادی پہ بہت اُداس تھا۔ شادی کے بعد جلد ہی، جنوری کے بزرگانہ اور سنجیدہ روئیے کی وجہ سے ، مےؔ کا دل اُچاٹ ہوگیا اور وہ بھی دامین میں دلچسپی لینے لگی۔ دامین اپنی جگہ، دل کی مراد پوری ہوتی دیکھ کر خوشی سے پھولا نہیں سماتا تھا ۔

vol-2-198-merchants-tale

آنکھوں سے محروم نائٹ، جنوری ؔنے گھر کے ساتھ ایک بہت ہی خوبصورت باغیچہ بنوایا ہوا تھا جس کی میں کسی کو آنے کی اجازت نہیں تھی ۔ جنوری اِس باغیچے میں اپنی بیوی کے ساتھ جایا کرتا اور خوبصورت وقت گزارتا۔

vol-2-213-merchants-tale

مَے نے ایک دن دامینؔ کو بھی باغیچے میں بُلوالیا ۔ دامین باغیچے میں ناشپاتی کے پیڑ پر چڑھا اور چھُپ گیا۔ جنوری کی نابینا آنکھوں کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے مےؔ نے پیڑ پر چڑھنے کی خواہش کا اِظہار کیا جسے نائٹ نے پورا کیا اور وہاں موجود اپنے عاشق دامینؔ کے قُرب میں دنیا سے بے نیاز ہوگئی۔

236-merchants-talemerchants tale

اِسی اثنا میں . . . دیوتا پلوٹوؔPluto اور دیوی پروسپریناؔProsperina باغیچے میں آئے اور اُنہوں نے دامینؔ اور مےؔ کو ایک دوسرے کی قُربت میں دیکھا ۔ باہم مشورہ کرکے اُنہوں نے جنوریؔ کی بینائی بحال کردی . . . کہ وہ سب ماجرا اپنی آنکھوں سے دیکھ سکے ۔جنوری ؔ نے وہ منظر دیکھا تو چلّایا۔ مےؔ نے اُسے جواب دیا کہ اُس نے یہ قربانی جنوری کے لئے ہی دی ہے۔ اُسے یہ بتایا گیا تھا کہ اگر وہ اپنے شوہر کی بینائی لَوٹانا چاہتی ہے تو . . . اِس کے لئے اُسے کسی اجنبی مرد کی قُربت میں جانا ہوگا۔

pluto and prosperina

pluto and prosperina

اور اب . . . . چونکہ ابھی اُس کی نظر واپس آنے کے مراحل میں ہے اِس لئے وہ ٹھیک سے نہیں دیکھ پا رہا . . . لہذٰا وہ جو کچھ بھی دیکھ رہا ہے اُس پر بھروسہ نہ کرے۔ ابھی بینائی نے ٹھیک سے کام کرنا شروع نہیں کیا۔ جنوریؔ اپنی بینائی واپس پا کر بہت خُوش ہوا۔ پھولا نہیں سمایا ، مےؔ کو گلے سے لگایا اور اُس دن کے بعد سے . . . وہ دونوں سکون سے خوش باش رہنے لگے۔

غیبی طاقتوں کی دیوی پروسپرینا

غیبی طاقتوں کی دیوی پروسپرینا

The clerk’s tale – 14

-کلرک کی کہانی :

میزبان نے نوٹس کیا کہ کلرک / سٹوڈنٹ تمام سفر کے دوران حد درجہ خاموش رہا ہے، یہاں تک کہ میزبان کو گُمان ہوا کہ وہ پڑھائی کررہا ہے۔ میزبان نے طالبعلم سے کہا کہ اب اُس کی باری ہے اور اب ، . . . . . وہ تمام مسافروں کو ایک مسرور کُن اور ہشاش بشاش کہانی سُنائے۔ اور ہاں . . ایسا نہ ہو کہ وہ اپنی علمی سطح کے مطابق کوئی عالمانہ یا پیچیدہ واقعہ شروع کردے ، بلکہ کوشش کرے کہ عام فہم اور سادہ الفاظ استعمال کرے۔

طالبعلم نے مؤدبانہ انداز میں میزبان کا شکریہ ادا کیا اور ارادہ ظاہر کیا کہ وہ ایک مشہور عالم فرانسِس پیٹرارچ سے سُنی ہوئی کہانی سنائے گا ۔ اِس عالم نے اطالوی زبان کے زیرِ اثر بہت شاندار شاعری کی لیکن آخرکار ہر ذی رُوح کی طرح موت نے اُسے آلیا ، اور اُس کا ادبی سفر تمام ہوا۔ کلرک کی گفتگو اُس کی ذہنی سطح اور لیاقت کی آئینہ دار تھی۔

کہانی ہے اطالیہ کے علاقے سالوزو کی، جو کہ ویزو پہاڑی کے دامن میں واقع تھا۔ اِس علاقے میں والٹر ؔ نامی ایک مارکوئیس رہتا تھا۔ مارکوئیس کا خطاب ڈیوک سے چھوٹے درجے کے کے اُمراء کو دیا جاتا تھا۔ اور . . . والٹر ایک معزز اور ذہین شخص تھا۔ کافی عمر گزر جانے کے باوجود اُس نے شادی نہیں کی ۔ اُس کے آس پاس کے لوگوں نے اُسے شادی کرنے کا مشورہ دیا کہ . . . اُس کا کوئی وارث ہو اور ذہانت کا یہ سِلسلہ جاری رہے۔والٹر ایک شرط پر شادی کے لئے رضامند ہوا کہ اُس کی بیوی خواہ عالی نسب نہ ہو، وہ کسی معمولی گھرانے کی لڑکی سے شادی کرے لیکن پھر بھی خود اُس کے رُتبے اور مقام کے اعتبار سے اُس کی بیوی کوکسی شہزادی کی طرح عزت دی جائے۔ لوگ اِس بات پہ رضامند ہوئے۔

028-this-is-my-bride

آخر کار ، . . . والٹر نے ایک عام سےغریب گھرانے کی لڑکی “گریسِلڈا” سے شادی کرلی۔

346clr11

گریسلڈا ، غریب گھرانے سے ہونے کے باوجود بہت بلند کردار، خوش مزاج اور اچھی عورت تھی جِس نے جلد ہی سب کے دِل میں گھر کر لیا ۔ سب اُسے معزز جانتے اور مِل کے خوش ہوتے۔ پھر اُن کے ہاں ایک بیٹی نے جنم لیا۔ زندگی خوش باش گزر رہی تھی۔ایک بار والٹر کو اپنی بیوی گریسلڈا کی جانثاری اور خلوص آزمانے کا خیال آیا۔

یہاں راوی کہتا ہے کہ والٹر کو بیوی کی آزمائش کا یہ خیال بلا وجہ آیا ، اور یہاں تو وہی مثال صادق آتی ہے کہ . . . . جتنا چھانو اُتنا وہم بڑھے گا-

To assaye a wyf whan that it is no need.

والٹر نے گریسِلڈا سے کہا کہا کہ اُس کی برادری کے لوگ اُس کی چھوٹے گھرانے میں شادی پر ناخوش ہیں اور اِس بچی کے نسب پر معترض ہیں، چنانچہ بچی کا زندہ رہنا ہمیشہ قابلِ ندامت ہوگا ۔ والٹر نے گریسِلڈا سے بچی کو لے لیا

080-griselda-bereft-of-her-first-born

اور چوری چھُپے اپنی بہن کے ہاں بھجوا دیا ۔ گریسِلڈا بےچاری صبر کا کڑوا گھونٹ بھر کر چُپ رہی۔ والٹر کو دل ہی دل میں اپنی بیوی پر بہت ترس آیا لیکن . . . . . کیا کیجیئے کہ آزمانے کا بھُوت سوار تھا۔

100-griselda-deprived-of-her-child

اگلی اولاد ایک بیٹا ہوا اور اب کی بار بھی والٹر نے یہی کہانی دُہرائی ۔ گریسِلڈا کے رنج و الم کی کوئی انتہا نہ رہی مگر وہ بھلی مانس زبان سے صرف اِتنا ہی کہہ سکی کہ اُس کے نصیب میں اولاد کی جانِب سے صرف حمل اور وِلادت کی تکلیف اور جُدائی کے صدمے ہی لِکھے ہیں۔

Lord Walter came

Lord Walter came

پھر وہ دِن آیا کہ گریسِلڈا کی آزمائش تمام ہوئی۔ والٹر نے اُس کی وفاداری کا اعتراف کرتے ہوئے اُسے اُس کے بچوں سے مِلوادیا ۔ بچے جوان ہو کے بہت حسین و جمیل ہو گئے تھے اور وہ سب انتہائی محبت سے رہنے لگے۔

184-clerks-tale

طالب علم نے کہانی کے اِختتام پر وضاحت کی کہ اِس کہانی کی طرح . .کوئی مرد اپنی بیوی کو نہ آزمائے کیونکہ عورت بہت نازک ہوتی ہے اور اُس کا دل جلدی ٹوٹ جاتا ہے ۔ اگرچہ یہ ایک غیر حقیقی کہانی ہے لیکن یہ کہانی سبق دیتی ہے کہ مرد اپنی بیوی سے غیر معمولی اور جان جوکھم خلوص کا متمنّی ہوتا ہے ۔

شوہر حضرات نارمل سطح سے زیادہ توجہ اور وفا کے طلبگار رہتے ہیں جو نہ کبھی عورت پُورا کر سکتی ہے اور نہ ہی اُن مردوں کی تسلّی ہوتی ہے۔ بہت سے مرد اپنی عورت سے اِس قدر زیادہ توقعات وابستہ کرلیتے ہیں جن کا پورا ہونا نامُمکن ہوتا ہے، لہٰذا عورت اُس معیار پر کبھی پہنچ ہی نہیں سکتی۔ اور مرد کبھی عورت کی جانثاری کا درست اندازہ اور قدر نہیں کرتے حالانکہ عورت اپنی جگہ پیار اور معصومیت کا مجسم ہے۔ پُرسکون اور اچھی زندگی کے لئے مرد کو عورت کی چاہت اور محبت کی قدر کرنی چاہیئے اور کبھی آزمانا نہیں چاہیئے۔-