A day of Birth again

One feels joyful on the date of birth even if simplest or none of the preparations were made. I often wondered about this . What is the point in being gleeful on starting a life which is more of challenges than harmonies. So our inner intuition responds for some higher meanings of life.
On passing four decades, i am in effort to attribute some reason or aim to my being. Simply putting, to define your life in a frame line of reason is quite a difficult thing.
By Allah’s grace, every life is a multi dimensional contribution in the making of whole world. We all are doing a lot without any determined reason.

And a life of substance is marked  when someone establishes harmony between possibilities, challenges, desires and high goals. So all the years and moments of life must be enriched with positivity, tolerance,  care, harmony and love, neglecting bad emotions and negative things. Aggression and offence is no solution to any problem.
Best of wishes on this 20th Feb.

Find out your Beauty

How it can be fair to say that this world lacks beauty ? Its entirely a matter of one’s own definition. Every body has different perspective for determining the beauty. Many a people just link the beauty with commercial point of view. High prices could determine the level of beauty and cost. Yes, precious things do come with shocking price tags.
Hence, beauty that touches the heart and uplifts the spirit is priceless. It may not be placed in a show-case or any display window. It could be a small act of care, a cheerful smile or a tiny silly co-incidence.
Its the beauty in truth, in realization of pain, in being fair, in love and in having courage. Its looking into the hearts and feelings. One may run out of time and money but a smile and an act of care never takes time or money to give life to a dear-one’s heart.
Being always so broad-sighted to leave behind unhappy moments, is surely isn’t an easy thing. But courage must be there to work and develop the place of beauty-generating position. Never forget bitter experiences, keep them pinned somewhere in the memory, and never be a reason for some one else’s bitter memory.
Beauty has to be worked for, searched for, valued and to be planted in every heart. Only with beauty in the heart, we can cope with the evolution of this age, including all the stress, competition and rapidly changing world. Beauty is never locked, its always spreads just like the light. A loving and caring heart is always beautiful. Try to own a beautiful soft heart.

Bearing Colonial Germs

Bearing Colonial Germs

We as a society must face the truth, whether we are capable to change anything or not. Our main problem in all the areas of life is that we tend to behave like an ostrich and put our head beneath the sands

We have to seek and work for ways to develop moral courage at all levels. Our most common practice since a long time, is to build an imaginary world, make big castles in it, and to believe in unseen solutions that will come from nowhere. After planning such things we connect them with the beliefs. Now anyone talking about facts and dreadful realities can be accused of not believing in faith. Thats very much a wrong interpretation of faith. Believing in eternal powers of Allah gives courage and guidance to take steps and decisions

Looking back in chronology of such behavior we find that its been a habitual method of humans. Not all the humans surrender to their fates but those who once lived in a forced system do develop this trend. We can take it as the only escape tool for a depressed group of people who were invaded recurrently

History says this. This part of world has a long history of invading rulers. And the people of area had never had the chance to take charge and have the control of their own lives

Yes, one can say that its been a long long time ago, but have we taken any steps to remove traces of that state of mind? Or we just thought that it could a natural phenomenon to recover from that mind set- up? Its just like any of the ailments that require proper treatment and a follow-up, along with immunity steps. But right after the independence, we have no clear records of what has happened in history, its always controversial, scandaled, misleading and unpleasant

Isnt it enough now to swallow it anymore ?
We must plan on all levels to rebuild and redesign

Foreign content *

فارن کونٹینٹ

Foreign content

فارن کونٹینٹ ایسی اصطلاح ہے جو کچھ عرصہ پہلے تک زیادہ گوش آشنا نہیں تھی۔ حالیہ صورت حال میں اس سے مراد ترک ڈرامے ہیں جویکدم بہت تواتر سے نظر آنے لگے ہیں تاہم عرصہ دراز سے مختلف آراٴ کی موجودگی میں چلتے رکتے ہمسایہ ملک کے پروگرام بھی “فارن کونٹینٹ” کے زمرے میں آتے ہیں۔ ان ڈراموں اور پروگراموں کی ایجابی اور سلبی قدر کا اندازہ مختلف آراٴ کی صورت میں ہمارے سامنے آرہا ہے-

بادئ النظر میں یہ معاملہ نیا نیا سا معلوم ہوتا ہے لیکن یہ ایک “کہانی بہت پرانی” ہے۔ اسی80 کی دہائی میں, جب پاکستان میں پی ٹی وی تنہا راج کر رہا تھا ، بحرین کے چینل55 نے عربی سب ٹائٹل کے ساتھ انگریزی پروگرام دکھانے کی روایت کا آغازکیا۔ اس زمانے میں ڈائے نیسٹی Dynasty سیریز امریکن ٹیلی ویژن ABCکا ایسا سوپ تھا جو1981 سے1989 تک چلا۔ اور اس سیریز کا ایسا سحرتھا کہ دیکھنے والے شاید ہی بھلا پائے ہوں۔ جنون کی حد تک بچے اور بڑے اس کھیل کے دیوانےتھے۔ اور بحرین کا یہ چینل اس کو عربی سب ٹائٹل کے ساتھ دکھاتا تھا۔

کم و بیش اسی وقت بیروت کی ایک کمپنی بچوں کے اینمی کارٹونز کو عربی زبان میں ڈب کرنے میں شہرہ حاصل کرچکی تھی۔ ڈب شدہ جاپانی اینمی سیریز آج بھی عرب دنیا کے بچوں کے حافظے میں موجود ہوں گی۔ شام 4 بجے کا وقت کسی بھی بچے کو ٹی وی کے سامنے سے ہلنے نہیں دیتا تھا۔

یہ کراتین مدبلجہ کہلاتے تھے یعنی ڈب شدہ کارٹون۔

سالی، فلونہ، ھایدی، سنان، پولیانا، جورجی، کیپٹن ماجد، عدنان و لینا، ۔ ۔ ۔ یہ سب وہ نام ہیں جن کے لئے بچے دیوانے ہوا کرتے تھے۔ بازاروں میں کیپٹن ماجد اور دیگر کی تصویروں والی کاپیوں سے لے کر جوتے کپڑے، ہر چیز چھا چکی تھی۔





sinan mukamrat
Captain Majid

Captain Majid

“دبلجہ” یعنی ڈبنگ بنیادی طور پہ فرانسیسی لفظ ڈوبلیج Doublage سے ماخوذ ہے۔ ڈبنگ کا کام پہلے پہل فرانسیسی زبان میں شروع ہوا جب شمال مغربی افریقہ یا افریقۂ کوچک میں ہالی ووڈ فلموں کو فرانسیسی زبان میں ترجمہ کیا گیا۔ فرانسیسی پہلی زبان ہے جس نےعرب یا اسلامی دنیا میں راستہ بنایا۔ 1798میں فرانس کے نپولین بوناپارٹ نے مصر میں قدم رکھا تو اس کے ہمراہ چھاپہ خانہ بھی تھا جو عرب دنیا کا پہلا چھاپہ خانہ تھا۔ آج بھی لبنانی، شامی اور مصری لہجے میں فرانسیسی طرز کے اثرات واضح طور پر محسوس کئے جاسکتے ہیں۔

الیکٹرونک میڈیا تہذیب کا اہم ترین جزو ہے اوراسلامی دنیا کے عرب حصے میں اس تہذیبی عنصر کو بہت سی تبدیلیوں کا سامنا ہے۔ ڈبنگ کا کام عرب ممالک میں تقریبا دو تین دہائیوں سے جاری ہے ۔ MBCکے پانچ یا چھ چینلز ڈب شدہ یا سب ٹائٹل شدہ پروگرام دکھاتے ہیں۔

ہمارے ہاں جو غُل پایاجاتا ہے اُس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں کسی بھی طرح کے بیرونی تہذیبی عمل یا فارن کونٹینٹ سے معاملہ کرنا نہیں آتا۔ ہم میں سے بہت سے لوگ ایک سے زیادہ تہذیب اور تمدن کے تجربے سے گزرتے ہیں لیکن سلجھاوٴ کی نسبت بھیڑ چال کی طرف زیادہ راغب ہوتے ہیں۔ ایک عام معاشرتی منفی مزاج ہے کہ پھولوں بھرے باغیچے میں بھی خالی گملوں اور زرد پتوں پہ توجہ مرکوز رکھی جائے۔ یہ عدم تحفظ ہے یا شاید احساسِ کمتری لیکن بہرحال اس سے یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ جن باتوں سے فوائد حاصل کئے جانے چاہیں ہم اُن سے بھی نقصان ہی چُنتے ہیں۔

باہر جانے والے وہاں اپنی دیسی پسندیدگی کا خوب مزہ لیتے ہیں، روایتی پکوان، اندازِ تکلم اور تہذیب سے لگاوٴ کا اظہار بھی کرتے ہیں اور دیسی روئیے اپنا کرفخر محسوس کرتے ہیں بشمول اُن سب باتوں کے جو اچھی نہیں جیسے بےقاعدہ ڈرائیونگ، تاخیر کرنا اور تاخیر ہی کی اُمید رکھنا، اپنے کام میں بےجا دوسرے کو پابند کرنا، دیکھا دیکھی مقابلے کا رحجان، ۔ ۔ ۔ لیکن ان باتوں کو نہ ہم بدلنا چاہتے ہیں اور نہ ہی بدلنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

ہمارے ہاں امپورٹڈ اشیاٴ سے بھرپور مکان بننے لگے لیکن مل جُل کر محلّے کی صفائی کا رواج نہ ہوسکا۔ لباس کی بدیسی طرز اپنالی لیکن انتظارگاہوں میں کتابیں نہیں پڑھ سکے۔ شکریہ اور مسکراہٹ کا استعمال نہ آیا۔ سرِ مجمع پیٹ یا کمر کھجانے سے پرہیز نہیں ہوسکتا۔ مشاہیر کی یادگار نشانیوں کو محفوظ کرنا نہیں سیکھا۔ تاریخ کا سبق اور امانت اپنی نئی نسل کے سینے میں منتقل نہیں کرسکے۔ ۔ ۔ ۔ آخر یہ سب بھی تو کسی درجے کا فارن کونٹینٹ ہے، لیکن اپنی قابلِ اصلاح باتوں کو سنوارنے کی بجائے دوسروں کے ہاں سے بھی کاٹھ کباڑ ہی مستعار لا کر اپنے گھر میں بھرنا کیا اچھا ہے ؟ ایک سادہ سی بات ہے کہ بیماریوں کے خلاف اپنے بچوں اور خود کو حفاظتی ٹیکے لگوائے جاتے ہیں نہ کہ فضاوٴں میں موجود جرثوموں کو بُرا بھلا کہیں اور اُن سے یہ مطالبہ کریں کہ ہماری فضاوٴں سے دور چلے جائیں ۔

یہ پوسٹ اس بلاگ پر پہلے 6فروری 2013 کو شائع ہوئی ،اب بڑے فانٹ کے ساتھ تصحیح شدہ شکل

The Canterbury Tales – Ending Note – 47

چودہویں صدی کے جیفری چاوسر کی کینٹربری کہانیاں، ایک نایاب ادبی کام ہے جو قدیم انگریزی میں پائے جانے والے چند ادبی نوادرات میں سے ایک ہے۔ اِس کی انگریزی زبان ایسی ہے جو آج کا قاری ، از خود، تشریح کے بغیر نہیں پڑھ سکتا ۔لیکن اِن کہانیوں کو پڑھتے ہوئے چاوسر اپنے قارئین کو اپنے ہمراہ چودہویں صدی کی زندگی میں لے جاتا ہے اور پڑھنے والا اُس زمانے کے کرداروں کو اپنے اطراف حرکت کرتا، بولتا اور چلتا محسوس کرتا ہے۔


تاریخ کی کھڑکی میں سے جھانک کر گزرے وقتوں کو دیکھنا ہمیشہ سے بنی آدم کا پسندیدہ عمل رہا ہے۔ کبھی کبھی اِس عمل پہ سوال بھی اُٹھایا جاتا ہے کہ . . . ماضی کا مطالعہ آخر انسان کو کیا دے سکتا ہے؟ اِس سوال کا جواب مہیا کرنے کی کوشش میں یوں ہوا کہ تاریخ پڑھنے اور جاننے کی لگن کسی حد تک گھٹ گئی۔ اور دوسری طرف، یہ بھی ہوا کہ بڑی بڑی یونیورسٹیوں میں تاریخِ قدیم کے شعبہ جات کھلنے لگے۔ تاریخ دان پرانے آثار کو کھوج کھوج کر ماضی کے اوراق میں دفن راز معلوم کرنے کے جویا ہونے لگے اور دنیا کو عہدِ رفتہ کے رہن سہن سے آگاہ کرنے لگے۔

Most of the times, we come across a question, that is, what can we gain from stories of old times? This is a genuine question that marked a shift in the studies of historical subjects. But the question remained there. In the mean while we find people working on historical studies, and finding out how people in the earlier eras made their lives. There must be an appropriate and satiating answer. Let’s place some possibilities in the answers box, people may find solutions to their problems or may learn from the life of old times. It may help and may be a solid reason, because we came to know many times that despite all the evolution, occurred throughout the human history, a human remained the same, it loves, hates, eats, sleeps in the same way. A human feels anger, pride, revenge, joy, hatred, jealousy etc etc. These Canterbury Tales provide us with a proof for all this. So better to study the past in a sufficient proportion for a better life today.

اِس سب کے دوران وہ طبقہ اپنے سوال پر ڈٹا رہا . . . کہ صاحب، گرد آلود کتابوں اور نوادرات سے کیا حاصل ہوگا ؟ نئے دور کے تقاضوں میں ماضی کی تحقیقات کا کیا مقام ہے؟

یہ بحث ایسی آسان نہیں کہ اِسے چند لفظوں میں حتمی طور پر سمیٹا جاسکے۔ البتہ طرفین سے متعلق دلائل جانے جاسکتے ہیں۔

بہت سالوں پہلے بسنے والے انسانوں کی زندگی کا حال جاننا ایک دلچسپ بات ہے . . . کہ آج سے کئی سال پہلے ، جب انسان نے سائنس کے اعتبار سے ارتقا کی منازل طے نہیں کی تھیں ، اُس وقت کا انسان شعور اور جذبات کے اعتبار سے آج کے انسان سے کتنا مختلف تھا۔ صدیوں پرانے انسان کے محسوسات کیسے تھے، اُس کی محبت، نفرت، احساسِ عزت، تفاخر کی حرص، لالچ، دغابازی، دھوکہ دہی، یہ سب ہوبہو ایسے ہی تھے جیسے کہ آج . . . .

وہ انسان بھی دوسروں کو زیر کرکے خود کو برتر ثابت کرنے کا خواہاں تھا ۔ خود کو برتر ثابت کرنے اور برتری محسوس کرنے کے لئے انسان ہر جتن آزمانے کی سعی کرتا تھا۔ اور اُس وقت کے انسان کو بھی چار لوگوں کے اکٹھ میں یہ بات عزیز تھی کہ اُسے عزت اور ادب سے پکارا جائے جیسا کہ چاوسر کا میزبان دورانِ سفر اپنے ہم رکاب ساتھیوں سے مخاطب ہوتا ہے۔

تو گویا . .ایک بات جو صاف ظاہر ہے کہ صدیاں گزر جانے کے بعد بھی انسان کا اندرونی سافٹ وئیر وہی ہے جو پہلے تھا۔

چنانچہ نکتہ چیں اور دور رس سوچ کے مالک افراد ، تاریخ کے اوراق کی خاک چھاننے کے بعد آج کے انسان کے لئے اُس کے حالیہ مسائل کا حل ڈھونڈ لاتے ہیں۔ گزشتہ اقوام اور افراد کے حالات سے واقفیت حاصل کرنا سنتِ الٰہی بھی ہے کیونکہ کتابِ الٰہی میں اکثر مقامات پر سابقہ اقوام کے حالات سنا کر عبرت اور نصیحت دی گئی ہے۔

چودہویں صدی کے انگریزی ادب کا یہ شہ پارہ اختتام پذیر ہوا جس کے دوران بہت سے دیدہ ریز، چونکا دینے والے اور لطیف واقعات سامنے آئے۔ شاعر کی مہارت اور علمی لیاقت کی داد دینی تو بنتی ہی ہے، اِس پر پِتّہ پانی کرنے والی طوالت پر، جہاں نظم کے طالبعلموں کی جرات لائقِ تحسین ہے وہیں اِس بلاگ کے قارئین کی استقامت اور حوصلہ آفرین کے قابل ہے۔


Chaucer’s Retraction – 46

-چاوسر کا عتراف اور بیانِ تردیدی:

پارسن کی کہانی کے بعد چاسر کا معذرت خواہانہ انداز ظاہر کرتا ہے کہ وہ کسی پس و پیش میں مبتلا ہے۔ چاوسر کسی بھی ممکنہ توہین یا ہتکِ عزت پر معافی کا خواستگار ہے۔ اِس بات کے لئے وہ استدلال اور حجت پیش کررہا ہے کہ اگر کسی کی دِل آزاری ہوگئی ہو تو وہ درگزر کا ملتمس ہے۔

اِس ضمن میں چاوسر نے اپنے اس کام اور دیگر گزشتہ کاموں کا ذکر کیا ہے۔ ماہرینِ ادب اِس بات پر دو رائے رکھتے ہیں کہ چاوسر نے یا تو پارسن کی کہانی کو آگے بڑھاتے ہوئے یا پھر اُس میں اضافہ کرتے ہوئے استدلالی لہجہ اپنایا . . . .یا پھر اِس طریقے سے وہ اپنے دیگر ادبی پاروں کی تشہیر کررہا ہے ۔ گویا کہ مارکیٹنگ چودھویں صدی میں!

The Canterbury Pilgrims

اِس بات پہ بھی اختلافِ رائے پایا جاتا ہے کہ چاوسر کا یہ اعتراف کنٹربری کہانیوں کا حصہ ہے یا پھر اُس عہد کی روایت کے مطابق ، آخری لمحے کا اعتراف1 جسے ہر ادبی شہ پارے میں لازمی شامل کیا جاتا تھا۔

اُس زمانے میں طنزومزاح اور عامیانہ زبان کے استعمال کے بعد معذرت کرنے کا رواج عام تھا اور یہی چلن تھا چنانچہ چاوسر نے بھی تمام اصناف کے موضوعات سے چھیڑخانی کرنے کے بعد آخر میں معافی تلافی کی رسم قائم رکھی۔

چاوسر قارئین سے التماس کرتا ہے کہ اُس کی تصانیف میں جو بھلائی اور گُن دیکھیں تو یسوع مسیح کا کرم جانیں اور جو کوتاہی پائیں تو اُس کی اپنی عدم قدرت اور تنگیء دامن پہ معاف فرمائیں۔

وہ اپنی نظم میں موجود دنیاوی موضوعات ، غیر شائستہ الفاظ، لادینی باتوں اور تاریک خیال کہانیوں پر معذرت کا خواہشمند ہے اور تمنا کرتا ہے کہ اُسے اعلٰی اور بھلی باتوں کے لئے یاد رکھا جائے جن میں نیک سیرت لوگوں کا تذکرہ اور وعظ و پند و نصائح شامل ہیں۔ اور یوں . . . . چاوسر کی طویل اور ضخیم کینٹربری کہانیاں اپنے اختتام کو پہنچی ۔

Chaucer’s retraction is the final section of the Canterbury Tales. It is written as an apology; where Chaucer asks for forgiveness for the vulgar and unworthy parts of this and other past works, and seeks absolution for his sins. It is not clear whether these are sincere declarations of remorse on Chaucer’s part, a continuation of the theme of penitence from the Parson’s tale or simply a way to advertise the rest of his works.
Retractions, often called palinodes, were common in the works of this era, and the bawdy nature of some of the Chaucer’s work needed forgiveness.


The Parson’s Tale – 45

پارسن کی کہانی اور پیش لفظ کے ساتھ ہی چاوسر کی کینٹربری کہانیاں اختتام پذیر ہوتی ہیں۔

پارسن سے مراد اُس حلقے کا پادری ہے جس کے ساتھ کوئی وقف جائیداد یا جاگیر ملحقہ ہو۔ اِسی پادری کے مکان کو پارسنیج Parsonage کہا جاتا ہے ۔

– پارسن کی کہانی :

By that the maunciple hadde his tale al ended, the sonne fro the south lyne was descended so lowe, that he nas nat, to my sighte, degrees nyne and twenty as in highte..


By the time the manciple had finished his tale, the sun had abandoned the southern half of the sky and was no more than twenty-nine degrees above the horizon, I would guess; it was probably about four o’clock in the afternoon, because my shadow was around eleven feet long – feet, that is, that would divide my height into six equal lengths

کہانیوں کے اختتام کے تذکرے پر یقیناََ ذہن میں کئی سوال اُٹھتے ہیں کہ . . . مسافروں میں سے کئی کردار ایسے ہیں جن کا تعارف تو کروایا گیا مگر انھوں نے کوئی کہانی نہیں سنائی۔ اسی طرح میزبان اور مسافروں کے مابین چار چار کہانیاں طے ہوئیں تھیں اور وہ بات بھی پوری نہیں ہوئی۔ بلکہ اِس مقام پہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ پارسن کی کہانی اس خیال سے وضع کی گئی ہے کہ وہ اِس تمام کام کا آخری حصہ ثابت ہو۔ پارسن کی کہانی میں ایسے بہت سے اشارے ملتے ہیں جو کہ اپنے اندر اختتامیہ پہلو لئے ہوئے ہیں۔ خود پارسن کی کہانی میں دیگر زائرین کی مہمل اور بےمقصد کہانیوں پر دیدہ ریزی سے تنقید اور طنز موجود ہے۔


دن ڈھلے، چار بجے سہ پہر یہ قافلہ ایک گاؤں جا پہنچا جہاں میزبان نے پارسن کو دعوتِ کلام دی۔ میزبان نے پارسن سے کہانی پیش کرنے کی درخواست کی لیکن . . . پارسن نے فرضی روایتی کہانی سنانے سے انکار کردیا۔ اور اِس انکار کی وضاحت یوں کردی کہ . . . سینٹ پال نے ، دنیاوی، مہمل اور لا حاصل کہانیاں سنا کر لطف اُٹھانے اور اُن میں وقت ضائع کرنے کی ممانعت فرمائی ہے۔

چنانچہ کہانی کی جگہ، پارسن نے ایک بہت، بہت ہی طویل ناصحانہ خطاب یا وعظ پیش کیا۔ کینٹربری کہانیوں میں سب سے طویل ، یہی خطاب ہے جو کہ ابدی حیات کی کامیابی کے متعلق ہے اور بہت سے پند و نصائح پر مشتمل ہے۔

The Parson’s tale is not a narrative at all, however, rather an extended sermon on the nature of sin and the three parts necessary for forgiveness, 1) Contrition of the heart, 2)Confession of the mouth, 3)Satisfaction in the heart.

Contrition is the pain and anguish a man feels in his heart for his sins, with a serious intent to confess them, do penance for them and never to do them again.
A man should repent every pleasure that he has ever had thinking about something that is against God’s law, for such thoughts constitute a deadly sin. Certainly, there is no deadly sin that was not first conceived in a man’s thoughts, which were delighted in, consented to and finally carried out.
Here is an example. A great wave may approach a ship with such violence that it overwhelms it and fills it with water. But the same swamping can be caused by little drops of seawater that leak in through a crack in the boat’s hull and settle in the bilges, if sailors are negligent and do not see what is happening and fail to pump the water out. Although there is a difference between these two causes of swamping, the net result is the same.

اِس خطاب کا موضوع توبہ، ندامت اور شرمساری ہے۔ وہ ندامت، جو گناہ کے بعد انسان کو گھیر لیتی ہے۔ گناہ کی نوعیت کی وضاحت کی گئی ہے جن میں چھوٹے اور بڑے گناہوں پہ بات کی گئی ہے۔ اور اس کے ساتھ ہی اُن تین اجزاء پر بحث ہے جو معافی یا بخشش کے لئے ضروری ہیں۔

یہ اجزاء یوں ہیں:
1-پشیمانی، تاسف، ندامت
2-اعتراف، ایجاب اور اقبالِ خطا
3-سکون اور اطمئنانِ قلب

پارسن گناہ اور معصیت کے ضمن میں سات گناہوں کا ذکر کرتا ہے جو کہ سات مہلک گناہوں کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ اور انگریزی ادب میں کئی جگہ اِن کا ذکر ملتا ہے۔ کرسٹوفر مارلو کے ڈاکٹر فاسٹس میں انہی سات مہلک گناہوں کا تذکرہ ہے۔یہ گناہ غرور، حسد، کینہ، غصہ، کاہلی، کام چوری، لالچ، طمع، پیٹو ہونا، بسیار خوری، ہوس اور شہوت. . .ہیں۔
سات گناہوں کے ساتھ ہی تلافی، کفّارہ اور نجات کے لئے ضروری تفصیلات بتائی گئی ہیں۔

The tale gives examples of the seven deadly sins and explains them, and also details what is necessary for redemption. These deadly sins are as follows:
1. Pride
2. Envy
3. Wrath/ Anger
4. Sloth/Laziness
5. Avarice/ Covetousness
6. Gluttony
7. Lust/Lechery

Although it is impossible to estimate the number of evil branches and twigs that grow directly from the stem of Pride, yet I will demonstrate some of them. They are: disobedience, boasting, hypocrisy, conceit, arrogance, impudence, contempt, insolence, pomposity, impatience, rebelliousness, resistance to authority, presumption, lack of respect, stubbornness, vanity and a host of other things that I could mention.

اِس خطاب کا موضوع خاصی وضاحت کا متقاضی ہے چنانچہ پارسن ایک بہت ہی طویل اور کئی حصوں پر مشتمل ناصحانہ خطاب پیش کرتا ہے۔ سات مہلک گناہوں کے بیان کے ساتھ ساتھ پارسن نے اِن گناہوں سے بچنے کے طریقوں کا ذکر کیا اور اِن گناہوں کا مداوا اور علاج کا طریقہ بھی بتایا ۔

اِن طریقوں میں احتراز اور پرہیز گاری شامل ہیں۔ دیگر طریقے حسبِ ذیل ہیں: نفس کو اپنے قابو میں کرنا، بےصبری اور بھوک کی شدت سے بچاؤ، بسیارخوری کو ترک کردینا اور نفس کشی کی مشق کرنا، امنے آپ کو کٹھنائی سے گزارنا، جسم کی آسودگی کے تابع نہ ہونا، لذت اور ہوس سے منہ موڑنا، بیت العفو کا رُخ کرنا جہاں عفوِ گناہ کی رسم ادا کی جاتی ہے، مذہبی اجتماعات کا التزام کرنا تاکہ نصیحت کا عمل تواتر سے جاری رہے اور یاد دہانی ہوتی رہے۔

پارسن کی کہانی میں کئی اعتبار سے اختتامی رنگ نظر آتا ہے ۔ معلام یہی ہوتا ہے کہ جیفری چاوسر نے پارسن کی کہانی کے ذریعے کنٹربری کہانیوں کو ختم کرنے کا ارادہ باندھا ہے اور رنگ برنگی، کھٹی میٹھی کہانیوں کے بعد ، اُس عہد کی روایات کے مطابق ادبی پارے کا اختتام دعائے خیر اور پند و نصیحت پر ہونے جارہا ہے۔