4th Part/ A Glimpse of Character Sketch by Qura’an

حصہ چوتھا، قُرآنِ پاک میں بیان کردہ شخصی اوصاف میں سے چند ایک ، اختصار کے ساتھ

4th part /A little effort to put down some good qualities of a character, described by the Holy Qura’an

-پارہ4:

-1- مسلمانوں میں باہم اتحاد ہونا

-اللہ پر ایمان لانے کے بعد آپس میں اتحاد قائم کرنا کیونکہ انسانوں کا تعلق، اللہ کے احکامات کے مطابق ہی، درست سمت میں پروان چڑھ سکتا ہے۔ تقویٰ کے ساتھ اتحاد کا حکم اِس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ سے ڈرنے والے ہی اتحاد کے باہمی تقاضے پورے کرسکتے ہیں۔

-سورۃ آلِ عمران / آیت 102-103/ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ- وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا ۚ اے ایمان والو الله سے ڈرتے رہو جیسا اس سے ڈرنا چاہیئے اور نہ مرد مگر ایسے حال میں کہ تم مسلمان ہو٭ اور سب مل کر الله کی رسی مضبوط پکڑو اور پھوٹ نہ ڈالو

-2- بھلے کاموں کی دعوت دینا اور برائیوں سے روکنا

-ایمان والوں کو مخاطب کرکے بتلادیا گیا کہ فلاح اور کامیابی کے لئے لازم ہے کہ اِن میں سے کچھ لوگ ایک اہم ذمہ داری نبھاتے رہیں اور یہ ذمہ داری نیکیوں کی دعوت دینے ، بھلائیوں کو عام کرنے اور بُرے کاموں سے روکنے کی ہے۔

-سورۃ آلِ عمران/ 104/ وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ ۚ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ/اور چاہیئے کہ تم میں سے ایک جماعت ایسی ہو جو نیک کام کی طرف بلاتی رہے اوراچھے کاموں کا حکم کرتی رہے اور برے کاموں سے روکتی رہے اور وہی لوگ نجات پانے والے ہیں۔

-3- یتیموں کے مال کی حفاظت کرنا

قرآن حکم دیتا ہے کہ یتیموں کا مال انھیں ایمانداری سے دے دیا جائے اور اُن کے مال میں سے اچھی چیز کے بدلے بُری چیز نہ ڈال دی جائے ، اور نہ ہی ان کے مال کو اپنے مال میں شامل کرنے کی گناہ گارحرکت کی جائے۔

-سورۃ النساء / آیت 2/ وَآتُوا الْيَتَامَىٰ أَمْوَالَهُمْ ۖ وَلَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِيثَ بِالطَّيِّبِ ۖ وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَهُمْ إِلَىٰ أَمْوَالِكُمْ ۚ إِنَّهُ كَانَ حُوبًا كَبِيرًا/ اوریتیموں کوان کے مال دے دو اور ناپاک کو پاک سے نہ بدلو اور ان کے مال اپنے مال کے ساتھ ملا کر نہ کھا جاؤ یہ بڑا گناہ ہے۔

-4-باہم عزتوں کا احترام کریں اور معاشرے کی بنیادی اکائی یعنی نکاح کی حُرمت اور تقدس کا خیال رکھا جائے، اللہ کی مقرر کردہ حدود کی پاسداری کی جائے

-سورۃ النساء/ آیت13/ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ ۚ وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ وَذَ‌ٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ/ یہ الله کی باندھی ہوئی حدیں ہیں اور جو شخص الله اور اس کے رسول کے حکم پر چلے اسے بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ان میں ہمیشہ رہیں گے اور یہی ہے بڑی کامیابی

-5-“جو ہو چکا سو ہو چکا ” کا اصول اپنائیں

-ایک بات سمجھادی گئی کہ اللہ اُن باتوں سے درگزر فرماتا ہے جو مخصوص حکم آنے سے پہلے سرزد ہوچکی ہیں ۔ اُن باتوں پر گرفت نہ ہوگی چنانچہ ایک مسلمان کو بھی پرانی اور گزری باتوں سے درگزر کرنا چاہیئے۔ اپنے دل میں بہت پرانے گِلے شکوے اور شکایتیں جمع نہیں رکھنی چاہیئں۔ یہ زیادہ آسانی دینے والی بات ہے۔

-سورۃ النساء/ آیت23/ ( – – – ) إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا/مگر جو پہلے ہو چکا بے شک الله بخشنے والا مہربان ہے

Chapter 4:
1. The believers of Allah must be united.
Belief on Allah is the main unifying force for the believers.
Quran says: Aal e Imran/ 102,103/ O you who believe! be careful of (your duty to) Allah with the care which is due to Him, and do not die unless you are Muslims. And hold fast, all of you together, to the Rope of Allah (i.e. this Qur’an), and be not divided among yourselves
2. A Muslim must be promoting good deed, and must be stopping, denying and discouraging the evil and bad deeds.
Quran says: Aal e Imran/ 104/And from among you there should be a party who invite to good and enjoin what is right and forbid the wrong, and these it is that shall be successful.
3. Taking very good care of orphans.
If an orphan is under some one’s custody, there by the custodian have to be fair in handing over the inherited money of that orphan.
Quran says: Al nisa/ 2/ And give unto orphans their property and do not exchange (your) bad things for (their) good ones; and devour not their substance (by adding it) to your substance. Surely, this is a great sin.
4. Mutual respect and honour for relations and social ties, is guided through many laws and codes.
Quran says: Al Nisa/ 13/ Those are limits set by Allah: those who obey Allah and His Messenger will be admitted to Gardens with rivers flowing beneath, to abide therein (for ever) and that will be the supreme achievement
5. Adopting the habit of “letting it go”
Quran tells us: Al nisa/23/ except what hath already happened (of that nature) in the past. Lo! Allah is ever Forgiving, Merciful.

بچپن کے روزے

بچپن کے روزے

بہت عزیز نورین تبسم کے چاہت بھرے حکم پہ ہمت باندھی کہ ذہن کے تہہ خانے میں جاکر ، بچپن کی یادداشتوں والا صندوق کھولوں اور پہلے روزے کے حوالے سے یادیں باہر نکال لاؤں۔ بچپن ، اور بچپن کی یادوں والا صندوق انسان کے شعوری اثاثوں میں سب سے خوشنما اور مضبوط بکسا ہوتا ہے۔ جس قدر یہ بکس مضبوط ہوتا ہے، اُسی مضبوطی سے ہم اِسے بند رکھتے ہیں، ورنہ شاید کبھی کوئی زندگی میں، بچپن سے آگے نہ بڑھ سکے۔ اردو بلاگرز کی انوکھی روزہ رکھوائی و کُشائی پارٹی، بچپن کی حسین اور میٹھی یادوں سے جگمگارہی ہے۔

خیر تمام یادیں کنگھالنے کے بعد پتہ چلا کہ . . . . . پہلے روزے کے نام کی کوئی بھی بات یاد نہیں۔ اِس کے ساتھ ہی یہ سب سوچیں بھی ذہن میں آئیں کہ اب یہ ایسا معاملہ ہے کہ . . . . . . . . جسے گوگل بھی نہیں کیا جاسکتا، نہ وکی پیڈیا پہ اِس بات کا سراغ ملے گا ، نہ ہی اُس وقت انسٹاگرام تھا کہ اماں ابا نے پہلی بیٹی کی پہلی افطاری کی تصویر بنائی ہوتی، یا بہت محتاط بھی ہوتے (جو کہ وہ تھے اور ہیں) تو محض افطاری والے دسترخوان کا عین اوپر والا ، عمودی شاٹ ہوتا یا شاید ساتھ میں میرا بچکانہ سا ہاتھ دھرا ہوتا ۔

اِن ناممکنات کے بعد صرف ممکنہ صورتوں پہ توجہ مرکوز کی تو چند متفرق ،بکھری اور قیمتی تصویریں ہاتھ لگیں جو یقیناََ پہلے روزے کی تو نہیں لیکن . . . . دُور پار کے اُس سنہرے بچپن کی ہیں جب ریاست ہی اپنی ہوا کرتی تھی اور سکّہ بھی اپنا ہی چلتا تھا۔

ایک جھلکی کہ سکول میں چھُٹی کا وقت ہے اور میں کینٹین سے فروٹ ٹیلا (وہی جو، اب بھی ملتی ہے) خرید رہی ہوں، جو کہ اُس دن روزے میں بہت یاد آئی تھی اور خود کو حوصلہ اور روزے کا انعام دینے کی خاطر ہنگامی فیصلہ کیا کہ اِسے افطاری کے لئے خرید کر ہی گھر جانا ہے۔

ایک اور یاد . . . . رمضان میں امّی کی کوشش ہوتی تھی کہ ہر روز مسجد میں افطاری ضرور بھیجی جائے۔ کبھی میری ڈیوٹی لگتی اور وقت کم رہ جاتا تو ہوا کی طرح بھاگتے ہوئے جانا اور آنا ہوتا اور اِس دوران راستے میں آنے والی رکاوٹوں (لوگوں کے گھروں کے گیٹ کی سیڑھی، فٹ پاتھ وغیرہ) کو پھلانگ پھلانگ کے عبور کرنا اور آناََ فاناََ دسترخوان پہ پہنچنا ۔ ایسا کرتے ہوئے ذہن میں خیال آتا کہ کبھی کارٹون والے سپر مین کی طرح اُ ڑنے کی پاورز ہوتی تو کیا ہی بات ہوتی۔ خیر اب بھی کچھ کسر نہیں تھی۔

سعودی عرب میں کام کرنے والوں کے اوقاتِ کار رمضان میں آٹھ سے چھ گھنٹے کردئیے جاتے ہیں تو . . . . ابّو کا گھر پہ زیادہ وقت گزرتا اور ہم بچوں کے لئے ایک تہوار کا سماں ہوتا ۔ ابو عصر کی نماز پڑھ کر آتے ، پھر بڑے سے کچن میں بچھے کارپٹ پہ ہی دسترخوان بچھا کر افطاری کی تیاری کا کام شروع ہوجاتا۔ ابو بہت شوق سے فروٹ چاٹ بنانے میں شامل ہوتے، کبھی پھل چھیل کر دیتے ، کبھی خود کٹنگ بورڈ سنبھالتے، بار بار امی سے کہتے: دیکھنا جی، میرا خیال سیب کافی رہیں گے، یا تُسی ایس ڈونگے وچ چینی تے ہور مصالحہ پا دیو ( آپ اس ڈونگے میں چینی اور باقی مصالحہ ڈال دیں) ، امی وہیں سامنے چولہے پر کڑاہی سے پکوڑے نکالتیں، ذرا دیر کو اِدھر آتیں، کچھ بتا جاتیں، یا نمک، کالی مرچ اور کلونجی پیس کے ڈال جاتیں۔ ایک بہن شربت پہ مامور ہوتی ، تو دوسری چٹنی بنارہی ہوتی۔

اِسی دوران سب باتیں جاری ہوتیں، مشورے، نصیحتیں، حکایتیں، رمضان کے فضائل، قصص الانبیاء، کالم، تفسیر، ہسپتال میں آج کیا ہوا، دوسرے ڈاکٹرز کی باتیں، کسی مریض کا ماجرا اور بچوں کو ڈانٹ شانٹ ، سب ۔ ایسی ہی اکثر نشستوں میں ابو اپنی پسندیدہ دعا کا مفہوم سمجھایا کرتے :

رَبَّنا اٰ تِنا فِی الدُّنیا حَسَنَۃََ وَ فی الآخِرۃِ حَسَنَۃََ و قِنا عذابَ النَّار

کہ دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی اور ابدی نجات ، سب ایک ہی دعا میں شامل ہوگئے۔

پھر وہیں افطار کی تیاری کا منظر بدل کر افطاری چُن دی جاتی، اِفطار کے بعد ابو اور بھائی مسجد چلے جاتے اور ہم گھر پہ نماز پڑھ لیتے۔ مردوں کے مسجد جانےکے بعد اگر کوئی بچہ کچھ کھانے لگتا تو امی کو اچھا نہ لگتا کہ آپ کے ابو بھی تو نماز پڑھنے گئے ہیں۔ نماز کے بعد افطاری کا دوسرا حصہ عمل میں آتا ، جس بہن کی برتن دھونے کی باری ہوتی ، وہ سِنک پہ پہنچ جاتی یا پہنچا دی جاتی۔

کچھ دیر آرام کے بعد عشاء کی تیاری شروع ہوجاتی، ابو ہسپتال کے لئے کپڑے بدل لیتے،ہم سب اکٹھے مسجد جاتے، ابو عشاء اور تراویح کے بعد وہیں سے ہسپتال چلے جاتے اور باقی گھر کو لوٹتے۔ صبح نو سے بارہ اور رات کو بھی نو سے بارہ ابو کی ڈیوٹی کا ٹائم ہوا کرتا تھا۔ تراویح کے لئے ہر مسجد میں خواتین کے لئے اہتمام کیا جاتا، ہم کبھی کبھار خصوصی طور پر شیخ احمد العجمی کی مسجد میں جاتے اور رُوح پرور تلاوت کے ساتھ تراویح ادا کرتے۔

مسجد میں چھوٹے بچوں والی خواتین کی وجہ سے خُوب رونق رہتی، بچوں کو جماعت کے دوران پچھلی خالی صفوں میں کھُلی آزادی حاصل ہوتی، جماعت کے دوران پیچھے اولمپک کی جھلکیاں چلتیں اور تشہد کے شروع ہوتے ہی سب بچے مؤدب بن کے بیٹھ جاتے۔ سعودی خواتین اور خاص طور پر گھرہستن اور بڑی عمر کی اکثر پانی کے کُولر اُٹھائے یا اُٹھوائے چلی آرہی ہوتیں۔ساتھ میں کاغذی (ڈسپوزیبل) گلاس اور کوُلر میں فلیورڈ پانی، عرقِ گلاب، زھری اور کھجور کی چھال کے عرق والا بھی پیا جو پینے میں اچھا سا لگتا ۔ وہ اُس کو ہاضمے کے لئے مفید بتایا کرتیں۔

وقت بِیت گیا ، یہی زمانے کی روایت ہے،سب بہنیں اور بھائی دنیا اور آخرت کی بھلائیوں سے مالا مال ہوں، اللہ تعالیٰ امی کو اپنی حفاظت میں رکھے اور صحت تندرستی کے ساتھ اولاد کی خوشیاں نصیب ہوں، اللہ تعالیٰ ابو کے درجات بلند کرے،اُنھیں اپنی خصوصی رحمت سے نوازےاور ہمیں ا ُن کے لئے صدقہءجاریہ بننے کی توفیق ، ہمت اور آسانی عطا فرمائے۔

3rd part of Character Sketch by Quran

حصہ تیسرا ، قُرآنِ پاک میں بیان کردہ شخصی اوصاف میں سے چند ایک ، اختصار کے ساتھ:

Part 3 : A little effort to put down some good qualities of a character, described by the Holy Qura’an. What qualities Quran guides us to:

-پارہ 3:

-1- مالی امداد کرکے ایذارسانی نہ کرنا

-اللہ کی رضا کے لئے مال خرچ کرنے کے بعد احسان نہ جتانا اور جسے صدقہ دیا گیا ہے اُسے نفسیاتی یا ذہنی اذیت نہ دینا

– سورۃ البقرہ/ آیت262/ الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ لَا يُتْبِعُونَ مَا أَنفَقُوا مَنًّا وَلَا أَذًى ۙ لَّهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ/ جو لوگ اپنے مال الله کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر خرچ کرنے کے بعد نہ احسان رکھتے ہیں اور نہ ستاتے ہیں انہیں کے لیے اپنے رب کے ہاں ثواب ہے اوران پر نہ کوئی ڈر ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے

-2- نرم بات کہنا اور معاف کردینا

– انسان کی نرم گوئی اور درگزر کرنا ، اِس صدقہ سے بہتر ہے جس کے بعد ایذا رسانی ہو یا تکلیف پہنچائی جائے۔ تکلیف پہنچانے سے مراد صدقہ کرنے کے بعد احسان جتانا ، تکبر کرنا اور جسے صدقہ دیا گیا ہو اُس کی تحقیر و تذلیل کرنا

-سورۃ البقرہ/آیت 263/ قَوْلٌ مَّعْرُوفٌ وَمَغْفِرَةٌ خَيْرٌ مِّن صَدَقَةٍ يَتْبَعُهَا أَذًى ۗ وَاللَّهُ غَنِيٌّ حَلِيمٌ/ مناسب بات کہہ دینا اور درگزر کرنا اس خیرات سے بہتر ہے جس کے بعد ستانا ہو اور الله بے پروا نہایت تحمل والا ہے

-3-لین دین کے معاملات کو تحریر کرنا

-ایمان والوں کو چاہیئے کہ جب بھی آپس میں لین دین کریں تو مالی معاہدہ تحریر کرکے گواہ کا اہتمام کریں۔محض زبانی کلامی سودے پہ اکتفا نہ کریں۔ زبانی معاملے میں بھول چُوک بھی ہوسکتی ہے۔ بد گمانی پیدا ہوتی ہے اور بے ایمانی کرنے والے کو موقعہ ملتا ہے

-سورۃ البقرہ/آیت 282/ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَدَايَنتُم بِدَيْنٍ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوهُ ۚ وَلْيَكْتُب بَّيْنَكُمْ كَاتِبٌ بِالْعَدْلِ ۚ وَلَا يَأْبَ كَاتِبٌ أَن يَكْتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ اللَّهُ ۚ فَلْيَكْتُبْ وَلْيُمْلِلِ الَّذِي عَلَيْهِ الْحَقُّ وَلْيَتَّقِ اللَّهَ رَبَّهُ وَلَا يَبْخَسْ مِنْهُ شَيْئًا ۚ فَإِن كَانَ الَّذِي عَلَيْهِ الْحَقُّ سَفِيهًا أَوْ ضَعِيفًا أَوْ لَا يَسْتَطِيعُ أَن يُمِلَّ هُوَ فَلْيُمْلِلْ وَلِيُّهُ بِالْعَدْلِ ۚ وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِن رِّجَالِكُمْ ۖ فَإِن لَّمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ مِمَّن تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ أَن تَضِلَّ إِحْدَاهُمَا فَتُذَكِّرَ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَىٰ ۚ وَلَا يَأْبَ الشُّهَدَاءُ إِذَا مَا دُعُوا ۚ وَلَا تَسْأَمُوا أَن تَكْتُبُوهُ صَغِيرًا أَوْ كَبِيرًا إِلَىٰ أَجَلِهِ ۚذَ‌ٰلِكُمْ أَقْسَطُ عِندَ اللَّهِ وَأَقْوَمُ لِلشَّهَادَةِ وَأَدْنَىٰ أَلَّا تَرْتَابُوا ۖ إِلَّا أَن تَكُونَ تِجَارَةً حَاضِرَةً تُدِيرُونَهَا بَيْنَكُمْ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَلَّا تَكْتُبُوهَا ۗ وَأَشْهِدُوا إِذَا تَبَايَعْتُمْ ۚ وَلَا يُضَارَّ كَاتِبٌ وَلَا شَهِيدٌ ۚ وَإِن تَفْعَلُوا فَإِنَّهُ فُسُوقٌ بِكُمْ ۗ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖوَيُعَلِّمُكُمُ اللَّهُ ۗ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ / اے ایمان والو! جب تم کسی وقت مقرر تک آپس میں ادھار کا معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو اور چاہیئے کہ تمہارے درمیان لکھنے والے انصاف سے لکھے اور لکھنے والا لکھنے سے انکار نہ کرے جیسا کہ اس کو الله نے سکھایا ہے سو اسے چاہیئے کہ لکھ دے اور وہ شخص بتلاتا جائے کہ جس پر قرض ہے اور الله سے ڈرے جو اس کا رب ہے اور اس میں کچھ کم کر کے نہ لکھائے پھر اگر وہ شخص کہ جس پر قرض ہے بے وقوف ہے یا کمزور ہے یا وہ بتلا نہیں سکتا تو اس کا کارکن ٹھیک طور پر لکھوا دے اور اپنے مردوں میں سے دو گواہ کر لیا کرو پھر اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دوعورتیں ان لوگوں میں سے جنہیں تم گواہو ں میں سے پسند کرتے ہوتاکہ اگر ایک ان میں سے بھول جائے تو دوسری اسے یاد دلا دے اور جب گواہوں کو بلایا جائے تو انکار نہ کریں اور معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا اس کی معیاد تک لکھنے میں سستی نہ کرو یہ لکھ لینا الله کے نزدیک انصاف کو زیادہ قائم رکھنے والا ہے اور شہادت کا زیادہ درست رکھنے والا ہے اور زیادہ قریب ہے اس بات کے کہ تم کسی شبہ میں نہ پڑو مگر یہ کہ سوداگری ہاتھوں ہاتھ ہو جسے آپس میں لیتے دیتے ہو پھر تم پر کوئی گناہ نہیں کہ اسے نہ لکھو اور جب آپس میں سودا کرو تو گواہ بنا لو اور لکھنے والے اور گواہ بنانے والے کو تکلیف نہ دی جائے اور اگر تم نے تکلیف دی تو تمہیں گناہ ہوگا اور الله سے ڈرو اور الله تمہیں سکھاتا ہے اور الله ہر چیز کا جاننے والا ہے

-4- نیک اور پاک اولاد کے لئے دعا کرنا

حضرت زکریا ؑ نے بڑی عاجزی کے ساتھ اللہ سے طیب ذریت کی دعا کی۔ اُن کی دعا سے یہ بات پتہ چلتی ہے کہ ایک تو اولاد کے لئے اللہ ہی سے دعا کی جائے اور اولاد کے حق میں نیکی اور صلاح کا سوال کیا جائے۔ یہی اللہ کے نبیوں کا شیوہ رہا ہے۔

-سورۃ آل عمران/ آیت 38/ هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهُ ۖ قَالَ رَبِّ هَبْ لِي مِن لَّدُنكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً ۖ إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ/ زکریا نے وہیں اپنے رب سے دعا کی کہا اے میرے رب! مجھے اپنے پاس سے پاکیزہ اولاد عطا فرما بے شک تو دعا کا سننے والا ہے۔

-1- Spending wealth on the needy without hurting or teasing. Quran stops a Muslim to follow a favor with discriminating, mentioning or insult. Quran says: Albaqara/262/ Those who spend their wealth in the Cause of Allah, and do not follow up their gifts with reminders of their generosity or with injury, their reward is with their Lord. On them shall be no fear, nor shall they grieve.

-2- A Muslim must be soft spoken and forgiving. A softly spoken word is better than an insulting favor. Quran says: Albaqara/ 263/ Kind words and forgiving of faults are better than Sadaqah (charity) followed by injury. And Allah is Rich (Free of all needs) and He is Most-Forbearing.

-3- Any financial deals with delayed time limits must documented in a written form with the presence of two male witnesses, in case two males are not available then two females and one male will do the same. It will not be sinful if urgent deals are not written, that are carried out, on the spot. Quran says: Albaqara/282/ O you who believe! When you contract a debt for a fixed period, write it down. Let a scribe write it down in justice between you. Let not the scribe refuse to write as Allah has taught him, so let him write. Let him (the debtor) who incurs the liability dictate, and he must fear Allah, his Lord, and diminish not anything of what he owes. But if the debtor is of poor understanding, or weak, or is unable to dictate for himself, then let his guardian dictate in justice. And get two witnesses out of your own men. And if there are not two men (available), then a man and two women, such as you agree for witnesses, so that if one of them (two women) errs, the other can remind her. And the witnesses should not refuse when they are called (for evidence). You should not become weary to write it (your contract), whether it be small or big, for its fixed term, that is more just with Allah; more solid as evidence, and more convenient to prevent doubts among yourselves, save when it is a present trade which you carry out on the spot among yourselves, then there is no sin on you if you do not write it down. But take witnesses whenever you make a commercial contract. Let neither scribe nor witness suffer any harm, but if you do (such harm), it would be wickedness in you. So be afraid of Allah; and Allah teaches you. And Allah is the All-Knower of each and everything.

-4- A Muslim must ask only Allah for righteous kids, the question must include righteousness and nobility for the kid. Quran tells us that the messenger of Allah, Zikriya, peace be upon him, asked Allah for the offspring. Quran says: Aal e Imran/38/ There did Zakariya pray to his Lord; he said: My Lord! grant me from Thee good offspring; surely Thou art the Hearer of prayer.

Part 2: A Glimpse of Character Sketch

قُرآنِ پاک میں بیان کردہ شخصی اوصاف میں سے چند ایک ، اختصار کے ساتھ/ حصہ دوم

A little effort to put down some good qualities of a character, described by the Holy Qura’an/part2

-پارہ 2:

-1- اچھے کاموں کا حکم دینا اور بُرائیوں سے منع کرنا
کیونکہ یہی دو کام کرنے سے ، “عادل اُمت” کا مقام حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اچھے کام کی ترغیب اور بُرائی سے روکنا کسی شخصیت کے اٗن اوصاف میں سے جو قُرآن نے بتائے ہیں ۔ اچھے کاموں کو عام کرنے اور برائیوں کی روک تھام کی ذمہ داری پر، اِس اُمّت کو تمام لوگوں پر گواہ ہونا ہے جب کہ رسول ﷺ خود گواہ ہیں کہ انھوں نے اِس اُمّت تک پیغام پہنچادیا ۔

-سورۃ البقرہ/آیت 143/وَكَذَ‌ٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِّتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا/اور اسی طرح ہم نے تمہیں عادل امت بنایا تاکہ تم اور لوگوں پر گواہ ہو اور رسول تم پر گواہ ہو

-2- بھلائیوں اور اچھے کاموں میں مسابقت
آپس میں نیک کاموں میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی لگن رکھنا ، بجائے اِس کے ، کہ دُنیاوی معاملوں اور ظاہری باتوں میں ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی کوشش ہو

-سورۃ البقرہ/ آیت 148/فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ ۚ أَيْنَ مَا تَكُونُوا يَأْتِ بِكُمُ اللَّهُ جَمِيعًا ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ/ پس تم نیکیوں کی طرف دوڑو تم جہاں کہیں بھی ہو گے تم سب کو الله سمیٹ کر لے آئے گا بے شک الله ہر چیز پر قادر ہے

-3- صبر اور نماز سے مدد حاصل کرنا
ایمان کے بعد ہر مشکل وقت میں سہارا لیا جائے ، صبر اور نماز سے، صبر سے مراد ثابت قدمی، بلند ہمتی اور مستقل مزاجی پہ قائم رہنا اور دل تھوڑا نہ کرنا، قرآن کا بیان کردہ یہ شخصی وصف اس سلسلے کے پہلے حصے میں بھی آیا ہے

-سورۃ البقرہ/ آیت 153/يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ ۚ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ/اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد لیا کرو بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے

-4- کھانے کے لئے حلال اور طیب چیزیں پسند کرنا

-سورۃ البقرہ/ آیت 168/يَا أَيُّهَا النَّاسُ كُلُوا مِمَّا فِي الْأَرْضِ حَلَالًا طَيِّبًا وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ ۚ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ/اے لوگو ان چیزوں میں سے کھاؤ جو زمین میں حلال پاکیزہ ہیں اور شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو بے شک وہ تمہارا صریح دشمن ہے

-5- ایک دوسرے کا مال ناحق غصب نہ کرنا

-سورۃ البقرہ/آیت 188/وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ/اور ایک دوسرے کے مال آپس میں ناجائز طور پر نہ کھاؤ

-1- Being helpful and promoting good deeds, stopping and discouraging bad deeds. Quran says: Albaqara/143/Thus, have We made of you an Ummat justly balanced, that ye might be witnesses over the nations, and the Messenger a witness over yourselves

-2- Having a mind-set to compete each other about noble deeds instead of materialistic and fake causes. Quran says: Albaqara/148/ then strive together (as in a race) Towards all that is good. Wheresoever ye are, Allah will bring you Together. For Allah Hath power over all things

-3- Relying on patience and prayers in tough times, and not to be panic and upset. Quran says: Albaqara/153/O you who believe! Seek help in patience and As-Salat (the prayer). Truly! Allah is with As-Sabirun (the patient).

-4- Choosing halal and fine things for food.Quran says: Albaqara/168/O mankind! Eat of that which is lawful and wholesome in the earth, and follow not the footsteps of the devil. Lo! he is an open enemy for you.

-5- Not to take over on someone else’s riches by fraud. Quran says: Albaqara/188/And do not swallow up your property among yourselves by false means

A Glimpse of Character Sketch – 1

قُرآنِ پاک میں بیان کردہ شخصی اوصاف میں سے چند ایک ، اختصار کے ساتھ

A little effort to put down some good qualities of a character, described by the Holy Qura’an

-پارہ1:

-1-سیدھے راستے کی دعا ، لگن اور آرزو کرنا
انسان میں اِس خواہش کا ہونا کہ اُسے سیدھی راہ کا علم ہو اور اللہ تعالیٰ اُسے سمجھ عطا فرمائے جس کے لئے وہ دعا کرتا ہو۔
سورۃ الفاتحہـ آیت6/ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ/ہمیں سیدھے راستے کی ہدایت عطا فرما

-2-حقیقت جانتے بوجھتے ہوئے، حق کو باطل کے ساتھ خلط ملط نہ کرنا اور نہ ہی سچ بات کو چھُپانا، سچ اور جھوٹ کو الگ الگ واضح رہنے دینا
سورۃ البقرہ- آیت42/ وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُوا الْحَقَّ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ/ اور سچ میں جھوٹ نہ ملاؤ اور جان بوجھ کر حق کو نہ چھپاؤ

-3-تمام حالات اور خاص طور پہ مشکل حالات میں ، صبر اور نماز سے مدد حاصل کرنا ۔ صبر سے مراد ثابت قدمی، بلند ہمتی اور مستقل مزاجی پہ قائم رہنا اور دل تھوڑا نہ کرنا
سورۃ البقرہ-آیت45/ وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ ۚ وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلَّا عَلَى الْخَاشِعِينَ/ اور صبر کرنے اور نماز پڑھنے سےمدد لیا کرو اوربے شک نماز مشکل ہے مگر ان پر جو عاجزی کرنے والے ہیں

-4-معافی تلافی اور صَرفِ نظر سے کام لینا
سورۃ البقرہ-آیت109/ فَاعْفُوا وَاصْفَحُوا حَتَّىٰ يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ/ سو معاف کرو اور درگزر کرو جب تک کہ الله اپنا حکم بھیجے

-1- Seeking the right way and praying Allah for guidance. Holy Quran starts with a longing for the righteous direction.
Quran says: Al-Fatiha/6/ Guide us to the Straight Way.

-2-Neither to mix between truth and false, nor to conceal the facts since one knows the facts out of false.
Quran says: Al-Baqara/42/ And do not mix up the truth with the falsehood, nor hide the truth while you know (it)

-3-Persistence and praying in tough times. Being courageous and never to loose heart.
Quran says: Albaqara/45/ And seek assistance through patience and prayer, and most surely it is a hard thing except for the humble ones

-4- Making a habit of forgiveness and letting go.
Quran says: Albaqara/109/ But forgive and overlook, till Allah brings His Command. Verily, Allah is Able to do all things

روزہ . . . بھوک پیاس کیوں ؟

روزہ . . . بھوک پیاس کیوں ؟

ramadan-2012-calendar-dates-and-sehri-iftar-timetable1

روزے کی غرض و غایت تقویٰ ہے ۔ یہ فرضیت اور ماہِ مبارک کی آمد اور اہتمام ، اِس سب کے پیچھے جو مقصد کارفرما ہے ، وہ تقویٰ کا حصول ہے۔ اور دلیل اِس بات کی ، قرآن کی یہ آیت ہے :

يا ايا الذين آمنوا كُتب َ عليكم الصّيام كما كُتب علىٰ الذّين مِن قبلكُم لعلّكم تتّقون۔ البقرہ- 183

ترجمہ: اے ایمان والو تم پر روزہ فرض کیا گیا ہے جیسا کہ ان لوگوں پر فرض کیا گیا تھا جو تم سے پہلے تھے، تاکہ تم تقوی اختیار کرو-

ایسے روزے کے لئے ، جو دِل میں تقویٰ پیدا کرے ، انسان کو کچھ تقاضے پورے کرنے ہوں گے۔

پہلی اساسی بات یہ ہے کہ ، ایسا روزہ کبھی تقویٰ پیدا نہیں کرسکتا ، جس میں کسی بھی وجہ سے انسان کی کوئی نماز ضائع ہوجائے۔

رواج بن گیا ہے کہ رمضان کے خصوصی اہتمام کے سلسلے میں، سحر اور افطار میں اکثر کھانے کی مقدار ہی نہیں بڑھتی . . . بلکہ معیار اور تنوّع میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔ اِسی سے متعلقہ . . . .

دوسری نکتے کی بات یہ ہے کہ . . . .سحر اور افطار میں اعتدال سے زیادہ کھانے پینے کے ساتھ . . تقویٰ پیدا کرنے والا روزہ حاصل نہیں ہوسکتا ۔

روزے میں مخصوص اوقات میں ، کھانے پینے سے موقوف ہو کر، بھوک کی حالت میں . . . تمام جسم میں اُس بھوک کے لطیف اثرات کو محسوس کرنا اَزحد ضروری ہے۔ کیونکہ جب پیٹ بھوکا ہو تو باقی تمام اعضاء کو سَیری حاصل رہتی ہے۔ اور پیٹ جب بھر جائے تو دیگر اعضائے جسم کی بھوک جاگ اُٹھتی ہے اور وہ اپنی اپنی طلب پوری ہونے کا تقاضا کرنے لگتے ہیں ۔ اِسی لئے عام مشاہدہ ہے کہ رمضان میں شیاطین بند ہونے کے باوجود کئی منکرات اور برائیاں بڑھ جاتی ہیں۔

ایسا اِس لئے ہوتا ہے کہ کثرتِ طعام، ذہنی غفلت، کاہلی اور نیند کی زیادتی سے انسانی نفس کی خواہشات بھڑکتی ہیں اور . . .یہ خواہشاتِ نفسی انسان کے دِل پر مضر اثر ڈالتی ہیں۔

انسانی نفس میں بھوک کی جبلّت بہت اہمیت رکھتی ہے اور بھوک کے اثرات کو، عرصہء دراز سے، کئی طرح استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن روزے میں ، نفس پر بھوک اور پیاس سے پیدا ہونے والے ، اثر کو مختلف طرح ضائع کرلیا جاتا ہے۔ جیسے . . روزے کے دوران تکبر کے گمان اور زعم میں رہنا اور بار بار جتانا کہ بہت ہی پیاس لگی . . .بھوک نے کام کردیا . . روزہ لگا . . وغیرہ، روزے نہ رکھنے والوں کو حقارت سے دیکھنا ، بھوکا پیاسا ہونے کی وجہ سے اضطراب اور جھنجھلاہٹ کا شکار ہونا ، غصہ ہونا، زبردستی بہت زیادہ سو کر وقت گزاری کرنا . . . یا اپنے ہی بھوکا پیاسا ہونے پر خود ترسی میں مبتلا رہنا . . .

یہ سب باتیں نفسِ انسانی کو روزے میں پیدا ہونے والے اثر سے محروم کردیتی ہیں اور انسان کو روزے کی اِس کیفیت کا سرور، ٹھہراؤ اور آہنگی محسوس کرنے سے روک دیتی ہیں۔ انسان کی حسِیّات ایک دوسری جانب چل پڑتی ہیں اور اپنے نفس میں آنے والی اِس خوشگوار ، پاکیزہ چمک کو محسوس نہیں کرپاتی۔ روزے کی حالت میں انسانی دل اور جوارح میں ایک سکون قائم ہوتا ہے، جس سے سوچ کے نئے زاویے نظر آتے ہیں ، خضوع اور عبودیت کی لذت تک رسائی ہوتی ہے، باہر کی دنیا کی نسبت اندر کی دنیا کا دَرکھُلتا ہے۔

روزے کا وقت ختم ہوتا ہے تو انسان کا معدہ ناکو ناک کھانے سے بھر جاتا ہے ۔ معدے کے ساتھ ساتھ ذہن الگ کنفیوژن کا شکار ہوتا ہے کہ طعام کی اِس رنگا رنگی میں کیا کھایا جائے اور کیا چھوڑا جائے ۔ اِسی ذہنی اور جسمانی انتشار کے عالم میں انسان غیر صحت مند کھانا . . . غیر صحت مند انداز میں ٹھونس لیتا ہے۔

کھانے پینے کا کام جاری ہونے کے ساتھ ذہن اور جسم کی دیگر آوارگیوں کا وقت بھی آن پہنچتا ہے جس میں الیکٹرانک میڈیا، سگریٹ نوشی، بازاروں کے اخلاقی اور معاشی مفاسد وغیرہ شامل ہیں۔

13
12
Ramzan-Ramadan-Jokes-and-Humour-Eye-Specialist-checking-the-eyes-of-a-shopkeeper-during-Ramzan-Funny-Jokes-during-Ramzan

تو گویا تمام دن کی تپسیّا کے بعد ، روزے کو جو اثرات مرتّب کرنے تھے، وہ سب ختم ہوجاتے ہیں اور جن فوائد کو پیدا ہونا تھا ، اُن کا نام و نشان بھی نہیں ہوتا ۔ ایسے میں دِل کی سختی مزید بڑھ جاتی ہے، نفس مزید غافل ہوجاتا ہے ، دِل کو بینائی حاصل ہونے کی جگہ اندھیرا بڑھ جاتا ہے ۔

ایسے میں انسان اطاعت کے لئے رغبت اور شوق میں کمی محسوس کرتا ہے ۔ لذّتِ شوق اور عبودیت میں اضافہ نہیں ہوتا بلکہ یہ نعمتیں ہاتھ سے جانے لگتی ہیں ۔

روزے کے ساتھ تقویٰ کی نعمت ، اُس وقت نصیب ہوتی ہے جب کھانے پینے سے باز رہنے کے ساتھ ساتھ، اپنے نفس کو پابند اور محبوس کرکے ، غفلت کے اثر سے نکالا جائے اور خواہشات اور تقاضے کرنے سے روک کر اپنا تابع کیا جائے، نہ کہ خود نفس کی اتباع کی جائے۔

ماہِ مقدس کے اچھے آغاز کی شان یہ ہے کہ وہ اچھے نتائج پر اختتام پذیر ہو جن میں تربیتِ نفس لازمی ہے۔ یہ عزم ضروری ہے کہ روزے کے ساتھ تقویٰ کا حصول حتمی ہو کیونکہ اللہ رب العزت کے ہاں قبولیت کی ایک شرط تقویٰ ہے ۔ “اِنّما یتقبّلُ اللہُ منَ المتّقین”

ترجمہ و مفہوم از ڈاکٹر خالد بن عثمان السبت رحمہ اللہ

Phases-of-Ramadan-Symbol-Moon-Pictures-Images-Photos-2013
Once again on this Ramadan, with best of wishes.

A Saturated Heart

image

“Gaining”, as a word, on consulting a dictionary, stands for, . . . .
To come into possession or use of something,
To acquire,
To attain,
To have as profit or reward,
To gather, collect and increase. . .
A great number of meanings, infact ! All of which show increase in possession, that is a good sign.

As a common use, gaining power means to reach a specific position or seat, gaining profit indicates some good deal, bonus or unexpected fortune, and so on. . .many more meanings. Except gaining weight n pounds, all others synonyms for gaining are used in good sense.

image

image

One thing to notice: in any type of gaining, are we keeping the profit to ourselves ? Or just handing it over to someone else?

Spending, passing or sharing is not rare, people do share and spend lavishly, but what is missing, is to retain the fruits of our gains inside ourselves. Very little that we enjoy what we gained.

For example, after gaining money, we come across expenditures at once, without actually realising the blessing of that gain, without a mind to enjoy or to be thankful to be in a position to spend. And by here, ignoring all the positive impacts that this gain should place in our inner selves. Materially, there may be seen goodies, but no contentment inside the heart.

image

Gaining knowledge , either to earn a good life, or to deliver it further to students, or just to proof one’s intellectual value, is not just enough, for this gain. Very rare to find a situation, in which knowledge, of any kind, is gained to soothe and enlighten one’s inner self and soul. It is ok with commercial aspects of knowledge, but hopeless to find, that this knowledge, havent given a chance , to make some light and kindle the heart and mind of the bearer.

Retaining the impact of every gain in life, to be more positive, can bring out harmony and calm in life, to a considerable extent. Many of our gains, dont put any positive effect on our heart and psychological health. This leads to a kind of educated people with illiterate behaviours, wealthy persons with poorly sick attitudes, ill manners in well dressed bodies, weak and abnormal thoughts coming out of good looks, stuffed pockets and empty hearts, filled stomachs and hungry eyes.

The behaviour of not realising and containing a gain, makes us never feel content and saturated. A saturated heart is the actual fruit of life, a heart in peace, with zero negative feelings.

image