The monk narrates of De Petro Rege de Cipro – 38

کینٹربری کہانیاں یوں جاری ہیں کہ تمام مسافر ، مونک کے المیہ تذکرے سُن رہے ہیں اور اب مونک بارہویں صدی کے اطالوی برنابو وِزکونٹی کی ہلاکت کے بعد ، سولہواں کردار متعارف کرواتا ہے۔

-پیٹر اوّل آف سائپرس:

1328-1369

Pierre_1er_de_Lusignan

جوکہ قبرص کا بادشاہ ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے والد کی، خود اپنی زندگی میں ہی، تخت سے دستبرداری کے بعد1358سے1369میں اپنی وفات تک یروشلم کا برائے نام فرمانروا بھی رہا۔

O worthy Peter, Cypriot king who fought
At Alexandria masterfully
And captured it, who many a heathen brought
To woe! Your lieges in their jealousy
For naught but envy of your chivalry
Have slain you in your sleep before the morrow
So Fortune’s wheel can govern what shall be
And out of gladness bring mankind to sorrow

یہ چودہویں صدی کا زمانہ تھا ۔ چونکہ قبرص اُس وقت ایسی ریاستوں کے گھیرے میں آگیا تھا جو مسلم حکومتوں کے ماتحت تھیں ، چنانچہ قبرص کو مشرقِ وسطٰی میں کلیسا کے نمائندہ کا درجہ دے دیا گیا تھا۔ پیٹر کو اپنی حکومت اور ریاست کی اہمیت کا بخوبی اندازہ تھا ۔ اور اسی ناطے اُسے خود پہ عائد ذمہ داریوں کا شدت سے احساس تھا۔ وہ مسلم حکومت سے مقبوضہ یروشلم واپس لینے کے لئے پُرعزم تھا۔

cyprus-location

اطراف کی مسلم ریاستیں قبرص کے لئے ایک خطرہ تھیں۔ مشرقِ قریب کی سرزمین پر1291میں آخری صلیبی جنگ اپنے انجام کو پہنچی تھی۔ عیسائی گڑھ ختم کردیا گیا تھا۔ اُس وقت ایک نئی اسلامی حکومت اُبھر کر سامنے آئی تھی اور اب . . . عثمانیوں کی آنکھ بازنطینی عیسائی سلطنت کے باقی ماندہ حصّے پر لگی ہوئی تھی جہاں سے شورش کا اندیشہ تھا۔

عثمانی حتمی اور بنیادی طور پر ایک زمینی حقیقت تھے چنانچہ لاطینی عیسائی وحدتوں کو اپنا وجود اور دفاع قائم رکھنے کے لئے سمندر ہی میسر تھا۔ قبرص کے بادشاہ کروسیڈنگ روایات کے وارث تھے تاہم پیٹر کا والد اِس معاملے میں بہت سُست ثابت ہوا تھا۔ اپنے والد کے برعکس پیٹر نے دوبارہ کروسیڈنگ روایت کو اپنانے کا فیصلہ کیا۔ 1360میں ترک شہر اناطولیہ کے کنارے ایک قلعے “کوریکوس ” پر قبضے کے لئے ترکوں کے ساتھ معرکہ آرا رہا۔ قلعہ زیرِ نگین آگیا ۔ اپنے اہم محلِ وقوع کے سبب یہ قلعہ بہت سے حملہ آوروں کے ہاتھوں سے گزرتا ہوا آخرکار ترکوں کی ملکیت اور مسکن بنا۔

800px-Fortressarmenians5

پھر پیٹر یورپ کی طرف روانہ ہوا۔ یورپ اور روم کے سفر کے دوران اُس نے دیگر حکمرانوں کے سامنے ارضِ مقدسہ اور یروشلم کی فتح کا قصد ظاہر کیا اور اِس سلسلے میں اُن سے مدد کی درخواست کی۔ اُس نے انگلستان، جرمنی، فرانس، وینس، جینوا، پیراگوئے اور پولینڈ کا سفر کیا۔

پولینڈ اور پھر لندن میں تقریبات کے دوران ، رومن ایمپرر، ہنگری کے بادشاہ لوئی اول، ڈنمارک کے ولادی میر چہارم، ماسوریا کے سیموٹ، آسٹریا، پومیرینیا، باواریا اور رومن ڈیوکز سے اُس کی ملاقات ہوئی۔ لیکن اِن تمام ملاقاتوں میں اُس نے کسی سربراہ کو یورپ سے متعلق یا عیسائیت سے متعلق کروسیڈ میں شرکت کی دعوت نہیں دی۔

Feast held in London in honour of the King of Cyprus Pierre I Also present were the Kings of England, Scotland, France and Denmark

Feast held in London in honour of the King of Cyprus Pierre I Also present were the Kings of England, Scotland, France and Denmark

پیٹر، 11اکتوبر1365کو قبرصی اور مغربی قوّت کے ساتھ اسکندریہ کی طرف روانہ ہوا۔ یہ سفر کسی نتیجے کے بغیر ، . . واپسی پر ختم ہوا . . . ماسوائے یہ کہ قاہرہ کے سلطان سے اُس کے تعلقات خراب ہوگئے۔اور عیسائی تاجروں کو مصر اور شام کے تجارتی مراکز میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ پوپ اربن پنجم نے اِس صورتِ حال کے پیشِ نظر پیٹر کو فوری طور پر سلطانِ مصر سے صلح کرنے کا کہا۔

The sword was made in Italy in the mid-14th century. Its first duty was diplomatic, as a gift to the Mamluk Sultan of Egypt al-Nasir Hasan from Peter I, By Peter’s time, Cyprus was the last Crusader state in existence.

The sword was made in Italy in the mid-14th century. Its first duty was diplomatic, as a gift to the Mamluk Sultan of Egypt al-Nasir Hasan from Peter I, By Peter’s time, Cyprus was the last Crusader state in existence.

پھر پیٹر نے بیروت پر حملے کا ارادہ کیا . . . لیکن وینس کی جانب سے اُسے معاوضے کے بدلے دمشق پر حملے سے روکا گیا۔ جنوری1366میں طرابلس پر چڑھ دوڑنا، ناکام رہا اور ایک بار پھر پوپ اربن پنجم نے اُسے مصر کے ساتھ امن مذاکرات میں شامل کیا۔

مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ تجارت سے قبرص نے بہت فائدہ اُٹھایا ۔ پیٹر کے وقت میں قبرص کا مشرقی ساحلی شہر “فاماگوستا” بحیئرہء روم کا امیر ترین شہر تھا جہاں آج بھی ترک عمارات نظر آتی ہیں ۔

Lala-Mustafa-Pasa-Mosque-Famagusta-Cyprus

Lala-Mustafa-Pasa-Mosque-Famagusta-Cyprus

مصر کے سلطان نے پیٹر کے طرابلس پر حملے کو صریحاََ بدنیتی سمجھا اور اُس کے ساتھ تجارتی تعلقات نہیں چاہتا تھا۔ سلطانِ مصر نے ایشیائے کوچک کے امراء کو دفاعی امداد دی تاکہ پیٹر کے خلاف کاروائی کی جاسکے۔ ۔ ۔ پیٹر کی، شام کے ساحل، طرابلس اور شامی شہر “لاذقیہ” پر جھڑپیں جاری رہیں اور سلطان سے تعلقات بگڑتے چلے گئے۔ پیٹر کے فوجی دستے دفاعی اخراجات کے لئے آمدنی تنگ ہونے پر بحیرہء روم کے کنارے اسلامی چھاؤنیوں پر چھاپے مارتے اور حاصل ہونے والے مال سے گزارا کرتے۔

The-Taking-of-Alexandria-by-Guillaume-de-Machaut-1372-1377

اِسی دوران قبرص میں اندرونی معاملات انتشار کا شکار ہوگئے، پیٹر اپنے مشیروں اور مصاحبوں کی طرف سے عدم اعتماد کا شکار ہوگیا۔ اور . . . 17جنوری1369کو اُسی کے تین نائٹز اور جرنیلوں نے اُسے اپنے ہی محل کی خوابگاہ میں قتل کردیا ۔

Assassinat of king peter 1 of cyprus

Assassinat of king peter 1 of cyprus

بےانتہا جرات کے باوجود ایک عبرتناک موت پیٹر کا مقدر بنی۔ پیٹر کئی غلط فیصلوں کے باوجود اپنے صلیبی عزم اور ارادے کی وجہ سے بہادری اور شجاعت والا سُورما مانا جاتا ہے۔

2012-03-06 07.40.37

The monk tells of De Barnabo de Lumbardi – 37

کینٹربری کہانیوں میں مونک اپنی کہانی سنارہا ہے اور چودہواں الم ناک انجام اُس نے “ہوگولینو آف پِیسا” کا سنایا جس نے آخری ایام گولانڈی مینار میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر گزارے اور مؤرخین کو اِس بات میں اختلاف ہے کہ آیا وہ مرتے دم آدم خوری کا مرتکب ہوا یا نہیں ۔ یہ سب مسافر کینٹربری کے بڑے کلیسا کی جانب مذہبی زیارت کی غرض سے روانہ ہوئے تھے اور راستے میں ایک دوسرے کو کہانیاں سنانے کا معاملہ طے پایا تھا۔ سب مسافروں نے اپنی اپنی باری پہ کہانی سنائی، یہ کہانیاں الگ الگ اصناف سے تعلق رکھتی ہیں اور جب مونک کی باری آئی تو اس نے ایک مکمل کہانی کی جگہ مشہور شخصیات کےعروج و زوال پہ مشتمل تذکرے سنائے جن کے انجام المیہ اور عبرت ناک تھے ۔ ان تذکروں کو پڑھنے کے دوران آج کا قاری تاریخِ بعید و قدیم کے کئی چہروں سے شناسا ہوتا ہے اور یہ ضرورسوچتا ہے کہ اِن سب واقعات میں کہیں کوئی اشارہ یا سبق پنہاں ہے ؟

مونک کی سولہویں روداد کے مطابق تیرہویں صدی میں سائپرس کا پیٹر اوّل استبداد اور اقتدار کے نشے کا شکار ہوکر بے بسی کی موت مرا۔ پیٹر اوّل کے دردناک قتل کے بعد اُس کا بیٹا پیٹر دوم تخت نشین ہوا ۔ پیٹر دوم نے روم کے علاقے میلان کے گورنر “بارنابو وِزکونٹی”کی بیٹی “ویلنٹینا” سے شادی کی۔

اگلی پندرہویں سوانح اِسی ” بارنابو وِزکونٹی” کی ہے ۔

وِزکونٹی خاندان نے چودہویں صدی سے پندرہویں صدی کے وسط تک، تقریباََ150سال میلان پر شاندار حکومت کی۔ آج کے میلان میں جابجا پُرشکوہ عمارات کی صورت میں اِس خاندانِ شاہی کے جاہ و جلال کی نشانیاں نظر آتی ہیں۔ بارنابو وِزکونٹی کی روداد کے سلسلے میں اِس خاندان کے پس منظر اور چند افراد کا کچھ تعارفی ذکر ضرور دلچسپی اور عبرت کا باعث ہوگا۔

Coat of arms of the House of Visconti, on the Arch-bishops' palace in Piazza Duomo, in Milan, Italy.

Coat of arms of the House of Visconti, on the Arch-bishops’ palace in Piazza Duomo, in Milan, Italy.

میلان کے وِزکونٹی خاندان نے ایک قوی الجثہ سانپ کے نشان کو اپنی علامت کے طور پر اپنایا ۔ اس سانپ کو اطالوی میں بِزکوائن کہا جاتا ہے ۔ اِس سانپ کا منہ کھلا ہے اور ایک “ساراکین” کو نِگل رہا ہے۔ ساراکین کا لفظ میڈیول زمانے میں اہلِ شرق، اہلِ اسلام یا عربوں کے لئے مستعمل تھا۔ غالب گمان ہے کہ . . . ساراکین یا ساراسین کا لفظ، عربی لفظ ‘شرقیّوں’ سے ماخوذ ہے۔ یہ علامت آج بھی میلان سے بخوبی منسوب ہے۔

420px-Coat_of_arms_of_the_House_of_Visconti_(1395).svg
600px-Alfa_Romeo.svg

-برنابو وِزکونٹی :

1323-1385

برنابو ایک اطالوی سپاہی تھا جو بعد میں میلان کا لارڈ اور گورنر بنا۔ میلان میں پیدا ہوا۔ 27 سال کی عمر میں ویرونا کے لارڈ کی بیٹی “بیٹرائس” سے شادی ہوئی جس سے دونوں شہروں میلان . . اور . . ویرونا میں سیاسی اور ثقافتی تعلقات بڑھے۔

Bernabò_e_Beatrice_Visconti

O Barnabo Visconti, Milan’s great
God of delight, scourge of Lombardy, why
Should not all your misfortunes I relate
Once you had climbed to an estate so high
Your brother’s son, in double sense ally
Your nephew and your son-in-law as well
Put you inside his prison, there to die
Though why or how I do not know to tell

-1354میں اپنے چچا جیوانی کی وفات پر میلان کا لارڈ بنا۔ اقتدار کو وسعت دینے کے جنون میں، بہت سی جنگی مہمات کے بعد ، ویرونا سمیت کئی مشرقی علاقوں پر قابض ہوگیا ۔ برنابو کے ساتھ اِن علاقوں کی حکمرانی میں اُس کے دو بھائی، ماتیو اور گلیاتزو بھی شریک تھے۔ ماتیو پر چالاکی کا شُبہ گزرا تو باقی دونوں نے1355میں اُس کے کھانے میں زہر ڈلوا کر اُسے مروادیا۔ اُس کی جاگیر کو برنابو اور گلیاتزو نے شرقاََ غرباََ آپس میں تقسیم کرلیا۔

Galeazzo II Visconti

Galeazzo II Visconti

کچھ عرصے بعد ، برنابو کے بھائی گلیاتزو کی صحت خراب ہونے لگی ، اور اُس نے اپنی زندگی پاویا کے شہر تک محدود کرلی جہاں ایک عالی شان قلعہ اُس نے خود بڑے اہتمام سے تعمیر کروایا تھا۔ گلیاتزو نے ریاست کے مجرموں کو “پہیے پر پھانسی” دینے کی وجہ سے بہت بدنامی کمائی۔ پہیہ ، پُر اذیّت سزائے موت دینے کا ایک آلہ تھا جس میں ریاستی یا سرکاری مجرموں کو نوکدار کیلوں والے ایک بڑے چوبی پہیے سے باندھ کر لوہے یا لکڑی کے لَٹھ سے مارا جاتا جس سے اُن کی ہڈیاں ٹوٹ جاتیں۔ ایک دن ہولناک تعذیب اور تشدد ہوتا اور ایک دن چھوڑ دیا جاتا ۔ چالیس دن تک جاری رہنے والی اِس سزا کے لئے کلیسائی اصطلاح ‘قارسیما’ استعمال کی جاتی تھی جس کے معنی چالیس دن کا عمل یا چِلّہ ہے۔ یہ پہیہ اُنیسویں صدی تک جرمنی میں مستعمل تھا۔

Cartoucheroué
a96697_a458_st-catherine

برنابو ایک ظالمانہ ، بےرحم حکمران اور چرچ کا سفّاک دشمن تھا۔ اطراف کی ریاستوں سے مستقل جھڑپیں جاری رکھنے پر1364میں ایک امن معاہدے کے تحت برنابو پر5لاکھ اطالوی سکوں کا جرمانہ عائد کیا گیا۔ اس کے بعد بھی اُس نے متعدد بار اپنے اطراف کے شہروں پر چڑھائی کی۔ جب اُس نے پوپ کے شہر بولوگنا پر قبضہ کیا تو پوپ اربن پنجم نے اِس کی اتھارٹی مسترد کردیا ۔ برنابو کئی بار پوپ کے خلاف محاذ آرا ہوا لیکن ہر بار پوپ اور کلیسا کے وفادار فوجیوں کے ہاتھوں منہ کی کھانا پڑی۔

Visconti,_Barnabò

اِن حرکتوں کی وجہ سے1373میں برنابو اور گلیاتزو پر دین سے خارج ہونے کا تکفیری حکم اور قطع تعلق کا فرمان جاری کردیا گیا۔ کلیسائی جائیداد ضبط کرلی گئی۔ لین دین اور معاشرتی تعلقات سے منع کردیا گیا۔ بارنابو کو لادین قرار دے کر اُس کے خلاف کروسیڈ کو جائز قرار دیا گیا۔

برنابو نے . . . . پوپ کا فرمان لانے والے دو قاصدوں یا مندوبین کو حراست میں رکھا اور انھیں مجبور کیا کہ وہ . . . چمڑے کا فرمان، اُس پر لگی مہر اور ریشمی ڈوری ، جس سے فرمان باندھا گیا تھا، کھائیں۔

quill and parchment

-1378 میں ایک طرف گلیاتزو کی موت واقع ہوئی اور دوسری طرف میلان میں طاعون کی وبا پھوٹ پڑی لیکن ایسے میں بھی برنابو کی شورشیں جاری رہیں اور اُس نے کلیسا کے خلاف مزاحمت جاری رکھی۔ اُس وقت تک برنابو کی خود سر مطلق العنانیت اور بے تحاشا ٹیکسوں نے میلان کے عوام کو مشتعل کردیا تھا۔ ظلم آخری حد پہ پہنچ چکا تھا اور اقتدار کی سرمستی سر چڑھ کر بول رہی تھی۔ ازل کے فیصلوں میں ایسی بدمستی کے بعد زوال کا وقت طے ہے۔

402px-Josse_Lieferinxe_-_Saint_Sebastian_Interceding_for_the_Plague_Stricken_-_Walters_371995

آخرکار1385میں بارنابو کے بھتیجے، گیان گلیاتزو وِزکونٹی نے اُسے معزول کردیا اور اپنے لارڈ ہونے کا اعلان کردیا ۔ گیان نے اپنے چچا برنابو کو اطالوی صوبے لومبارڈی، کے ضلع میلان کے علاقے ٹریزو میں واقع، طاقتور وزکونٹی خاندان کی ملکیت ایک بہت بڑے اور مضبوط قلعے میں قید کروادیا۔ قسمت کی ستم ظریفی دیکھیئے . . . کہ بارنابو اپنے دورِ حکومت میں خود ٹریزو کے اس قلعے کا مختارِ کُل رہا تھا اور اِس قلعے کی تعمیر اور آرائش پر خصوصی توجہ دی تھی۔

2013-09-07-15-39-23

اِس قلعے میں برنابو آخری سانس تک قید رہا ۔ کہا جاتا ہے کہ اُسی سال کے آخر میں اُسے بھتیجے کے حکم پر زہر دے کر مار دیا گیا تھا۔ جبر و استبداد اور طاقت کے گھمنڈ کے بعد قلعے کی خاموش اور کرخت دیواروں کے درمیان بےبسی کی موت نے برنابو کو اپنی آغوش میں لے لیا ۔

برنابو وزکونٹی کی سترہ اولادیں ہوئیں جن میں سے سات بیٹیاں تھیں۔ ایک بیٹی “ویلنٹینا” کی شادی پیٹر دوم آف سائپرس سے ہوئی ۔ جبکہ ایک بیٹی “کترینا وزکونٹی” نے اپنے چچا کے بیٹے “گیان گلیاتزو وزکونٹی” سے شادی کی اور ڈچس آف میلان کہلائی۔ اُس کے دو بیٹوں گیان اور فلپّو میں سے تخت و تاج فلپّو کے نصیب میں آیا اور وزکونٹی خاندانِ عالیہ کی روایت قائم رہی۔ البتہ فلپّو، وِزکونٹی خاندان کے آخری مرد کی حیثیت سے1447میں اِس دنیا سے رخصت ہوا۔ اُس کی واحد طبعی اولاد، اُس کی بیٹی “بیانکا ماریا ” تھی جو ایک کنیز کے بطن سے تھی۔ یوں میلان کا تخت ، جس کی خاطر زمین کئی بار وزکونٹی خون سے رنگی گئی، وِزکونٹی خاندان سے سفورزا خاندان کو منتقل ہوگیا۔ میلان کا اقتدار، فلپّو کی بیٹی کے ذریعے اُس کے داماد فرانسسکو سفورزا اوّل کے نصیب میں آیا جو ایک اطالوی سُورما کی سات غیر قانونی اولادوں میں سے ایک تھا۔

Bianca_Maria_Visconti_and_Francesco_I_Sforza

Bianca_Maria_Visconti_and_Francesco_I_Sforza

بارنابو وِزکونٹی کی اپنی تیرہ غیر قانونی اولادیں تھیں جن کو1384کی ایک تقریب میں قانونی قرار دے دیا گیا تھا۔

برنابو کے بعد اُس کا بھتیجا گیان گلیاتزو وِزکونٹی میلان کی حکومت کو بامِ عروج پر لے گیا۔ وہ میلان کا پہلا ڈیوک اور “سی نی یور” کہلایا ۔ بہت سی تعمیرات اور اصلاحی کام کروائے۔

Gian Galeazzo Visconti

Gian Galeazzo Visconti

میلان کا مشہور گرجا گھر / دوعومو دی میلانو/ Duomo di Milano
اٹلی کے شہر میلان میں واقع ہے اور میلان کے آرک بشپ کی نشست ہے۔ گیان گلیاتزو نے اس گرجا گھر کی تعمیر میں خصوصی دلچسپی لی، مشہور معمار متعین کئے ۔ لگ بھگ ڈیڑھ سو میٹر بلند گرجا گھر کیتھولک عیسائی طرز عبادت کی روایات، غیر معمولی ورثہ اور شاندار گوتھک طرز تعمیر کی وجہ سے دنیا بھر میں شہرت رکھتا ہے۔ چودھویں صدی عیسوی سے انیسویں صدی عیسوی تک تعمیر ہونے والے اس گرجا گھر کا شمار دنیا کے بڑے ترین گرجا گھروں میں ہوتا ہے۔

Duomo Di Milano

Duomo Di Milano


OLYMPUS DIGITAL CAMERA

پاویا کا “وزکونٹی قلعہ” بھی ایک نشانِ عبرت ہے جسے برنابو کے بھائی گلیاتزو نے تعمیر کروایا اور وہیں قیام پذیر رہا۔ بعد ازاں گیان گلیاتزو نے اِس سے ملحقہ ایک چارٹر ہاؤس بنوایا ۔ چارٹر ہاؤس سے مراد مختلف عمارات پہ مشتمل ایسا کمپلیکس ہے جس میں گرجا گھر، خانقاہیں، راہبوں کے حجرے، مزار اور مقبرے، میوزیم، لائبریری، رہائشی محلات اور دربار شامل ہوں۔ چارٹر ہاؤس کی عمارات پہلے پہل کلیسائی اثر کے تحت سادہ بنائی جاتی تھیں مگر بعد ازاں رینے سانس نے جدّت کی راہیں کھولیں اور کلیسا ئی گرفت کمزور پڑنے لگی ۔

پاویا کا وزکونٹی قلعہ

پاویا کا وزکونٹی قلعہ


800px-Lombardia_Pavia2_tango7174
pavese-certosa-chiostro_piccolo_or-foto_U.Barcella
800px-PathToTheCertosaDiPavia
pavese-certosa-chiostro_grande-foto_U.Barcella
Pavese-Certosa_di_Pavia_(PV)-int

رینے سانس کے زیرِ اثر اِن عمارات اور اِس چارٹر ہاؤس کے لئے نامور مصوّر اور معمار متعین کئے جاتے جو غمِ روزگار سے بےگانہ ہوکر لازوال شہ پارے تخلیق کرتے۔ رینے سانس یا نشاۃ الثانیہ کا بہت سا تخلیقی کام اسی طرح وجود میں آیا ۔ پاویا کے چارٹر ہاؤس میں ، جہاں وزکونٹی خاندان کے مقبروں پر مشتمل شہرِ خاموشاں اِس دنیا کی بے ثباتی کی داستان ہے ، وہیں سو سے زائد مصوّروں کے بےمثل شہ پارے آویزاں ہیں جو رینے سانس آرٹ میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں۔ یہیں لیونارڈو ڈونچی کی پُراسرار مسکراہٹ والی “مونا لیزا ” بھی آرٹ کے قدردانوں میں گھِری نظر آتی ہے۔

800px-MonaLisaShield

آج کے میلان میں جابجا وِزکونٹی خاندان کے پُرشکوہ محلات اور مضبوط، بلند و بالا قلعے دیکھنے والوں کی دلچسپی کا باعث ہیں۔ اِن میں ٹریزو کا قلعہ سرِ فہرست ہے۔ دو جانب سے دریا میں گھِرا ، یہ وہی قلعہ ہے جہاں برنابو نے قید میں آخری لمحات گزارے اور پھر زہر خورانی سے ہلاک ہوا۔ ایک شاندار زندگی کے بعد زوال آیا اور پھر بے بسی کی موت اُس کا مقدر ہوئی۔ بس اقتدار کو جانے والا راستہ ایسا ہی مشکل ہوتا ہے جہاں چلنے والے بڑے بڑے پھسل جاتے ہیں اور بدنام ہوکر اگلے جہان سِدھارتے ہیں۔ میلان کے سفورزا قلعے میں برنابو کا ایک مجسمہ بھی عبرتِ عالم بنا کھڑا ہے۔

Castello de trezzo

Castello de trezzo


Trezzocentraletaccani-Centrale Taccani Trezzo d'Adda
Castello_Sforzesco

Castello_Sforzesco


Monument to Bernabò Visconti (1323-1385). The monument comes from the now demolished church of San Giovanni in Conca (whose ruins s

The monk regrets De Hugelino comite de Pize -36

کینٹربری کہانیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ موسمِ بہار کی آمد کے ساتھ ہی، لندن کے مضافات سے اُنتیس مسافروں کا ایک قافلہ ، کینٹربری کے بڑے کلیسا کی جانب عازمِ سفر ہے۔ چودہویں صدی میں سفر کچھ ایسے آسان نہ تھے، چنانچہ سفر کی صعوبتوں سے توجہ ہٹانے اور جی کو بہلانے کے لئے زائرین نے دورانِ سفر،آپس میں کہانیاں سنانے کا مقابلہ طے کیا۔ سولہ مسافروں کے بعد جب مونک کی باری آئی تو مونک نے ایک مکمل کہانی نہیں سنائی بلکہ بہت سی مشہور شخصیات کی شاندار زندگی اور بالآخر عبرت انجام پر مبنی حالات سنائے۔ ان شخصیات میں سے چند ایک دیومالائی کردار تھے اور کچھ قبل مسیح کے تاریخی مشاہیر، اور اب وہ بارہویں صدی کے ایک کردار کا ذکر کررہا ہے جو کہ بدترین انجام سے دوچار ہوا۔

مونک کی المیہ روداد آگے بڑھتی ہے اور مونک اب گیارہویں شخص کے حالِ زندگی اور بدترین موت کا ماجرا سناتا ہے۔

- اوگولینو/ہوگولینو آف پِیسا:

Conte-Ugolino-Pisa-Dante-Stampa-antica-1700

(1220 – 1289)

اطالوی ٹھاکر یا نواب، منصب دار ، سیاستدان اور نیوی کمانڈر تھا۔ متعدد بار غداری کا مرتکب ٹھہرا، الزامات عائد ہوئے ، مقدمات چلائے گئے ، جیل ہوئی ، اور سزائے موت پائی ۔ اطالوی شاعر دانتے نے ڈیوائن کامیڈی میں اِس کردار کے بارے میں خاصی تفصیل سے لکھا ہے اور اس کے عبرت ناک انجام کا نقشہ کھینچا ہے۔ جن مصوروں نے ڈیوائن کامیڈی کو کینوس پہ رنگوں کی مدد سے پیش کیاِ، انہوں نے ہوگولینو کو بھی اپنے تخیّل کے زور پر دِکھایا۔ مجسمہ سازوں نے اپنے تئیں ہوگولینو کے انجام سے انصاف کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے ۔

tumblr_mcs4apVVeI1rufr77o8_500
tumblr_lppulmmjBY1qggdq1

Of Ugolino, Count of Pisa’s woe
No tongue can tell the half for hot pity
Near Pisa stands a tower, and it was so
That to be there imprisoned doomed was he
While with him were his little children three
The eldest child was scarce five years of age
Alas, Fortune! It was great cruelty
To lock such birds into such a cage

MetaArchibishop of Pisa, accuses Ugolino of treachery and orders him, his sons, his grandsons thrown into prison, where they are abandoned, the key thrown into the river.
Count Ugolino della Gherardesca and his sons left to starve in the Muda
Ugolino

پیسا . . .آج بھی اپنے مشہور ٹیڑھے مینار کی وجہ سے تمام عالم کی دلچسپی کا محور ہے اور ہر سال سیاحوں کی ایک بڑی تعداد اس مینار کو دیکھنے آتی ہے۔ سائنسدانوں نے ہر ممکن سعی کرلی کہ اس مینار کے جھکاؤ کا سبب معلوم کرسکیں مگر یہ راز کبھی کسی پہ نہ کھُلا ۔ مشہور ریاضی دان اور ماہرِ فلکیات، گیلیلیو کا شہر بھی پِیسا ہی تھا۔ کم ہی لوگ جانتے یا سوچتے ہوں گے کہ اسی شہر میں بدبخت ہوگولینو بھی کبھی تخت و تاج پہ متمکن تھا جو ایک کرب ناک موت سے ہم آغوش ہوا۔

Pisa-Italia
Gallileo on the tower of Pisa

تیرہویں صدی کے اٹلی میں ، پِیسا کا علاقہ ، دو نمایاں گروہوں ، گولیفر اور گھیبلن کے مابین بٹا ہوا تھا ۔ اقتدار اور حکم کی رسّہ کشی ان دونوں گروہوں کے درمیان ایک عرصے سے جاری تھی۔ اوگولینو کا تعلق ، گھیبلن والوں سے تھا۔

-1271 میں اوگولینو کی بہن کی شادی نسبتاََ زیادہ مستحکم ، وِزکونٹی خاندان میں ہوئی جو کہ مخالف گروہ گولیفر کے حلیف تھے ۔ اوگولینو نے اپنی وفاداریاں مخالف گروہ سے وابستہ کرلیں جس پر اُس کے حامیوں میں اُس کے خلاف شکوک و شبہات پیدا ہوگئے۔

-1274 میں اوگولینو کو اپنے بہنوئی جیوانی کے ہمراہ گرفتار کرلیا گیا اور اُن پر گولیفرز کے ساتھ مِل کر پِیسا کی حکومت کے خلاف سازشوں کا الزام عائد کیا گیا۔ اوگولینو کو جیل کی سزا ہوئی اور جیوانی کو شہر بدر کر دیا گیا۔ جیوانی کچھ ہی دنوں بعد چل بسا ۔ تو گویا جس کے سبب اوگولینو پر شک تھا، وہ سبب ختم ہوجانے پر ، اُسے آزاد کر دیا گیا۔ رہائی کے بعد اوگولینو نے دشمن گولیفرز کے ساتھ مِل کر اپنے آبائی شہر پِیسا پر حملہ کیا اور دشمن کے تمام قیدی آزاد کروا لئے۔

fight  between the militias of the Guelf and Ghibelline factions in the Italian commune of Bologna

fight between the militias of the Guelf and Ghibelline factions in the Italian commune of Bologna

-1284 میں پِیسا اور جنواGenoa میں جنگ چھڑ گئی۔ اوگولینو ، پِیسا کا نیوی کمانڈر تھا ۔ پِیسا کے بحری جنگی بیڑے میں شامل جہازوں اور سپاہیوں کو خاطر خواہ نقصان پہنچا اور . . . .پھر ایک بدترین مانوس منظر . . . کہ اوگولینو اور اُس کی ڈویژن نے دشمن کے سامنے ہتھیار ڈال کر . . اپنی شکست تسلیم کر لی۔ بعد ازاں اُس کے اِس اقدام کو صریحاََ غداری، ملّی بھگت اور وطن دشمنی کا نام دیا گیا ۔ جس کی پاداش میں اُس پر سنگین فردِ جرم عائد کی گئی ۔

ِپیسا کے دشمن، جنوا کی طرف سے ، قبضے کے بعد غدارِ وطن اوگولینو کو ، پِیسا کا حاکم مقرر کیا گیا۔ اوگولینو نے جنوا اور پِیسا کے مابین قیامِ امن کی ہر کوشش کو ناکام بنایا ، امن کی ہر پیشکش میں رکاوٹ ڈالی کیونکہ امن کی صورت میں ، اُس کے اپنے بھائی بندے اُسے غدار قرار دیتے اور اُس کی حاکمیت خطرے میں پڑ جاتی۔ چنانچہ وہ دشمن کے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے ، اپنی ہی مادرِ وطن پر ، دشمن کا نمائندہ بن کر حکومت کے مزے لیتا رہا۔

-1287 میں اوگولینو کا ، اپنے بھانجے سے جھگڑا ہوگیا اور اُس کا بھانجا مخالف گروہ گھیبلن سے جا ملا۔ اِس حرکت کے جواب میں اوگولینو نے گھیبلنز کے سرکردہ گھرانوں کو پِیسا شہر سے نکال باہر کیا اور اُن کے محلات تباہ کر دیئے ۔

-1288- جنوا سے امن مذاکرات نہ ہونے کی وجہ سے ، پِیسا کی معیشت پر بہت بُرا اثر پڑا۔ کاروبار تباہ ہوگئے۔ افراطِ زر بے انتہا بڑھ گئی۔ خوراک کی قلت ہوگئی اور جرائم بڑھ گئے۔ لوگوں میں بےچینی اور تشویش پھیل گئی۔ عوامی مظاہرے اور باغیانہ تحریکیں عام ہونے لگی۔

ایک عوامی مظاہرے کے دوران ، اوگولینو نے آرچ بشپ کے بھتیجے کو قتل کر دیا جس سے عوام مشتعل ہوگئے ۔ گھیبلن کی سربراہی میں ایک مسلح گروہ نے اوگولینو کا تعاقب کیا۔ اوگولینو ٹاؤن ہال میں مورچہ بند ہوگیا ۔ بپھرے عوام نے ٹاؤن ہال کو آگ لگا دی اور اوگولینو کو ہار ماننی پڑی۔ وہ گرفتار ہوگیا۔

مختلف الزامات اور غداری کے مقدمات کے بعد، اوگولینو کو اُس کے دو بیٹوں، اور دو پوتوں کے ساتھ ، گولانڈی مینار میں قید کردیا گیا۔ گولانڈی مینار آج بھی موجود ہے اور ایک عمارت کی تعمیر میں شامل کرلیا گیا ہے۔

The Torre dei Gualandi

The Torre dei Gualandi


Conte_Ugolino_torre_della_fame_gualandi_pisa

The clock tower connects two Medieval towers, one of which is part of an infamous historic event. In the 1200s, prominent Pisan citizen Count Ugolino was involved in political intrigue which resulted in his arrest. He and his family were supposedly locked up in the Torre dei Gualandi and left to starve. Legend has it that the Count went mad and consumed his granddaughter. The episode is featured in Dante’s Inferno and is the reason the tower is more commonly known as Torre dei Fame, or Tower of Hunger

Arno_River_in_Pisa

Arno_River_in_Pisa

-1289میں آرچ بشپ کے حکم پر مینار کی چابیاں ، آرنو دریا میں پھینک دی گئیں ۔ جو اس بات کی دلالت تھی کہ اب اوگولینو کو تا دمِ مرگ اسی مینار میں تڑپنے کے لئے چھوڑ دیا گیا ہے۔ اس کے بعد اوگولینو کا حال کسی کو معلوم نہیں کہ مینار کے اندر کیا ہوا۔ البتہ تاریخی محققین ، مصوروں اور شاعروں نے اپنا اپنا دماغ لڑایا اور اپنے اپنے اندازے پیش کئے کہ آخری ایّام میں اوگولینو اور اُس کے بیٹوں اور پوتوں کے مابین کیا ہوا ہوگا۔ بھوک، پیاس اور قیدِ تنہائی کے ہاتھوں تڑپ تڑپ کر جان دیتے ہوئے ، مینار کے اندر آخری مناظر کیا ہوں گے؟ بیٹوں نے باپ کو کیا پیشکش کی ہوگی، میرے قلم میں وہ الفاظ لکھنے کی سکت نہیں، چنانچہ دانتے کے اشعار اور مندرجہ ذیل اقتباس پیش ہے۔

اطالوی شاعر دانتےؔ(1205-1321)نے اپنی نظم “انفرنو” بمعنی ‘جحیم’ میں، اوگولینو کو جہنم کے اُس حصے میں دکھایا ہے جہاں اپنے وطن ، نسل اور قبیلے کے غداروں کو دردناک سزا دی جارہی ہے۔

69ugolino

دانتےؔ ہی نے ایک تمثیلی نظم “ڈیوائن کامیڈی” میں اوگولینو اور اُس کے بیٹوں کا مکالمہ لکھا ہے جو اُن کے مابین مرنے سے پہلے ہوا۔

‘Father our pain’, they said,
‘Will lessen if you eat us you are the one
Who clothed us with this wretched flesh: we plead
For you to be the one who strips it away’.
(Canto XXXIII, ln. 56–59)

… And I,
Already going blind, groped over my brood
Calling to them, though I had watched them die,
For two long days. And then the hunger had more
Power than even sorrow over me
(Canto XXXIII, ln. 70-73)

Ugolino’s statement that hunger proved stronger than grief, has been interpreted in two ways, either that Ugolino devoured his offspring’s corpses after being driven mad with hunger, or that starvation killed him after he had failed to die of grief

Ugolino and his sons
Inferno_Canto_33,_Gustave_Dorè_2
Inferno_Canto_33,_Gustave_Dorè

Scientific analysis of the remains

In 2002, paleoanthropologist Francesco Mallegni conducted DNA testing on the recently excavated bodies of the Ugolino and his children. His analysis agrees with the remains being a father, his sons and his grandsons. Additional comparison to DNA from modern day members of the Gherardesca family leave Mallegni about 98 percent sure that he has identified the remains correctly. However, the Forensic analysis discredits the allegation of cannibalism. Analysis of the rib bones of the Ugolino skeleton reveals traces of magnesium, but no zinc, implying he had consumed no meat in the months before his death. Ugolino also had few remaining teeth and is believed to have been in his 70s when he was imprisoned, making it further unlikely that he could have outlived and eaten his descendants in captivity. Additionally, Mallegni notes that the putative Ugolino skull was damaged; perhaps he did not ultimately die of starvation, although malnourishment is evident

Blake_Hell_33_Ugolino

Ugolino and his sons in their cell, as painted by William Blake circa 1826. Ugolino della Gherardesca was an Italian nobleman who, together with his sons Gaddo and Uguccione and his grandsons Nino and Anselmuccio were detained in the Muda, in March 1289. The keys were thrown into the Arno river and the prisoners left to starve. According to Dante, the prisoners were slowly starved to death and before dying Ugolino’s children begged him to eat their bodies

452px-Ugolino

The monk tells of Nero – 35

چودہویں صدی کے مشہور انگریز شاعر جیفری چاوسر کی کئی جلدوں پر مشتمل نظم کینٹربری کہانیاں، آج بھی انگریزی پڑھنے والوں کے لئے ایک خاص کشش رکھتی ہے۔ تقریباََ دنیا کی سبھی یونیورسٹیوں کے انگریزی نصاب میں یہ نظم یا اس کے کچھ حصے شامل کئے جاتے ہیں۔ اس نظم کے تمام کردار اپنی اپنی جگہ منفرد ہیں ۔ اس نظم کے مطابق لگ بھگ انتیس مسافروں نے اکٹھے کینٹربری کے بڑے کیتھیڈرل کے لئے سفر کا ارادہ کیا ۔

چاوسر کے زائرین کا سفر کینٹربری کی جانب رواں دواں ہے اور اب باری ہے مونک کی . . . کہ وہ سفر کے آغاز میں طےکردہ اصول کے مطابق اپنی کہانی سُنائے لیکن مونک نے ایک باقاعدہ کہانی کی بجائے سترہ ایسی شخصیات کا احوال سنایا جو سطوت اور سلطنت کے عروج پہ تھیں اور پھر اپنے کسی عمل کی پاداش میں اُن پہ زوال آیا اور اُن کا دردناک انجام ہوا۔

رومی جولیئس سیزر کی عبرت ناک موت کے بعد تیرہواں نام “نیرو” کا ہے۔

-12-نیرو:

37-68عیسوی

NERO

NERO

نیرو ، سلطنتِ روم کا پانچواں اور آخری سیزر تھا۔ جی ہاں . . .بالکل بانسری والا نیرو۔ اِس کا پورا نام ” نیرو کلاڈئیس سیزر آگسٹس ” تھا اور نیرو کے ساتھ ہی جولیو کلاڈئیس ڈائے نیسٹی یا خاندان ِ شاہی کا عہد اختتام پذیر ہوا۔

-37 عیسوی میں پیدا ہوا ۔54سے68تک روم کے سیاہ و سفید کا مالک رہا ۔ مؤرخ فیصلہ نہیں کرپائے کہ اُس کے سیاہ کارنامے زیادہ ہیں یا سفید۔ نیرو ظلم، جنونی سفاکی اور بے حسی میں شہرت رکھتا تھا۔ نیرو کے عہد کا ایک مؤرخ زیادہ مستند مانا جاتا ہے جس کا نام “ٹیسی ٹس” Tacitus تھا ۔آج نیرو کے بارے میں حاصل کردہ بیشتر معلومات کا مصدر یہی مؤرخ ہے۔

نیرو اپنے چچا کے قتل کے بعد تخت نشین ہوا۔ نیرو کو اُس کے چچا کلاڈئیس نے گود لیا ہوا تھا ۔ کہا جاتا ہے کہ کلاڈئیس کو نیرو کی ماں “اگرِپنا” نے قتل کروایا تھا ۔ اگرِپنا نے اپنے شوہر کی وفات کے بعد کلاڈئیس سے اسی مقصد کے تحت شادی کرلی تھی۔ نیرو کی ماں چاہتی تھی کہ کلاڈئیس کے اپنے طبعی بیٹے ” بریٹا نیکا س” کے جگہ نیرو بادشاہ بنے۔

نیرو شروع سے ہی منہ زور اور جنونی تھا ۔ اقتدار نے اِس فطرت کو ہوا دی اور اُس نے اپنی ماں اگرِپنا، دو بیویوں اوکتاویا اور پوپیا سبینا . . . اور اپنے محسن چچا کلاڈئیس کے بیٹے بریٹانیکا سBritannicus کو قتل کروایا۔ نیرو نے پہلی بیوی اوکتاویا کو قتل کروایا اور اُس کے بعد پوپیا سبینا کے شوہر کو مروا کر اُس سے شادی کی۔ نیرو کی ماں نے اِس اقدام کو اُس کی بادشاہت کے لئے خطرہ سمجھتے ہوئے مخالفت کی تو نیرو نے ماں کو ایک کشتی میں ڈبو کر مارنے کا پلان بنایا ۔ کشتی ڈوبی تو اگرِپنا تیر کر جان بچانے میں کامیاب ہوگئی۔ چار ناکام قاتلانہ حملوں کے بعد نیرو نے اپنے جلادوں سے ماں پر حملہ کروایا ۔ کئی وقائع نگاروں کے مطابق نیرو خود بھی ماں کو قتل کرنے والوں میں شامل تھا۔ اگرِپنا نے مرنے سے پہلے بیٹے پر لعنت بھیجی ، بد دعا مانگی اور آخری الفاظ تھے کہ ‘میری کوکھ پر ضرب لگاؤ جہاں سے ایسے بدبخت بیٹے نے جنم لیا’۔ کچھ کہتے ہیں کہ یہ الفاظ نیرو سے ہی مخاطب ہو کر اگرِپنا نے کہے جس نے ایسا ہی کیا ۔

Smite my womb

Agrippina crowns her son Nero

Agrippina crowns her son Nero

Though Nero was as vile and villainous
With rubies, sapphires, pearls of purest white
Were all his clothes embroidered; one could tell
In precious stones he took a great delight

He had Rome burnt for his delight, a whim
And senators he ordered slain one day
That he might hear the cries that came from them

He slew his brother, by his sister lay
And mangled his own mother–that’s to say
He slit his mother’s womb that he might see
Where he had been conceived. O well away
That he held her no worthier to be

Not one tear from his eye fell at the sight
He simply said, “A woman fair was she
The wonder is how Nero could or might
Be any judge of her late beauty.

Then ordered wine be brought, which instantly
He drank–he gave no other sign of woe
When power has been joined to cruelty
Alas, how deeply will the venom flow

-65میں نیرو کی دل پسند بیوی “پوپیا سبینا” مرگئی۔ 66کےآغاز میں اُس نے “میسیلینا” سے شادی کرلی اور اُس سے اگلے سال اُس نے ایک لڑکے “سپورس” سے بیاہ رچالیا۔ نیرو نے سپورس کا مخصوص آپریشن کروا کر اُس کو اپنے حرم میں شامل کیا ۔ شاہی اور عوامی تقریبات میں سپورس ملکہ کا مخصوص شاہی لباس پہنا کرتا اور اُسے ‘ایمپرس’ اور ‘لیڈی’ جیسے شاہی القابات سے پکارا جاتا ۔ مؤرخین کے ہاں اِس بارے میں متضاد آراء ملتی ہیں کہ نیرو کے حرم میں سپورس سے پہلے بھی ایک مرد شامل تھا۔ کچھ اُسے دیگر غیر فطری حرکتوں اور محرّمات کی ہتک کا عادی بتاتے ہیں۔ایک تاریخ دان کے مطابق نیرو نے اپنی محبوب بیوی پوپیا کو اُمید کی حالت میں دھکّا دے دیا تھا جو کہ جان لیوا ثابت ہوا، اِسی غم میں نیرو دیوانہ ہوگیا تھا ۔ ایک اور ذریعے کے مطابق سپورس اور پوپیا سبینا میں بہت زیادہ مشابہت تھی جو سپورس کو حرم میں شامل کرنے کی وجہ بنی اور نیرو . . . سپورس کو پوپیا کہہ کر پکارا کرتا ۔

نیرو کا اتالیق ، روم کا مشہور فلسفی “سینکا” نیرو کو اُس کے غلط کاموں پر ٹوکتا رہتا تھا ۔ اِسی بات پہ طیش کھا کر نیرو نے اُسے بھی مروادیا تھا۔

This Nero had a master in his youth
To teach to him the arts and courtesy
This master being the flower of moral truth
In his own time, if books speak truthfully

And while this master held authority
So wise he made him in both word and thought
That it would be much time ere tyranny
Or any vice against him would be brought

This master Seneca of whom I’ve spoken
To Nero had become a cause of dread,
Chastising him for every good rule broken
By word, not deed. As he discreetly said

“An emperor, sir, must always be well bred
Of virtue, hating tyranny.” Defied
He wound up in a bath where he was bled
From both his arms, and that’s the way he died

روم کی بدترین آگ کا دن19جولائی64 عیسوی بتایا جاتا ہے۔ روم شہر کی خوفناک آگ پانچ روز تک بھڑکتی رہی۔ 14میں سے 3اضلاع مکمل طور پر خاکستر ہوگئے۔ اِس آگ کے اسباب میں بھی دو تین مختلف آراء ملتی ہیں۔ کچھ مؤرخ اِسے حادثاتی ، کچھ مسیحیوں کی لگائی ہوئی اور کچھ اِسے خود نیرو کے حکم پر لگائی گئی، بتاتے ہیں۔

799px-Jan_Styka_-_Nero_at_Baiae

زیادہ تر یہی بات کہی جاتی ہے کہ نیرو نے روم کو خود آگ لگوائی تھی تاکہ وہاں وہ مہنگے ترین جواہرات سے مزین اپنا عالی شان محل تعمیر کرسکے۔300ایکڑ رقبے پر بنے اِس شاندار عمارت کا نام (Domus Aurea)تھا جو لاطینی الفاظ پر مشتمل ہے اور اِس کا مطلب ہے “سنہری مکان” “دی گولڈن ہاؤس” ۔ اِس محل کے اصل مقام کے بارے میں قیاس آرائیاں کی جاتی ہیں مگر اِس محل کے نشان اپنے مکین کی طرح ، صفحہءہستی سے مِٹ چکے ہیں۔

entrance Roma, la Domus Aurea, ingresso
e2133 Domus aurea print1

آج “ڈومس آوریا” کی اصطلاح، امارت ، بیش قیمت اور پُر تعیّش کے معانی میں، مارکیٹنگ اور کمرشل مقاصد کے لئے استعمال ہوتی ہے جس میں لگژری ہوٹلوں سے لے کر مہنگی ترین خمر کے اشتہارات شامل ہیں۔

domus-1

عام طور پر یہی مشہور ہے کہ جب روم جل رہا تھا تو نیرو بانسری بجا رہا تھا۔ یہ بھی کہا گیا کہ وہ ہومر کی نظم بھی گا رہا تھا جس میں شہر ٹرائے کی تعریف بیان کی گئی ہے۔ تاریخی اعتبار سے اُس وقت روم میں بانسری کا وجود نہیں تھا چنانچہ عین ممکن ہے کہ وہ “بربط ” بجا رہا ہو۔ انگریزی محاورے میں “فِڈل” کا لفظ استعمال ہوتا ہے جس کا مطلب سارنگی، ایک تارہ یا وائلن جیسا ساز ہے۔ روم کے جلنے کے دوران نیرو کے بربط بجانے میں کتنی سچائی ہوگی، اِس بات سے قطع نظر، نیرو کے ساز بجانے کا منظر بہت سے مصوّروں کے لئے دلچسپی کا باعث رہا اور انھوں نے کینوس پر اپنے اپنے تخیل کے مطابق اِسے پیش کیا۔

412px-Mousai_Helikon_Staatliche_Antikensammlungen_Schoen80_n1
article-2194564-14B7B2B2000005DC-591_624x392

Nero fiddles by Leviathansmiles

Nero fiddles by Leviathansmiles


nero-jpg-749636-757794

To ‘fiddle while Rome burns‘ refers to the belief that the infamous Emperor Nero played the lyre (there were no fiddles yet) while Rome was burning. Idiomatically it means someone is doing nothing about a serious problem

مؤرخ ٹیسی ٹس ایک مختلف روایت بتاتا ہے۔ اُس کے مطابق جب روم شعلوں کی لپیٹ میں تھا تو نیرو ، روم سے 40میل دور اینٹیم شہر میں تھا ۔ اینٹیمAntium سے واپسی پر اُس نے ذاتی خزانے سے متاثرین کی بحالی کے لئے اقدامات کئے۔ بےگھر ہونے والوں کے لئے اپنا محل کھول دیا ۔ روم کو نئے سِرے سے بسایا ۔ عمارتیں اور کشادہ مڑکیں تعمیر کروائیں۔ نیرو کے مخالف تاریخ دان نیرو کو جنون کی حد تک حُبِ نفس اور ذاتی تعریف کا دلدادہ بتاتے ہیں اور اُس کے فلاحی کاموں کی یہی توجیہہ پیش کرتے ہیں۔

-64عیسوی میں نیرو نے روم کی آگ کے الزام میں ، وسیع پیمانے پر عیسائیوں کو قتل کروایا ۔ عیسائی مخالف قتلِ عام کے لئے تعذیب اور قتل کے ہولناک طریقے استعمال کئے۔ ٹیسی ٹس لکھتا ہے کہ عیسائیوں کو صلیبوں پر کِیلا جاتا ، جنگلی جانوروں کی کھالوں میں سِلوایا جاتا ، بھوکے کتوں اور شیروں کے سامنے ڈالا جاتا اور نیرو خود چیر پھاڑ کے مناظر سے لطف اندوز ہوتا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ . . . ملزمان پہ آتش گیر مادہ اُنڈیل کر نیرو کے باغ میں رات کو روشنی کے لئے بطور مشعل جلایا جاتا ۔

sewn in skin by nero

sewn in skin by nero


martyrs
Christian Martyrs in the Coliseum by Konstantin_Flavitsky

Christian Martyrs in the Coliseum by Konstantin_Flavitsky

سزا ؤں پہ عمل درآمد قدیم رومن اکھاڑے “کولوزیئم” میں ہوتا جہاں عوام الناس اِن مناظر کو دیکھنے جمع ہوتے۔ اگرچہ کولوزیئم کی تعمیر کا مقصدگھڑ دوڑ، نیزہ بازی، کُشتی اور مختلف کھیلوں کا انعقاد تھا ، لیکن اِسی اکھاڑے میں ریاست کے دشمنوں کو عبرت ناک سزائیں دی جاتیں۔

colosseum aerial view

colosseum aerial view


colosseum

colosseum


Siemiradzki_Christian_Dirce
XY2-1285447 - © - Classic Vision

مؤرخ کہتا ہے کہ کولوزئیم کے فرش پر ریت بچھائی جاتی تاکہ مجرموں کا رِستا ہوا خون جذب ہوسکے۔ اِسی کولوزئیم میں عیسائیت کے بےشمار پیروکاروں کو موت کے گھاٹ اُتارا گیا۔ اب بہت سی کمپیوٹر گیمز میں کولوزئیم کا تصور متعارف کروایا گیا ہے۔

1024px-Jean-Leon_Gerome_Pollice_Verso

کولوزیم کے احاطے میں بیٹھے لوگ

کولوزیم کے احاطے میں بیٹھے لوگ


CircusMaximus2
dg3-coliseum

-66عیسوی میں یونانی اور یہودی آبادیوں کی طرف سے بھاری ٹیکسوں کے خلاف احتجاج ہونے لگا ۔ یروشلم میں رہنے والے ، رومن باشندوں پر حملے کر کے اُنھیں وہاں سے نکل جانے پر مجبور کیا جانے لگا۔ نیرو نے اپنے سپہ سالار ‘ویس پے سئین’ کو فوج کی کمان دے کر ‘جوڈیا’ بھیجا جہاں اُس نے جوڈیا کی تمام سرزمین پر قبضہ کرلیا اور یروشلم کو محاصرے میں لے لیا۔

-67میں ، نیرو کے حکم پر ، عیسائیت پر کاربند ہونے کے جرم میں سینٹ پیٹر یا پطرس اور سینٹ پال کو قتل کیا گیا۔ کولوزئیم کے قریب واقع ” سرکس میکسی مس” میں سینٹ پیٹر کو اُلٹا مصلوب کیا گیا۔ یہ اقدام پطرس کی درخواست کے جواب میں کیا گیا کیونکہ پطرس نے درخواست کی تھی کہ صلیب پہ مرنے کا اعزاز یسوع مسیح سے وابستہ ہے اس لئے اُسے کسی اور طرح مارا جائے۔ چنانچہ سینٹ پیٹر کو اُلٹا لٹکایا گیا جس کے سبب آج بھی اُلٹی صلیب کو ‘لاطینی صلیب یا سینٹ پیٹر کی صلیب’ کہا جاتا ہے۔ سینٹ پیٹر کو مسیحِ مقدس کے12حواریوں میں سے مقرّب ترین کہا جاتا ہے۔ کیتھولک عیسائی عقیدے کے مطابق، یسوع مسیح نے سینٹ پیٹر کو اپنے بعد کلیسا کی زمامِ کار سونپی تھی جس کے بعد پیٹر کیتھولک کلیسا کے اولین پوپ اور روم کے پہلے پادری بنے۔

780px-Circus_Maximus_(Atlas_van_Loon)
463px-Caravaggio-Crucifixion_of_Peter

کہا جاتا ہے کہ جب پیٹر کی موت ہوگئی تو اُسے قبرستان لے جا کر دفنایا گیا اور اُس کے معتقدین چوری چھُپے اُس کی قبر کو پوجتے رہے۔ سینٹ پیٹر کی قبر پر اُسی جگہ روم میں “سینٹ پیٹر کیتھیڈرل” تعمیر کیا گیا جو کہ عیسائیت کا دل اور پاپائے روم کی رہائش گاہ ہے اور “ویٹیکن سِٹی” کا مرکز ہے ۔ قدیم کلیسا کی تعمیر 320ء میں ہوئی تھی، لیکن کافی عرصہ گذرجانے کی بنا پر عمارت خستہ ہونے لگی ۔ لہذا موجودہ باسلیکا کی تعمیر 1506ء میں شروع کی گئی جو 1626ء میں مکمل ہوئی۔ اس عمارت میں دور نشاۃ ثانیہ کے فن تعمیر کے نمونے جابجا نظر آتے ہیں جن کی تخلیق میں مائیکل اینجلو کا قابلِ ذکر حصہ رہا ہے۔ 1940سے1964تک ہونے والی تحقیقات نے بھی اِس جگہ پر سینٹ پیٹر کے دفن ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔اس نئی تعمیر کے بعد اکثر پاپائے کلیسا ، پطرس کی جانشینی کی علامت کے طور پر باسلیکا کے نیچے واقع ہال میں مدفون ہوئے۔اب یہ عمارت پطرس باسلیکا ، کہلاتی ہے۔لاطینی میں اسے basilica sancti petriکہا جاتا ہے۔ کیتھیڈرل اور باسیلکا میں بنیادی فرق طرزِ تعمیر کا ہے ، دیگر باتوں کے علاوہ باسلیکا میں کلیسا کی مخصوص عبادت گاہ کے علاوہ مذہبی تقریبات کے لئے نیم دائرے کی شکل میں ایک مرکزی جگہ بھی شامل ہوتی ہے ۔

2036287014_60b3df6621_b

-68 عیسوی میں نیرو کے مظالم کے سبب ، دو نمایاں بغاوتوں نے سر اُٹھایا ۔ فوج بھی اِن بغاوتوں کی سرپرستی کر رہی تھی چنانچہ فوج نے نیرو کا تختہ اُلٹ کر حکومت سنبھال لی۔ نیرو فرار ہوگیا۔ فوج اور حکومت کے سرکردہ افراد نے نیرو کو موت کی سزا سنائی۔ نیرو نے شہر سے باہر اپنے ایک وفادار سپاہی کے مکان میں پناہ لی اور اپنی قبر کھُدوائی۔ خودکشی کا ارادہ کیا۔ مرنے سے پہلے اپنی ماں پر لعنت اور ملامت بھیجی جس نے اُسے جنم دے کر یہ دن دِکھایا ۔بہت دیر متردد رہا لیکن جیسے ہی اُسے گرفتار کرنے کے لئے آنے والے سپاہیوں کے گھوڑوں کی ٹاپوں کی آواز سنائی دی، اُس نے اپنے ہاتھوں اور پیروں کی نَسیں کاٹ لیں اور خود کو ہلاک کرلیا۔

دوسری جانب نیرو کی موت کا سن کر اُس کے سپہ سالار “ویس پے سئین” نے یروشلم کا محاصرہ چھوڑ کر اقتدار کی فکر کی۔ نیرو کی موت کے ساتھ اُس کے خاندان سیزر کا نام ختم ہوگیا تھا کیونکہ31 سالہ نیرو کی واحد اولاد اُس کی ایک بیٹی تھی جو ‘پوپیا سبینا’ کے بطن سے تھی اور تین ماہ کی عمر میں وفات پا گئی تھی۔ روم کی حکومت کے باقی دعویداروں کو شکست دیتے ہوئے “ویس پے سئین ” کا اپنا بیٹا “ٹائی ٹس” روم کے تخت پر بیٹھا۔

-70عیسوی میں “ٹائی ٹس” نے اپنے باپ کی جنگ جاری رکھتے ہوئے یروشلم کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور وہاں کا “سیکنڈ ٹیمپل” یا ھیکلِ ثانی تباہ کردیا ۔ رومن سپاہی یروشلم کے مندر سے نوادرات اور مینورہ اُٹھا لائے جو کہ روم کے “کولوزئیم” کی تعمیرِ نو کے لئے چندے میں دے دئیے۔

800px-Arch_of_Titus_Menorah

-نیرو کی موت کے بعد اُس کے تخت پر بیٹھنے والےجانشین ٹائی ٹس نے یروشلم اور جودیا کی فتح کی یادگار کے طور پر روم میں ایک بلند قوس یا محراب (آرچ آف ٹائی ٹس) بنوائی۔ جس پر لاطینی میں ایک عبارت درج ہے۔

800px-Titus_hh2

Arch of Titus - inscription

Arch of Titus – inscription

The inscription reads:
SENATVS
POPVLVSQVE•ROMANVS DIVO•TITO•DIVI•VESPASIANI•F(ILIO) VESPASIANO•AVGVSTO
(Senatus Populusque Romanus divo Tito divi Vespasiani filio Vespasiano Augusto)
which means “The Roman Senate and People (dedicate this) to the divine Titus Vespasianus Augustus, son of the divine Vespasian

مونک نے 100لائنوں میں رومن سلطنت کے جنونی، جابر اور ظالم کا انجام سنایا ۔ نیرو جس کا دامن اپنوں کے خون سے بھی رنگا ہوا تھا اور بےشمار جانیں اُس کے ہاتھوں تکلیف دہ موت سے دوچار ہوئیں، جب مرا تو دنیا میں اُس کی سفاکی اور ستم کی لرزہ خیز داستانوں کے سِوا کچھ نہ رہا۔ سچ ہے کہ اقتدار اور تاجوری دائمی نہیں ہوتی ۔

Marble bust of Nero (palace of Versailles)

Marble bust of Nero (palace of Versailles)

The Monk mourns the De Julio Cesare – 34

چودہویں صدی کے مشہور شاعر جیفری چاوسر کی طویل نظم کینٹربری ٹیلز جاری ہیں، اُنتیس مسافر ، کینٹربری شہر کے بڑے کلیسا کی زیارت کے لئے سفر کررہے ہیں۔ سب مسافروں نے سفر کی طوالت اور اُکتاہٹ کو کم کرنے کے لئے آپس میں کہانیاں سنانی طے کیں۔ جب مونک کی باری آئی تو اس نے ایک ثابت کہانی کی بجائے مختلف نامور شخصیات کے دردناک انجام سنائے۔

جولیئس سیزر

اب مونک، بارہواں ماجرا، جولیئس سیزر کا سنا رہا ہے جو کہ سکندر اعظم سے بے حد متاثر تھا اور اس سے بڑھ کر فاتح عالم بننا چاہتا تھا تاہم دنیا فتح کرنے میں سکندر اعظم کی ہمسری نہ کرسکا۔ جولیئس سیزر نے زندگی کا پیشتر حصہ جنگی معرکہ آرائی میں صرف کیا اور تاریخ میں ایک بہادر جنگی جرنیل کے طور پہ یاد رکھا گیا۔ قبل مسیح کے کئی مؤرخین نے جولیئس سیزر کا احوالِ زندگی قلم بند کیا اور اُس کی زمینی اور بحری فتوحات کے بارے میں لکھا ۔

slide12-julius-caesar

جولیئس سیزر سویں صدی قبل مسیح کا ایک رومن جرنیل، سیاستدان، کونسلر اور لاطینی نثر نگار تھا۔ اُس نے کئی ایسے اقدامات کئے جس کے نتیجے میں محدود رومن جمہوریہ کا زوال ہوا ، اور ایک عظیم رومن سلطنت ظہور میں آئی۔

کئی موجودہ ممالک بشمول انگلستان، سپین، فرانس، اٹلی، یونان، ترکی اور مصر ، اِس عظیم سلطنت کا حصہ تھے۔ اِس رومی سلطنت زبان لاطینی اور یونانی تھی۔ مغربی رومی سلطنت کا مرکز روم جبکہ مشرقی بازنطینی سلطنت کا دارالحکومت قسطنطنیہ تھا۔ مغربی رومی سلطنت476میں جرمن وِزی گوتھوں کے ہاتھوں تباہ ہوئی جبکہ بازنطینی سلطنت1453میں عثمانیوں کے ہاتھ فتح ہوئی۔ مغربی تہذیب کی ثقافت، قانون، طرزِ حیات، فنون، زبان، مذاہب، طرزِ حکومت، افواج اور تعمیرات میں آج بھی رومی سلطنت کی جھلک نظر آتی ہے۔

جولیئس سیزر اور قلوپطرہ کا موضوع بھی مؤرخین اور لکھاریوں کے لئے دلچسپی کا محور رہا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ جب اس نے مصر فتح کیا تو وہاں کی ملکہ قلوپطرہ کی زلفوں کا اسیر ہوگیا اور کافی عرصہ وہاں مقیم رہا۔ تاہم اِ س بارےمیں کئی مختلف روایات ملتی ہیں ۔ البتہ مصّوروں اور فلم سازوں نے اِس موضوع پہ خوب طبع آزمائی کی ۔

julius-caesar-cleopatra-halloween-costume
caesarandcleopatra
Caesar_and_Cleopatra_-_1945_-_poster
MV5BMTM0MzAwMTcwOV5BMl5BanBnXkFtZTcwNzY2NDQyMQ@@._V1__SX961_SY539_
MV5BMjE2NjI4NzI0Ml5BMl5BanBnXkFtZTcwNjQxNTAwMQ@@._V1__SX961_SY539_
41hk3428TFL._SL500_AA240_

سکندر اعظم کی طرح جولیس سیزر بھی پیدائشی طور پر مرگی کا مریض تھا۔ وہ دورے کی حالت میں سرِ دربار بے ہوش ہوجاتا۔ مونک سناتا ہے:

JULIUS CAESAR-100BC- 44BC

Through wisdom, manhood, and great labor’s throes
From humble bed to royal majesty
This Julius as a conqueror arose
For he won all the West by land and sea
By strength of hand and by diplomacy
And made each realm to Rome a tributary
And then of Rome the emperor was he
Till Fortune would become his adversary

By wisdom, manhood and great labor Julius the Conqueror rose from humble birth to royal majesty, and won the entire occident over land and sea by the strength of his hand or by treaty, and made it tributary to Rome. And afterwards he was emperor, until Fortune became his adversary

بہادر پامپے ، جولیئس کا ایک سپہ سالار تھا اور جولیئس کی بیٹی ، جولیا کا شوہر تھا۔ جولیا کے مرنے کے بعد اِن دونوں میں پھوٹ پڑ گئی۔ بہت عرصہ خانہ جنگی میں مصروف رہنے کے بعد ، جولیئس نے حریف جرنیل پامپے کو شکست دی اور اسکندریہ میں اسے قتل کردیا گیا۔ پامپے کا کٹا ہوا سر ، اور جولیئس کی عطا کردہ مہر ، جب جولیئس کو پیش کئے گئے تو وہ آبدیدہ ہوگیا۔ مونک کہتا ہے:

O mighty Caesar, who in Thessaly
Faced Pompey, your own father-in-law, who drew
About him in the East all chivalry
As far as where each day dawn breaks anew
Through your knighthood that host you took and slew
(Except the few who then with Pompey fled
The East thereby put in such awe of you
Thank Fortune that so well you marched ahead

Here I’ll bewail a little, if I might
Pompey the Great, this noble governor
Of Rome who from the fray had taken flight
One of his men, a false and traitorous cur
Beheaded him that he might win the favor
Of Julius, who received the severed head
Alas, Pompey the Eastern conqueror,
That to such end by Fortune you were led

O mighty Caesar, in Thessaly you made war against Pompey, your father-in-law, who controlled all the chivalry of the orient as far as dawn of day, and by your knighthood you did capture and slay all except a few people who fled with him. Thus you did put the orient in awe, thanks to Fortune who aided you so well. But now I will bewail this Pompey a little while, this noble governor of Rome, who fled in this battle. One of his men, I say, a false traitor, struck off his head and brought it to Julius to win his favor. Alas, Pompey, conqueror of the orient, that Fortune should have brought you to such an end

 Caesar Addressing his Troops


Caesar Addressing his Troops

مصر سے واپسی پر سیزر نے سربراہ مملکت کے طور پر روم کے امور سنبھالے اور شاید وہی دنیا کا پہلا جرنیل تھا جو کہ بادشاہ بنا ۔ روم میں بہت سی اصلاحات کروائیں۔ رومن کیلنڈر کو تبدیل کر کے جولیئن کیلنڈر متعارف کروایا جو کہ گریگورین کیلنڈر کے آنے تک رائج رہا ۔ دونوں کیلنڈروں میں فرق نکالیں تو کچھ گھنٹوں کا ہی ہوگا۔

سلطنت روم کی کونسل نے سیزر کو اٹلی کے علاوہ سبھی ملکوں کا بادشاہ بنانا طے کرکے اس کے تخت پر بیٹھنے کی تاریخ مقرر کر لی ۔ دوسری طرف اس کے ساتھی مارکوس جونیئس بروٹس نے دیگر کے ساتھ مل کر اس کے قتل کی سازش شروع کردی۔ ان لوگوں کا کہنا تھا کہ سیزر کو بادشاہ بننے کا کوئی حق نہیں کیونکہ بادشاہ بننا روم کے قانون کے خلاف ہے۔ اس سے صرف سیزر ہی روم کے سیاہ و سفید کا مالک بن جاتا۔

9780486113661_p0_v2_s260x420

To Rome again repaired this Julius
With laurel crowned, upon his victory.
Then came the time when Brutus Cassius,
Who envied Caesar’s high prosperity
Began conspiring in full secrecy
Against his life. With subtlety he chose
The place of death, and planned that it should be
By way of daggers as I shall disclose

Julius returned to Rome in his triumph, crowned high with laurel. But at one time, Brutus Cassius, who ever bore ill-will to his high estate, made a secret deceptive conspiracy against him, and chose the place where he should die by poniards, as I will tell you

800px-Jean-Léon_Gérôme_-_The_Death_of_Caesar_-_Walters_37884

مارچ 44 قبل مسیح میں اسے سر دربار قتل کردیا گیا۔ قاتلوں کا سربراہ بروٹس تھا۔ دربار کے بیشتر اراکین نے سیزر کو گھیر لیا ۔ اُسے بہت سی کاری ضربیں لگائیں۔

800px-Cesar-sa_mort

زخمی سیزر، دربار میں فرش پہ گِرا تڑپتا رہا ۔ اُس نے اپنے آپ کو برہنہ ہونے سے بچانے کی کوشش کی۔اِسی اثنا میں سیزر نے قاتلوں میں اپنے ساتھی بروٹس کی شرکت دیکھی تو کہا کہ: بروٹس تم بھی؟ پھر تو سیزر کو ضرور مر جانا چاہئے۔

et_tu_brute_bumper_sticker-ra42965f7f95e40c7877c47b4d4ca6612_v9wht_8byvr_512
app4j6dy1yrn8kki

سیزر کا یہ جملہ آج عام طور پر گفتگو میں اُس وقت استعمال کیا جاتا ہے جب اپنا کوئی قریبی شخص ہی انتہائی دیدہ دلیری سے دھوکہ دے ۔

article-2216396-157617A8000005DC-751_634x511

سیزر کو قتل کرکے قاتلوں نے اُس کے خون سے ہاتھ دھوئے۔ سیزر کے قتل کے نتیجے میں روم میں خانہ جنگی شروع ہوگئی جس میں بروٹس کے تمام ساتھی مارے گئے جبکہ اس نے خود کشی کرلی۔

The world-renowned Royal Shakespeare Company returns to BAM with a new twist on Shakespeare's Julius Caesar. Set in present-day Africa and featuring an all-black cast, this visionary production echoes recent regime struggles throughout the continent. The
Julius caesar

This Julius to the Capitol one day
Had made his way, as frequently he chose
There fell upon him then without delay
This traitor Brutus and his other foes
Who with their daggers gave him several blows
And left him there to die when they were through
He groaned at but one stroke for all his throes
Or else at two, if all his tale is true

Julius_Caesar_by_Crowley_S

This Julius Caesar was so manly hearted
And had such love for stately probity
That, even as his wounds so sorely smarted,
He drew his mantle over hip and knee
So that his private parts no one could see
As he lay in a daze, the deathly kind
And knew that he was wounded mortally
Thoughts of decorum still were in his mind

Julius Caesar's death at the hands of Brutus and Gaius Cassius Longinus, and Porcia's suicide

Julius Caesar’s death at the hands of Brutus and Gaius Cassius Longinus, and Porcia’s suicide

One day, as he was accustomed, this Julius went to the Capitol, and there this false Brutus and his other foes seized him without delay and wounded him with many wounds, and there let him lie. And he never groaned except at one stroke, or else two, unless the books are false. So manly of heart was this Julius, and so well he loved dignified decorum, that with all his deadly sore wounds he cast his mantle over his hips, so that none should see his nakedness. Thus, as he lay dying in a trance, and knew truly that his life was spent, yet had he thought of dignity

murder-caeser

مونک آخر میں پھر نوحہ پڑھتا ہے کہ اے مؤرخو! تم نے کیا الم ناک حال بیان کئے ہیں اِن دونوں سُورماؤں کے، جن پہ پہلے قسمت مہربان تھی اور پھر دغا دے گئی ۔ طاقت، اقتدار اور تاج کبھی کسی کے نہیں ہوتے ۔ تو. . میرے ہم سفرو اور ساتھیو، ایسی آنی جانی شے پہ اعتبار کرنا ہی لا حاصل ہے۔

Lucan, you’re one authority I’ll note,
Suetonius, Valerius also
The story’s fully there in what you wrote
Of these two conquerors; to them we know
That Fortune first was friend and later foe
No man can put trust in her favor long,
We must keep both eyes on her as we go
These conquerors bear witness who were strong

Lucan, I commit this story to you, and to Suetonius, and Valerius also, who wrote beginning and end of it, how to these two great conquerors at first Fortune was friend and then their foe. Let no man trust long to have her favor, but evermore be watchful of her. Be warned by these mighty conquerors

cute_caesar__et_tu_bwute___by_kevinbolk-d3coeny
et_tu__brute__by_themrock-d3h4zph
et-tu-brute
julius-caesar-quotes-1

Monk portrays De Rege Anthicho Illustri – 33

چودہویں صدی کے انگریزی شاعر جیفری چاوسر کی کینٹربری ٹیلز جاری ہیں ، اُنتیس مسافر اپنی اپنی کہانی سنارہے تھے کہ جب مونک کی باری آئی تو اُس نے مشہور شخصیات کے احوالِ زندگی اور عبرت ناک انجام سنائے۔ دسواں حال شام کی بہادر اور نامور ملکہ زینوبیا ، کا سنایا . . .جو اپنی ہی خطا کی وجہ سے پابندِ سلاسل ہوئی۔اُس کے بعد اب مونک نے گیارہواں انجام ، سلوقی شاہی ایمپائر کے آٹھویں بادشاہ، انطیوخوس چہارم کا ماجرا سنایا ۔

Bust of Antiochus iv at the altes museum in Berlin

Bust of Antiochus iv at the altes museum in Berlin

مقدونیہ کے بادشاہ سکندرِ اعظم کی شاندار حکومت کے زوال کے بعد دوسری صدی میں سلوقی شاہی خاندان برسرِ اقتدار آیا۔ اِس خاندان کی حکومت مرکزی اناطولیہ، شام، فلسطین، مشرقی بحئیرہء روم کے علاقوں، میسوپوٹامیا، فارس ، ترکمانستان، پامیر اور وادیء سندھ کے علاقوں پر رہی۔ 223قبل مسیح سے 60قبل مسیح تک اِس خاندان کے 30 بادشاہوں نے حکومت کی۔

Seleucid-Empire

Seleucid-Empire

-انطیوخوس چہارم:

ایک عجیب اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ، ماسوائے اِکّا دکّا، ا ِس خاندان کے سب مردوں کا نام . . . انطیوخوس تھا اور سب عورتوں کا نام . . لوڈائس۔ یہ نام دراصل شاہی القاب تھے جو تخت نشین ہونے والے ہر فرد کو دیئے جاتے اور پھر وہ تاریخ میں اُسی نام سے معروف ہوتا ۔ اِسی اعتبار سے . . .انطیوخوس چہارم کا اصل نام میتھراڈیٹس تھا اور انطیوخوس چہارم کے باپ کا نام ‘انطیوخوس سوم ‘ تھا جس نے اپنی ہی زندگی میں اپنے بڑے بیٹے ‘انطیوخوس بڑے’ کو شریکِ تخت قرار دے دیا تھا ۔

بڑے بیٹے کی حادثاتی موت کے بعد دوسرے نمبر کا بیٹا ‘سلوقس چہارم’ بادشاہ بنا۔ سلوقس چہارم قتل ہوا اور اُس کے بعد . . .یہ انطیوخوس چہارم تخت پر بیٹھا ۔ انطیوخوس کے باپ نے سلوقی خاندان کی حکومت کو بکھرنے سے بچانے کے لئے اپنی بیٹی لوڈائس کی شادی ، اپنے پہلے ولی عہد بیٹے انطیوخوس بڑے سے کردی تھی۔ سلوقی خاندان میں یہ اپنی نوعیت کی پہلی شادی تھی۔ یہ شوہر اور بھائی جلد ہی چل بسا تو لوڈائس دوسرے بھائی سلوقس چہارم سے بیاہ دی گئی جس سے تین بچے ہوئے۔ سلوقس چہارم پراسرار انداز میں قتل ہوا تو لوڈائس کی شادی چھوٹے بھائی انطیوخوس چہارم سے ہوگئی۔

070909pm3

انطیوخوس چہارم . . خود کو دیوتا زیوس ، مشتری یا جیوپیٹر کا اوتار اور مافوق الفطرت برکات رکھنے والا حکمران کہتا تھا ۔تاریخ میں سفّاک اور ظالمانہ قتل کرنے کے لئے بدنام ہوا ۔ مونک کے الفاظ میں . . . .

KING ANTIOCHUS THE ILLUSTRIOUS

What need to tell of King Antiochus
Of all his high and royal majesty,
His lofty pride, his works so venomous?
Another such a one was not to be.
Go read of who he was in Maccabee,
Read there the words he spoke so full of pride
And why he fell from high prosperity,
And on a hill how wretchedly he died

He gave himself the surname “Epiphanes” which means “the visible god” (that he and Jupiter were identical). He acted as though he really were Jupiter and the people called him “Epimanes” meaning “the madman”.

آمریت اور سلطنت کے گھمنڈ میں فوج کا ایک حصہ قبرص پر حملے کے لئے روانہ کیا اور خود فوج کی کمان کرتا ہوا مصر کی طرف نکلا۔ یاد رہے کہ مصر اُس وقت رومن حکومت کا حصہ تھا چنانچہ ایک رومن قاصد نے انطیوخوس کا راستہ روکا اور اُسے رومن سلطنت کی طرف سے ایک پیغام دیا ۔ پیغام یہ تھا کہ یا تو قبرص اور مصر کا رُخ کرتی اپنی فوجوں کو واپس بُلا لے . . یا پھر رومن سلطنت سے اعلانیہ جنگ کا اقرار کرلے۔

انطیوخوس نے قاصد کو یہ کہہ کر ٹالنے کی کوشش کی کہ اِس بات کا فیصلہ وہ اپنی کابینہ سے مشورے کے بعد کرے گا ۔

کایاں رومی قاصد نے آگے بڑھ کر اُس کے گرد مٹّی میں ایک دائرہ کھینچ دیا ۔

popillius_drawing_a_circle_around_king

popillius_drawing_a_circle_around_king

دائرہ کھینچ کر کہا کہ اِس دائرے سے باہر قدم رکھنے سے پہلے مجھے میری بات کا جواب دو ورنہ اِس دائرے سے باہر رکھا ہوا تمھارا قدم ، میں رومنز کے خلاف اعلانِ جنگ تصّور کروںگا۔

انطیوخوس نے جنگ کا ارادہ ترک کرنے کا فیصلہ کیا اور واپس پلٹ گیا۔ انگریزی کی ایک ضرب المثل اسی واقعے سے منسوب ہے . . .

To draw a line in sand

جس کا مطلب ہے کہ فیصلے کی گھڑی .. . یعنی جب فیصلہ کرنا اٹل اور ناگریز ہوجائے۔

OLYMPUS DIGITAL CAMERA

-168ق م میں مصر سے واپسی پر اُسے معلوم ہوا کہ اُس کی غیر موجودگی کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے یروشلم میں بغاوت پھوٹ پڑی ہے۔ مصر سے ناکام واپسی کے طیش میں اُس نے یروشلم کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ مؤرخین لکھتے ہیں کہ انطیوخوس نے شریعتِ موسوی پر پابندی عائد کردی ۔ بنی اسرائیل کو اُن کی عبادات سے روک دیا۔ بیت المقدس میں زبردستی بُت رکھوادیئے۔ یہودیوں کو مجبور کیا کہ وہ اِن یونانی بتوں کی پوجا کریں۔ یروشلم کے معبد کی بےحرمتی کی، اُس کی قربان گاہ پر سؤر قربان کیا۔ انطیوخوس خود کو دیوتا مشتری کا اوتار کہتا تھا چنانچہ مشتری کے نام پر مندر تعمیر ہوا۔ یہودی خاندانوں کو بازارِ غلاماں میں فروخت کیا گیا۔ مقدس کتاب توریت کے نسخے تباہ کردیئے گئے۔ جس شخص کے پاس یہ نسخے برآمد ہوتے اُسے ذبح کروادیا جاتا۔ ختنے کی رسم منع کردی گئی۔ تشدد کے ذریعے مذہب تبدیل کروایا جاتا۔ تمام یہودی قوانین کی جگہ یونانی قوانین نافذ کر دیئے گئے۔

800px-Francesco_Hayez_017
Lights   19
Lights   29
Lights   27

جیسے کے زمانے کا چلن ہے ، لوگ نئی اور بیرونی تہذیب کے خلاف مزاحمت بھی کرتے ہیں لیکن کچھ اُسے اپنانے لگتے ہیں . . یہودی اشرافیہ میں سے بھی کچھ لوگوں نے یونانی تہذیب اپنائی . . .مگر روایت پسند یہودیوں نے حالات کا مقابلہ کیا۔ ایک زبردست تحریک اُٹھی جو تاریخ میں “مکابی تحریک” یا “مکابی بغاوت” کے نام سے مشہور ہے۔

Go read of who he was in Maccabee
Read there the words he spoke so full of pride
And why he fell from high prosperity
And on a hill how wretchedly he died

اِس بغاوت میں بہت خون خرابہ ہوا . . . مگر 140ق م میں یہودیوں نے ایک آزاد دینی ریاست یہودیہ قائم کرلی جو کہ63ق م تک قائم رہی۔ یہودیوں نے یروشلم پہ دوبارہ قبضہ کرلیا اور بیت المقدس کو بتوں سے پاک کیا۔ اِس موقعے پر یہودیوں نے شاندار جشن منایا ۔ جشن کے موقعے پر مندر میں شمعیں روشن کرنا تھیں۔ لیکن مندر میں شمعیں روشن کرنے کے لئے صرف اِس قدر زیتون کا تیل موجود تھا جس سے بس ایک رات شمع روشن ہوسکے۔ مگر کراماتی طور پر اِس تیل سے آٹھ راتوں تک شمع روشن رہی۔ اِسی اثنا میں مزید تیل کا بندوبست بآسانی کرلیا گیا۔

Judea_Judas_Makk
rubens-triumph-of-judas-maccabees“Triumph of Judas Maccabee,” by Rubens, circa 1630

اِس واقعے کی یاد میں اہلِ یہود آج بھی “منوخ ” یا “ہنوکا” نامی تہوار مناتے ہیں، جس میں سات یا نو شمعوں والا شمعدان روشن کیا جاتا ہے۔

3529629a35074802d6dda2b5c525632f
hanukkah_subwayart

The dates of Hanukkah are determined by the Hebrew calendar. Hanukkah begins at the 25th day of Kislev, and concludes on the 2nd or 3rd day of Tevet (Kislev can have 29 or 30 days). The Jewish day begins at sunset, whereas the Gregorian calendar begins the day at midnight. Hanukkah begins at sunset of the date listed.
• November 27, 2013
• December 16, 2014
• December 6, 2015
• December 24, 2016
• December 12, 2017
• December 2, 2018
• December 22, 2019
• December 10, 2020

اِس شمعدان کے نشان کو حنوکا کہا جاتا ہے۔ چھ یا سات شاخوں والا یہ نشان اسرائیل کا سرکاری نشان ہے اور یہودیوں کی مقدس مذہبی علامت ہے۔ اِسے “مینورہ حنوکا” بھی کہا جاتا ہے جس کی وجہ چھ شاخوں والی ایک جھاڑی “مینورہ” ہے جو فلسطین میں عام پائی جاتی ہے۔

800px-RoyLindmanHanukkahMenorah

یہودی عقیدے کے مطابق، موسیٰ ؑ جب کوہِ طور پر خدا سے ہم کلامی کے لئے تشریف لے گئے تو اِسی روشن جھاڑی کی شکل میں خدا نے اپنا جلوہ دِکھایا تھا۔

Napoleon_stellt_den_israelitischen_Kult_wieder_her,_30._Mai_1806Napoleon grants freedom to the Jews

یروشلم پر حملے کے دوران ملک میں انتشار پھیلا اور اِس اندرونی انتشار کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے ، پراشیا کے بادشاہ نے، مشرق کی جانب سے حملہ کرکے “حیرات” کے شہر پر قبضہ کرلیا ۔ انطیوخوس چہارم اِس حملے کے سدِباب کے لئے معرکہ آرا ہوا ، اِس معرکے کے دوران ہی ایک موذی مرض کا شکار ہوا اور بڑی اذیت کی موت مرا ۔

antiochus-iv-epiphanes

antiochus-iv-epiphanes

انطیوخوس کی بیماری کے بارے میں مختلف آراء تاریخ میں ملتی ہیں۔ کچھ کہتے ہیں کہ یہ چیچک کی طرح کا مرض تھا ، کچھ کے مطابق جذام تھا . . . آخری وقت میں اُس کے جسم میں سے اُٹھتی بدبو کی وجہ سے کوئی اُس کے قریب نہیں جاتا تھا۔ لوگوں نے اُسے ایک پہاڑی پر مرنے کے لئے چھوڑ دیا تھا

انطیوخوس کی بیماری کے دوران، اُس کے ایک مصاحب “لاسئیس” نے اعلان کیا کہ وہ نئے اور کم سِن ولی عہد کا سرپرست ہونے کی حیثیت سے تخت سنبھالے گا اور تمام امورِ سلطنت اپنے ہاتھ میں لے لئے۔ لاسئیس نے ایک بار پھر یروشلم پر حملے کا ارادہ کیا۔

اِسی اثنا میں ایک اور شخص پیٹرنے، جو موت کے وقت انطیوخوس کے پاس تھا، یہ دعویٰ کیا کہ وہ ولی عہد کا سرپرست ہے۔ اِن دونوں مین خانہ جنگی اہلِ یروشلم کے لئے باعثِ نجات ثابت ہوئی۔ مونک نے مندرجہ ذیل الفاظ میں انطیوخوس کا ماجرا سنایا . . .

KING ANTIOCHUS THE ILLUSTRIOUS

What need to tell of King Antiochus
Of all his high and royal majesty,
His lofty pride, his works so venomous?
Another such a one was not to be.
Go read of who he was in Maccabee,
Read there the words he spoke so full of pride
And why he fell from high prosperity,
And on a hill how wretchedly he died

He had so great a hatred for the Jew
That he ordered his chariot to be
Prepared at once, and swore avengingly
That right away upon Jerusalem
He’d wreak his ire with utmost cruelty
But his objective soon eluded him

God for his threat so sorely had him smitten
With an internal wound that had no cure
Inside his gut he felt so cut and bitten
That it was pain he hardly could endure
This vengeance was a just one, to be sure
For many a fellow’s gut had felt his blow
But still, his evil purpose to secure
He wouldn’t be deterred despite his woe

He ordered armed immediately his host.
But then, before he knew it, God once more
Had moved against his pride and haughty boast:
He fell out of his chariot as it bore
His skin and limbs the tumble scraped and tore
Till he could neither walk nor mount to ride;
Upon a chair men carried off the floor
He had to sit, bruised over back and side

The wrath of God had smitten him so cruelly
That evil worms all through his body crept
By cause of which he stank so horribly
That none within the household where he kept
Whether he be awake or when he slept
Could long endure his smell. In this abhorred
Condition, this mischance, he wailed and wept
And knew of every creature God is Lord

To all his host and to himself also
The way his carcass stank would sicken till
No one could even bear him to and fro
And in this stink, this horrid painful ill,
He died a wretched death upon a hill.
And so this evil thief and homicide
Who caused so many others tears to spill
Has the reward that goes to those of pride

antioch4d

The Monk mourned the Cenobia – 32

چودہویں صدی کا مشہور شاعر جیفری چاوسر اپنی کینٹر بری ٹیلز سنا رہا ہے ، اُنتیس مسافروں کا قافلہ کینٹربری کے بڑے کلیسا کی جانب رواں دواں ہے ۔ مسافروں نے طے کیا کہ وہ سفر کی طوالت اور دقّت سے نمٹنے کے لئے ایک دوسرے کو اپنی اپنی باری پہ کہانیاں سنائیں گے ۔ مسافروں نے رنگارنگ کہانیاں سنانی شروع کی۔ جب مونک کی باری آئی تو اُس نے ایک مکمل کہانی کی جگہ، مشہور شخصیات کے زوال پر ایک جامع اور مختصر احوال نامہ سنایا جن میں ایک دو کے علاوہ باقی سب تاریخ کے اصل کردار ہیں۔

چھٹی صدی قبل مسیح میں بابُل کے بادشاہ نبو گُڈ نصر کے دیوانہ ہونے کا سنایا اور تیسری صدی قبل مسیح کے سکندرِ اعظم کے خالی ہاتھ دنیا سے چلے جانے پہ اظہارِ غم کرنے کے بعد مونک نے شام کا رُخ کیا اور ملک شام کی ایک ملکہ کا حال سنایا جو اپنے عہد میں طمطراق سے راج کرتی تھی ۔ زینوبیا نام کا اصل ماخذ زینب بھی ہوسکتا ہے۔

-زینوبیا:

Queen Zenobia from Rome's Enemies  The Desert Frontier

یہ تیسری صدی کی ایک ملکہ تھی جو رومن تخت کے زیرِ انتظام شام میں ایک بہت بڑی مملکت “پالمائرا” کی فرمانروا تھی ۔ پھر اپنی سلطنت وسیع کرنے کے لئے زینوبیا نے تختِ روم کے خلاف ایک بغاوت کی قیادت کی اور اقتدار کے لالچ میں رومن ایمپائر سے ٹکر لے بیٹھی اور شکست سے دوچار ہوئی۔ مونک سناتا ہے کہ . . . . .

ZENOBIA ,275BC-240BC

Zenobia, once of Palmyra queen
As Persians wrote of her nobility
So worthy was in armaments, so keen
For hardiness she had no rivalry
For lineage, for all gentility
From royal Persian blood she was descended
I won’t say none was lovelier than she
Yet her looks had no need to be amended

زینوبیا جس کا پورا نام جولیا آگسٹا زینوبیا تھا . . .اوڈیناتھس کی ملکہ تھی جو رومن تخت کی ماتحت ایک ریاست ‘پالمائرا’ کا بادشاہ تھا ۔ پالمائرا کی ریاست اُس جگہ تھی جہاں آج کا موجودہ شام واقع ہے۔ ملکہ زینوبیا بےمثل بہادر اور دلیر تھی۔ جنگلی جانوروں کا شکار کرتی، تلوار بازی اور نیزہ بازی کے فن میں طاق تھی۔ بہت سی زبانوں پہ عبور تھا۔سمجھ دار اور زیرک عورت تھی۔

8116790_f260

 The theater at Palmyra, built in the 1st or 2nd century CE, was one of the most magnificent in the Middle East.


The theater at Palmyra, built in the 1st or 2nd century CE, was one of the most magnificent in the Middle East.

She was so worthy of one’s admiration
So wise, so giving with due moderation
In war untiring, and so courteous too
None had in war a greater dedication
To work, though men may search this whole world through

Her wealth of goods was more than can be told
In vessels as well as in what she wore
(For she would dress in precious stones and gold)
And when not on the hunt, she’d not ignore

Her study of foreign tongues; she’d master more
When she had leisure time, for her intent
Was to be educated in all lore
So that her life in virtue might be spent

wg_ch_zenobia
122-monks-take

-267عیسوی میں جب بادشاہ اوڈیناتھس قتل ہوگیا تو زینوبیا نے کمسِن ولی عہد بیٹے کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنے سر پہ تاج رکھ کر تخت سنبھال لیا ۔ کچھ عرصہ بعد ہی ایک چھوٹی سی ریاست کی فرمانروائی اُسے نہ بھائی تو اُس نے مصر پر حملہ کردیا۔ اِس کے علاوہ دیگر رومن ریاستوں پر قبضے کی غرض سے چڑھائی کردی۔ایک بڑا علاقہ زیرِ نگین کرکے اپنی خود مختاری کا اعلان کردیا اور اپنی تصویر والے سکّے جاری کئے۔

800px-Map_of_Ancient_Rome_271_AD.svg
EB972E26D22D099CADDE650AEF49C_h450_w598_m2_q90_cGNDSGwZS

 Denarius  Zenobia


Denarius Zenobia

-274عیسوی میں روم کے بادشاہ آریلیس نے اِس بغاوت کا انتقام لیا اور ملکہ کو قیدی بنا کر روم لے گیا۔ جہاں ملکہ کی پراسرار موت ہوئی جس کے بارے میں تاریخ کے صفحات خاموش ہیں کہ آیا وہ قتل ہوئی یا اُس نے خود کُشی کرلی۔ کئی خوش گمان مؤرخین کا یہ بھی کہنا ہے کہ آریلیئس نے زینوبیا کو جلاوطن کردیا تھا جس کے بعد ملکہ زینوبیا نے باقی ماندہ زندگی روم میں گزاری۔

ملکہ زینوبیا کی پالمائرا پر آخری نظر  Zenobia by Herbert Schmalz

ملکہ زینوبیا کی پالمائرا پر آخری نظر
Zenobia by Herbert Schmalz

Aurelianus, when administration
Of Rome fell to his hands, without delay
Made plans against her for retaliation;
With all his legions he marched on his way
Against Zenobia. Let’s briefly say
He made her flee and finally captured her;
He fettered her, with her two sons, that day
And won the land, and went home conqueror

thumb.php

مونک کہہ رہا ہے کہ کس قدر شان و شوکت والی عورت تھی ، زمانے میں عروج پایا ، سمجھدار اور باہمت تھی لیکن اقتدار کے نشے نے زینوبیا کو شکست سے ہمکنار کیا۔ اُس کی شان و شوکت جاتی رہی اور وہ زنجیروں میں قید ہو کر نشانِ عبرت بنی۔

palm002

کلاسیکی اور عرب ذرائع کے مطابق زینوبیا سانولے رنگ کی لیکن بے انتہا خوبصورت اور ذہین تھی۔ سیاہ آنکھیں، چمکتے دانت اور زیرک . . . کئی جگہ اِس کا موازنہ قلوپطرہ سے بھی کیا جاتا ہے۔ شام کے کرنسی نوٹوں اور ڈاک ٹکٹوں پہ بھی ملکہ زینوبیا کی تصویر پائی جاتی ہے۔

Zenobia on the 500 Syrian Pounds note

Zenobia on the 500 Syrian Pounds note

stock-photo-syrian-arab-republic-circa-a-stamp-printed-in-syria-features-portrait-of-zenobia-cleopatra-76128058

Zenobia, of all Palmyra queen
As write old Persians of her nobleness
So mighty was in warfare, and so keen
That no man her surpassed in hardiness

ملکہ زینوبیا پر کئی فلمیں بن چکی ہیں جن میں ملکہ کی بے مثل فراست اور جرات کو دِکھایا گیا ہے۔ فلم سازوں نے حسبِ توفیق چٹخارے اور ذائقے کا تناسب برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔

Ekberg_Zenobia-3
Ekberg_Zenobia-10

 Zenobia-the-musical


Zenobia-the-musical

اٹلی ، روم اور فرانس میں اوپرا بہت مقبول رہا۔ اوپرا /اوپیرا . . .ایسا تھیٹر ہے جس میں موسیقی کا عنصر غالب ہوتا ہے۔ سلیم انارکلی کی طرح ، ملکہ زینوبیا کا موضوع بھی سٹیج ڈراموں اور اوپیرا بنانے والے کے لئے پُرکشش ثابت ہوا اور مختلف ادوار میں زینوبیا پر کئی اوپیرا پیش کئے گئے۔

079571_2008_10_09_10_23_35
W1siZiIsImltYWdlcy96ZW5vYmlhX2ktV0dPLTA4MzAyMDEzLmpwZyJdLFsicCIsImNvbnZlcnQiLCItcmVzaXplIDMxMHggLXN0cmlwICtyZXBhZ2UiXV0
Zenobia----

تاریخی موضوعات پہ فِکشن لکھنے والوں نے بھی ملکہ زینوبیا پہ خوب لکھا ۔ انگریزی اور عربی دونوں زبانوں میں بہت سی تصانیف زنوبیا کے نام ہوئیں۔

742cb3e2fa61ac3dbe80faecfdacbd96
19247639
24855495
1843862190.02.LZZZZZZZ
020811150236ffg0tas3ertojmyust
17156
1820122701443
Beirut1969_html_13e20df1
Cronin_Zenobia
FreeMasonCover_html_32a8480
item_XL_6517365_3984915
-----_57
Overlord Cover MEDIUM
SmithRomanP
Winsbury_cover
zenobia
zenobiacover
Zenobia_Zabdi
Zenobia-Arab-Queen

مصوروں اور مجسمہ سازوں نے ملکہ زینوبیا کو اپنے فن کے ذریعے پیش کیا

ملکہ زینوبیا ۔ ۔ زنجیروں میں پابند

ملکہ زینوبیا ۔ ۔ زنجیروں میں پابند

3698_6fab_482
d18e6a3b968cfc54987ea936c37d16b1
enemy of rome zenobia

 Giovanni_Battista


Giovanni_Battista

Valkyrie Maiden MMX

جیسے کہ تاریخ سے متعلقہ خواتین ، جانکی دیوی، گلاب دیوی اور انارکلی، نورجہاں کے ناموں سے منسوب کئی بازار، عمارات اور ہسپتال ہمارے ہاں پائے جاتے ہیں اسی طرح . . . ملکہ زنوبیا کے نام سے مٹھائی کی دکانیں نظر آتی ہیں۔ سکول بھی ہیں اور کئی ایک فیشن ڈیزائنرز نے بھی زنوبیا کے نام کا استعمال کیا۔

1497140_10202037375230768_1767521381_n
13392448635
70
logo_47b9b8499965a5.38801665

شام/ سیریا میں لاذقیہ کے ساحل پر ملکہ زینوبیا کا مجسمہ نصب ہے۔

 Statue of Queen Zenobia in Latakia, Syria


Statue of Queen Zenobia in Latakia, Syria