MAY THE NEW YEAR BE A HAPPY ONE

سالِ نو 2016

انسان کی تمام تاریخ اور ارتقاء ، بہت سی لسانی اور نسلی اقسام پہ مشتمل ہے۔ کرہء ارض کے اردگرد انسانی جِلد کا رنگ بدلتا چلا جاتا ہے۔ انسانی تاریخ میں گُوناگوں زبانیں پائی جاتی ہیں اور خود ہر زبان کے بےشمار لہجے ہیں۔ مترجمین اور رابطہ کاروں کو ایک پیغام کو دوسری زبان اور دنیا کے دوسرے خطّے کے لئے قابلِ فہم بنانے میں بہت محنت کرنا پڑتی ہے۔ ڈب شدہ مواد کو ترجمہ کے کڑے عمل سے گزارا جاتا ہے۔ یہی معاملہ سب ٹائٹل یعنی تحریر کردہ ترجمے کا ہے۔

ترجمہ شدہ عالمی ادب بھی قارئین میں بہت پسندیدہ رہا ہے۔ ایک بار رنگا رنگ ادب کا ذائقہ منہ کو لگ جائے، تو پڑھنے والا بار بار اُسی لذت کی خواہش کرتا ہے۔

مختلف زبانوں، نسلوں اور معاشروں کو قریب لانے کے لئے ترجمے اور رابطے کی کوشش کے باوجود ہر انسان کے لئے جذبات و احساسات ، ایک سے ہیں۔

سب انسان ایک ہی طرح روتے ہیں۔

آنسوؤں کو ترجمے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کوئی بھی نسل ہو، سب کو درد ایک ہی جیسا ہوتا ہے۔ ہر انسان کے زخم سے خون ہی بہتا ہے اور دنیا کے سب انسانوں کا ، ہر فلم میں، ہر تحریر میں خون کا رنگ ، سُرخ ہی ہے۔ اِس بات سے قطع نظر کے وہ کیا زبان بولتی ہے، ہر عورت اپنے بچے کو اپنی کوکھ میں رکھ کر، درد سہہ کر، اِس دنیا پہ ایک نئی زندگی جنم دیتی ہے۔ ہر نومولود اپنی آبائی زبان سے انجان، اپنے خاندان کے اطوار و رسوم سے بےخبر روتا ہے۔ ایک بچے کی معصوم مسکراہٹ ہمیشہ قیمتی ہوتی ہے خواہ وہ کسی زبان کا کوئی لفظ بولنا نہ جانتا ہو۔

نفرت، لالچ، ظلم، رحمدلی، مہربان، مسکراہٹ اور محبت ، اِن سب کی اپنی مواصلاتی علامتیں ہیں، لسانیات اور زبان دانی سے پرے

. . . . .

ایک اور مشترکہ عمل، جس کا سب انسانوں کو مزہ چکھنا ہے، وہ موت کا عمل ہے۔ موت کا سامنا، ہر رنگ و نسل، قبیلے، قوم، خاندان اور نسل کو ہے، خواہ خطہء ارض پہ اُن کی کوئی بھی جگہ ہو، وہ کسی بھی جگہ ہوں۔

سو سادہ لفظوں میں، یوں کہہ لیجیئے کہ تمام انسانوں کا اندرونی سافٹ وئیر ایک ہی ہے چاہے ظاہری، زمانی اور مکانی اعتبار سے فرق بھی ہو۔

اللہ سے دعا ہے کہ، یہ اعدادی تبدیلی، یعنی2015سے2016، بہت سا سکون، اطمئنان، امن اور خوشی لے کر آئے، جو سرحدوں، نسلوں، زبانوں اور براعظموں کے قید سے آزاد ہو۔ کیونکہ انسان، کرہء ارض پہ کہیں کا بھی ہو ، اُسے ایک ہی طرح درد ہوتا ہے، اس کا ایک ہی طرح خون بہتا ہے، وہ ایک طرح محسوس کرتا اور مسکراتا ہے۔

دعا ہے کہ نیا سال خوشیاں اور آسانیاں لائے

سب کے لئے دِلی خواہشات

ثروت ع ج

THE YEAR 2016
rose in a book
Humans are divided in a diverse variety of languages and races. Skin colors vary around the globe. There are so many languages and every language has so many accents. It needs a lot of effort in the area of translation and correspondence to convey one message from one part of world to another. Dubbed content undergoes intense translation job to meet an exact impact in the re-produced work. Same is the case with the subtitling.

Translated foreign literature is majorly favorable among the readers. Once addicted to the immense variety of world literature, one desires for more of such festivities.

Despite all those translating and conversing steps that are taken to interconnect the humans of various languages and ancestry, feelings remain the same for every single human.

All humans cry in the same way.

Tears need not to be translated. Pain is equally suffered in the same way, whatever may be the race. All they bleed in the same way and human blood is always red in every part of world. A woman holds her child in her womb and bears labor pains to originate a new life on the planet, across all the continents, regardless of what she speaks in. A newborn cries with no specification of language, not knowing what is the color of his skin and whatever could be the rituals of his family for a newborn. A child’s smile is the most precious in every part of the world, even if he don’t knows to say any single word.
Hate, greed, cruelty, jealousy, generosity, kindness, smile and love have their own communication codes, that are beyond the limitations of linguistics and languages.

Another common phenomenon, that all humans face equally, is the end of life. Death is faced by each and every tribe, nation, family and ancestry of humans, whatever may be their location on the planet.

So, in simple words, let me put down, that all humans have a similar software inside, even if the hardware, location, language is different.
May this change in digit, that is, 2015 to 2016, brings a universal tranquility, contentment, peace and happiness, transcending beyond the limits of borders, races, languages and continents, because the man hurts, bleeds, feels and smiles in the same way throughout the globe.
MAY THE NEW YEAR BE A HAPPY ONE.
MY HEARTILY WISHES FOR ALL
Sarwat AJ

fa43d9e8606cfe72a28af59d68809d351

7th Part, Character Hints by Qura’an

حصہ ساتواں/قُرآنِ پاک میں بیان کردہ شخصی اوصاف میں سے چند ایک ، اختصار کے ساتھ

7th part of/ A little effort to put down some good qualities of a character, described by the Holy Qura’an.

-پارہ 7:

-1- ہدایت کا شعور اور تڑپ ہونا

– مسلمان میں بہتری اور ہدایت کی لگن، تڑپ اور جستجو ہونی چاہیئے، جو شخص جس قدر قیمتی اور قابلِ قدر دل کا مالک ہوگا ، اُسے اللہ کا کلام اُسی قدر متاثر کرے گا

-سورۃ المائدہ/ آیت 83، 84، 85 /

-وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَىٰ أَعْيُنَھُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ ۖ يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاھِدِينَ / وَمَا لَنَا لَا نُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَمَا جَاءَنَا مِنَ الْحَقِّ وَنَطْمَعُ أَن يُدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصَّالِحِينَ/ فَاَثَابَھُمُ اللَّہُ بِمَا قَالُوا جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِھَا الْاَنْھَارُ خَالِدِينَ فِيھَا ۚ وَذَ‌ٰلِكَ جَزَاءُ الْمُحْسِنِينَ

-ترجمہ: اور جب اس چیز کو سنتے ہیں جو رسول پر اتری ، تو ان کی آنکھوں کو دیکھے گا کہ آنسوؤں سے بہتی ہیں اس لیے کہ انہوں نے حق کو پہچان لیا، کہتے ہیں اے رب ہمارے کہ ہم ایمان لائے تو ہمیں ماننے والوں کے ساتھ لکھ لے/ اور ہمیں کیا ہے ہم الله پر ایمان نہ لائيں اور اس چیز پر جو ہمیں حق سے پہنچی ہے اور اس کی طمع رکھتے ہیں کہ ہمیں ہمارا رب نیکو ں میں داخل کر ے گا/ پھر الله نے انہیں اس کہنے کے بدلے ایسے باغ دئیے کہ جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ان میں ہمیشہ رہیں گے اور نیکی کرنے والوں کا یہی بدلہ ہے

-2- قمار بازی اور مے خواری کی ممانعت

– مسلمان کو شراب نوشی اور جوئے سے منع کیا گیا کہ باہم عداوت اسی سے جنم لیتی ہے

– سورۃ المائدہ/ آیت 91/

-إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّہِ وَعَنِ الصَّلَاةِ ۖ فَھَلْ أَنتُم مُّنتَھُونَ

-ترجمہ: شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے سےتم میں دشمنی اور بغض ڈال دے اور تمہیں الله کی یاد سے اور نماز سے روکے سو اب بھی باز آجاؤ

-3- اکثریت سے مرعوب نہ ہونا

– مسلمان کو اپنی تمام باتوں میں درست اور ٹھیک بات کو مدِ نظر رکھنا چاہیئے ، اس بات سے بچ رہے کہ لوگ کیا کررہے ہیں یا اکثریت کیا کہتی ہے کیونکہ لوگوں کی اکثریت کا رویہ بھیڑچال ہوسکتا ہے۔

-سورۃ المائدہ/آیت 100/

-قُل لَّا يَسْتَوِي الْخَبِيثُ وَالطَّيِّبُ وَلَوْ أَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِيثِ ۚ فَاتَّقُوا اللَّہَ يَا أُولِي الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

-ترجمہ: کہہ دو کہ ناپاک اور پاک برابر نہیں اگرچہ تمہیں ناپاک کی کثرت بھی معلوم ہو سو اے عقل مندو الله سے ڈرتے رہو تاکہ تمہاری نجات ہو

-Juz’ 7

-1. A Muslim must be very keen to find guidance and to look in Quran with great respect and interest

-Quraan says: Almaida/ 83،84،85 / And when they listen to the revelation received by the Messenger, thou wilt see their eyes overflowing with tears, for they recognise the truth: they pray: “Our Lord! we believe; write us down among the witnesses/ What cause can we have not to believe in Allah and the truth which has come to us, seeing that we long for our Lord to admit us to the company of the righteous?”/ So because of what they said, Allah rewarded them Gardens under which rivers flow (in Paradise), they will abide therein forever. Such is the reward of Al-Muhsinun (the good-doers).

-2. Banishing wine and gambling as these two are forbidden due to curse and indifference they bring to societies.

-Quraan says: Almaida/ 91/ Shaitan (Satan) wants only to excite enmity and hatred between you with intoxicants (alcoholic drinks) and gambling, and hinder you from the remembrance of Allah and from As-Salat (the prayer). So, will you not then abstain?

-3. One must be free of society dilemma and following blindly. Choices must be made on logic. Standing distinguished and righteous is the goal.

-Quraan says: Almaida/ 100/ Say (O Muhammad صلى الله عليه وسلم): “Not equal are Al-Khabith (all that is evil and bad as regards things, deeds, beliefs, persons and foods) and At-Taiyyib (all that is good as regards things, deeds, beliefs, persons, foods), even though the abundance of Al-Khabith may please you.” So fear Allah , O men of understanding in order that you may be successful

6th Part, Character Guidelines by Qura’an

حصہ چھٹا، قُرآنِ پاک میں بیان کردہ شخصی اوصاف میں سے چند ایک ، اختصار کے ساتھ

-6th part of/A little effort to put down some good qualities of a character, described by the Holy Qura’an.

-پارہ 6:

-1- بدی کے ذکر سے گریز

– بُری بات/کام کے اعلانیہ ذکر سے بچا جائے، اگر معلوم ہو تو بھی ذکر نہ کریں، صرف ایک صورت کے علاوہ کہ بدی کے ذکر سے مظلوم کی مدد کرنا مقصود ہو

-سورۃ النساء / آیت 148/

لَّا يُحِبُّ اللَّہ الْجَہرَ بِالسُّوءِ مِنَ الْقَوْلِ إِلَّا مَن ظُلِمَ ۚ وَكَانَ اللَّہ سَمِيعًا عَلِيمًا

ترجمہ: الله کو کسی بُری بات کا ظاہر کرنا پسند نہیں مگر جس پر ظلم ہواہو اور الله سننے والا جاننے والا ہے

-2- تمام نبیوں کا احترام اور بےجا بحث سے پرہیز

-اس موضوع پہ مسلمان اُن معلومات پہ موقوف رہیں جو اللہ اور اُس کے نبیﷺ کے ذریعے حاصل ہوئیں اور لاحاصل بحث میں نہ پڑیں

– سورۃ النساء / آیت 150 /

إِنَّ الَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِاللّہِ وَرُسُلِہِ وَيُرِيدُونَ أَن يُفَرِّقُوا بَيْنَ اللَّہِ وَرُسُلِہِ وَيَقُولُونَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَكْفُرُ بِبَعْضٍ وَيُرِيدُونَ أَن يَتَّخِذُوا بَيْنَ ذَ‌ٰلِكَ سَبِيلً

ترجمہ: بے شک جو لوگ الله اور اس کے رسولوں کے ساتھ کفر کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ الله اوراس کے رسولوں کے درمیان فرق رکھیں اور کہتے ہیں کہ ہم بعضوں پر ایمان لائے ہیں اور بعضوں کے منکر ہیں اور چاہتے ہیں کہ کفر اور ایمان کے درمیان ایک راہ نکالیںً

-3- پاکی کا اہتمام کرنا اور پاکی اختیار کرنا

– وضو اور تیمم کے مسائل کا حکم بتایا گیا تاکہ مسلمان ہر حالت اور مقام پر پاکیزگی حاصل کرسکے

– سورۃ المائدہ/ آیت 6/

يَا أَيُّہَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوھَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ۚ وَإِن كُنتُمْ جُنُبًا فَاطَّہَّرُوا ۚ وَإِن كُنتُم مَّرْضَىٰ أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِّنكُم مِّنَ الْغَائِطِ أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوہَكُمْ وَأَيْدِيكُم مِّنْہُ ۚ مَا يُرِيدُ اللَّہُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُم مِّنْ حَرَجٍ وَلَـٰكِن يُرِيدُ لِيُطَہِّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَہُ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ

ترجمہ: اے ایمان والو! جب تم نماز کے لیے اٹھو تو اپنے منہ دھو لو اور ہاتھ کہنیوں تک اور اپنے سروں پر مسح کرو اور اپنے پاؤں ٹخنوں تک دھو لو اور اگر تم ناپاک ہو تو نہا لو اور اگرتم بیمار ہو یا سفر پر ہو یا کوئی تم میں سے جائے ضرورت سے آیا ہو یا عورتوں کے پاس گئے ہو پھر تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کر لو اور اسے اپنے مونہوں او رہاتھوں پر مل لو الله تم پر تنگی کرنا نہیں چاہتا لیکن تمہیں پاک کرنا چاہتا ہے اور تاکہ اپنا احسان تم پر پورا کرے تاکہ تم شکر کرو

-Juz’u 6
-1. One must avoid to describe any evil, bad or mischievous things. Bad must not be a topic of discussion except one case that is to report some one’s suffering.
-Quraan says: Alnisa/ 148/ Allah does not like that the evil should be uttered in public except by him who has been wronged. And Allah is Ever All-Hearer, All-Knower.

-2. Respecting all the messengers of Allah, accordingly as they are described in Quraan, without unnecessary debate and discussion on unclear details.
-Quraan says: Alnisa/ 150/ Verily, those who disbelieve in Allah and His Messengers and wish to make distinction between Allah and His Messengers (by believing in Allah and disbelieving in His Messengers) saying, “We believe in some but reject others,” and wish to adopt a way in between

-3. Adopting cleanliness and neatness through wuzu, in the specified cases and to rely on Tayam-mum, if certain conditions do apply and water is not available.
-Quraan says: Al maida/ 6/ O you who believe! When you intend to offer As-Salat (the prayer), wash your faces and your hands (forearms) up to the elbows, rub (by passing wet hands over) your heads, and (wash) your feet up to ankles . If you are in a state of Janaba (i.e. after a sexual discharge), purify yourselves (bathe your whole body). But if you are ill or on a journey, or any of you comes after answering the call of nature, or you have been in contact with women (i.e. sexual intercourse), and you find no water, then perform Tayammum with clean earth and rub therewith your faces and hands. Allah does not want to place you in difficulty, but He wants to purify you, and to complete His Favour to you that you may be thankful

5th part, Character hints by Qura’an

حصہ پانچواں، قُرآنِ پاک میں بیان کردہ شخصی اوصاف میں سے چند ایک ، اختصار کے ساتھ

5th part, A little effort to put down some good qualities of a character, described by the Holy Qura’an.

-پارہ نمبر پانچ:

-1- خود پسندی سے بچنا اور قرابت داروں سے احسان کا معاملہ کرنا

سورۃ النساء / آیت 36/

وَاعْبُدُوا اللَّہ وَلَا تُشْرِكُوا بِہ شَيْئًا ۖ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنبِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ۗ إِنَّ اللَّہ لَا يُحِبُّ مَن كَانَ مُخْتَالًا فَخُورًا

اور الله کی بندگی کرو اورکسی کو اس کا شریک نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور قریبی ہمسایہ اور اجنبی ہمسایہ اورپاس بیٹھنے والے او رمسافر او راپنے غلاموں کے ساتھ بھی نیکی کرو بے شک الله اترانے والے بڑائی کرنے والے کو پسند نہیں کرتا

-2- کنجوسی سے پرہیز کریں اور اللہ کے دئیے ہوئے مال کو رکاوٹ لگا کر نہ رکھیں

-سورۃ النساء / آیت نمبر37/

الَّذِينَ يَبْخَلُونَ وَیأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وَيَكْتُمُونَ مَا آتَاھُمُ اللَّہُ مِن فَضْلِہِ ۗ وَأَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ عَذَابًا مُّھِينًا

جو لوگ بخل کرتے ہیں اور لوگو ں کو بخل سکھاتے ہیں اور الله نے انہیں اپنے فضل سے جو دیا ہے اسے چھپاتے ہیں اور ہم نے کافروں کے لیے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے

-Juz’ 5
-1- Avoiding self-praise, self-centeredness. Stop narcism
-Quraan says: Alnisa/36/ And serve Allah. Ascribe no thing as partner unto Him. (Show) kindness unto parents, and unto near kindred, and orphans, and the needy, and unto the neighbour who is of kin (unto you) and the neighbour who is not of kin, and the fellow-traveller and the wayfarer and (the slaves) whom your right hands possess. Lo! Allah loveth not such as are proud and boastful
-2- Not to restrict and abandon wealth, given by Allah. Stopping misery.
-Quraan says: Alnisa/ 37/ Those who are miserly and enjoin miserliness on other men and hide what Allah has bestowed upon them of His Bounties. And We have prepared for the disbelievers a disgraceful torment

4th Part/ A Glimpse of Character Sketch by Qura’an

حصہ چوتھا، قُرآنِ پاک میں بیان کردہ شخصی اوصاف میں سے چند ایک ، اختصار کے ساتھ

4th part /A little effort to put down some good qualities of a character, described by the Holy Qura’an

-پارہ4:

-1- مسلمانوں میں باہم اتحاد ہونا

-اللہ پر ایمان لانے کے بعد آپس میں اتحاد قائم کرنا کیونکہ انسانوں کا تعلق، اللہ کے احکامات کے مطابق ہی، درست سمت میں پروان چڑھ سکتا ہے۔ تقویٰ کے ساتھ اتحاد کا حکم اِس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ سے ڈرنے والے ہی اتحاد کے باہمی تقاضے پورے کرسکتے ہیں۔

-سورۃ آلِ عمران / آیت 102-103/ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ- وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا ۚ اے ایمان والو الله سے ڈرتے رہو جیسا اس سے ڈرنا چاہیئے اور نہ مرد مگر ایسے حال میں کہ تم مسلمان ہو٭ اور سب مل کر الله کی رسی مضبوط پکڑو اور پھوٹ نہ ڈالو

-2- بھلے کاموں کی دعوت دینا اور برائیوں سے روکنا

-ایمان والوں کو مخاطب کرکے بتلادیا گیا کہ فلاح اور کامیابی کے لئے لازم ہے کہ اِن میں سے کچھ لوگ ایک اہم ذمہ داری نبھاتے رہیں اور یہ ذمہ داری نیکیوں کی دعوت دینے ، بھلائیوں کو عام کرنے اور بُرے کاموں سے روکنے کی ہے۔

-سورۃ آلِ عمران/ 104/ وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ ۚ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ/اور چاہیئے کہ تم میں سے ایک جماعت ایسی ہو جو نیک کام کی طرف بلاتی رہے اوراچھے کاموں کا حکم کرتی رہے اور برے کاموں سے روکتی رہے اور وہی لوگ نجات پانے والے ہیں۔

-3- یتیموں کے مال کی حفاظت کرنا

قرآن حکم دیتا ہے کہ یتیموں کا مال انھیں ایمانداری سے دے دیا جائے اور اُن کے مال میں سے اچھی چیز کے بدلے بُری چیز نہ ڈال دی جائے ، اور نہ ہی ان کے مال کو اپنے مال میں شامل کرنے کی گناہ گارحرکت کی جائے۔

-سورۃ النساء / آیت 2/ وَآتُوا الْيَتَامَىٰ أَمْوَالَهُمْ ۖ وَلَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِيثَ بِالطَّيِّبِ ۖ وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَهُمْ إِلَىٰ أَمْوَالِكُمْ ۚ إِنَّهُ كَانَ حُوبًا كَبِيرًا/ اوریتیموں کوان کے مال دے دو اور ناپاک کو پاک سے نہ بدلو اور ان کے مال اپنے مال کے ساتھ ملا کر نہ کھا جاؤ یہ بڑا گناہ ہے۔

-4-باہم عزتوں کا احترام کریں اور معاشرے کی بنیادی اکائی یعنی نکاح کی حُرمت اور تقدس کا خیال رکھا جائے، اللہ کی مقرر کردہ حدود کی پاسداری کی جائے

-سورۃ النساء/ آیت13/ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ ۚ وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ وَذَ‌ٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ/ یہ الله کی باندھی ہوئی حدیں ہیں اور جو شخص الله اور اس کے رسول کے حکم پر چلے اسے بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ان میں ہمیشہ رہیں گے اور یہی ہے بڑی کامیابی

-5-“جو ہو چکا سو ہو چکا ” کا اصول اپنائیں

-ایک بات سمجھادی گئی کہ اللہ اُن باتوں سے درگزر فرماتا ہے جو مخصوص حکم آنے سے پہلے سرزد ہوچکی ہیں ۔ اُن باتوں پر گرفت نہ ہوگی چنانچہ ایک مسلمان کو بھی پرانی اور گزری باتوں سے درگزر کرنا چاہیئے۔ اپنے دل میں بہت پرانے گِلے شکوے اور شکایتیں جمع نہیں رکھنی چاہیئں۔ یہ زیادہ آسانی دینے والی بات ہے۔

-سورۃ النساء/ آیت23/ ( – – – ) إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا/مگر جو پہلے ہو چکا بے شک الله بخشنے والا مہربان ہے

Chapter 4:
1. The believers of Allah must be united.
Belief on Allah is the main unifying force for the believers.
Quran says: Aal e Imran/ 102,103/ O you who believe! be careful of (your duty to) Allah with the care which is due to Him, and do not die unless you are Muslims. And hold fast, all of you together, to the Rope of Allah (i.e. this Qur’an), and be not divided among yourselves
2. A Muslim must be promoting good deed, and must be stopping, denying and discouraging the evil and bad deeds.
Quran says: Aal e Imran/ 104/And from among you there should be a party who invite to good and enjoin what is right and forbid the wrong, and these it is that shall be successful.
3. Taking very good care of orphans.
If an orphan is under some one’s custody, there by the custodian have to be fair in handing over the inherited money of that orphan.
Quran says: Al nisa/ 2/ And give unto orphans their property and do not exchange (your) bad things for (their) good ones; and devour not their substance (by adding it) to your substance. Surely, this is a great sin.
4. Mutual respect and honour for relations and social ties, is guided through many laws and codes.
Quran says: Al Nisa/ 13/ Those are limits set by Allah: those who obey Allah and His Messenger will be admitted to Gardens with rivers flowing beneath, to abide therein (for ever) and that will be the supreme achievement
5. Adopting the habit of “letting it go”
Quran tells us: Al nisa/23/ except what hath already happened (of that nature) in the past. Lo! Allah is ever Forgiving, Merciful.

بچپن کے روزے

بچپن کے روزے

بہت عزیز نورین تبسم کے چاہت بھرے حکم پہ ہمت باندھی کہ ذہن کے تہہ خانے میں جاکر ، بچپن کی یادداشتوں والا صندوق کھولوں اور پہلے روزے کے حوالے سے یادیں باہر نکال لاؤں۔ بچپن ، اور بچپن کی یادوں والا صندوق انسان کے شعوری اثاثوں میں سب سے خوشنما اور مضبوط بکسا ہوتا ہے۔ جس قدر یہ بکس مضبوط ہوتا ہے، اُسی مضبوطی سے ہم اِسے بند رکھتے ہیں، ورنہ شاید کبھی کوئی زندگی میں، بچپن سے آگے نہ بڑھ سکے۔ اردو بلاگرز کی انوکھی روزہ رکھوائی و کُشائی پارٹی، بچپن کی حسین اور میٹھی یادوں سے جگمگارہی ہے۔

خیر تمام یادیں کنگھالنے کے بعد پتہ چلا کہ . . . . . پہلے روزے کے نام کی کوئی بھی بات یاد نہیں۔ اِس کے ساتھ ہی یہ سب سوچیں بھی ذہن میں آئیں کہ اب یہ ایسا معاملہ ہے کہ . . . . . . . . جسے گوگل بھی نہیں کیا جاسکتا، نہ وکی پیڈیا پہ اِس بات کا سراغ ملے گا ، نہ ہی اُس وقت انسٹاگرام تھا کہ اماں ابا نے پہلی بیٹی کی پہلی افطاری کی تصویر بنائی ہوتی، یا بہت محتاط بھی ہوتے (جو کہ وہ تھے اور ہیں) تو محض افطاری والے دسترخوان کا عین اوپر والا ، عمودی شاٹ ہوتا یا شاید ساتھ میں میرا بچکانہ سا ہاتھ دھرا ہوتا ۔

اِن ناممکنات کے بعد صرف ممکنہ صورتوں پہ توجہ مرکوز کی تو چند متفرق ،بکھری اور قیمتی تصویریں ہاتھ لگیں جو یقیناََ پہلے روزے کی تو نہیں لیکن . . . . دُور پار کے اُس سنہرے بچپن کی ہیں جب ریاست ہی اپنی ہوا کرتی تھی اور سکّہ بھی اپنا ہی چلتا تھا۔

ایک جھلکی کہ سکول میں چھُٹی کا وقت ہے اور میں کینٹین سے فروٹ ٹیلا (وہی جو، اب بھی ملتی ہے) خرید رہی ہوں، جو کہ اُس دن روزے میں بہت یاد آئی تھی اور خود کو حوصلہ اور روزے کا انعام دینے کی خاطر ہنگامی فیصلہ کیا کہ اِسے افطاری کے لئے خرید کر ہی گھر جانا ہے۔

ایک اور یاد . . . . رمضان میں امّی کی کوشش ہوتی تھی کہ ہر روز مسجد میں افطاری ضرور بھیجی جائے۔ کبھی میری ڈیوٹی لگتی اور وقت کم رہ جاتا تو ہوا کی طرح بھاگتے ہوئے جانا اور آنا ہوتا اور اِس دوران راستے میں آنے والی رکاوٹوں (لوگوں کے گھروں کے گیٹ کی سیڑھی، فٹ پاتھ وغیرہ) کو پھلانگ پھلانگ کے عبور کرنا اور آناََ فاناََ دسترخوان پہ پہنچنا ۔ ایسا کرتے ہوئے ذہن میں خیال آتا کہ کبھی کارٹون والے سپر مین کی طرح اُ ڑنے کی پاورز ہوتی تو کیا ہی بات ہوتی۔ خیر اب بھی کچھ کسر نہیں تھی۔

سعودی عرب میں کام کرنے والوں کے اوقاتِ کار رمضان میں آٹھ سے چھ گھنٹے کردئیے جاتے ہیں تو . . . . ابّو کا گھر پہ زیادہ وقت گزرتا اور ہم بچوں کے لئے ایک تہوار کا سماں ہوتا ۔ ابو عصر کی نماز پڑھ کر آتے ، پھر بڑے سے کچن میں بچھے کارپٹ پہ ہی دسترخوان بچھا کر افطاری کی تیاری کا کام شروع ہوجاتا۔ ابو بہت شوق سے فروٹ چاٹ بنانے میں شامل ہوتے، کبھی پھل چھیل کر دیتے ، کبھی خود کٹنگ بورڈ سنبھالتے، بار بار امی سے کہتے: دیکھنا جی، میرا خیال سیب کافی رہیں گے، یا تُسی ایس ڈونگے وچ چینی تے ہور مصالحہ پا دیو ( آپ اس ڈونگے میں چینی اور باقی مصالحہ ڈال دیں) ، امی وہیں سامنے چولہے پر کڑاہی سے پکوڑے نکالتیں، ذرا دیر کو اِدھر آتیں، کچھ بتا جاتیں، یا نمک، کالی مرچ اور کلونجی پیس کے ڈال جاتیں۔ ایک بہن شربت پہ مامور ہوتی ، تو دوسری چٹنی بنارہی ہوتی۔

اِسی دوران سب باتیں جاری ہوتیں، مشورے، نصیحتیں، حکایتیں، رمضان کے فضائل، قصص الانبیاء، کالم، تفسیر، ہسپتال میں آج کیا ہوا، دوسرے ڈاکٹرز کی باتیں، کسی مریض کا ماجرا اور بچوں کو ڈانٹ شانٹ ، سب ۔ ایسی ہی اکثر نشستوں میں ابو اپنی پسندیدہ دعا کا مفہوم سمجھایا کرتے :

رَبَّنا اٰ تِنا فِی الدُّنیا حَسَنَۃََ وَ فی الآخِرۃِ حَسَنَۃََ و قِنا عذابَ النَّار

کہ دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی اور ابدی نجات ، سب ایک ہی دعا میں شامل ہوگئے۔

پھر وہیں افطار کی تیاری کا منظر بدل کر افطاری چُن دی جاتی، اِفطار کے بعد ابو اور بھائی مسجد چلے جاتے اور ہم گھر پہ نماز پڑھ لیتے۔ مردوں کے مسجد جانےکے بعد اگر کوئی بچہ کچھ کھانے لگتا تو امی کو اچھا نہ لگتا کہ آپ کے ابو بھی تو نماز پڑھنے گئے ہیں۔ نماز کے بعد افطاری کا دوسرا حصہ عمل میں آتا ، جس بہن کی برتن دھونے کی باری ہوتی ، وہ سِنک پہ پہنچ جاتی یا پہنچا دی جاتی۔

کچھ دیر آرام کے بعد عشاء کی تیاری شروع ہوجاتی، ابو ہسپتال کے لئے کپڑے بدل لیتے،ہم سب اکٹھے مسجد جاتے، ابو عشاء اور تراویح کے بعد وہیں سے ہسپتال چلے جاتے اور باقی گھر کو لوٹتے۔ صبح نو سے بارہ اور رات کو بھی نو سے بارہ ابو کی ڈیوٹی کا ٹائم ہوا کرتا تھا۔ تراویح کے لئے ہر مسجد میں خواتین کے لئے اہتمام کیا جاتا، ہم کبھی کبھار خصوصی طور پر شیخ احمد العجمی کی مسجد میں جاتے اور رُوح پرور تلاوت کے ساتھ تراویح ادا کرتے۔

مسجد میں چھوٹے بچوں والی خواتین کی وجہ سے خُوب رونق رہتی، بچوں کو جماعت کے دوران پچھلی خالی صفوں میں کھُلی آزادی حاصل ہوتی، جماعت کے دوران پیچھے اولمپک کی جھلکیاں چلتیں اور تشہد کے شروع ہوتے ہی سب بچے مؤدب بن کے بیٹھ جاتے۔ سعودی خواتین اور خاص طور پر گھرہستن اور بڑی عمر کی اکثر پانی کے کُولر اُٹھائے یا اُٹھوائے چلی آرہی ہوتیں۔ساتھ میں کاغذی (ڈسپوزیبل) گلاس اور کوُلر میں فلیورڈ پانی، عرقِ گلاب، زھری اور کھجور کی چھال کے عرق والا بھی پیا جو پینے میں اچھا سا لگتا ۔ وہ اُس کو ہاضمے کے لئے مفید بتایا کرتیں۔

وقت بِیت گیا ، یہی زمانے کی روایت ہے،سب بہنیں اور بھائی دنیا اور آخرت کی بھلائیوں سے مالا مال ہوں، اللہ تعالیٰ امی کو اپنی حفاظت میں رکھے اور صحت تندرستی کے ساتھ اولاد کی خوشیاں نصیب ہوں، اللہ تعالیٰ ابو کے درجات بلند کرے،اُنھیں اپنی خصوصی رحمت سے نوازےاور ہمیں ا ُن کے لئے صدقہءجاریہ بننے کی توفیق ، ہمت اور آسانی عطا فرمائے۔

3rd part of Character Sketch by Quran

حصہ تیسرا ، قُرآنِ پاک میں بیان کردہ شخصی اوصاف میں سے چند ایک ، اختصار کے ساتھ:

Part 3 : A little effort to put down some good qualities of a character, described by the Holy Qura’an. What qualities Quran guides us to:

-پارہ 3:

-1- مالی امداد کرکے ایذارسانی نہ کرنا

-اللہ کی رضا کے لئے مال خرچ کرنے کے بعد احسان نہ جتانا اور جسے صدقہ دیا گیا ہے اُسے نفسیاتی یا ذہنی اذیت نہ دینا

– سورۃ البقرہ/ آیت262/ الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ لَا يُتْبِعُونَ مَا أَنفَقُوا مَنًّا وَلَا أَذًى ۙ لَّهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ/ جو لوگ اپنے مال الله کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر خرچ کرنے کے بعد نہ احسان رکھتے ہیں اور نہ ستاتے ہیں انہیں کے لیے اپنے رب کے ہاں ثواب ہے اوران پر نہ کوئی ڈر ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے

-2- نرم بات کہنا اور معاف کردینا

– انسان کی نرم گوئی اور درگزر کرنا ، اِس صدقہ سے بہتر ہے جس کے بعد ایذا رسانی ہو یا تکلیف پہنچائی جائے۔ تکلیف پہنچانے سے مراد صدقہ کرنے کے بعد احسان جتانا ، تکبر کرنا اور جسے صدقہ دیا گیا ہو اُس کی تحقیر و تذلیل کرنا

-سورۃ البقرہ/آیت 263/ قَوْلٌ مَّعْرُوفٌ وَمَغْفِرَةٌ خَيْرٌ مِّن صَدَقَةٍ يَتْبَعُهَا أَذًى ۗ وَاللَّهُ غَنِيٌّ حَلِيمٌ/ مناسب بات کہہ دینا اور درگزر کرنا اس خیرات سے بہتر ہے جس کے بعد ستانا ہو اور الله بے پروا نہایت تحمل والا ہے

-3-لین دین کے معاملات کو تحریر کرنا

-ایمان والوں کو چاہیئے کہ جب بھی آپس میں لین دین کریں تو مالی معاہدہ تحریر کرکے گواہ کا اہتمام کریں۔محض زبانی کلامی سودے پہ اکتفا نہ کریں۔ زبانی معاملے میں بھول چُوک بھی ہوسکتی ہے۔ بد گمانی پیدا ہوتی ہے اور بے ایمانی کرنے والے کو موقعہ ملتا ہے

-سورۃ البقرہ/آیت 282/ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَدَايَنتُم بِدَيْنٍ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوهُ ۚ وَلْيَكْتُب بَّيْنَكُمْ كَاتِبٌ بِالْعَدْلِ ۚ وَلَا يَأْبَ كَاتِبٌ أَن يَكْتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ اللَّهُ ۚ فَلْيَكْتُبْ وَلْيُمْلِلِ الَّذِي عَلَيْهِ الْحَقُّ وَلْيَتَّقِ اللَّهَ رَبَّهُ وَلَا يَبْخَسْ مِنْهُ شَيْئًا ۚ فَإِن كَانَ الَّذِي عَلَيْهِ الْحَقُّ سَفِيهًا أَوْ ضَعِيفًا أَوْ لَا يَسْتَطِيعُ أَن يُمِلَّ هُوَ فَلْيُمْلِلْ وَلِيُّهُ بِالْعَدْلِ ۚ وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِن رِّجَالِكُمْ ۖ فَإِن لَّمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ مِمَّن تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ أَن تَضِلَّ إِحْدَاهُمَا فَتُذَكِّرَ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَىٰ ۚ وَلَا يَأْبَ الشُّهَدَاءُ إِذَا مَا دُعُوا ۚ وَلَا تَسْأَمُوا أَن تَكْتُبُوهُ صَغِيرًا أَوْ كَبِيرًا إِلَىٰ أَجَلِهِ ۚذَ‌ٰلِكُمْ أَقْسَطُ عِندَ اللَّهِ وَأَقْوَمُ لِلشَّهَادَةِ وَأَدْنَىٰ أَلَّا تَرْتَابُوا ۖ إِلَّا أَن تَكُونَ تِجَارَةً حَاضِرَةً تُدِيرُونَهَا بَيْنَكُمْ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَلَّا تَكْتُبُوهَا ۗ وَأَشْهِدُوا إِذَا تَبَايَعْتُمْ ۚ وَلَا يُضَارَّ كَاتِبٌ وَلَا شَهِيدٌ ۚ وَإِن تَفْعَلُوا فَإِنَّهُ فُسُوقٌ بِكُمْ ۗ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖوَيُعَلِّمُكُمُ اللَّهُ ۗ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ / اے ایمان والو! جب تم کسی وقت مقرر تک آپس میں ادھار کا معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو اور چاہیئے کہ تمہارے درمیان لکھنے والے انصاف سے لکھے اور لکھنے والا لکھنے سے انکار نہ کرے جیسا کہ اس کو الله نے سکھایا ہے سو اسے چاہیئے کہ لکھ دے اور وہ شخص بتلاتا جائے کہ جس پر قرض ہے اور الله سے ڈرے جو اس کا رب ہے اور اس میں کچھ کم کر کے نہ لکھائے پھر اگر وہ شخص کہ جس پر قرض ہے بے وقوف ہے یا کمزور ہے یا وہ بتلا نہیں سکتا تو اس کا کارکن ٹھیک طور پر لکھوا دے اور اپنے مردوں میں سے دو گواہ کر لیا کرو پھر اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دوعورتیں ان لوگوں میں سے جنہیں تم گواہو ں میں سے پسند کرتے ہوتاکہ اگر ایک ان میں سے بھول جائے تو دوسری اسے یاد دلا دے اور جب گواہوں کو بلایا جائے تو انکار نہ کریں اور معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا اس کی معیاد تک لکھنے میں سستی نہ کرو یہ لکھ لینا الله کے نزدیک انصاف کو زیادہ قائم رکھنے والا ہے اور شہادت کا زیادہ درست رکھنے والا ہے اور زیادہ قریب ہے اس بات کے کہ تم کسی شبہ میں نہ پڑو مگر یہ کہ سوداگری ہاتھوں ہاتھ ہو جسے آپس میں لیتے دیتے ہو پھر تم پر کوئی گناہ نہیں کہ اسے نہ لکھو اور جب آپس میں سودا کرو تو گواہ بنا لو اور لکھنے والے اور گواہ بنانے والے کو تکلیف نہ دی جائے اور اگر تم نے تکلیف دی تو تمہیں گناہ ہوگا اور الله سے ڈرو اور الله تمہیں سکھاتا ہے اور الله ہر چیز کا جاننے والا ہے

-4- نیک اور پاک اولاد کے لئے دعا کرنا

حضرت زکریا ؑ نے بڑی عاجزی کے ساتھ اللہ سے طیب ذریت کی دعا کی۔ اُن کی دعا سے یہ بات پتہ چلتی ہے کہ ایک تو اولاد کے لئے اللہ ہی سے دعا کی جائے اور اولاد کے حق میں نیکی اور صلاح کا سوال کیا جائے۔ یہی اللہ کے نبیوں کا شیوہ رہا ہے۔

-سورۃ آل عمران/ آیت 38/ هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهُ ۖ قَالَ رَبِّ هَبْ لِي مِن لَّدُنكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً ۖ إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ/ زکریا نے وہیں اپنے رب سے دعا کی کہا اے میرے رب! مجھے اپنے پاس سے پاکیزہ اولاد عطا فرما بے شک تو دعا کا سننے والا ہے۔

-1- Spending wealth on the needy without hurting or teasing. Quran stops a Muslim to follow a favor with discriminating, mentioning or insult. Quran says: Albaqara/262/ Those who spend their wealth in the Cause of Allah, and do not follow up their gifts with reminders of their generosity or with injury, their reward is with their Lord. On them shall be no fear, nor shall they grieve.

-2- A Muslim must be soft spoken and forgiving. A softly spoken word is better than an insulting favor. Quran says: Albaqara/ 263/ Kind words and forgiving of faults are better than Sadaqah (charity) followed by injury. And Allah is Rich (Free of all needs) and He is Most-Forbearing.

-3- Any financial deals with delayed time limits must documented in a written form with the presence of two male witnesses, in case two males are not available then two females and one male will do the same. It will not be sinful if urgent deals are not written, that are carried out, on the spot. Quran says: Albaqara/282/ O you who believe! When you contract a debt for a fixed period, write it down. Let a scribe write it down in justice between you. Let not the scribe refuse to write as Allah has taught him, so let him write. Let him (the debtor) who incurs the liability dictate, and he must fear Allah, his Lord, and diminish not anything of what he owes. But if the debtor is of poor understanding, or weak, or is unable to dictate for himself, then let his guardian dictate in justice. And get two witnesses out of your own men. And if there are not two men (available), then a man and two women, such as you agree for witnesses, so that if one of them (two women) errs, the other can remind her. And the witnesses should not refuse when they are called (for evidence). You should not become weary to write it (your contract), whether it be small or big, for its fixed term, that is more just with Allah; more solid as evidence, and more convenient to prevent doubts among yourselves, save when it is a present trade which you carry out on the spot among yourselves, then there is no sin on you if you do not write it down. But take witnesses whenever you make a commercial contract. Let neither scribe nor witness suffer any harm, but if you do (such harm), it would be wickedness in you. So be afraid of Allah; and Allah teaches you. And Allah is the All-Knower of each and everything.

-4- A Muslim must ask only Allah for righteous kids, the question must include righteousness and nobility for the kid. Quran tells us that the messenger of Allah, Zikriya, peace be upon him, asked Allah for the offspring. Quran says: Aal e Imran/38/ There did Zakariya pray to his Lord; he said: My Lord! grant me from Thee good offspring; surely Thou art the Hearer of prayer.