The monk tells of Nero – 35

چودہویں صدی کے مشہور انگریز شاعر جیفری چاوسر کی کئی جلدوں پر مشتمل نظم کینٹربری کہانیاں، آج بھی انگریزی پڑھنے والوں کے لئے ایک خاص کشش رکھتی ہے۔ تقریباََ دنیا کی سبھی یونیورسٹیوں کے انگریزی نصاب میں یہ نظم یا اس کے کچھ حصے شامل کئے جاتے ہیں۔ اس نظم کے تمام کردار اپنی اپنی جگہ منفرد ہیں ۔ اس نظم کے مطابق لگ بھگ انتیس مسافروں نے اکٹھے کینٹربری کے بڑے کیتھیڈرل کے لئے سفر کا ارادہ کیا ۔

چاوسر کے زائرین کا سفر کینٹربری کی جانب رواں دواں ہے اور اب باری ہے مونک کی . . . کہ وہ سفر کے آغاز میں طےکردہ اصول کے مطابق اپنی کہانی سُنائے لیکن مونک نے ایک باقاعدہ کہانی کی بجائے سترہ ایسی شخصیات کا احوال سنایا جو سطوت اور سلطنت کے عروج پہ تھیں اور پھر اپنے کسی عمل کی پاداش میں اُن پہ زوال آیا اور اُن کا دردناک انجام ہوا۔

رومی جولیئس سیزر کی عبرت ناک موت کے بعد تیرہواں نام “نیرو” کا ہے۔

-12-نیرو:

37-68عیسوی

NERO

NERO

نیرو ، سلطنتِ روم کا پانچواں اور آخری سیزر تھا۔ جی ہاں . . .بالکل بانسری والا نیرو۔ اِس کا پورا نام ” نیرو کلاڈئیس سیزر آگسٹس ” تھا اور نیرو کے ساتھ ہی جولیو کلاڈئیس ڈائے نیسٹی یا خاندان ِ شاہی کا عہد اختتام پذیر ہوا۔

-37 عیسوی میں پیدا ہوا ۔54سے68تک روم کے سیاہ و سفید کا مالک رہا ۔ مؤرخ فیصلہ نہیں کرپائے کہ اُس کے سیاہ کارنامے زیادہ ہیں یا سفید۔ نیرو ظلم، جنونی سفاکی اور بے حسی میں شہرت رکھتا تھا۔ نیرو کے عہد کا ایک مؤرخ زیادہ مستند مانا جاتا ہے جس کا نام “ٹیسی ٹس” Tacitus تھا ۔آج نیرو کے بارے میں حاصل کردہ بیشتر معلومات کا مصدر یہی مؤرخ ہے۔

نیرو اپنے چچا کے قتل کے بعد تخت نشین ہوا۔ نیرو کو اُس کے چچا کلاڈئیس نے گود لیا ہوا تھا ۔ کہا جاتا ہے کہ کلاڈئیس کو نیرو کی ماں “اگرِپنا” نے قتل کروایا تھا ۔ اگرِپنا نے اپنے شوہر کی وفات کے بعد کلاڈئیس سے اسی مقصد کے تحت شادی کرلی تھی۔ نیرو کی ماں چاہتی تھی کہ کلاڈئیس کے اپنے طبعی بیٹے ” بریٹا نیکا س” کے جگہ نیرو بادشاہ بنے۔

نیرو شروع سے ہی منہ زور اور جنونی تھا ۔ اقتدار نے اِس فطرت کو ہوا دی اور اُس نے اپنی ماں اگرِپنا، دو بیویوں اوکتاویا اور پوپیا سبینا . . . اور اپنے محسن چچا کلاڈئیس کے بیٹے بریٹانیکا سBritannicus کو قتل کروایا۔ نیرو نے پہلی بیوی اوکتاویا کو قتل کروایا اور اُس کے بعد پوپیا سبینا کے شوہر کو مروا کر اُس سے شادی کی۔ نیرو کی ماں نے اِس اقدام کو اُس کی بادشاہت کے لئے خطرہ سمجھتے ہوئے مخالفت کی تو نیرو نے ماں کو ایک کشتی میں ڈبو کر مارنے کا پلان بنایا ۔ کشتی ڈوبی تو اگرِپنا تیر کر جان بچانے میں کامیاب ہوگئی۔ چار ناکام قاتلانہ حملوں کے بعد نیرو نے اپنے جلادوں سے ماں پر حملہ کروایا ۔ کئی وقائع نگاروں کے مطابق نیرو خود بھی ماں کو قتل کرنے والوں میں شامل تھا۔ اگرِپنا نے مرنے سے پہلے بیٹے پر لعنت بھیجی ، بد دعا مانگی اور آخری الفاظ تھے کہ ‘میری کوکھ پر ضرب لگاؤ جہاں سے ایسے بدبخت بیٹے نے جنم لیا’۔ کچھ کہتے ہیں کہ یہ الفاظ نیرو سے ہی مخاطب ہو کر اگرِپنا نے کہے جس نے ایسا ہی کیا ۔

Smite my womb

Agrippina crowns her son Nero

Agrippina crowns her son Nero

Though Nero was as vile and villainous
With rubies, sapphires, pearls of purest white
Were all his clothes embroidered; one could tell
In precious stones he took a great delight

He had Rome burnt for his delight, a whim
And senators he ordered slain one day
That he might hear the cries that came from them

He slew his brother, by his sister lay
And mangled his own mother–that’s to say
He slit his mother’s womb that he might see
Where he had been conceived. O well away
That he held her no worthier to be

Not one tear from his eye fell at the sight
He simply said, “A woman fair was she
The wonder is how Nero could or might
Be any judge of her late beauty.

Then ordered wine be brought, which instantly
He drank–he gave no other sign of woe
When power has been joined to cruelty
Alas, how deeply will the venom flow

-65میں نیرو کی دل پسند بیوی “پوپیا سبینا” مرگئی۔ 66کےآغاز میں اُس نے “میسیلینا” سے شادی کرلی اور اُس سے اگلے سال اُس نے ایک لڑکے “سپورس” سے بیاہ رچالیا۔ نیرو نے سپورس کا مخصوص آپریشن کروا کر اُس کو اپنے حرم میں شامل کیا ۔ شاہی اور عوامی تقریبات میں سپورس ملکہ کا مخصوص شاہی لباس پہنا کرتا اور اُسے ‘ایمپرس’ اور ‘لیڈی’ جیسے شاہی القابات سے پکارا جاتا ۔ مؤرخین کے ہاں اِس بارے میں متضاد آراء ملتی ہیں کہ نیرو کے حرم میں سپورس سے پہلے بھی ایک مرد شامل تھا۔ کچھ اُسے دیگر غیر فطری حرکتوں اور محرّمات کی ہتک کا عادی بتاتے ہیں۔ایک تاریخ دان کے مطابق نیرو نے اپنی محبوب بیوی پوپیا کو اُمید کی حالت میں دھکّا دے دیا تھا جو کہ جان لیوا ثابت ہوا، اِسی غم میں نیرو دیوانہ ہوگیا تھا ۔ ایک اور ذریعے کے مطابق سپورس اور پوپیا سبینا میں بہت زیادہ مشابہت تھی جو سپورس کو حرم میں شامل کرنے کی وجہ بنی اور نیرو . . . سپورس کو پوپیا کہہ کر پکارا کرتا ۔

نیرو کا اتالیق ، روم کا مشہور فلسفی “سینکا” نیرو کو اُس کے غلط کاموں پر ٹوکتا رہتا تھا ۔ اِسی بات پہ طیش کھا کر نیرو نے اُسے بھی مروادیا تھا۔

This Nero had a master in his youth
To teach to him the arts and courtesy
This master being the flower of moral truth
In his own time, if books speak truthfully

And while this master held authority
So wise he made him in both word and thought
That it would be much time ere tyranny
Or any vice against him would be brought

This master Seneca of whom I’ve spoken
To Nero had become a cause of dread,
Chastising him for every good rule broken
By word, not deed. As he discreetly said

“An emperor, sir, must always be well bred
Of virtue, hating tyranny.” Defied
He wound up in a bath where he was bled
From both his arms, and that’s the way he died

روم کی بدترین آگ کا دن19جولائی64 عیسوی بتایا جاتا ہے۔ روم شہر کی خوفناک آگ پانچ روز تک بھڑکتی رہی۔ 14میں سے 3اضلاع مکمل طور پر خاکستر ہوگئے۔ اِس آگ کے اسباب میں بھی دو تین مختلف آراء ملتی ہیں۔ کچھ مؤرخ اِسے حادثاتی ، کچھ مسیحیوں کی لگائی ہوئی اور کچھ اِسے خود نیرو کے حکم پر لگائی گئی، بتاتے ہیں۔

799px-Jan_Styka_-_Nero_at_Baiae

زیادہ تر یہی بات کہی جاتی ہے کہ نیرو نے روم کو خود آگ لگوائی تھی تاکہ وہاں وہ مہنگے ترین جواہرات سے مزین اپنا عالی شان محل تعمیر کرسکے۔300ایکڑ رقبے پر بنے اِس شاندار عمارت کا نام (Domus Aurea)تھا جو لاطینی الفاظ پر مشتمل ہے اور اِس کا مطلب ہے “سنہری مکان” “دی گولڈن ہاؤس” ۔ اِس محل کے اصل مقام کے بارے میں قیاس آرائیاں کی جاتی ہیں مگر اِس محل کے نشان اپنے مکین کی طرح ، صفحہءہستی سے مِٹ چکے ہیں۔

entrance Roma, la Domus Aurea, ingresso
e2133 Domus aurea print1

آج “ڈومس آوریا” کی اصطلاح، امارت ، بیش قیمت اور پُر تعیّش کے معانی میں، مارکیٹنگ اور کمرشل مقاصد کے لئے استعمال ہوتی ہے جس میں لگژری ہوٹلوں سے لے کر مہنگی ترین خمر کے اشتہارات شامل ہیں۔

domus-1

عام طور پر یہی مشہور ہے کہ جب روم جل رہا تھا تو نیرو بانسری بجا رہا تھا۔ یہ بھی کہا گیا کہ وہ ہومر کی نظم بھی گا رہا تھا جس میں شہر ٹرائے کی تعریف بیان کی گئی ہے۔ تاریخی اعتبار سے اُس وقت روم میں بانسری کا وجود نہیں تھا چنانچہ عین ممکن ہے کہ وہ “بربط ” بجا رہا ہو۔ انگریزی محاورے میں “فِڈل” کا لفظ استعمال ہوتا ہے جس کا مطلب سارنگی، ایک تارہ یا وائلن جیسا ساز ہے۔ روم کے جلنے کے دوران نیرو کے بربط بجانے میں کتنی سچائی ہوگی، اِس بات سے قطع نظر، نیرو کے ساز بجانے کا منظر بہت سے مصوّروں کے لئے دلچسپی کا باعث رہا اور انھوں نے کینوس پر اپنے اپنے تخیل کے مطابق اِسے پیش کیا۔

412px-Mousai_Helikon_Staatliche_Antikensammlungen_Schoen80_n1
article-2194564-14B7B2B2000005DC-591_624x392

Nero fiddles by Leviathansmiles

Nero fiddles by Leviathansmiles


nero-jpg-749636-757794

To ‘fiddle while Rome burns‘ refers to the belief that the infamous Emperor Nero played the lyre (there were no fiddles yet) while Rome was burning. Idiomatically it means someone is doing nothing about a serious problem

مؤرخ ٹیسی ٹس ایک مختلف روایت بتاتا ہے۔ اُس کے مطابق جب روم شعلوں کی لپیٹ میں تھا تو نیرو ، روم سے 40میل دور اینٹیم شہر میں تھا ۔ اینٹیمAntium سے واپسی پر اُس نے ذاتی خزانے سے متاثرین کی بحالی کے لئے اقدامات کئے۔ بےگھر ہونے والوں کے لئے اپنا محل کھول دیا ۔ روم کو نئے سِرے سے بسایا ۔ عمارتیں اور کشادہ مڑکیں تعمیر کروائیں۔ نیرو کے مخالف تاریخ دان نیرو کو جنون کی حد تک حُبِ نفس اور ذاتی تعریف کا دلدادہ بتاتے ہیں اور اُس کے فلاحی کاموں کی یہی توجیہہ پیش کرتے ہیں۔

-64عیسوی میں نیرو نے روم کی آگ کے الزام میں ، وسیع پیمانے پر عیسائیوں کو قتل کروایا ۔ عیسائی مخالف قتلِ عام کے لئے تعذیب اور قتل کے ہولناک طریقے استعمال کئے۔ ٹیسی ٹس لکھتا ہے کہ عیسائیوں کو صلیبوں پر کِیلا جاتا ، جنگلی جانوروں کی کھالوں میں سِلوایا جاتا ، بھوکے کتوں اور شیروں کے سامنے ڈالا جاتا اور نیرو خود چیر پھاڑ کے مناظر سے لطف اندوز ہوتا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ . . . ملزمان پہ آتش گیر مادہ اُنڈیل کر نیرو کے باغ میں رات کو روشنی کے لئے بطور مشعل جلایا جاتا ۔

sewn in skin by nero

sewn in skin by nero


martyrs
Christian Martyrs in the Coliseum by Konstantin_Flavitsky

Christian Martyrs in the Coliseum by Konstantin_Flavitsky

سزا ؤں پہ عمل درآمد قدیم رومن اکھاڑے “کولوزیئم” میں ہوتا جہاں عوام الناس اِن مناظر کو دیکھنے جمع ہوتے۔ اگرچہ کولوزیئم کی تعمیر کا مقصدگھڑ دوڑ، نیزہ بازی، کُشتی اور مختلف کھیلوں کا انعقاد تھا ، لیکن اِسی اکھاڑے میں ریاست کے دشمنوں کو عبرت ناک سزائیں دی جاتیں۔

colosseum aerial view

colosseum aerial view


colosseum

colosseum


Siemiradzki_Christian_Dirce
XY2-1285447 - © - Classic Vision

مؤرخ کہتا ہے کہ کولوزئیم کے فرش پر ریت بچھائی جاتی تاکہ مجرموں کا رِستا ہوا خون جذب ہوسکے۔ اِسی کولوزئیم میں عیسائیت کے بےشمار پیروکاروں کو موت کے گھاٹ اُتارا گیا۔ اب بہت سی کمپیوٹر گیمز میں کولوزئیم کا تصور متعارف کروایا گیا ہے۔

1024px-Jean-Leon_Gerome_Pollice_Verso

کولوزیم کے احاطے میں بیٹھے لوگ

کولوزیم کے احاطے میں بیٹھے لوگ


CircusMaximus2
dg3-coliseum

-66عیسوی میں یونانی اور یہودی آبادیوں کی طرف سے بھاری ٹیکسوں کے خلاف احتجاج ہونے لگا ۔ یروشلم میں رہنے والے ، رومن باشندوں پر حملے کر کے اُنھیں وہاں سے نکل جانے پر مجبور کیا جانے لگا۔ نیرو نے اپنے سپہ سالار ‘ویس پے سئین’ کو فوج کی کمان دے کر ‘جوڈیا’ بھیجا جہاں اُس نے جوڈیا کی تمام سرزمین پر قبضہ کرلیا اور یروشلم کو محاصرے میں لے لیا۔

-67میں ، نیرو کے حکم پر ، عیسائیت پر کاربند ہونے کے جرم میں سینٹ پیٹر یا پطرس اور سینٹ پال کو قتل کیا گیا۔ کولوزئیم کے قریب واقع ” سرکس میکسی مس” میں سینٹ پیٹر کو اُلٹا مصلوب کیا گیا۔ یہ اقدام پطرس کی درخواست کے جواب میں کیا گیا کیونکہ پطرس نے درخواست کی تھی کہ صلیب پہ مرنے کا اعزاز یسوع مسیح سے وابستہ ہے اس لئے اُسے کسی اور طرح مارا جائے۔ چنانچہ سینٹ پیٹر کو اُلٹا لٹکایا گیا جس کے سبب آج بھی اُلٹی صلیب کو ‘لاطینی صلیب یا سینٹ پیٹر کی صلیب’ کہا جاتا ہے۔ سینٹ پیٹر کو مسیحِ مقدس کے12حواریوں میں سے مقرّب ترین کہا جاتا ہے۔ کیتھولک عیسائی عقیدے کے مطابق، یسوع مسیح نے سینٹ پیٹر کو اپنے بعد کلیسا کی زمامِ کار سونپی تھی جس کے بعد پیٹر کیتھولک کلیسا کے اولین پوپ اور روم کے پہلے پادری بنے۔

780px-Circus_Maximus_(Atlas_van_Loon)
463px-Caravaggio-Crucifixion_of_Peter

کہا جاتا ہے کہ جب پیٹر کی موت ہوگئی تو اُسے قبرستان لے جا کر دفنایا گیا اور اُس کے معتقدین چوری چھُپے اُس کی قبر کو پوجتے رہے۔ سینٹ پیٹر کی قبر پر اُسی جگہ روم میں “سینٹ پیٹر کیتھیڈرل” تعمیر کیا گیا جو کہ عیسائیت کا دل اور پاپائے روم کی رہائش گاہ ہے اور “ویٹیکن سِٹی” کا مرکز ہے ۔ قدیم کلیسا کی تعمیر 320ء میں ہوئی تھی، لیکن کافی عرصہ گذرجانے کی بنا پر عمارت خستہ ہونے لگی ۔ لہذا موجودہ باسلیکا کی تعمیر 1506ء میں شروع کی گئی جو 1626ء میں مکمل ہوئی۔ اس عمارت میں دور نشاۃ ثانیہ کے فن تعمیر کے نمونے جابجا نظر آتے ہیں جن کی تخلیق میں مائیکل اینجلو کا قابلِ ذکر حصہ رہا ہے۔ 1940سے1964تک ہونے والی تحقیقات نے بھی اِس جگہ پر سینٹ پیٹر کے دفن ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔اس نئی تعمیر کے بعد اکثر پاپائے کلیسا ، پطرس کی جانشینی کی علامت کے طور پر باسلیکا کے نیچے واقع ہال میں مدفون ہوئے۔اب یہ عمارت پطرس باسلیکا ، کہلاتی ہے۔لاطینی میں اسے basilica sancti petriکہا جاتا ہے۔ کیتھیڈرل اور باسیلکا میں بنیادی فرق طرزِ تعمیر کا ہے ، دیگر باتوں کے علاوہ باسلیکا میں کلیسا کی مخصوص عبادت گاہ کے علاوہ مذہبی تقریبات کے لئے نیم دائرے کی شکل میں ایک مرکزی جگہ بھی شامل ہوتی ہے ۔

2036287014_60b3df6621_b

-68 عیسوی میں نیرو کے مظالم کے سبب ، دو نمایاں بغاوتوں نے سر اُٹھایا ۔ فوج بھی اِن بغاوتوں کی سرپرستی کر رہی تھی چنانچہ فوج نے نیرو کا تختہ اُلٹ کر حکومت سنبھال لی۔ نیرو فرار ہوگیا۔ فوج اور حکومت کے سرکردہ افراد نے نیرو کو موت کی سزا سنائی۔ نیرو نے شہر سے باہر اپنے ایک وفادار سپاہی کے مکان میں پناہ لی اور اپنی قبر کھُدوائی۔ خودکشی کا ارادہ کیا۔ مرنے سے پہلے اپنی ماں پر لعنت اور ملامت بھیجی جس نے اُسے جنم دے کر یہ دن دِکھایا ۔بہت دیر متردد رہا لیکن جیسے ہی اُسے گرفتار کرنے کے لئے آنے والے سپاہیوں کے گھوڑوں کی ٹاپوں کی آواز سنائی دی، اُس نے اپنے ہاتھوں اور پیروں کی نَسیں کاٹ لیں اور خود کو ہلاک کرلیا۔

دوسری جانب نیرو کی موت کا سن کر اُس کے سپہ سالار “ویس پے سئین” نے یروشلم کا محاصرہ چھوڑ کر اقتدار کی فکر کی۔ نیرو کی موت کے ساتھ اُس کے خاندان سیزر کا نام ختم ہوگیا تھا کیونکہ31 سالہ نیرو کی واحد اولاد اُس کی ایک بیٹی تھی جو ‘پوپیا سبینا’ کے بطن سے تھی اور تین ماہ کی عمر میں وفات پا گئی تھی۔ روم کی حکومت کے باقی دعویداروں کو شکست دیتے ہوئے “ویس پے سئین ” کا اپنا بیٹا “ٹائی ٹس” روم کے تخت پر بیٹھا۔

-70عیسوی میں “ٹائی ٹس” نے اپنے باپ کی جنگ جاری رکھتے ہوئے یروشلم کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور وہاں کا “سیکنڈ ٹیمپل” یا ھیکلِ ثانی تباہ کردیا ۔ رومن سپاہی یروشلم کے مندر سے نوادرات اور مینورہ اُٹھا لائے جو کہ روم کے “کولوزئیم” کی تعمیرِ نو کے لئے چندے میں دے دئیے۔

800px-Arch_of_Titus_Menorah

-نیرو کی موت کے بعد اُس کے تخت پر بیٹھنے والےجانشین ٹائی ٹس نے یروشلم اور جودیا کی فتح کی یادگار کے طور پر روم میں ایک بلند قوس یا محراب (آرچ آف ٹائی ٹس) بنوائی۔ جس پر لاطینی میں ایک عبارت درج ہے۔

800px-Titus_hh2

Arch of Titus - inscription

Arch of Titus – inscription

The inscription reads:
SENATVS
POPVLVSQVE•ROMANVS DIVO•TITO•DIVI•VESPASIANI•F(ILIO) VESPASIANO•AVGVSTO
(Senatus Populusque Romanus divo Tito divi Vespasiani filio Vespasiano Augusto)
which means “The Roman Senate and People (dedicate this) to the divine Titus Vespasianus Augustus, son of the divine Vespasian

مونک نے 100لائنوں میں رومن سلطنت کے جنونی، جابر اور ظالم کا انجام سنایا ۔ نیرو جس کا دامن اپنوں کے خون سے بھی رنگا ہوا تھا اور بےشمار جانیں اُس کے ہاتھوں تکلیف دہ موت سے دوچار ہوئیں، جب مرا تو دنیا میں اُس کی سفاکی اور ستم کی لرزہ خیز داستانوں کے سِوا کچھ نہ رہا۔ سچ ہے کہ اقتدار اور تاجوری دائمی نہیں ہوتی ۔

Marble bust of Nero (palace of Versailles)

Marble bust of Nero (palace of Versailles)

The Monk mourns the De Julio Cesare – 34

چودہویں صدی کے مشہور شاعر جیفری چاوسر کی طویل نظم کینٹربری ٹیلز جاری ہیں، اُنتیس مسافر ، کینٹربری شہر کے بڑے کلیسا کی زیارت کے لئے سفر کررہے ہیں۔ سب مسافروں نے سفر کی طوالت اور اُکتاہٹ کو کم کرنے کے لئے آپس میں کہانیاں سنانی طے کیں۔ جب مونک کی باری آئی تو اس نے ایک ثابت کہانی کی بجائے مختلف نامور شخصیات کے دردناک انجام سنائے۔

جولیئس سیزر

اب مونک، بارہواں ماجرا، جولیئس سیزر کا سنا رہا ہے جو کہ سکندر اعظم سے بے حد متاثر تھا اور اس سے بڑھ کر فاتح عالم بننا چاہتا تھا تاہم دنیا فتح کرنے میں سکندر اعظم کی ہمسری نہ کرسکا۔ جولیئس سیزر نے زندگی کا پیشتر حصہ جنگی معرکہ آرائی میں صرف کیا اور تاریخ میں ایک بہادر جنگی جرنیل کے طور پہ یاد رکھا گیا۔ قبل مسیح کے کئی مؤرخین نے جولیئس سیزر کا احوالِ زندگی قلم بند کیا اور اُس کی زمینی اور بحری فتوحات کے بارے میں لکھا ۔

slide12-julius-caesar

جولیئس سیزر سویں صدی قبل مسیح کا ایک رومن جرنیل، سیاستدان، کونسلر اور لاطینی نثر نگار تھا۔ اُس نے کئی ایسے اقدامات کئے جس کے نتیجے میں محدود رومن جمہوریہ کا زوال ہوا ، اور ایک عظیم رومن سلطنت ظہور میں آئی۔

کئی موجودہ ممالک بشمول انگلستان، سپین، فرانس، اٹلی، یونان، ترکی اور مصر ، اِس عظیم سلطنت کا حصہ تھے۔ اِس رومی سلطنت زبان لاطینی اور یونانی تھی۔ مغربی رومی سلطنت کا مرکز روم جبکہ مشرقی بازنطینی سلطنت کا دارالحکومت قسطنطنیہ تھا۔ مغربی رومی سلطنت476میں جرمن وِزی گوتھوں کے ہاتھوں تباہ ہوئی جبکہ بازنطینی سلطنت1453میں عثمانیوں کے ہاتھ فتح ہوئی۔ مغربی تہذیب کی ثقافت، قانون، طرزِ حیات، فنون، زبان، مذاہب، طرزِ حکومت، افواج اور تعمیرات میں آج بھی رومی سلطنت کی جھلک نظر آتی ہے۔

جولیئس سیزر اور قلوپطرہ کا موضوع بھی مؤرخین اور لکھاریوں کے لئے دلچسپی کا محور رہا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ جب اس نے مصر فتح کیا تو وہاں کی ملکہ قلوپطرہ کی زلفوں کا اسیر ہوگیا اور کافی عرصہ وہاں مقیم رہا۔ تاہم اِ س بارےمیں کئی مختلف روایات ملتی ہیں ۔ البتہ مصّوروں اور فلم سازوں نے اِس موضوع پہ خوب طبع آزمائی کی ۔

julius-caesar-cleopatra-halloween-costume
caesarandcleopatra
Caesar_and_Cleopatra_-_1945_-_poster
MV5BMTM0MzAwMTcwOV5BMl5BanBnXkFtZTcwNzY2NDQyMQ@@._V1__SX961_SY539_
MV5BMjE2NjI4NzI0Ml5BMl5BanBnXkFtZTcwNjQxNTAwMQ@@._V1__SX961_SY539_
41hk3428TFL._SL500_AA240_

سکندر اعظم کی طرح جولیس سیزر بھی پیدائشی طور پر مرگی کا مریض تھا۔ وہ دورے کی حالت میں سرِ دربار بے ہوش ہوجاتا۔ مونک سناتا ہے:

JULIUS CAESAR-100BC- 44BC

Through wisdom, manhood, and great labor’s throes
From humble bed to royal majesty
This Julius as a conqueror arose
For he won all the West by land and sea
By strength of hand and by diplomacy
And made each realm to Rome a tributary
And then of Rome the emperor was he
Till Fortune would become his adversary

By wisdom, manhood and great labor Julius the Conqueror rose from humble birth to royal majesty, and won the entire occident over land and sea by the strength of his hand or by treaty, and made it tributary to Rome. And afterwards he was emperor, until Fortune became his adversary

بہادر پامپے ، جولیئس کا ایک سپہ سالار تھا اور جولیئس کی بیٹی ، جولیا کا شوہر تھا۔ جولیا کے مرنے کے بعد اِن دونوں میں پھوٹ پڑ گئی۔ بہت عرصہ خانہ جنگی میں مصروف رہنے کے بعد ، جولیئس نے حریف جرنیل پامپے کو شکست دی اور اسکندریہ میں اسے قتل کردیا گیا۔ پامپے کا کٹا ہوا سر ، اور جولیئس کی عطا کردہ مہر ، جب جولیئس کو پیش کئے گئے تو وہ آبدیدہ ہوگیا۔ مونک کہتا ہے:

O mighty Caesar, who in Thessaly
Faced Pompey, your own father-in-law, who drew
About him in the East all chivalry
As far as where each day dawn breaks anew
Through your knighthood that host you took and slew
(Except the few who then with Pompey fled
The East thereby put in such awe of you
Thank Fortune that so well you marched ahead

Here I’ll bewail a little, if I might
Pompey the Great, this noble governor
Of Rome who from the fray had taken flight
One of his men, a false and traitorous cur
Beheaded him that he might win the favor
Of Julius, who received the severed head
Alas, Pompey the Eastern conqueror,
That to such end by Fortune you were led

O mighty Caesar, in Thessaly you made war against Pompey, your father-in-law, who controlled all the chivalry of the orient as far as dawn of day, and by your knighthood you did capture and slay all except a few people who fled with him. Thus you did put the orient in awe, thanks to Fortune who aided you so well. But now I will bewail this Pompey a little while, this noble governor of Rome, who fled in this battle. One of his men, I say, a false traitor, struck off his head and brought it to Julius to win his favor. Alas, Pompey, conqueror of the orient, that Fortune should have brought you to such an end

 Caesar Addressing his Troops


Caesar Addressing his Troops

مصر سے واپسی پر سیزر نے سربراہ مملکت کے طور پر روم کے امور سنبھالے اور شاید وہی دنیا کا پہلا جرنیل تھا جو کہ بادشاہ بنا ۔ روم میں بہت سی اصلاحات کروائیں۔ رومن کیلنڈر کو تبدیل کر کے جولیئن کیلنڈر متعارف کروایا جو کہ گریگورین کیلنڈر کے آنے تک رائج رہا ۔ دونوں کیلنڈروں میں فرق نکالیں تو کچھ گھنٹوں کا ہی ہوگا۔

سلطنت روم کی کونسل نے سیزر کو اٹلی کے علاوہ سبھی ملکوں کا بادشاہ بنانا طے کرکے اس کے تخت پر بیٹھنے کی تاریخ مقرر کر لی ۔ دوسری طرف اس کے ساتھی مارکوس جونیئس بروٹس نے دیگر کے ساتھ مل کر اس کے قتل کی سازش شروع کردی۔ ان لوگوں کا کہنا تھا کہ سیزر کو بادشاہ بننے کا کوئی حق نہیں کیونکہ بادشاہ بننا روم کے قانون کے خلاف ہے۔ اس سے صرف سیزر ہی روم کے سیاہ و سفید کا مالک بن جاتا۔

9780486113661_p0_v2_s260x420

To Rome again repaired this Julius
With laurel crowned, upon his victory.
Then came the time when Brutus Cassius,
Who envied Caesar’s high prosperity
Began conspiring in full secrecy
Against his life. With subtlety he chose
The place of death, and planned that it should be
By way of daggers as I shall disclose

Julius returned to Rome in his triumph, crowned high with laurel. But at one time, Brutus Cassius, who ever bore ill-will to his high estate, made a secret deceptive conspiracy against him, and chose the place where he should die by poniards, as I will tell you

800px-Jean-Léon_Gérôme_-_The_Death_of_Caesar_-_Walters_37884

مارچ 44 قبل مسیح میں اسے سر دربار قتل کردیا گیا۔ قاتلوں کا سربراہ بروٹس تھا۔ دربار کے بیشتر اراکین نے سیزر کو گھیر لیا ۔ اُسے بہت سی کاری ضربیں لگائیں۔

800px-Cesar-sa_mort

زخمی سیزر، دربار میں فرش پہ گِرا تڑپتا رہا ۔ اُس نے اپنے آپ کو برہنہ ہونے سے بچانے کی کوشش کی۔اِسی اثنا میں سیزر نے قاتلوں میں اپنے ساتھی بروٹس کی شرکت دیکھی تو کہا کہ: بروٹس تم بھی؟ پھر تو سیزر کو ضرور مر جانا چاہئے۔

et_tu_brute_bumper_sticker-ra42965f7f95e40c7877c47b4d4ca6612_v9wht_8byvr_512
app4j6dy1yrn8kki

سیزر کا یہ جملہ آج عام طور پر گفتگو میں اُس وقت استعمال کیا جاتا ہے جب اپنا کوئی قریبی شخص ہی انتہائی دیدہ دلیری سے دھوکہ دے ۔

article-2216396-157617A8000005DC-751_634x511

سیزر کو قتل کرکے قاتلوں نے اُس کے خون سے ہاتھ دھوئے۔ سیزر کے قتل کے نتیجے میں روم میں خانہ جنگی شروع ہوگئی جس میں بروٹس کے تمام ساتھی مارے گئے جبکہ اس نے خود کشی کرلی۔

The world-renowned Royal Shakespeare Company returns to BAM with a new twist on Shakespeare's Julius Caesar. Set in present-day Africa and featuring an all-black cast, this visionary production echoes recent regime struggles throughout the continent. The
Julius caesar

This Julius to the Capitol one day
Had made his way, as frequently he chose
There fell upon him then without delay
This traitor Brutus and his other foes
Who with their daggers gave him several blows
And left him there to die when they were through
He groaned at but one stroke for all his throes
Or else at two, if all his tale is true

Julius_Caesar_by_Crowley_S

This Julius Caesar was so manly hearted
And had such love for stately probity
That, even as his wounds so sorely smarted,
He drew his mantle over hip and knee
So that his private parts no one could see
As he lay in a daze, the deathly kind
And knew that he was wounded mortally
Thoughts of decorum still were in his mind

Julius Caesar's death at the hands of Brutus and Gaius Cassius Longinus, and Porcia's suicide

Julius Caesar’s death at the hands of Brutus and Gaius Cassius Longinus, and Porcia’s suicide

One day, as he was accustomed, this Julius went to the Capitol, and there this false Brutus and his other foes seized him without delay and wounded him with many wounds, and there let him lie. And he never groaned except at one stroke, or else two, unless the books are false. So manly of heart was this Julius, and so well he loved dignified decorum, that with all his deadly sore wounds he cast his mantle over his hips, so that none should see his nakedness. Thus, as he lay dying in a trance, and knew truly that his life was spent, yet had he thought of dignity

murder-caeser

مونک آخر میں پھر نوحہ پڑھتا ہے کہ اے مؤرخو! تم نے کیا الم ناک حال بیان کئے ہیں اِن دونوں سُورماؤں کے، جن پہ پہلے قسمت مہربان تھی اور پھر دغا دے گئی ۔ طاقت، اقتدار اور تاج کبھی کسی کے نہیں ہوتے ۔ تو. . میرے ہم سفرو اور ساتھیو، ایسی آنی جانی شے پہ اعتبار کرنا ہی لا حاصل ہے۔

Lucan, you’re one authority I’ll note,
Suetonius, Valerius also
The story’s fully there in what you wrote
Of these two conquerors; to them we know
That Fortune first was friend and later foe
No man can put trust in her favor long,
We must keep both eyes on her as we go
These conquerors bear witness who were strong

Lucan, I commit this story to you, and to Suetonius, and Valerius also, who wrote beginning and end of it, how to these two great conquerors at first Fortune was friend and then their foe. Let no man trust long to have her favor, but evermore be watchful of her. Be warned by these mighty conquerors

cute_caesar__et_tu_bwute___by_kevinbolk-d3coeny
et_tu__brute__by_themrock-d3h4zph
et-tu-brute
julius-caesar-quotes-1

Monk portrays De Rege Anthicho Illustri – 33

چودہویں صدی کے انگریزی شاعر جیفری چاوسر کی کینٹربری ٹیلز جاری ہیں ، اُنتیس مسافر اپنی اپنی کہانی سنارہے تھے کہ جب مونک کی باری آئی تو اُس نے مشہور شخصیات کے احوالِ زندگی اور عبرت ناک انجام سنائے۔ دسواں حال شام کی بہادر اور نامور ملکہ زینوبیا ، کا سنایا . . .جو اپنی ہی خطا کی وجہ سے پابندِ سلاسل ہوئی۔اُس کے بعد اب مونک نے گیارہواں انجام ، سلوقی شاہی ایمپائر کے آٹھویں بادشاہ، انطیوخوس چہارم کا ماجرا سنایا ۔

Bust of Antiochus iv at the altes museum in Berlin

Bust of Antiochus iv at the altes museum in Berlin

مقدونیہ کے بادشاہ سکندرِ اعظم کی شاندار حکومت کے زوال کے بعد دوسری صدی میں سلوقی شاہی خاندان برسرِ اقتدار آیا۔ اِس خاندان کی حکومت مرکزی اناطولیہ، شام، فلسطین، مشرقی بحئیرہء روم کے علاقوں، میسوپوٹامیا، فارس ، ترکمانستان، پامیر اور وادیء سندھ کے علاقوں پر رہی۔ 223قبل مسیح سے 60قبل مسیح تک اِس خاندان کے 30 بادشاہوں نے حکومت کی۔

Seleucid-Empire

Seleucid-Empire

-انطیوخوس چہارم:

ایک عجیب اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ، ماسوائے اِکّا دکّا، ا ِس خاندان کے سب مردوں کا نام . . . انطیوخوس تھا اور سب عورتوں کا نام . . لوڈائس۔ یہ نام دراصل شاہی القاب تھے جو تخت نشین ہونے والے ہر فرد کو دیئے جاتے اور پھر وہ تاریخ میں اُسی نام سے معروف ہوتا ۔ اِسی اعتبار سے . . .انطیوخوس چہارم کا اصل نام میتھراڈیٹس تھا اور انطیوخوس چہارم کے باپ کا نام ‘انطیوخوس سوم ‘ تھا جس نے اپنی ہی زندگی میں اپنے بڑے بیٹے ‘انطیوخوس بڑے’ کو شریکِ تخت قرار دے دیا تھا ۔

بڑے بیٹے کی حادثاتی موت کے بعد دوسرے نمبر کا بیٹا ‘سلوقس چہارم’ بادشاہ بنا۔ سلوقس چہارم قتل ہوا اور اُس کے بعد . . .یہ انطیوخوس چہارم تخت پر بیٹھا ۔ انطیوخوس کے باپ نے سلوقی خاندان کی حکومت کو بکھرنے سے بچانے کے لئے اپنی بیٹی لوڈائس کی شادی ، اپنے پہلے ولی عہد بیٹے انطیوخوس بڑے سے کردی تھی۔ سلوقی خاندان میں یہ اپنی نوعیت کی پہلی شادی تھی۔ یہ شوہر اور بھائی جلد ہی چل بسا تو لوڈائس دوسرے بھائی سلوقس چہارم سے بیاہ دی گئی جس سے تین بچے ہوئے۔ سلوقس چہارم پراسرار انداز میں قتل ہوا تو لوڈائس کی شادی چھوٹے بھائی انطیوخوس چہارم سے ہوگئی۔

070909pm3

انطیوخوس چہارم . . خود کو دیوتا زیوس ، مشتری یا جیوپیٹر کا اوتار اور مافوق الفطرت برکات رکھنے والا حکمران کہتا تھا ۔تاریخ میں سفّاک اور ظالمانہ قتل کرنے کے لئے بدنام ہوا ۔ مونک کے الفاظ میں . . . .

KING ANTIOCHUS THE ILLUSTRIOUS

What need to tell of King Antiochus
Of all his high and royal majesty,
His lofty pride, his works so venomous?
Another such a one was not to be.
Go read of who he was in Maccabee,
Read there the words he spoke so full of pride
And why he fell from high prosperity,
And on a hill how wretchedly he died

He gave himself the surname “Epiphanes” which means “the visible god” (that he and Jupiter were identical). He acted as though he really were Jupiter and the people called him “Epimanes” meaning “the madman”.

آمریت اور سلطنت کے گھمنڈ میں فوج کا ایک حصہ قبرص پر حملے کے لئے روانہ کیا اور خود فوج کی کمان کرتا ہوا مصر کی طرف نکلا۔ یاد رہے کہ مصر اُس وقت رومن حکومت کا حصہ تھا چنانچہ ایک رومن قاصد نے انطیوخوس کا راستہ روکا اور اُسے رومن سلطنت کی طرف سے ایک پیغام دیا ۔ پیغام یہ تھا کہ یا تو قبرص اور مصر کا رُخ کرتی اپنی فوجوں کو واپس بُلا لے . . یا پھر رومن سلطنت سے اعلانیہ جنگ کا اقرار کرلے۔

انطیوخوس نے قاصد کو یہ کہہ کر ٹالنے کی کوشش کی کہ اِس بات کا فیصلہ وہ اپنی کابینہ سے مشورے کے بعد کرے گا ۔

کایاں رومی قاصد نے آگے بڑھ کر اُس کے گرد مٹّی میں ایک دائرہ کھینچ دیا ۔

popillius_drawing_a_circle_around_king

popillius_drawing_a_circle_around_king

دائرہ کھینچ کر کہا کہ اِس دائرے سے باہر قدم رکھنے سے پہلے مجھے میری بات کا جواب دو ورنہ اِس دائرے سے باہر رکھا ہوا تمھارا قدم ، میں رومنز کے خلاف اعلانِ جنگ تصّور کروںگا۔

انطیوخوس نے جنگ کا ارادہ ترک کرنے کا فیصلہ کیا اور واپس پلٹ گیا۔ انگریزی کی ایک ضرب المثل اسی واقعے سے منسوب ہے . . .

To draw a line in sand

جس کا مطلب ہے کہ فیصلے کی گھڑی .. . یعنی جب فیصلہ کرنا اٹل اور ناگریز ہوجائے۔

OLYMPUS DIGITAL CAMERA

-168ق م میں مصر سے واپسی پر اُسے معلوم ہوا کہ اُس کی غیر موجودگی کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے یروشلم میں بغاوت پھوٹ پڑی ہے۔ مصر سے ناکام واپسی کے طیش میں اُس نے یروشلم کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ مؤرخین لکھتے ہیں کہ انطیوخوس نے شریعتِ موسوی پر پابندی عائد کردی ۔ بنی اسرائیل کو اُن کی عبادات سے روک دیا۔ بیت المقدس میں زبردستی بُت رکھوادیئے۔ یہودیوں کو مجبور کیا کہ وہ اِن یونانی بتوں کی پوجا کریں۔ یروشلم کے معبد کی بےحرمتی کی، اُس کی قربان گاہ پر سؤر قربان کیا۔ انطیوخوس خود کو دیوتا مشتری کا اوتار کہتا تھا چنانچہ مشتری کے نام پر مندر تعمیر ہوا۔ یہودی خاندانوں کو بازارِ غلاماں میں فروخت کیا گیا۔ مقدس کتاب توریت کے نسخے تباہ کردیئے گئے۔ جس شخص کے پاس یہ نسخے برآمد ہوتے اُسے ذبح کروادیا جاتا۔ ختنے کی رسم منع کردی گئی۔ تشدد کے ذریعے مذہب تبدیل کروایا جاتا۔ تمام یہودی قوانین کی جگہ یونانی قوانین نافذ کر دیئے گئے۔

800px-Francesco_Hayez_017
Lights   19
Lights   29
Lights   27

جیسے کے زمانے کا چلن ہے ، لوگ نئی اور بیرونی تہذیب کے خلاف مزاحمت بھی کرتے ہیں لیکن کچھ اُسے اپنانے لگتے ہیں . . یہودی اشرافیہ میں سے بھی کچھ لوگوں نے یونانی تہذیب اپنائی . . .مگر روایت پسند یہودیوں نے حالات کا مقابلہ کیا۔ ایک زبردست تحریک اُٹھی جو تاریخ میں “مکابی تحریک” یا “مکابی بغاوت” کے نام سے مشہور ہے۔

Go read of who he was in Maccabee
Read there the words he spoke so full of pride
And why he fell from high prosperity
And on a hill how wretchedly he died

اِس بغاوت میں بہت خون خرابہ ہوا . . . مگر 140ق م میں یہودیوں نے ایک آزاد دینی ریاست یہودیہ قائم کرلی جو کہ63ق م تک قائم رہی۔ یہودیوں نے یروشلم پہ دوبارہ قبضہ کرلیا اور بیت المقدس کو بتوں سے پاک کیا۔ اِس موقعے پر یہودیوں نے شاندار جشن منایا ۔ جشن کے موقعے پر مندر میں شمعیں روشن کرنا تھیں۔ لیکن مندر میں شمعیں روشن کرنے کے لئے صرف اِس قدر زیتون کا تیل موجود تھا جس سے بس ایک رات شمع روشن ہوسکے۔ مگر کراماتی طور پر اِس تیل سے آٹھ راتوں تک شمع روشن رہی۔ اِسی اثنا میں مزید تیل کا بندوبست بآسانی کرلیا گیا۔

Judea_Judas_Makk
rubens-triumph-of-judas-maccabees“Triumph of Judas Maccabee,” by Rubens, circa 1630

اِس واقعے کی یاد میں اہلِ یہود آج بھی “منوخ ” یا “ہنوکا” نامی تہوار مناتے ہیں، جس میں سات یا نو شمعوں والا شمعدان روشن کیا جاتا ہے۔

3529629a35074802d6dda2b5c525632f
hanukkah_subwayart

The dates of Hanukkah are determined by the Hebrew calendar. Hanukkah begins at the 25th day of Kislev, and concludes on the 2nd or 3rd day of Tevet (Kislev can have 29 or 30 days). The Jewish day begins at sunset, whereas the Gregorian calendar begins the day at midnight. Hanukkah begins at sunset of the date listed.
• November 27, 2013
• December 16, 2014
• December 6, 2015
• December 24, 2016
• December 12, 2017
• December 2, 2018
• December 22, 2019
• December 10, 2020

اِس شمعدان کے نشان کو حنوکا کہا جاتا ہے۔ چھ یا سات شاخوں والا یہ نشان اسرائیل کا سرکاری نشان ہے اور یہودیوں کی مقدس مذہبی علامت ہے۔ اِسے “مینورہ حنوکا” بھی کہا جاتا ہے جس کی وجہ چھ شاخوں والی ایک جھاڑی “مینورہ” ہے جو فلسطین میں عام پائی جاتی ہے۔

800px-RoyLindmanHanukkahMenorah

یہودی عقیدے کے مطابق، موسیٰ ؑ جب کوہِ طور پر خدا سے ہم کلامی کے لئے تشریف لے گئے تو اِسی روشن جھاڑی کی شکل میں خدا نے اپنا جلوہ دِکھایا تھا۔

Napoleon_stellt_den_israelitischen_Kult_wieder_her,_30._Mai_1806Napoleon grants freedom to the Jews

یروشلم پر حملے کے دوران ملک میں انتشار پھیلا اور اِس اندرونی انتشار کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے ، پراشیا کے بادشاہ نے، مشرق کی جانب سے حملہ کرکے “حیرات” کے شہر پر قبضہ کرلیا ۔ انطیوخوس چہارم اِس حملے کے سدِباب کے لئے معرکہ آرا ہوا ، اِس معرکے کے دوران ہی ایک موذی مرض کا شکار ہوا اور بڑی اذیت کی موت مرا ۔

antiochus-iv-epiphanes

antiochus-iv-epiphanes

انطیوخوس کی بیماری کے بارے میں مختلف آراء تاریخ میں ملتی ہیں۔ کچھ کہتے ہیں کہ یہ چیچک کی طرح کا مرض تھا ، کچھ کے مطابق جذام تھا . . . آخری وقت میں اُس کے جسم میں سے اُٹھتی بدبو کی وجہ سے کوئی اُس کے قریب نہیں جاتا تھا۔ لوگوں نے اُسے ایک پہاڑی پر مرنے کے لئے چھوڑ دیا تھا

انطیوخوس کی بیماری کے دوران، اُس کے ایک مصاحب “لاسئیس” نے اعلان کیا کہ وہ نئے اور کم سِن ولی عہد کا سرپرست ہونے کی حیثیت سے تخت سنبھالے گا اور تمام امورِ سلطنت اپنے ہاتھ میں لے لئے۔ لاسئیس نے ایک بار پھر یروشلم پر حملے کا ارادہ کیا۔

اِسی اثنا میں ایک اور شخص پیٹرنے، جو موت کے وقت انطیوخوس کے پاس تھا، یہ دعویٰ کیا کہ وہ ولی عہد کا سرپرست ہے۔ اِن دونوں مین خانہ جنگی اہلِ یروشلم کے لئے باعثِ نجات ثابت ہوئی۔ مونک نے مندرجہ ذیل الفاظ میں انطیوخوس کا ماجرا سنایا . . .

KING ANTIOCHUS THE ILLUSTRIOUS

What need to tell of King Antiochus
Of all his high and royal majesty,
His lofty pride, his works so venomous?
Another such a one was not to be.
Go read of who he was in Maccabee,
Read there the words he spoke so full of pride
And why he fell from high prosperity,
And on a hill how wretchedly he died

He had so great a hatred for the Jew
That he ordered his chariot to be
Prepared at once, and swore avengingly
That right away upon Jerusalem
He’d wreak his ire with utmost cruelty
But his objective soon eluded him

God for his threat so sorely had him smitten
With an internal wound that had no cure
Inside his gut he felt so cut and bitten
That it was pain he hardly could endure
This vengeance was a just one, to be sure
For many a fellow’s gut had felt his blow
But still, his evil purpose to secure
He wouldn’t be deterred despite his woe

He ordered armed immediately his host.
But then, before he knew it, God once more
Had moved against his pride and haughty boast:
He fell out of his chariot as it bore
His skin and limbs the tumble scraped and tore
Till he could neither walk nor mount to ride;
Upon a chair men carried off the floor
He had to sit, bruised over back and side

The wrath of God had smitten him so cruelly
That evil worms all through his body crept
By cause of which he stank so horribly
That none within the household where he kept
Whether he be awake or when he slept
Could long endure his smell. In this abhorred
Condition, this mischance, he wailed and wept
And knew of every creature God is Lord

To all his host and to himself also
The way his carcass stank would sicken till
No one could even bear him to and fro
And in this stink, this horrid painful ill,
He died a wretched death upon a hill.
And so this evil thief and homicide
Who caused so many others tears to spill
Has the reward that goes to those of pride

antioch4d

The Monk mourned the Cenobia – 32

چودہویں صدی کا مشہور شاعر جیفری چاوسر اپنی کینٹر بری ٹیلز سنا رہا ہے ، اُنتیس مسافروں کا قافلہ کینٹربری کے بڑے کلیسا کی جانب رواں دواں ہے ۔ مسافروں نے طے کیا کہ وہ سفر کی طوالت اور دقّت سے نمٹنے کے لئے ایک دوسرے کو اپنی اپنی باری پہ کہانیاں سنائیں گے ۔ مسافروں نے رنگارنگ کہانیاں سنانی شروع کی۔ جب مونک کی باری آئی تو اُس نے ایک مکمل کہانی کی جگہ، مشہور شخصیات کے زوال پر ایک جامع اور مختصر احوال نامہ سنایا جن میں ایک دو کے علاوہ باقی سب تاریخ کے اصل کردار ہیں۔

چھٹی صدی قبل مسیح میں بابُل کے بادشاہ نبو گُڈ نصر کے دیوانہ ہونے کا سنایا اور تیسری صدی قبل مسیح کے سکندرِ اعظم کے خالی ہاتھ دنیا سے چلے جانے پہ اظہارِ غم کرنے کے بعد مونک نے شام کا رُخ کیا اور ملک شام کی ایک ملکہ کا حال سنایا جو اپنے عہد میں طمطراق سے راج کرتی تھی ۔ زینوبیا نام کا اصل ماخذ زینب بھی ہوسکتا ہے۔

-زینوبیا:

Queen Zenobia from Rome's Enemies  The Desert Frontier

یہ تیسری صدی کی ایک ملکہ تھی جو رومن تخت کے زیرِ انتظام شام میں ایک بہت بڑی مملکت “پالمائرا” کی فرمانروا تھی ۔ پھر اپنی سلطنت وسیع کرنے کے لئے زینوبیا نے تختِ روم کے خلاف ایک بغاوت کی قیادت کی اور اقتدار کے لالچ میں رومن ایمپائر سے ٹکر لے بیٹھی اور شکست سے دوچار ہوئی۔ مونک سناتا ہے کہ . . . . .

ZENOBIA ,275BC-240BC

Zenobia, once of Palmyra queen
As Persians wrote of her nobility
So worthy was in armaments, so keen
For hardiness she had no rivalry
For lineage, for all gentility
From royal Persian blood she was descended
I won’t say none was lovelier than she
Yet her looks had no need to be amended

زینوبیا جس کا پورا نام جولیا آگسٹا زینوبیا تھا . . .اوڈیناتھس کی ملکہ تھی جو رومن تخت کی ماتحت ایک ریاست ‘پالمائرا’ کا بادشاہ تھا ۔ پالمائرا کی ریاست اُس جگہ تھی جہاں آج کا موجودہ شام واقع ہے۔ ملکہ زینوبیا بےمثل بہادر اور دلیر تھی۔ جنگلی جانوروں کا شکار کرتی، تلوار بازی اور نیزہ بازی کے فن میں طاق تھی۔ بہت سی زبانوں پہ عبور تھا۔سمجھ دار اور زیرک عورت تھی۔

8116790_f260

 The theater at Palmyra, built in the 1st or 2nd century CE, was one of the most magnificent in the Middle East.


The theater at Palmyra, built in the 1st or 2nd century CE, was one of the most magnificent in the Middle East.

She was so worthy of one’s admiration
So wise, so giving with due moderation
In war untiring, and so courteous too
None had in war a greater dedication
To work, though men may search this whole world through

Her wealth of goods was more than can be told
In vessels as well as in what she wore
(For she would dress in precious stones and gold)
And when not on the hunt, she’d not ignore

Her study of foreign tongues; she’d master more
When she had leisure time, for her intent
Was to be educated in all lore
So that her life in virtue might be spent

wg_ch_zenobia
122-monks-take

-267عیسوی میں جب بادشاہ اوڈیناتھس قتل ہوگیا تو زینوبیا نے کمسِن ولی عہد بیٹے کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنے سر پہ تاج رکھ کر تخت سنبھال لیا ۔ کچھ عرصہ بعد ہی ایک چھوٹی سی ریاست کی فرمانروائی اُسے نہ بھائی تو اُس نے مصر پر حملہ کردیا۔ اِس کے علاوہ دیگر رومن ریاستوں پر قبضے کی غرض سے چڑھائی کردی۔ایک بڑا علاقہ زیرِ نگین کرکے اپنی خود مختاری کا اعلان کردیا اور اپنی تصویر والے سکّے جاری کئے۔

800px-Map_of_Ancient_Rome_271_AD.svg
EB972E26D22D099CADDE650AEF49C_h450_w598_m2_q90_cGNDSGwZS

 Denarius  Zenobia


Denarius Zenobia

-274عیسوی میں روم کے بادشاہ آریلیس نے اِس بغاوت کا انتقام لیا اور ملکہ کو قیدی بنا کر روم لے گیا۔ جہاں ملکہ کی پراسرار موت ہوئی جس کے بارے میں تاریخ کے صفحات خاموش ہیں کہ آیا وہ قتل ہوئی یا اُس نے خود کُشی کرلی۔ کئی خوش گمان مؤرخین کا یہ بھی کہنا ہے کہ آریلیئس نے زینوبیا کو جلاوطن کردیا تھا جس کے بعد ملکہ زینوبیا نے باقی ماندہ زندگی روم میں گزاری۔

ملکہ زینوبیا کی پالمائرا پر آخری نظر  Zenobia by Herbert Schmalz

ملکہ زینوبیا کی پالمائرا پر آخری نظر
Zenobia by Herbert Schmalz

Aurelianus, when administration
Of Rome fell to his hands, without delay
Made plans against her for retaliation;
With all his legions he marched on his way
Against Zenobia. Let’s briefly say
He made her flee and finally captured her;
He fettered her, with her two sons, that day
And won the land, and went home conqueror

thumb.php

مونک کہہ رہا ہے کہ کس قدر شان و شوکت والی عورت تھی ، زمانے میں عروج پایا ، سمجھدار اور باہمت تھی لیکن اقتدار کے نشے نے زینوبیا کو شکست سے ہمکنار کیا۔ اُس کی شان و شوکت جاتی رہی اور وہ زنجیروں میں قید ہو کر نشانِ عبرت بنی۔

palm002

کلاسیکی اور عرب ذرائع کے مطابق زینوبیا سانولے رنگ کی لیکن بے انتہا خوبصورت اور ذہین تھی۔ سیاہ آنکھیں، چمکتے دانت اور زیرک . . . کئی جگہ اِس کا موازنہ قلوپطرہ سے بھی کیا جاتا ہے۔ شام کے کرنسی نوٹوں اور ڈاک ٹکٹوں پہ بھی ملکہ زینوبیا کی تصویر پائی جاتی ہے۔

Zenobia on the 500 Syrian Pounds note

Zenobia on the 500 Syrian Pounds note

stock-photo-syrian-arab-republic-circa-a-stamp-printed-in-syria-features-portrait-of-zenobia-cleopatra-76128058

Zenobia, of all Palmyra queen
As write old Persians of her nobleness
So mighty was in warfare, and so keen
That no man her surpassed in hardiness

ملکہ زینوبیا پر کئی فلمیں بن چکی ہیں جن میں ملکہ کی بے مثل فراست اور جرات کو دِکھایا گیا ہے۔ فلم سازوں نے حسبِ توفیق چٹخارے اور ذائقے کا تناسب برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔

Ekberg_Zenobia-3
Ekberg_Zenobia-10

 Zenobia-the-musical


Zenobia-the-musical

اٹلی ، روم اور فرانس میں اوپرا بہت مقبول رہا۔ اوپرا /اوپیرا . . .ایسا تھیٹر ہے جس میں موسیقی کا عنصر غالب ہوتا ہے۔ سلیم انارکلی کی طرح ، ملکہ زینوبیا کا موضوع بھی سٹیج ڈراموں اور اوپیرا بنانے والے کے لئے پُرکشش ثابت ہوا اور مختلف ادوار میں زینوبیا پر کئی اوپیرا پیش کئے گئے۔

079571_2008_10_09_10_23_35
W1siZiIsImltYWdlcy96ZW5vYmlhX2ktV0dPLTA4MzAyMDEzLmpwZyJdLFsicCIsImNvbnZlcnQiLCItcmVzaXplIDMxMHggLXN0cmlwICtyZXBhZ2UiXV0
Zenobia----

تاریخی موضوعات پہ فِکشن لکھنے والوں نے بھی ملکہ زینوبیا پہ خوب لکھا ۔ انگریزی اور عربی دونوں زبانوں میں بہت سی تصانیف زنوبیا کے نام ہوئیں۔

742cb3e2fa61ac3dbe80faecfdacbd96
19247639
24855495
1843862190.02.LZZZZZZZ
020811150236ffg0tas3ertojmyust
17156
1820122701443
Beirut1969_html_13e20df1
Cronin_Zenobia
FreeMasonCover_html_32a8480
item_XL_6517365_3984915
-----_57
Overlord Cover MEDIUM
SmithRomanP
Winsbury_cover
zenobia
zenobiacover
Zenobia_Zabdi
Zenobia-Arab-Queen

مصوروں اور مجسمہ سازوں نے ملکہ زینوبیا کو اپنے فن کے ذریعے پیش کیا

ملکہ زینوبیا ۔ ۔ زنجیروں میں پابند

ملکہ زینوبیا ۔ ۔ زنجیروں میں پابند

3698_6fab_482
d18e6a3b968cfc54987ea936c37d16b1
enemy of rome zenobia

 Giovanni_Battista


Giovanni_Battista

Valkyrie Maiden MMX

جیسے کہ تاریخ سے متعلقہ خواتین ، جانکی دیوی، گلاب دیوی اور انارکلی، نورجہاں کے ناموں سے منسوب کئی بازار، عمارات اور ہسپتال ہمارے ہاں پائے جاتے ہیں اسی طرح . . . ملکہ زنوبیا کے نام سے مٹھائی کی دکانیں نظر آتی ہیں۔ سکول بھی ہیں اور کئی ایک فیشن ڈیزائنرز نے بھی زنوبیا کے نام کا استعمال کیا۔

1497140_10202037375230768_1767521381_n
13392448635
70
logo_47b9b8499965a5.38801665

شام/ سیریا میں لاذقیہ کے ساحل پر ملکہ زینوبیا کا مجسمہ نصب ہے۔

 Statue of Queen Zenobia in Latakia, Syria


Statue of Queen Zenobia in Latakia, Syria

Monk gives an account of De Alexandro – 31

رمضان مبارک میں دلِ نادان پہ پانچ پوسٹوں کے بعد کہانیوں کا سلسلہ وہیں سے شروع ہے جہاں رُکا تھا . . . .

چودہویں صدی ہے، مسافروں کا ایک قافلہ کینٹربری کی جانب رواں دواں ہے۔ کہانی سنانے کی باری مونک کی ہے جو کہ مشہور شخصیات کے المیہ انجام پر مبنی احوال سنا رہا ہے ۔ مونک نے پانچویں صدی قبل مسیح میں حکومت کرنے والے بادشاہ کری سس کے بعد نواں حال، تیسری صدی قبل مسیح کے سکندرِ اعظم کا سنایا جو فاتحِ عالم بننے نکلا تھا ، آدھی دنیا فتح کی ، اور پھر خالی ہاتھ اِس دنیا سے چلا گیا۔ مونک کے الفاظ میں سکندر کا ماجرا پیش کرنے کے ساتھ ساتھ سکندر کی زندگی پر ایک طائرانہ نظر بھی ڈالی جائے ۔سکندر کے نقوشِ قدم سرزمینِ برِ صغیر پر بھی پڑے لہٰذا اسی بہانے یہ قصہ بھی سنتے چلیں۔

alexander-the-great

سکندرِ اعظم :

باپ کی موت کے وقت سکندر کی عمر بیس سال تھی۔ لیکن وہ اس لحاظ سے خوش قسمت تھا کہ کسی مشکل کے بغیر ہی اسے مقدونیہ کی حکمرانی مل گئی تھی۔ ورنہ اس زمانے کا قاعدہ تو یہی تھا کہ بادشاہ کا انتقال ہوتے ہی تخت کے حصول کے لیے لڑائیاں شروع ہو جاتیں اور اس لڑائی میں ہر وہ شخص حصہ لیتا جس کے پاس تخت تک پہنچنے کا ذرا سا بھی موقع ہوتا۔ سکندر ایک تو اپنے باپ کا اکلوتا بیٹا تھا، دوسرا اس وقت مقدونیہ کی حکمرانی کا کوئی اور خاص دعوے دار نہیں تھا۔ لیکن احتیاط کے طور پر سکندر نے ایسے تمام افراد کو قتل کرا دیا جو کسی بھی طرح اسے نقصان پہنچا سکتے تھے۔ یہاں تک کہ اپنی ماں کے اکسانے پر اس نے اپنی دودھ پیتی سوتیلی بہن کو بھی قتل کر دیا۔

modernmap

سکندر کی ایک اور خوش قسمتی یہ بھی تھی کہ اسے ارسطو جیسا استاد ملا تھا جو اپنے زمانے کا قابل اور ذہین ترین انسان سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کے باپ “فلپس” نے اپنے بیٹے کی جسمانی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی اور اس کے لیے اسے شاہی محل سے دور ایک پر فضا مقام پر بھیج دیا تاکہ عیش و عشرت کی زندگی سے وہ سست نہ ہو جائے۔ یہاں سکندر نے جسمانی مشقیں بھی سیکھیں اور گھڑ سواری، نیزہ اور تلوار بازی میں مہارت بھی حاصل کی۔
ساتھ ہی ساتھ ارسطو اس کی ذہنی تربیت بھی کرتا رہا۔

Aristotle_tutoring_Alexander

مونک کہتا ہے :

ALEXANDER 356 BC-323 BC

The story of Alexander is so well known
That part if not the tale’s entirety
Has been heard once by everyone who’s grown
This whole wide world, to speak with brevity
He won by strength (or by celebrity
As for him towns in peace would gladly send)
The pride of man and beast wherever he
Would go he toppled, to this world’s far end

There’s no comparison that one can make
Above all other conquerors he’d tower
For all this world in dread of him would quake
Of knighthood, of nobility the flower
As Fortune made him heir to fame and power
Save wine and women, nothing might arrest
His zeal, in arms and labor, to devour
The courage of a lion filled his breast

The story of Alexander is so widespread that every creature who has discretion has heard somewhat or all of his fortune. In brief, he won by force this wide world; or else folk were glad, by reason of his high renown, to send to him for peace. He laid low the pride of man and beast wherever he came, even to the ends of the world

Never yet could comparison be made between him and another conqueror. This entire world quaked for fear of him; he was the flower of knighthood and generosity. Fortune made him the inheritor of her honors, and, except for wine and women, nothing could blunt his high purpose in arms and labors, he was so full of lion-like spirit

Alexander & Bucephalus by John Steell located in front of Edinburgh's City Chambers

Alexander & Bucephalus by John Steell located in front of Edinburgh’s City Chambers


Alex_trio

حکمرانی کے ابتدائی دنوں میں ، سکندر نے ، یونان کے دارُالخلافہ ایتھنز سمیت دیگر پڑوسی ممالک کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اپنی مہم پر نکلنے سے پہلے وہ نہ صرف اپنی فوج کو مضبوط کرنا چاہتا تھا بلکہ اس کو یہ فکر بھی تھی کہ کہیں اس کی غیر موجودگی میں کوئی مقدونیہ پر حملہ نہ کر دے۔

دو سال اس کام میں بیت گئے۔ اس دوران کچھ علاقوں کو تو اس نے تلوار کے زور پر فتح کر لیا اور کچھ مقابلہ کیے بغیر ہی اس کے ساتھ مل گئے۔ صرف بائیس سال کی عمر میں وہ دنیا فتح کرنے کے لیے نکلا۔یہ اس کے باپ کا خواب تھا اور وہ اس کے لیے تیار ی بھی مکمل کر چکا تھا لیکن اس کے دشمنوں نے اسے قتل کرا دیا۔ اب یہ ذمہ داری سکندر پر عائد ہوتی تھی کہ وہ اپنے باپ کے مشن کو کس طرح پورا کرتا ہے۔

شمال اور مغرب کی طرف سے کسی حد تک مطمئن ہوجانے کے بعد سکندر نے مشرق کی جانب نظر ڈالی تو اسے ایران کی وسیع و عریض سلطنت دکھائی دی۔ بحیرہ روم سے ہندوستان تک پھیلی اس سلطنت کا رقبہ لاکھوں میل تھا۔ اس میں دریا بھی تھے، پہاڑ بھی۔ صحرا بھی تھے اور جھیلیں بھی۔ غرض یہاں وہ سب کچھ موجود تھا جو کسی بھی علاقے کو خوش حال بنانے کے لیے ضروری ہے۔ یہی وجہ تھی کہ ایرانی سلطنت پوری نہیں تو آدھی دنیا کی حیثیت ضرور رکھتی تھی۔ یہاں تقریباً ہر رنگ اور ہر نسل کے لوگ آباد تھے۔ ایرانی سلطنت پر حملے کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ ایرانی شہنشاہ دارا نے سکندر کے مخالفین کی خفیہ طریقے سے مدد بھی شروع کر دی۔

1024px-MacedonEmpire
Persian campaigns

• Granicus (334 BC)
• Miletus (334 BC)
• Halicarnassus (334 BC)
• Issus (333 BC)
• Tyre (332 BC)
• Gaza (332 BC)
• Gaugamela (331 BC)
• Uxian Defile (331 BC)
• Persian Gate (330 BC)
• Cyropolis (329 BC)
• Jaxartes (329 BC)
• Gabai (328 BC)
• Sogdian Rock (327 BC)

مشرق کی طرف چلتے ہوئے دریائے “گرانی کوس” پر سکندر کا سامنا ایک قدرے چھوٹے ایرانی لشکر سے ہوا ۔سکندر کی فوج کا پتا چلتے ہی ایرانیوں نے جو سب سے پہلا کام کیا وہ دریا کے ڈھلوان کنارے پر قبضہ کر نا تھا تاکہ دشمن فوج کی پیش قدمی کو روکا جا سکے۔ لیکن اس بات پر سکندر ذرا نہ گھبرایا۔ اسے معلوم تھا کہ اس کی فوج کا ایک ایک سپاہی دل و جان سے اس کے ساتھ ہے۔ اس نے انہیں حکم دیا کہ وہ دشمن کے تیروں کی پروا کیے بغیر دریا پار کر لیں۔ بس ایک مرتبہ دوسرے کنارے پہنچ گئے، پھر ان کا دشمن پر قابو پانا مشکل نہیں ہو گا۔ سکندر کو اچھی طرح معلوم تھا کہ ایشیائی لوگ جہاں گھڑ سواری میں ماہر ہیں وہاں پیدل لڑائی میں خاصے کمزور ہیں۔ مزید یہ کہ اس کے سپاہیوں کے پاس ایرانیوں کے مقابلے میں بہتر اسلحہ ہے۔۔۔۔۔ وہ سر سے پاؤں تک زرہ میں ڈھکے ہوئے تھے اور ان کے نیزے ہلکے اور لمبے تھے۔

The Battle of the Granicus River in May 334 BC

The Battle of the Granicus River in May 334 BC

سکندر کی فوج کا “جتھا” درمیان میں تھا جب کہ دائیں اور بائیں طرف سوار تھے۔ دائیں طرف کے سواروں کی قیادت وہ خود کر رہا تھا۔ پہلے پہل تو وہ آہستہ آہستہ آگے بڑھا لیکن دریا کے قریب پہنچ کر اس نے اپنی رفتار تیز کر دی۔ یہاں تک کہ کچھ ہی دیر میں اس کی فوج دریا پار کر کے دشمن کے عین مقابل کھڑی تھی۔

سکندر چمک دار زرہ پہنے اور سر پر مقدونوی کلغی سجائے ایک شان سے آگے بڑھا اور سیدھا اس جگہ پر پہنچ گیا جہاں ایرانی سپہ سالار جمع تھے۔ وہ اس قدر بہادری سے لڑا کہ آن کی آن میں ایرانی سپہ سالاروں کی لاشیں گرنے لگیں۔ سکندر کے بازوؤں کی قوت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ لڑتے لڑتے اس کے نیزے کے کئی ٹکڑے ہو گئے۔ تب اس نے اپنے سائیس (گھوڑے کی نگرانی کے لیے رکھا گیا ملازم) کا نیزہ اپنے ہاتھ میں لے لیا اور لڑتے لڑتے اسے بھی توڑ ڈالا۔ تب اس کے ایک سپہ سالار “دیماراتوس” نے اپنا نیزہ اس کے ہاتھ میں دے دیا اور اس نیزے کے ایک ہی وار سے اس نے دارا کے داماد “سپتھراواتیس” کا کام تمام کردیا۔ دارا نے تو بھاگتے ہوئے یہ بھی پروا نہ کی کہ اس کے خیمے میں اس کی ماں اور بیوی بچے موجود ہیں۔

اس جنگ میں بھی ایرانیوں کا بھاری نقصان ہوا جبکہ مقدونویوں کا نقصان نہایت کم تھا۔ سکندر نے دشمن کی ایک بہت بڑی تعداد کو قیدی بنا لیا۔ لیکن دارا کے بیوی بچوں کے ساتھ اس نے نہایت عمدہ سلوک کیا۔مؤرخین لکھتے ہیں کہ سکندر نے دارا کی بیٹی روکسانا سے شادی کرلی تھی، جسے سکندر کی مقدونی بیوی نے بعد ازاں قتل کروادیا تھا۔

Alexander_The_Greate_and_Roxane_by_Rotari_1756

Alexander_The_Greate_and_Roxane_by_Rotari_1756

-مصر کی فتح اور شہرِ اسکندریہ :

اب سکندر کا اگلا ہدف مصر تھا لیکن اس کے راستے میں چند ایک ایسے علاقے تھے جو اس سے مقابلہ کرنے پر تیار تھے۔ ان میں پہلا “صور” شہر تھا۔ صور کے محاصرے کے دوران میں سکندر کو دارا کا پیغام ملا جس میں اس نے لکھا تھا کہ وہ اس کے بیوی بچوں کو چھوڑ دے۔ اس کے بدلے اسے آدھی ایرانی سلطنت دے دی جائے گی۔ یہ پیغام سن کر سکندر کا خاص آدمی “پارمے نیو” کہنے لگا کہ اگر میں سکندر ہوتا تو یہ پیش کش قبول کر لیتا۔ اس پر سکندر بہت خفا ہوا۔ وہ کہنے لگا: اگر سکندر، “پارمے نیو” ہوتا تو وہ بھی ایسا ہی کرتا۔اس نے دارا کی یہ پیش کش مسترد کر دی اور پیغام بھجوایا کہ اس کے علاوہ کوئی اور پیش کش ہے تو دارا خود آ کر بات کرے۔

صور کے بعد “غزہ” شہر کی باری آئی۔ اس کی فتح کے بعد سکندر مصر میں داخل ہوا اور توقع کے بر خلاف یہاں کے حکمران نے بغیر کسی فوجی کارروائی کے سکندر کے آگے ہتھیار ڈال دیے۔ یہاں کچھ عرصہ قیام کے بعد وہ دریائے نیل کے راستے سمندر کی طرف بڑھا اور ایک مناسب جگہ پر پڑاؤ ڈالا اور ایک نئے شہر کی بنیاد رکھی۔ اس قدیم شہر کا نام اسکندریہ ہے اور یہ آج بھی مصر کے اہم ترین شہروں میں شمار کیا جاتا ہے۔

گوگا میلا کا معرکہ:

ق م331 میں سکندر نے پھر مشرق کی طرف پیش قدمی کی۔ اس نے سب سے پہلے عراق کا مشہور دریا فرات عبور کیا اور قدیم شہر نینوا کے قریب “گوگا میلا” کے مقام پر اس کا سامنا شہنشاہ ایران کی عظیم الشان فوج سے ہوا۔

لڑائی کا آغاز دارا ہی کی طرف سے ہوا اور اس نے سب سے پہلے اپنے رتھ روانہ کیے۔ اسے پورا یقین تھا کہ یہ دشمن کی فوج میں کھلبلی مچا دیں گے۔ لیکن جب اس نے دیکھا کہ مقدونوی سپاہی بڑی مہارت سے اپنا دفاع کر رہے ہیں تو اس نے پیادوں کو وار کرنے کا حکم دے دیا۔ یہی اس کی سب سے بڑی غلطی تھی اور اسی کی توقع سکندر کر رہا تھا۔ پیادوں کو اس وقت استعمال کیا جاتا ہے جب لڑائی آخر مراحل میں ہو اور دشمن پر آخری وار کرنا ہو۔ پھر کیا تھا، پیادوں کے حرکت میں آتے ہی ایرانی فوج کی ترتیب بالکل ہی ختم ہوگئی اور ان کی صفوں میں خلا آ گیا۔ یہ دیکھتے ہی سکندر نے اپنے نیزہ برداروں اور مقدونوی جتھوں کو حملے کا حکم دیا۔ اس حملے کی خاص بات یہ تھی کہ اس کی قیادت خود سکندر کر رہا تھا۔ سکندر نے جب دیکھا کہ اس کے سپاہیوں نے میدان مار لیا ہے تو وہ دارا کے تعاقب میں نکلا تاکہ بار بار کے معرکوں کے بجائے ایک ہی دفعہ اس کا کام تمام کر دے۔ لیکن وہ اس کے ہاتھ نہ آیا۔

Battle_gaugamela

Battle_gaugamela

دارا کی ہلاکت:

کہا جاتا ہے کہ بعد میں بعض ایرانی جرنیلوں نے خود ہی مل کر دارا کو قتل کر دیا تھا۔ یہ واقعہ موجودہ ایران کے دارالحکومت تہران کے پاس پیش آیا۔ سکندر جب اس جگہ پہنچا تو اسے دارا کی لاش ہی ملی۔ تب اس نے اسے واپس ایرانی دار الحکومت ” مصطـخر” روانہ کر دیا اور حکم دیا کہ اسے تمام شاہی اعزازات کے ساتھ دفنایا جائے۔ مونک سکندر اور دارا کا موازنہ کرتے ہوئے کہتا ہے:

Would it add to his glory if I told
Of Darius and a hundred thousand more–
The kings, the princes, dukes and earls bold
Whom he fought and brought under heel in war?
As far as man had ever gone before
The world was his. What more need I recall?
Were I to write or tell you evermore
Of his knighthood, I couldn’t tell it all

What praise would it be to him if I told of Darius and a hundred thousand more, kings, princes, earls, bold dukes whom he conquered and brought to woe? I say the world was his so far as one can walk or ride; what more can I say? For even if I wrote or talked evermore about his knighthood, it would not suffice

ان پے در پے کامیابیوں کے بعد حالات میں بہت سی تبدیلیاں آچکی تھیں۔ سکندر کی فوج اب وہ نہیں رہی تھی جو مقدونیہ سے روانگی کے وقت تھی۔ اس کی قوت میں بے پناہ اضافہ ہو چکا تھا۔ اس نے ایرانی سلطنت کے ایک بہت بڑے حصے پر قبضہ کر لیا تھا اور وہاں کے لوگوں نے بھی اس کی اطاعت قبول کر لی تھی۔ وہ یونانی سپاہی جو اجرت پر ایرانی فوج کے لیے لڑ رہے تھے، اب سکندر کے ساتھ شامل ہو گئے تھے اور سکندر نے ان کے لیے وہی معاوضہ مقرر کیا تھا جو انہیں شہنشاہ ایران کی طرف سے ملتا تھا۔

ان سب باتوں کے علاوہ خود سکندر کی طبیعت میں بھی بہت تبدیلیاں آگئی تھیں۔ اس کے احساس خود داری میں اس حد تک اضافہ ہو گیا تھا کہ وہ اپنے آپ کو یونانی “دیوتا زیوس” کی اولاد سمجھنے لگا اور اپنے خلاف کوئی بات نہیں سن سکتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب اس کے قریبی دوست “لکی توس” نے اس کو دیوتا ماننے سے انکار کر دیا تو غصے کے عالم میں سکندر نے اپنا نیزہ اس کے پیٹ میں گھونپ کر اسے مار ڈالا۔

ایران کی فتح کے بعد بہت سے لوگوں نے سکندر کو مشورہ دیا کہ اس نے بہت سی فتوحات حاصل کر لیں، اب وہ واپسی کی راہ لے لیکن اس پر تو دنیا کی فتح کا بھوت سوار تھا۔ اس نے کہا کہ وہ اس وقت تک واپس نہیں جائے گا جب تک ہندوستان کو فتح نہیں کرلیتا۔

ہندوستان میں آمد :

یہ 327 ق م کی بات ہے۔ جب اس نے ہندوستان کی طرف پیش قدمی شروع کی۔ اس وقت اس کی فوج میں ایک لاکھ بیس ہزار پیادے اور پندرہ ہزار سوار شامل تھے۔ کابل پہنچ کر اس نے اپنے لشکر کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ ایک حصے کو براہ راست دریائے سندھ کی طرف روانہ کیا گیا اور دوسرا حصہ خود سکندر کی قیادت میں شمال کی طرف سے آگے بڑھا۔ یہاں اس نے ایک ایسا قلعہ فتح کیا جس کے بارے میں مشہور تھا کہ روم کا بادشاہ ہرقل بھی اسے فتح نہیں کر پایا تھا۔

کوہ مور کے قریب نیسا کے مقام پر دونوں فوجیں آپس میں مل گئیں اور انہوں نے اٹک کے مقام پر دریائے سندھ کو عبور کیا۔

راجہ پورس سے ملاقات:

آگے چل کر دریائے جہلم کے قریب اس کا سامنا ہندوستانی راجہ پورس سے ہوا۔

سکندر کو معلوم تھا کہ وہ پورس کا مقابلہ اس طرح سے نہیں کر سکتا جس طرح اس نے دارا کا مقابلہ کیا تھا۔ یعنی وہ سامنے سے حملہ نہیں کر سکتا تھا۔ راجہ پورس کی بہادری کے قصے اس نے سن رکھے تھے۔ تب اس نے ایک جنگی چال چلی۔ اس نے ایک جرنیل کی قیادت میں اپنی فوج کا کچھ حصہ پورس کے سامنے کر دیا اور باقی فوج لے کر ایک اور مقام کی طرف چل پڑا۔ اس سے پورس یہی خیال کرتا کہ مقدونوی فوج کے وہی مٹھی بھر سپاہی ہیں جو اس کے سامنے ہیں لیکن اس کی بے خبری کا فائدہ اٹھا کر سکندر ایک طرف سے حملہ کر دیتا۔

لڑائی شروع ہو گئی۔ پورس کو سکندر کی موجودگی کا اس وقت تک علم نہ ہوا جب تک وہ دریا پار نہیں کر چکا تھا۔ تب اس نے فوراً اپنے بیٹے کی کمان میں ایک دستہ سکندر کی طرف روانہ کیا۔ لیکن سکندر تو بڑے بڑے سپہ سالاروں اور جرنیلوں سے دو دو ہاتھ کر چکا تھا، یہ نوجوان اس کا کیا بگاڑ سکتا تھا۔ اس لڑائی کا نتیجہ یہ ہوا کہ پورس کا بیٹا مارا گیا اور اب سکندر کے سامنے میدان بالکل صاف ہو گیا۔ اس نے اسی وقت پورس کی فوج پر ہلہ بول دیا۔

 Le_Brun,_Alexander_and_Porus


Le_Brun,_Alexander_and_Porus

ایرانیوں کے برعکس پورس بہت بہادری سے لڑا۔ اس کے لشکر میں 180 ہاتھی بھی شامل تھے۔ انہی سے مقدونوی فوج کو زیادہ خطرہ تھا۔ کیوں کہ ہاتھیوں کو دیکھ کر گھوڑے ہیبت زدہ ہو جاتے ہیں اور اپنے مالک کا بھی کہا نہیں مانتے۔ اس مصیبت کا علاج سکندرنے یوں کیا کہ جوں ہی ہاتھی حملہ آور ہوئے اس نے اپنے سواروں کو دو قطاروں میں بانٹ دیا۔۔۔۔۔ایک ہاتھیوں کے بائیں اور دوسری دائیں طرف۔ یہ سوار ہاتھیوں کو دھکیلتے ہوئے ایک تنگ سی گھاٹی میں لے آ ئے۔ یہاں آ کر ہاتھی بدک گئے اور خود اپنی فوج کے لیے مصیبت بن گئے۔

اس معرکے میں پورس کے بیس ہزار آدمی اور سو ہاتھی مارے گئے لیکن اس سب کے باوجود پورس نے ہمت نہ ہاری اور مسلسل لڑتا رہا۔ اس نے اس وقت تک ہار نہ مانی جب تک اس کا جسم زخموں سے چور ہو کر بالکل نڈھال نہیں ہو گیا۔

سکندر اعظم اور پورس کا سامنا

سکندر اعظم اور پورس کا سامنا

پورس کو گرفتار کرکے اسی روز سکندر کے سامنے پیش کیا گیا۔ سکندر کی یہ عادت تھی کہ دشمن کا جو بھی آدمی گرفتار ہو کر آتا اسے اپنی صفائی میں کچھ کہنے کا موقع ضرور دیتا تھا۔ اس نے پورس سے پوچھا:

بتاؤ، تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟

پورس نے جواب دیا: “وہی جو ایک بادشاہ دوسرے بادشاہ کے ساتھ کرتا ہے۔

سکندر میدان جنگ میں پورس کی بہادری سے تو پہلے ہی متاثر تھا، اب اس کی گفتگو نے بھی اسے کم متاثر نہیں کیا۔ اور بہادروں کو موت کے گھاٹ اتار دینا اسے بالکل پسند نہیں تھا۔ اس نے پورس کو معاف کر دیا اور اس کا تمام علاقہ بھی واپس کر دیا۔ اس کے جواب میں راجہ بھی اس کا دوست بن گیا۔

سکندر کو ہندوستان کے اندر تک جانے اور اس کے عجائبات دیکھنے کا بے حد شوق تھا۔ اس کا یہی شوق اور تجسس تھا جس نے اسے یہاں آنے پر مجبور کیا تھا۔ ورنہ ایرانی سلطنت پر قبضہ کیا کم تھا کہ وہ اور کی لالچ کرتا۔ تاہم جب اس نے جہلم سے آگے چلنے کا ارادہ کیا تو اس موقع پر اس کی فوج نے اس کا ساتھ نہ دیا۔ سچ بات تو یہ ہے کہ پچھلے کئی برسوں کی مسلسل مشقت نے انہیں سخت تھکا دیا تھا اور اب ان میں مزید مہمات سر کرنے کی بالکل ہمت نہیں رہی تھی۔ تب سکندر نے انتہائی سمجھ بوجھ کا ثبوت دیتے ہوئے وہی کیا جو اس کے سپاہی چاہتے تھے۔ ہندوستان کو فتح کرنے کی اپنی تمام تر خواہش کے باوجود وہ ان کی بات مان گیا اور یہیں سے اس نے واپسی کا فیصلہ کیا۔

لیکن اس عظیم سپہ سالار کی قسمت میں کچھ اور ہی لکھا تھا۔ وہ چاہتا تو یہی تھا کہ اپنے سر پر آدھی دنیا کی فتح کا تاج سجائے اپنے آبائی شہر مقدونیہ میں داخل ہو لیکن ابھی وہ “بابل” ہی میں تھا کہ ایسا بیمار ہوا کہ دوبارہ صحت یاب نہ ہو سکا اور وہیں اس نے موت کو گلے لگا لیا۔

Alexander_and_Philip_his_Physician

Alexander_and_Philip_his_Physician


انیسویں صدی میں بنائی گئی سکندر کے جنازے کی ایک تصویر

انیسویں صدی میں بنائی گئی سکندر کے جنازے کی ایک تصویر

یہ بات بھی کہی جاتی ہے کہ سکندر کو اُس کے اپنے بااعتماد ساتھیوں نے زہر دیا تھا۔

سکندر نے 33 سال عمر پائی ۔ لگ بھگ آدھی دنیا تو اس نے اس جوانی ہی میں فتح کر لی۔ کہتے ہیں اگر وہ تھوڑی دیر اور زندہ رہ لیتا تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ پوری دنیا کا فاتح نہ بن جاتا۔ مونک کہتا ہے کہ . . . آہ قیمتی سکندر ، کس طرح تیری موت کا افسوس ممکن ہو۔ لیکن تقدیر کے فیصلے ایسے ہی ہوتے ہیں۔ مونک نے اِن الفاظ میں سکندر کی موت کا نوحہ کہا:

Twelve years, says Maccabees, he reigned, this son
Of Phillip of the Macedonian race
As king of Greece, its first and greatest one
O worthy Alexander, of noble grace
Alas, such sad events as in your case
By your own men poisoned, the six you threw
Has Fortune turned instead into an ace
And yet she hasn’t shed one tear for you

Who’ll give me tears sufficient to complain
Of nobleness’s death, of the demise
Of one who held the world as his domain
Yet thought it still not large enough in size
His heart always so full of enterprise?
Alas! who now shall help me as I name
False Fortune and that poison I despise
As two things that for all this woe I blame

Alexander1256--Istanbul Archaeology Museum

Statue of Alexander 1256–Istanbul Archaeology Museum

He reigned twelve years, says Maccabees, and was son of Philip of Macedon, who was the first king in the land of Greece. O worthy noble Alexander, alas that ever such a thing should happen! You were poisoned by your own people. Fortune played dice with you and turned your six into an ace, and yet never wept a tear! Who shall give me tears to lament the death of high blood and of nobility, of him who wielded the world and yet thought it not enough, so full was his spirit of high adventure? Alas, who shall help me to indict false Fortune and despise that poison, both of which I blame for all his woe

کچھ عرصہ قبل ہی مقدونیہ میں سکندر کا دھاتی مجسمہ نصب کیا گیا ہے ۔ اس بات پر مقدونی عوام نے بہت خوشی کا اظہار کیا۔

Alexander-the-Great-Statue-Macedonia

Alexander-the-Great-Statue-Macedonia


Alexander-the-Great----

فلم اور گیمز بنانے والوں نے بھی سکندر کے موضوع میں دلچسپی دکھائی اور اس کی کئی مثالیں ملتی ہیں۔

Alexander will challenge gamers to follow in the footsteps of ancient civilization's greatest general - Alexander the Great - a Macedonian who conquered most of the world known to the Ancient Greeks
AlexanderPoster

Ending with an excerpt, found once on the net. The Three Final Wishes of Alexander the Great۔ Alexander was a great Greek king. As a military commander, he was undefeated and the most successful throughout history. On his way home from conquering many countries, he came down with an illness. At that moment, his captured territories, powerful army, sharp swords, and wealth all had no meaning to him. He realized that death would soon arrive and he would be unable to return to his homeland. He told his officers: “I will soon leave this world. I have three final wishes. You need to carry out what I tell you.” His generals, in tears, agreed

“My first wish is to have my physician bring my coffin home alone. After a gasping for air, Alexander continued: “My second wish is scatter the gold, silver, and gems from my treasure-house along the path to the tomb when you ship my coffin to the grave.” After wrapping in a woolen blanket and resting for a while, he said: “My final wish it to put my hands outside the coffin.” People surrounding him all were very curious, but no one dare to ask the reason. Alexander’s most favored general kissed his hand and asked: “My Majesty, We will follow your instruction. But can you tell us why you want us to do it this way?” After taking a deep breath, Alexander said: “I want everyone to understand the three lessons I have learned. To let my physician carry my coffin alone is to let people realize that a physician cannot really cure people’s illness. Especially when they face death, the physicians are powerless. I hope people will learn to treasure their lives. My second wish is to tell people not to be like me in pursuing wealth. I spent my whole life pursuing wealth, but I was wasting my time most of the time. My third wish to let people understand that I came to this world in empty hands and I will leave this world also in empty hands.” he closed his eyes after finished talking and stopped breathing

statue

بیمارئ دل اور تدبیر

بیمارئ دل اور تدبیر

الٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا

دیکھا اِس بیماری ءدل نے آخر کام تمام کیا

bandaged-heart

شاعر اُس کیفیت کا ذکر کر رہا ہے جب انسان دل کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچ جاتا ہے۔ یعنی دل کی بیماری، جاں لیوا ثابت ہوتی ہے اور کبھی کبھی دل کے علاج کی تدبیریں کارگر نہیں ہوتیں۔ ڈاکٹروں کے یہاں بھی دردِ دل یا کارڈک مرض کو خطرے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اور معاملے کی تہہ میں ساری بات ہے، اِس ناہنجار دل کی ہی، جس کے ہاتھوں قیس نے صحرا کی خاک چھانی اور لیلٰی کے محمل کی آرزو میں مجنوں کہلایا ۔ غالب کا دل، نادان ٹھہرا، داخ بے تاب رہے، میر نے کہا۔ ۔ ۔بےقراری مین عمر گءی، دل کو قرار اتا نہین ہنوز ۔ ۔ ۔ کبھی سینے میں ایسی شورش اُٹھائی کہ پسلیاں توڑ باہر ہی آنکلے گا .. . اور شاعر نے بھی دل کی یہ حقیقت یوں کھول کے رکھ دی کہ . . .

بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا

جو چِیرا تو اِک قطرہ ءخون نکلا

یہ چھوٹا سا “ٹكڑا” اس كی شان عجيب ہے ۔ خالقِ کائنات نے بدن كا ہر عضومخصوص كام كے لئے پيدا كيا ہے ۔ ہر عضو الگ الگ اپنا مخصوص كام بخوبی انجام ديتا رہے٬ یہی تمام بدن کی صحت وتندرستی ہے۔ اور بيماری یہ ہے کہ ہر عضو اپنا كام ، جس كے لئے اسے بنايا گيا ہے ٬ صحيح طریقے سے ادا نہ كر سكے۔ مثلا ہاتھ پكڑنے اور گرفت کرنے پر قادر نہ ہو٬ تو یہ ہاتھ كی بيماری ہے ۔ آنكھ ديكھنے سے معذور ہو٬ تو یہ آنكھ بيمار قرار پاتی ہے ۔ زبان کی بیماری یہ ہے کہ وه بولنے سے عاجز رہے۔ فطری حركتوں کی طاقت نہ ركھنا ، کمزوریء بدن کی بیماری کہلاتی ہے ۔ معدہ خوراک کو ، ٹھیک سے ہضم کرکے ، جزوِ بدن نہ بنا سکے تو یہ معدے کا مرض ہوگا ۔
لہذٰا . . .دل بھی جسم کا ایک عضو ہے تو دل کی بیماری کا تعّین کیسے ہوگا ، مرضِ قلب كيا هے؟

دل کی بیماری یہ ہے کہ وه جس كام كے لئے پيدا كيا گيا هے٬ وه اس سے نہ ہونے لگے ۔ مثلا الله عز وجل كی معرفت حاصل كرنا٬ . . اس سے محبت كرنا٬ . . اس سے ملنے كا شوق ركھنا٬ . . اس كی جانب رجوع کرنا، . . اطاعت کے لئے اپنی تمام تر خواہشات كو قربان كردينا، . . رب کی محبت میں دنیا کو ہیچ سمجھنا، . . رب کی رضا کے لئے بندوں سے نرم روئی کا معاملہ کرنا، اگر کسی کا دل ، اِس درجے تک نہیں پہنچتا تو اس کا مطلب ہے کہ دل کا فنکشن ٹھیک نہیں اور ا س كا دل صحيح سالم وتندرست نہیں ہے اور اُس کو مرض لاحق ہے ، دل کا مرض . .. .

جس طرح سےآنكھ میں بینائی کا نہ ہونا، یا نظر کم ہونا، آنکھ کی علت اور بيماری ہے اسی طرح دل كا الله عزوّجل كی معرفت٬ اس كی محبت اور اس كی رضا حاصل کرنے کی لگن سے خالی ہونا، دل کی علّت یا دل کا مرض ہے۔

بعض بلکہ اکثر ، صاحبِ قلب اپنی بیماریء دل کا احساس ہی نہیں کرپاتے۔ بسا اوقات محسوس ہو بھی جائے٬ تو دواؤں كی كڑواہٹ كا جھيلنا ان پر شاق گزرتا ہے ۔ وہ اس مرض کو معمولی سمجھتے ہیں جو کہ آہستہ آہستہ اُن کے وجود کو کھوکھلا کرتا رہتا ہے ۔ جب حقیقت بات تو یہ ہے کہ . . . .ہر مسلمان کو اپنے دل كی صحت وسلامتی كا خيال ركھنا ضروری ہے کیونکہ بندے کی اصلاح وفلاح اور اس كے اعمال كا دار ومدار “دل” پر منحصر ہے ۔ الله تعالے فرماتاہے :

يَوْمَ لَا يَنفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ * إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ

ترجمه: جس دن کہ مال اور اولاد كچھ كام نہ آئے گی ٬ ليكن (فائده والا )جو الله تعالے كے سامنے بے عيب دل لے كر جائے۔

قلبی امراض كی متعدد شكليں ہيں۔ كچھ لوگوں كے دلوں ميں شبہات كی بيماری ہوتی ہے۔ جب بھی كوئی شك وشبہ والی بات سن لی ٬ بے چين ہو گئے۔ اور كبھی كبھی اس قدر متاثر ہو جاتے ہيں کہ شكوك وشبہات كی كچھ باتيں ان كے دل ميں جگہ بنا لیتی ہیں اور اجاگر ہونے لگتی ہیں۔ايسے لوگ شبہا ت كی باتيں غور سے سننے والے ہوتے ہيں۔ ان سے متأثر ہوتے ہيں اور انھيں قبول بھی كر ليتے ہيں۔ یہی وه لوگ ہيں جو مريض ِ قلب ہيں جنھيں شبہات كی بيماری لاحق ہوگئی ہے۔

بعض لوگ شہوات كے مريض ہوتے ہيں۔ ان كے دلوں ميں شہوت كا مرض غالب ہوتا ہے خاص طور پہ صنفِ مخالف کے لئے ۔ قلبی امراض كی اس نوع كا ذكر الله عز وجل نے اپنے اس قول ميں بيان فرمايا ہے:

يَا نِسَاء النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِّنَ النِّسَاء إِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلاً مَّعْرُوفاً

ترجمہ: اے نبی كی بيويو! تم عام عورتوں كی طرح نہیں ہو٬ اگر تم پرہيزگاری اختيار كرو٬ تو نرم لجے سے بات نہ كرو٬ کہ جس كے دل ميں روگ ہو٬ وه كوئی برا خيال كرے اور ہاں قاعدے كے مطابق كلام كرو۔

اس آيت پر غور كريں٬ دل کے مرض کا واضح ذکر ہے، كس طرح الله تعالے نے واضح فرمايا کہ محض بات چيت كے انداز ميں اگر عورت نرم پڑ جائے٬ تواس ميں اپنی ہوس كا طمع، وه كرتا ہے جس كا دل بيمار ہے یعنی شہوت كا مريض ہے۔كيوں کہ وه اس كے لئے پہلے سے تيار بيٹھا ہوتا ہے۔ جيسے ہی كوئی عورت ديكھی٬ فوراََ اس كی طرف راغب ہوا۔ اس كےاسباب ومحركات كتنے ہی حقير ٬ بلکہ محض نرم گفتاری ہی كيوں نہ ہو۔ عورت كی طرف سے ہلكے سے ہلكے وسائل كو بھی اس كا دل قبول كر ليتا ہے۔ اس طرح كے لوگ ہر معاشره ميں پائے جاتے ہيں۔ یہی وه لوگ ہيں٬ جو عورتوں كو تانك جھانك كرتے يا ان كا پيچھا كرتے ہوئے نظر آتے ہيں۔ اوریہ سب كچھ محض شدت شہوت كی بناء پر نہیں ہوتا ، نہ ہی یہ اُن کی مردانگی کی دلیل ہے٬ بلکہ یہ دل كی بيماری كے سبب ہوتا ہے۔ ايسا انسان مريض قلب ہے اور علاج كا محتاج ہے۔

كچھ لوگوں كے دلوں ميں مال جمع كرنے كی بيماری ہوتی ہے۔ ايسے لوگ ، ہر حال میں، مال اكٹھا كرنے كے حريص ہوتے ہيں۔ خواه اسے حاصل كرنے كا كوئی بھی طریقہ ہو۔ وه مال جمع كر كے ا س كا ذخيره بناتے ہيں۔ اور اسے خرچ كرنے كے بجائے سختی اور کنجوسی سے اس كی حفاظت كرتے ہيں۔ مال کی محبت نے ان كے دلو ں كو مسخر كر ركھا ہوتا ہے۔ اُن کے لئے مال تما م رشتوں، عبادات اور ذات سے زیادہ فوقیت رکھتا ہے۔ ايسے لوگ بھی مريض قلب ہوتے ہيں۔

كچھ لوگوں كا دل لہو ولعب كا مريض ہوتا ہے۔ ۔ وه ہمیشہ كھيل كود٬ موج مستی، ہنسی مذاق اور غفلت ميں پڑے رہتے ہیں۔ یہ بھی قلبی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں۔

اس طرح پتہ چلتا ہے کہ قلبی امراض كی مختلف اقسام ہيں۔ اس لئے مسلمان كو چاہیئے کہ اپنے دل کی خبر رکھے۔ دل کے معاملات پہ نظر رکھے۔ ہمیشہ اپنے دل كی اصلاح كے لئے كمر بستہ رہے۔ اور اگر دل کو کوئی بیماری لاحق ہو، کوئی عارضہ لگ جائے، تو فورا ا سكا علاج كرے۔ قلبی اعمال ميں سے ايك عمل الله عز وجل كی محبت رکھنا ہے۔ اور یہ قلبی اعمال ميں سب سے عظيم ہے۔ اور اس كا محل قلب یعنی دل ہی ہے۔ جس كی اہميت ايسی ہے٬ جيسے پرندے كے لئے اس كا سر۔ نيز خوف وخشيت اور اميد ورجاء اس كے دو بازو اور پر ہيں۔ اگر محبت معدوم ہو گئی٬ تو ايسے ہے جيسے كسی پرندے كا سر كاٹ ديا گيا ہو۔ ايسے ميں وه اپنے رب عز وجل كی طرف كيسے اقدام كر سكتا ہے؟

لوگوں كے درميان اس محبت كی صفت اور مفہوم ميں بہت زياده فرق پايا جاتا ہے۔اورالله كی محبت كی صداقت كے لئے نبی ﷺ كي اتباع واضح علامت هے۔ جيسا كہ الله تعالے نے سورۃ آلِ عمران کی آیت 21 میں فرمايا:

قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللّهُ

ترجمہ: كہہ ديجئے! اگر تم الله تعالى سے محبت ركھتے ہو تو ميری تابعداری كرو٬ خود الله تعالى تم سے محبت كرےگا۔
الله عز وجل سے محبت كا دعوى تو سبھی كرتے ہيں۔ مگر اس كو پركھنے كا آلہ٬ اور اس ميں صداقت كے لئے برہان نبي ﷺ كي اتباع ہے۔ یہی الله عز وجل سے محبت كی كھلی دليل ہے۔ اور اس محبت كو تقويت پہنچانے والا سب سے بڑا ذريعہ جيسا كہ ابو العباس ابن تيميہ رحمہ اللہ نے فرمايا

اولا : كثرت سے الله سبحانہ وتعالى كا ذكر كرنا٬ كيوں كہ يہ الله كی محبت كو تقويت پہنچانے والا سب سے بڑا ذريعہ ہے۔ بنده جب كثرت سے الله كا ذكر كرتا ہے٬ تو اس كے دل ميں الله كی محبت گہری ہوتی چلی جاتی ہے۔ اس كا دل نرم ہو جاتا ہے۔ اور الله كی جانب بڑھنے اور سرِ تسلیم خم کرنے ميں بڑا كردار نبھاتا ہے۔

ايک آدمي حسن بصری رحمہ الله كے پاس آيا اور كہنے لگا: اے ابو سعيد! ميں اپنے دل ميں قساوت اور سختی محسوس كر رہا ہوں۔ تو حسن بصری نے كہا: كثرت سے الله كے ذكر كے ذريعہ اپنے دل كی سختی كو پگھلاؤ۔ كيوں كہ الله كے ذكر سے زياده كسی بھی چيز سے دل كی سختی كو نہيں پگھلایا جا سكتا ۔سورۃ آلِ عمران کی آیت 191 میں الله تعالى كا فرمان ہے:

الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللّهَ قِيَاماً وَقُعُوداً وَعَلَىَ جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذا بَاطِلاً سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ

ترجمه: جو الله كا ذكر كھڑے اور بيٹھے اور اپنی كروٹوں پر ليٹے ہوئے كرتے ہيں٬ اور آسمانوں و زمين كي پيدائش ميں غور وفكر كرتے ہيں٬ اور كہتے ہيں: اے ہمارے پروردگار ! تو نے يہ بے فائده نہيں بنايا٬ تو پاک ہے٬ پس ہميں آگ كے عذاب سے بچالے۔

ثانياََ: الله عز وجل كي بڑی بڑی نعمتوں اور اس كے احسانات پر غور وفكر كرنا۔ كيوں كہ نفوس كی جبلت ميں اس كے محسن سے محبت ڈالی گئی ہے۔ لوگ اپنے محسن سے جبلی طور پر محبت كرتے ہيں۔ اور الله عز وجل نے اپنے بندوں كوبہت بڑی بڑی لا تعداد وبے شمار نعمتيں عطا كی ہيں۔ اس نےسننے اور ديكھنے كي نعمت اور عقل وصحت وغيره جيسی ان گنت بڑی بڑی نعمتيں عطا كی ہيں٬ جنھيں شمار نہيں كيا جا سكتا۔ جب ان كے بارے ميں غور وفكر كيا جائےگاتواس سے الله كی محبت پيدا ہوگی۔

صحت مند اور سلیم دل انسان کے لئے زندگی میں بہت قیمتی چیز ہے ۔ اللہ کے ہاں انسان کے دل کی بہت منزلت ہے۔

رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا : “اللہ تعالیٰ تمھاری شکلوں یا تمھارے جسموں کی طرف نہیں دیکھتا لیکن تمھارے “دلوں” اور تمھارے اعمال کی طرف دیکھتا ہے۔”

نبی اکرم ﷺ اپنی دعاؤں میں ارشاد فرماتے: “اے دلوں کے پلٹنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ۔ اے دلوں کو موڑنے والے، میرے دل کو اپنی اطاعت پر موڑ دے ۔

علامہ اقبال اسی بات کو یوں کہہ رہے ہیں کہ

دل ِبینا بھی کر خدا سے طلب

آنکھ کا نور دل کا نور نہیں

مرکزی خیال : اعمال القلوب از ڈاکٹر سعد تركي الخثلان۔ بیماریءدل۔۴۔ رمضان2014

دلِ پریشاں

دل پریشاں ہوا جاتا ہے

اور ساماں ہوا جاتا ہے

داغؔ خاموش ، نہ لگ جائے نظر

شعر دیوان ہوا جاتا ہے

داغ ؔ دہلوی کی پریشانی کا سبب اگرچہ کچھ اور تھا پر وہ بھی، اکثر لوگوں کی طرح، دیگر وجوہ کی بِنا پر ،تمام عمر دل کے ہاتھوں ہی پریشان رہے۔ دلِ ناداں سے تعارف اور زندہ دلی اور طمانینت کے حوالے سے یہ جاننے کے بعد ، کہ ذکرِ الٰہی سے دل کو سکون ملتا ہے اور یہ سکون ایک الگ نوعیت کا ہے جس میں دل ایک نکتے پر ، یقین کی حالت میں ٹھہر جاتا ہے ، اب بات آتی ہے اُس سوال کی کہ . . . اللہ کے نیک بندوں پہ بھی تکالیف آتی ہیں تو وہ کیسے خوف، ملال اور حزن سے محفوظ ہوئے ؟ بلکہ ایک عام مشاہدہ ہے کہ کٹھن گھڑیاں زیادہ تر اللہ کے پیاروں پر ہی آتی ہیں۔ اولوا العزم رسولوں پہ سب سے زیادہ آزمائشیں آئیں۔

اس کا جواب یہ ہے کہ خوف و حزن ، دل کی ایک کیفیت کا نام ہے ۔ جو لوگ اللہ کی یاد میں جیتے ہیں ، اُن کے اردگرد وقتی طور پر پریشان کن حالات پیدا ہوسکتے ہیں، مگر اُن کے دل پر اطمئنان کی وہ کیفیت طاری رہتی ہے جس سے انسان ہمیشہ پُرسکون رہتا ہے۔

جیسا کہ ہجرتِ مدینہ کے موقعے پر، غارِ ثور میں رسولُ اللہ ﷺ نے اپنے رفیقِ غار ، ابوبکرِ صدیق رضی اللہ عنہ سے فرمایا :” اُن دو کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے جن کا تیسرا رفیق خود اللہ ہے؟ (بخاری3453)

دل کا یہ اطمئنان یقین سے پیدا ہوتاہے ۔ اور انسانی دل کے ٹھہراؤ کے لئے یقین سے بہتر کوئی چیز نہیں۔ بے یقینی بہت ذہنی تکلیف کا سبب بنتی ہے۔ اسی ذہنی یکسوئی کو آج کی دنیا میڈیٹیشن ، فوکسنگ، یوگا، مراقبہ وغیرہ کے مختلف ناموں سے جانتی ہے اور اس یکسوئی تک پہنچنے کے لئے نِت نئے ذہنی حربے اور مشقیں عمل میں لائی جاتی ہیں۔ کئی جدید تجربہ گاہیں اس پہ کام کر رہی ہیں کہ ذہن اور اعصاب کو پرسکون رکھنے کے لئے دل کی کیا کیفیت ہونی چاہیئے۔

مرا دل مری رزم گاہِ حیات

گمانوں کے لشکر ، یقیں کا ثبات

یہی کچھ ہے ساقی، متاعِ فقیر

اسی سے فقیری میں ہوں میں امیر

اقبال

ایک بندہء مومن پر جب زندگی کی مشکلات آتی ہیں تو اُس کا ایمان اُسے بتاتا ہے کہ اللہ چاہے تو بآسانی اُسے اِن مشکلات سے نکال سکتا ہے۔ چنانچہ وہ اپنے رب ہی کو پکارتا ہے اور اُسی سے مدد چاہتا ہے، جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ اُس کی مشکل دور کردیتے ہیں۔ تاہم اُسے یہ بھی یقین ہوتا ہے کہ کہ یہ مشکلات اگر دور نہیں ہورہیں تب بھی، اللہ کے ہاں اُس کے درجات بلند کرنے کا سبب بن رہی ہیں اور آخرت میں اُسے نجات دلائیں گی ۔ چنانچہ مشکلات اور تکالیف بھی اُسے یہ اطمئنان فراہم کرتی ہیں کہ اس کی تکلیف کا ہر ایک لمحہ جنت میں اس کی راحتوں میں اضافے کا سبب بنے گا ۔ جو شخص اطمئنان کی اس کیفیت میں جیتا ہو اُس کے لئے ہر حالت اور ہر کیفیت ہی سکون ہے۔

سلفِ صالحین میں سے کسی نے اِس طمانینت کی صفت بیان کرتے ہوئے کہا: بے چارے دنیا والے، دنیا سے آکر چلے بھی گئے اور دُنیا کی سب سے طیّب، سب سے لذیذ چیز کو چکھا تک نہیں۔ اِن سے پوچھا گیا کہ دُنیا کے اندر سب سے طیّب چیز کیا ہے؟

جواب دیا : دل میں اللہ کی محبت اور اُنسیت رکھنا اور اُس سے ملاقات کے لئے مشتاق رہنا۔

heart-hugs

سورۃ المطففین کی آیت 22 کی تفسیر میں، امام ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

إ

ِانَّ الْأَبْرَارَ لَفِي نَعِيمٍ

اللہ تعالیٰ کے قول ” نعیم” کو صرف آخرت کے لئے گمان نہ کریں، بلکہ اِس میں ساری نعمتیں، یہاں تک کہ دُنیاوی نعمتیں بھی شامل ہیں۔ جیسا کہ “ابرار’ یعنی اللہ کے نیک اور متقی بندے اپنے دلوں کے اندر قلبی سکون اور لذت و سعادت محسوس کرتے ہیں۔ اسی لئے فرمایا ” لَفِي نَعِيمٍ” کہ یقیناََ نعمتیں اور اس میں دنیا اور آخرت ، دونوں کی نعمتیں شامل ہیں۔ الجواب الكافي لمن سأل عن الدواء الشافي ص85
گویا کہ دل کے معاملے میں بہت گہرائی ہے اور دل کی واردات، دل کا تعلق، یقین اور ایمان کا بڑھنا یا گھٹنا، طمائنینت پانا، . . . یہ سب معاملات بہت باریک بینی سے نبھانے کے ہیں۔ زندگی کی بھاگ دوڑ میں اکثر دلِ پریشاں تنہا رہ جاتا ہے اور یوں مزید پریشان ہوتا ہے۔انسان کی تمام ہستی کے سلجھاؤ کی گُتھی دراصل دل کے سکون میں ہے۔ مال ، معاش، اولاد، احباب اور کچھ بھی انسان کے سکون کا ضامن نہیں . . . جب تک کہ . . . دل راضی باش نہ ہو، قلق سے آزاد اور ایک رب کی ہستی سے جُڑا ہوا نہ ہو۔ سوز و گداز کے ذائقے سے آشنا نہ ہو اور پھر اس سوز سے لطف حاصل نہ کرتا ہو۔

کوئی دل سوز ہو تو کیجیئے بیاں

سرسری دل کی واردات نہیں

حالی

دلِ پریشاں3- رمضان 2014

images