14th Part, A Character sketch by Al Quran

قُرآنِ پاک میں بیان کردہ شخصی اوصاف میں سے چند ایک ، اختصار کے ساتھ

A little effort to put down some good qualities of a character, described by the Holy Qura’an.

-پارہ 14:

-1-سلامتی اور دلوں سے کدورت کا نکل جانا بہت نعمت کی بات ہے اور یہ کامیابی کی نشانی ہے۔ کامیاب لوگ اِس نعمت سے نوازے جائیں گے۔

-القرآن/ الحجر/ 46/47

-ادْخُلُوهَا بِسَلَامٍ آمِنِينَ۔وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِم مِّنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَىٰ سُرُرٍ مُّتَقَابِلِينَ۔

-ترجمہ: ان باغوں میں سلامتی اور امن سے جا کر رہو۔اور ان کے دلوں میں جو کینہ تھا ہم وہ سب دور کر دیں گے سب بھائی بھائی ہوں گے تختوں پر آمنے سامنے بیٹھنے والے ہوں گے۔

-2- لوگوں کی باتوں پہ ضیقِ صدر ہونا برحق ہے، ایسے میں اللہ کی تسبیح اور نماز سے مدد لینا پیغمبروں کا شیوہ ہے۔

-القرآن/الحجر/97/98/99/

-وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ۔فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُن مِّنَ السَّاجِدِينَ۔وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ۔

-ترجمہ: اور ہم جانتے ہیں کہ تیرا دل ان باتوں سے تنگ ہوتا ہے جو وہ کہتے ہیں۔سو تو اپنے رب کی تسبیح حمد کے ساتھ کیے جا اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہو۔اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہو یہاں تک کہ تمہیں موت آجائے۔

-3-اللہ کی دی گئی نعمتوں سے فضل اور رزق تلاش کرنا اور اللہ ہی کا شکرگزار ہونا چاہئیے

-القرآن/النحل/14/15/16/17/18/

-وَهُوَ الَّذِي سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَأْكُلُوا مِنْهُ لَحْمًا طَرِيًّا وَتَسْتَخْرِجُوا مِنْهُ حِلْيَةً تَلْبَسُونَهَا وَتَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِيهِ وَلِتَبْتَغُوا مِن فَضْلِهِ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ

-وَأَلْقَىٰ فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَن تَمِيدَ بِكُمْ وَأَنْهَارًا وَسُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ

-وَعَلَامَاتٍ ۚ وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُونَ

-أَفَمَن يَخْلُقُ كَمَن لَّا يَخْلُقُ ۗ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ

-وَإِن تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا ۗ إِنَّ اللَّهَ لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ

-ترجمہ: اور وہ وہی ہے جس نے دریا کو کام میں لگا دیا کہ اس میں تازہ گوشت کھاؤ اور اسی سے زیور نکالو جسے تم پہنتے ہو اور تو اس میں جہازوں کو دیکھتا ہے کہ پانی کو چیرتے ہوئے چلے جاتے ہیں اور تاکہ تم اس کے فضل کو تلاش کرو اور تاکہ تم شکر کرو

-اور زمین پر پہاڑوں کے بوجھ ڈال دیے تاکہ تمہیں لے کر نہ ڈگمگائے اور تمہارے لیے نہریں اور راستے بنا دیے تاکہ تم راہ پاؤ

-اور نشانیاں بنائیں اور ستاروں سے لوگ راہ پاتے ہیں

-پھر کیا جو شخص پیدا کرے اس کے برابر ہے جو کچھ بھی پیدا نہ کرے کیا تم سوچتے نہیں

-اور اگر تم الله کی نعمتو ں کو گننے لگو تو ان کا شمار نہیں کر سکو گےبے شک الله بخشنے والا مہربان ہے

-4- عدل، احسان، قرابت داروں سے اچھائی کریں اور بےحیائی، منکر اور تکبر سے باز رہنے کا حکم دیتے رہیں۔

-القرآن/النحل/90

-إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَالْبَغْيِ ۚ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ

-ترجمہ: بے شک الله انصاف کرنے کا اوربھلائی کرنے کا اور رشتہ داروں کو دینے کا حکم کرتا ہے اوربے حیائی اوربری بات اور ظلم سے منع کرتا ہے تمہیں سمجھاتا ہے تاکہ تم سمجھو

-5-حکمت اور اچھے طریقے سے اللہ کے راستے کی طرف بلایا جائے، جب بحث یا اختلاف ہو تو احسن طریقہ اپنایا جائے۔

-القرآن/النحل/125

-ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ۖ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِ ۖ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ

-ترجمہ: اپنے رب کے راستے کی طرف دانشمندی اور عمدہ نصیحت سے بلا اور ان سے پسندیدہ طریقہ سے بحث کر بے شک تیرا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کے راستہ سے بھٹکا ہوا ہے اور ہدایت یافتہ کو بھی خوب جانتا ہے

Part 14:
1-It is a blessing to be safe and free of bitterness, and only the successful will be blessed with these qualities.
-AL Quran/alhijr/46/47/ (It will be said to them): ‘Enter therein (Paradise), in peace and security. And we shall remove from their breasts any deep feeling of bitterness (that they may have). (So they will be like) brothers facing each other on thrones.

2-It is completely natural to get sad on negative talk of people and one should seek help in prayer and Allah’s zikr.
-Al Quran/alhijr/97/98/99/We do indeed know how thy heart is distressed at what they say. But hymn the praise of thy Lord, and be of those who make prostration (unto Him). And serve thy Lord till the inevitable cometh unto thee.

3-Allah’s blessings are countless, in the whole universe and Allah is the merciful.
-Al Quran/alnahal/14/15/16/17/18/
-And He it is Who has subjected the sea (to you), that you eat thereof fresh tender meat (i.e. fish), and that you bring forth out of it ornaments to wear. And you see the ships ploughing through it, that you may seek (thus) of His Bounty (by transporting the goods from place to place) and that you may be grateful.
-And He has affixed into the Earth Mountains standing firm, lest it should shake with you; and rivers and roads, that you may guide yourselves.
-And landmarks (signposts during the day) and by the stars (during the night), they (mankind) guide themselves.
-Is then He, Who creates as one who creates not? Will you not then remember?
-And if you would count the favours of Allah, never could you be able to count them. Truly! Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful.

4-Being good to relatives, justice and kindness, and stopping from shameful deeds, injustice and rebellion is ordered by Allah.
-Al Quran/alnahal/90/Surely Allah enjoins the doing of justice and the doing of good (to others) and the giving to the kindred, and He forbids indecency and evil and rebellion; He admonishes you that you may be mindful.

5-One must use wisdom and beautiful preaching to place invitation to the way of Allah.
-Al Quran/alnahal/125/Invite (all) to the Way of thy Lord with wisdom and beautiful preaching; and argue with them in ways that are best and most gracious: for thy Lord knoweth best, who have strayed from His Path, and who receive guidance.

Advertisements

Part 13, Qualities of a character by the Holy Quran

قُرآنِ پاک میں بیان کردہ شخصی اوصاف میں سے چند ایک ، اختصار کے ساتھ

A little effort to put down some good qualities of a character, described by the Holy Qura’an.

-پارہ 13:

-1-اللہ کی خلقت میں غور و فکر کرنا

-القرآن/الرعد/3

-وَهُوَ الَّذِي مَدَّ الْأَرْضَ وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ وَأَنْهَارًا ۖ وَمِن كُلِّ الثَّمَرَاتِ جَعَلَ فِيهَا زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ ۖ يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ ۚ إِنَّ فِي ذَ‌ٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ

-ترجمہ: اور اسی نے زمین کو پھیلایا اور اس میں پہاڑاور دریا بنائے اور زمین میں ہر ایک پھل دوقسم کا بنایا دن کو رات سے چھپا دیتا ہے بے شک اس میں سوچنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں

-2- ذکر اللہ سے دل کو اطمئنان ہونا

-القرآن/الرعد/28

– الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُم بِذِكْرِ اللَّهِ ۗ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ

-ترجمہ: وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کے دلوں کو الله کی یاد سے تسکین ہوتی ہے خبردار! الله کی یاد ہی سے دل تسکین پاتے ہیں

-3- اچھی بات کرنا ، ترغیب دلائی گئی کہ اچھی بات کے ظاہری اور باطنی ثمرات بڑھتے رہتے ہیں۔

-القرآن/ابراہیم/24/25

– أَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ۔ تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ بِإِذْنِ رَبِّهَا ۗ وَيَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ

-ترجمہ: کیاتو نےنہیں دیکھا کہ الله نے کلمہ پاک کی ایک مثال بیان کی ہے گویا وہ ایک پاک درخت ہے کہ جس کی جڑ مضبوط اور اس کی شاخ آسمان ہے۔وہ اپنے رب کے حکم سے ہر وقت اپنا پھل لاتا ہے اور الله لوگوں کے واسطے مثالیں بیان کرتا ہے تاکہ وہ سمجھیں۔

-4- مطلقاََ شکرگزاری اپنائی جائے کہ انسان اللہ کی نعمتوں کو شمار نہیں کرسکتا۔

-القرآن/ابراہیم/34

– وَآتَاكُم مِّن كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ ۚ وَإِن تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا ۗ إِنَّ الْإِنسَانَ لَظَلُومٌ كَفَّارٌ

-ترجمہ: اور جو چیز تم نے ان سے مانگی اس نے تمہیں دی اور اگر الله کی نعمتیں شمار کرنے لگو تو انہیں شمار نہ کر سکو بے شک انسان بڑا بےانصاف اور ناشکرا ہے

Part 13:

  1. Critically thinking in Allah’s creatures and nature and how the system of universer is working.
    -Quarn: Ra’ad/3/ And it is He who spread out the earth, and set thereon mountains standing firm and (flowing) rivers: and fruit of every kind He made in pairs, two and two: He draweth the night as a veil o’er the Day. Behold, verily in these things there are signs for those who consider!

2- Remembering Allah comforts one’s heart.
-Quran: Ra’ad/28/ “Those who believe, and whose hearts find satisfaction in the remembrance of Allah: for without doubt in the remembrance of Allah do hearts find satisfaction.

3- Always being positive and righteous brings many fruits spiritually and apparently.
-Quran: Ibrahim/24/25/Have you not considered how Allah sets forth a parable of a good word (being) like a good tree, whose root is firm and whose branches are in heaven, yielding its fruit in every season by the permission of its Lord? And Allah sets forth parables for men that they may be mindful.

4- One must adopt gratitude because there are countless blessings on the human.
-Quran: Ibrahim/34/And He gives you of all that you ask Him; and if you count Allah’s favors, you will not be able to number them; most surely man is very unjust, very ungrateful.

12th part, character glimpse by Quran

قُرآنِ پاک میں بیان کردہ شخصی اوصاف میں سے چند ایک ، اختصار کے ساتھ

A little effort to put down some good qualities of a character, described by the Holy Qura’an.

Part: 12

پارہ 12:

-1ـ سابقہ اقوام ِ عالم کے حالات سے سبق حاصل کرنا

-ہود/100/103

– ذَ‌ٰلِكَ مِنْ أَنبَاءِ الْقُرَىٰ نَقُصُّهُ عَلَيْكَ ۖ مِنْهَا قَائِمٌ وَحَصِيدٌ

-ترجمہ: یہ بستیوں کے تھوڑے سے حالات ہیں کہ تجھے سنا رہے ہیں ان میں سے کچھ تو اب تک باقی ہیں اورکچھ اجڑی پڑی ہیں۔

إِنَّ فِي ذَ‌ٰلِكَ لَآيَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْآخِرَةِ ۚ ذَ‌ٰلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذَ‌ٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ

– اس بات میں نشانی ہے اس کے لیے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہے یہ ایک ایسا دن ہوگا جس میں سب لوگ جمع ہوں گے اور یہی دن ہے جس میں سب حاضر کیے جائیں گے

-2-دن کے اطراف میں نماز ادا کرنا اور صبر پہ قائم رہنا

-ہود /114/115

– وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِّنَ اللَّيْلِ ۚ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ۚ ذَ‌ٰلِكَ ذِكْرَىٰ لِلذَّاكِرِينَ
– وَاصْبِرْ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ

-ترجمہ: اور دن کے دونو ں طرف اورکچھ حصہ رات کا نماز قائم کر بے شک نیکیاں برائیوں کو دور کرتی ہیں یہ نصیحت حاصل کرنے والوں کے لیے نصیحت ہے

– اور صبر کر بے شک الله نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا

-3- احتیاط کا تقاضا ہے کہ انسان اپنی کامیابیوں اور نعمتوں کی تشہیر نہ کرے تاکہ شیطان کو بدخواہ لوگوں میں حسد پیدا کرنے کا موقعہ نہ ملے۔

-یوسف/5

– قَالَ يَا بُنَيَّ لَا تَقْصُصْ رُؤْيَاكَ عَلَىٰ إِخْوَتِكَ فَيَكِيدُوا لَكَ كَيْدًا ۖ إِنَّ الشَّيْطَانَ لِلْإِنسَانِ عَدُوٌّ مُّبِينٌ

-ترجمہ: کہا اے بیٹا اپنا خواب بھائیوں کے سامنے بیان مت کرنا وہ تیرے لیے کوئی نہ کوئی فریب بنا دیں گے شیطان انسان کا صریح دشمن ہے

  1. Knowing the history and events from past leads one to be wise and careful.
    -Quran/Hood/100/103

– These are some of the stories of communities which We relate unto thee: of them some are standing, and some have been mown down (by the sickle of time).
– Indeed in that (there) is a sure lesson for those who fear the torment of the Hereafter. That is a Day whereon mankind will be gathered together, and that is a Day when all (the dwellers of the heavens and the earth) will be present.

2.Being consistent and stay punctual while offering prayers at various times.
-Quran/Hood/114/115
– And establish regular prayers at the two ends of the day and at the approaches of the night: For those things, that are good remove those that are evil: Be that the word of remembrance to those who remember (their Lord):
– And be patient; verily, Allah wastes not the reward of the good-doers.

  1. One should not show off his/her blessings and fortune so that bad wishers may not get a chance to be jealous by Satan.
    -Quran/Yusuf/5

    • He (the father) said: “O my son! Relate not your vision to your brothers, lest they should arrange a plot against you. Verily! Shaitan (Satan) is to man an open enemy!

11 th Part, character hints by Quraan

قُرآنِ پاک میں بیان کردہ شخصی اوصاف میں سے چند ایک ، اختصار کے ساتھ

A little effort to put down some good qualities of a character, described by the Holy Qura’an.

-پارہ 11:

-1- سچ بولنا اور سچائی کا ساتھ دینا:

– سچ ہی بولا جائے اور حقائق کو چھپایا نہ جائے، سچائی کی تائید اور معاونت کرنی چاہیئے۔

-التوبۃ/ 119/يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ

-ترجمہ: اے ایمان والو! الله سے ڈرتے رہو اور سچوں کے ساتھ رہو

-2- بدگمانی نہ کی جائے:

– اپنے تئیں قیاس آرائی پہ مبنی بُرے گمان قائم نہیں کرنے چاہیئں۔

سورۃ یونس/36/وَمَا يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنًّا ۚ إِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِمَا يَفْعَلُونَ

-ترجمہ: اور وہ اکثر اٹکل پر چلتے ہیں بےشک حق بات کے سمجھنے میں اٹکل ذرا بھی کام نہیں دیتی بے شک الله جانتا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں

-3- اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کو نہ پُکارا جائے:

– مدد، مناجات اور داد رسی کے لئے صرف اللہ کو ہی پُکارا جائے۔

-سورۃ یونس/ 106/وَلَا تَدْعُ مِن دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَنفَعُكَ وَلَا يَضُرُّكَ ۖ فَإِن فَعَلْتَ فَإِنَّكَ إِذًا مِّنَ الظَّالِمِينَ

-ترجمہ: اور الله کے سوا ایسی چیز کونہ پکار جو نہ تیرا بھلا کرے اور نہ برا پھر اگرتو نے ایسا کیا تو بے شک ظالموں میں سے ہو جائے گا

Juz’ 11:

  1. To speak the truth and to approve the righteous opinionand factful approach.
    -Quraan says/ Altawba/ 119/O you who believe! Be afraid of Allah, and be with those who are true (in words and deeds)
  2. Not to prejudice and misunderstand anyone.
    -Quraan says: Sura Yunus/36/And most of them follow not except assumption. Indeed, assumption avails not against the truth at all. Indeed, Allah is Knowing of what they do

3.Not to ask anyone except Allah in all the situations.
-Quraan says/ Sura Yunus/106/And do not invoke besides Allah that which neither benefits you nor harms you, for if you did, then indeed you would be of the wrongdoers.

10 th part, Charatcer hints by Quraan

قُرآنِ پاک میں بیان کردہ شخصی اوصاف میں سے چند ایک ، اختصار کے ساتھ ، حصہ دسواں

A little effort to put down some good qualities of a character, described by the Holy Qura’an. Part 10

-1- اللہ کی محبت پر کوئی چیز غالب نہ آئے:

– انسان کی تمام محبتوں کا دارومدار اللہ کی ذات ہو۔ اللہ کی محبت انسان کی زندگی کا محور و مرکز ہو۔

– سورۃ التوبہ / آیت24/

قُلْ إِن كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُم مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّىٰ يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ ۗ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ

-ترجمہ: کہہ دو اگر تمہارے باپ اور بیٹے اور بھائی اوربیویاں اور برادری اور مال جو تم نے کمائے ہیں اور سوداگری جس کے بند ہونے سے تم ڈرتے ہو اور مکانات جنہیں تم پسند کر تے ہو تمہیں الله اور اس کے رسول اوراس کی راہ میں جہد کرنے سے زیادہ پیارے ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ الله اپنا حکم بھیجے اور الله نافرمانوں کو راستہ نہیں دکھاتا

-2- ایمان والے باہم ایک دوسرے کے معاون و مددگار ہوتے ہیں۔

– اہلِ ایمان مِل جُل کر نیکی کے کاموں کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے ہیں۔ بھلائی کے کاموں کی اشاعت کے ساتھی اور برائیوں کی روک تھام میں مددگار بنتے ہیں۔

– سورۃ التوبہ/ آیت 71/

وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۚ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَيُطِيعُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ۚ أُولَـٰئِكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللَّهُ ۗ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ

-ترجمہ: اور ایمان والے مرد اور ایمان والی عورتیں ایک دوسرے کےمددگار ہیں نیکی کا حکم کرتے ہیں اوربرائی سے روکتے ہیں اورنماز قائم کرتے ہیں اور زکواة دیتے ہیں اور الله اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرتے ہیں یہی لوگ ہیں جن پر الله رحم کرے گا بے شک الله زبردست حکمت والا ہے

Juz’ 10:

-1-

Allah’s love should dominate a person’s whole life.
No other love should have a first place except Allah’s.
Quraan says: Al Tauba/24/ Say: If it be that your fathers, your sons, your brothers, your mates, or your kindred; the wealth that ye have gained; the commerce in which ye fear a decline: or the dwellings in which ye delight – are dearer to you than Allah, or His Messenger, or the striving in His cause;- then wait until Allah brings about His decision: and Allah guides not the rebellious

-2-

There should be a cooperating environment among the believers, and they should be helpful for each other, stand for the right and abandon the false things.
Quran says: Al Tauba/ 71/ The believing men and believing women are allies of one another. They enjoin what is right and forbid what is wrong and establish prayer and give zakah and obey Allah and His Messenger. Those – Allah will have mercy upon them. Indeed, Allah is Exalted in Might and Wise

9th Part, Character Hints by Quraan

حصہ نواں، قُرآنِ پاک میں بیان کردہ شخصی اوصاف میں سے چند ایک ، اختصار کے ساتھ

(یعنی کردار کو قرآن کے مطابق بنانے کے لئے کیا کرنا چاہیئے)

9th part, A little effort to put down some good qualities of a character, described by the Holy Qura’an.
(What Character Quraan wants you to attain)

-1- اللہ کو اسمائے حسنیٰ سے پکارا جائے اور بحث مباحثہ نہ کرنا :

– دعا میں اور عبادات میں اللہ تعالیٰ کو اسمائے حسنیٰ اور صفاتی ناموں سے پکارنا چاہیئے اور لا حاصل بحث سے بچنا چاہیئے ۔

– سورۃ الاعراف/ آیت 180/

وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ فَادْعُوهُ بِهَا ۖ وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَائِهِ ۚ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ

-ترجمہ: اور سب اچھے نام الله ہی کے لیے ہیں سو اسے انہیں نامو ں سے پکارو اور چھوڑ دو ان کو جو الله کے نامو ں میں کجروی اختیار کرتے ہیں وہ اپنے کیے کی سزا پا کر رہیں گے۔

-2- عفو و درگزر کرنا اور جاہلوں سے پہلو بچانا:

-دوسروں کی غلطیوں اور تلخیوں سے درگزر کرنا چاہیئے، اچھی بات کہی جائے اور جاہل سے کنارہ کشی اختیار کرنی چاہیئے۔

– سورۃ الاعراف/ آیت 199/

خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ

-ترجمہ: درگزر کر اور نیکی کا حکم دے اور جاہلوں سے الگ رہ

-3-ہر شیطانی حربے سے بچاؤ کے لئے اللہ سے پناہ طلب کرنا :

– ہر برائی اور شیطانی وسوسے سے بچنے کے لئے اللہ سے پناہ اور حفاظت طلب کرنی چاہیئے۔

-سورۃ الاعراف/ آیت200/

وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ ۚ إِنَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ

-ترجمہ: اور اگر تجھے کوئی وسوسہ شیطان کی طرف سے آئے تو الله کی پناہ مانگ لیا کر بے شک وہ سننے والا جاننے والا ہے

-4- خیانت نہ کرنا خواہ کیسی بھی ہو

– سورۃ الانفال/آیت 27/

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَخُونُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ وَتَخُونُوا أَمَانَاتِكُمْ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ

-ترجمہ: اے ایمان والو الله اور اس کے رسول سے خیانت نہ کرو اور آپس کی امانتوں میں بھی خیانت نہ کرو حالانکہ تم جانتے ہو

-Juz’ 9
.1. Asking Allah with his fine names and to avoid useless discussions.
* Quraan says: Al’aaraaf/180/ And (all) the Most Beautiful Names belong to Allah , so call on Him by them, and leave the company of those who belie or deny (or utter impious speech against) His Names. They will be requited for what they used to do

.2. To forgive and avoid ignorant people.
*Quraan says: Al’aaraaf/199/ Hold to forgiveness; command what is right; But turn away from the ignorant.

.3. Always seek refuge from Allah against all evil and satanic attacks.
*Quraan says: Al’aaraaf/ 200/ And if an evil whisper comes to you from Shaitan (Satan), then seek refuge with Allah. Verily, He is All-Hearer, All-Knower.

.4. Not to betray
*Quraan says: Alanfaal/ 27/ O ye that believe! betray not the trust of Allah and the Messenger, nor misappropriate knowingly things entrusted to you.

8th Part, Character Hints by Quraan

حصہ آٹھواں ، قُرآنِ پاک میں بیان کردہ شخصی اوصاف میں سے چند ایک ، اختصار کے ساتھ

5th part, A little effort to put down some good qualities of a character, described by the Holy Qura’an

-پارہ 8

-1- بھیڑ چال اور اکثریت کی پیروی نہ کرنا

– اِس دلیل کا شکار نہ ہونا کہ سب لوگ ایسا کرتے ہیں، لوگ معیار نہیں ہیں ، سند کا معلوم کرنا لازمی ہے، اندھا دھند تقلید نہیں کرنی چاہیئے

-سورۃ الانعام/ 116/وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ ۚ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَإِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُصُونَ

ترجمہ: اور اگر تو کہا مانے گا اکثر ان لوگو ں کا جو دنیا میں ہیں تو تجھے الله کی راہ سے ہٹا دیں گے وہ تو اپنے خیال پر چلتے اور قیاس آرائیاں کرتے ہیں۔

-2- شرحِ صدر ، ہدایت کی نشانی ہے

– سورۃ الانعام/ آیت 125/فَمَن يُرِدِ اللَّهُ أَن يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ ۖ وَمَن يُرِدْ أَن يُضِلَّهُ يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقًا حَرَجًا كَأَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِي السَّمَاءِ ۚ كَذَ‌ٰلِكَ يَجْعَلُ اللَّهُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ

ترجمہ: سو جسے الله چاہتا ہے کہ ہدایت دے تو اس کے سینہ کو اسلام کے قبول کرنے کے لیے کھول دیتا ہے اور جس کے متعلق چاہتا ہے کہ گمراہ کرے اس کے سینہ کو بے حد تنگ کر دیتا ہے گو کہ وہ آسمان پر چڑھتا ہے اسی طرح الله تعالیٰ ایمان نہ لانے والوں پر پھٹکار ڈالتا ہے۔

-3- مالِ یتیم پر لالچ کی نظر نہ رکھنا

-سورۃ الانعام/ آیت 152/وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ حَتَّىٰ يَبْلُغَ أَشُدَّهُ ۖ وَأَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ ۖ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۖ وَإِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوا وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَىٰ ۖ وَبِعَهْدِ اللَّهِ أَوْفُوا ۚ ذَ‌ٰلِكُمْ وَصَّاكُم بِهِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ

ترجمہ: اور سوائے کسی بہتر طریقہ کے یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچے اور ناپ اور تول کو انصاف سے پورا کرو ہم کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے اور جب بات کہو انصاف سے کہو اگرچہ رشتہ داری ہو اور الله کا عہد پورا کرو تمہیں یہ حکم دیا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو ۔

-4- معاملاتِ غیر میں دلچسپی نہ لی جائے

– دوسرے لوگوں کے معاملا ت میں دلچسپی نہ لی جائے اور نہ ہی بےجا دخل اندازی کی جائے کیونکہ ہر شخص اپنے عمل کا خود ذمہ دار اور جوابدہ ہے۔ کوئی نفس دوسرے کا بوجھ نہ اُٹھائے گا۔ دوسرے تک اچھی بات پہنچا کر اپنی راہ لینی چاہیے۔

– سورۃ الانعام/ آیت 164/ قُلْ أَغَيْرَ اللَّهِ أَبْغِي رَبًّا وَهُوَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ ۚ وَلَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ إِلَّا عَلَيْهَا ۚ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ ۚ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّكُم مَّرْجِعُكُمْ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ

-ترجمہ: کہہ دو کیا اب میں الله کے سوا اور کوئی رب تلاش کروں حالانکہ وہی ہر چیز کا رب ہے اور جو شخص کوئی گناہ کرے گاتو وہ اسی کے ذمہ ہے اور ایک شخص دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا پھر تمہارے رب کے ہاں ہی سب کو لوٹ کر جانا ہے سو جن باتو ں میں تم جھگڑتے تھے وہ تمہیں بتلاد ے گا

-5- مسجد کے لئے اہتمام کرنا

عبادت کے لئے مسجد جاتے ہوئے آرائش، صفائی اور پاکی کا اہتمام کرنا چاہیے

-سورۃ الاعراف/ آیت 31/يَا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ

-ترجمہ: اے آدم کی اولاد تم مسجد کی حاضری کے وقت اپنا اچھا لباس پہن لیا کرو اور کھاؤ اور پیئو اور حد سے نہ نکلو بے شک الله حد سے نکلنے والوں کو پسند نہیں کرتا

-Juz’ 8

1- Being a common trend is not a validity certificate. Not to follow the majority without authentication.

-Quraan says: Al-ana’am/116/And if you obey most of those upon the earth, they will mislead you from the way of Allah. They follow not except assumption, and they are not but falsifying

2- A muslim must be open hearted, easy-go and positive.

-Quraan says: Al anaam/125/ So whoever Allah wants to guide – He expands his breast to [contain] Islam; and whoever He wants to misguide – He makes his breast tight and constricted as though he were climbing into the sky. Thus does Allah place defilement upon those who do not believe.

3- Any property of an orphan must not be misused by some guardian.

-Quraan says: Al anaam/ 152/ And come not near to the orphan’s property, except to improve it, until he (or she) attains the age of full strength; and give full measure and full weight with justice. We burden not any person, but that which he can bear. And whenever you give your word (i.e. judge between men or give evidence), say the truth even if a near relative is concerned, and fulfil the Covenant of Allah. This He commands you, that you may remember

4- To keep one’s own business

-Quraan says: Al anaam/164/ Say, “Is it other than Allah I should desire as a lord while He is the Lord of all things?
And every soul earns not [blame] except against itself, and no bearer of burdens will bear the burden of another. Then to your Lord is your return, and He will inform you concerning that over which you used to differ.”

5- Being well-dressed while praying

-Quraan says: al a’araaf/ 31/ O Children of Adam! wear your beautiful apparel at every time and place of prayer: eat and drink: But waste not by excess, for Allah loveth not the wasters