PART 22: A little effort to put down some good qualities of a character, described by the Holy Qura’an

٭ قُرآنِ پاک میں بیان کردہ شخصی اوصاف میں سے چند ایک ، اختصار کے ساتھ، حصہ 22

PART 22: A little effort to put down some good qualities of a character, described by the Holy Qura’an

-پارہ 22-

-1- انسان میں، خواہ مرد ہو یا عورت،یہ صفات ہونی چاہیئں کہ مسلمان ہو، مومن ہو، قناعت پسند ہو، صدقہ کرنے والا ہو، صابر، عاجز، سچا، روزے رکھنے والا، پاکباز اور اللہ کا ذکر کرنے والا ہو۔
-سورۃ احزاب/35

– إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْقَانِتِينَ وَالْقَانِتَاتِ وَالصَّادِقِينَ وَالصَّادِقَاتِ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِرَاتِ وَالْخَاشِعِينَ وَالْخَاشِعَاتِ وَالْمُتَصَدِّقِينَ وَالْمُتَصَدِّقَاتِ وَالصَّائِمِينَ وَالصَّائِمَاتِ وَالْحَافِظِينَ فُرُوجَهُمْ وَالْحَافِظَاتِ وَالذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا

– ترجمہ: بیشک الله نے مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں اور ایمان دار مردوں اور ایماندار عورتوں اور فرمانبردار مردوں اور فرمانبردارعورتوں اور سچے مردوں اور سچی عورتوں اور صبر کرنے والے مردوں اور صبر کرنے والی عورتوں اور عاجزی کرنے والے مردوں اور عاجزی کرنے والی عورتوں اور خیرات کرنے والے مردوں اور خیرات کرنے والی عورتوں اور روزہ دار مردوں اور روزدار عورتوں اور پاک دامن مردوں اور پاک دامن عورتوں اور الله کو بہت یاد کرنے والے مردوں اور بہت یاد کرنے والی عورتوں کے لیے بخشش اور بڑا اجر تیار کیا ہے

-2- سیدھی اور سچی بات کریں۔
-سورۃ الاحزاب/70

– يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا

– ترجمہ: اے ایمان والو الله سے ڈرو اور ٹھیک بات کیا کرو۔

-3- اللہ کی نعمتوں کا تذکرہ کیا جائے۔ انسان خود کو یاد دہانی کرواتا رہے۔
– سورۃ الفاطر/ 3

– يَاأَيُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ ۚ هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَيْرُ اللَّهِ يَرْزُقُكُم مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ۚ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ فَأَنَّىٰ تُؤْفَكُونَ۔

– ترجمہ: اے لوگو الله کے اس احسان کو یاد کرو جو تم پر ہے بھلا الله کے سوا کوئی اور بھی خالق ہے جو تمہیں آسمان اور زمین سے روزی دیتا ہو اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں پھر کہاں الٹے جا رہے ہو۔

-4- خوش کلامی اور اچھے کام اللہ کو پسند ہیں۔
– سورۃ الفاطر/ 10

– مَن كَانَ يُرِيدُ الْعِزَّةَ فَلِلَّهِ الْعِزَّةُ جَمِيعًا ۚ إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ ۚ وَالَّذِينَ يَمْكُرُونَ السَّيِّئَاتِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ ۖ وَمَكْرُ أُولَـٰئِكَ هُوَ يَبُورُ۔

– ترجمہ: جو شخص عزت چاہتا ہو سو الله ہی کے لیے سب عزت ہے اسی کی طرف سب پاکیزہ باتیں چڑھتی ہیں اور نیک عمل اس کو بلند کرتا ہے اور جو لوگ بری تدبیریں کرتے ہیں انہی کے لیے سخت عذاب ہے اوران کی بری تدبیر ہی برباد ہو گی۔

-5- کوئی کسی دوسرے کے عمل کا جوابدہ نہیں ہے چنانچہ دوسروں کی عیب جوئی کی جگہ اپنے آپ پر توجہ مرکوز رکھیں۔ کسی دوسرے کے لئے ایک بار بتانا لازم ہے اُس کے بعد انسان یکسوئی سے اپنے عمل پر توجہ دے۔
– سورۃ الفاطر/18

– وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ ۚ وَإِن تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلَىٰ حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَىٰ ۗ إِنَّمَا تُنذِرُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُم بِالْغَيْبِ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ ۚ وَمَن تَزَكَّىٰ فَإِنَّمَا يَتَزَكَّىٰ لِنَفْسِهِ ۚ وَإِلَى اللَّهِ الْمَصِيرُ۔

– ترجمہ: اور کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور اگر کوئی بوجھ والا اپنے بوجھ کی طرف بلائے گا تو اس کے بوجھ میں سے کچھ بھی اٹھایا نہ جائے گا اگرچہ قریبی رشتہ داری ہو بے شک آپ انہیں لوگوں کو ڈراتے ہیں جو بن دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور جو پاک ہوتا ہے سو وہ اپنے ہی لیے پا ک ہوتا ہے اور الله ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

Part 22:

-1- Significant and rewarding traits should be icluded in the character:
AlQuran/ Alahzaab/ 35/ Indeed, the Muslim men and Muslim women, the believing men and believing women, the obedient men and obedient women, the truthful men and truthful women, the patient men and patient women, the humble men and humble women, the charitable men and charitable women, the fasting men and fasting women, the men who guard their private parts and the women who do so, and the men who remember Allah often and the women who do so – for them Allah has prepared forgiveness and a great reward.

-2- To be truthful and straightforward:
AlQuran/ Alahzaab/ 70/ O you who believe! Keep your duty to Allah and fear Him, and speak (always) the truth.

-3- Always remember and pay gratitude for blessings:
AlQuran/ Alfaatir/ 3/ O mankind! Remember the Grace of Allah upon you! Is there any creator other than Allah who provides for you from the sky (rain) and the earth? La ilaha illa Huwa (none has the right to be worshipped but He). How then are you turning away (from Him)?

-4- Speaking good and working righteous:
AlQuran/ Alfaatir/ 10/ Whoever desires honor [through power] – then to Allah belongs all honor. To Him ascends good speech, and righteous work raises it. But they who plot evil deeds will have a severe punishment, and the plotting of those – it will perish.

-5- Everyone is responsible for its own deeds:
AlQuran/ Alfaatir/ 18/ And no bearer of burdens will bear the burden of another. And if a heavily laden soul calls [another] to [carry some of] its load, nothing of it will be carried, even if he should be a close relative. You can only warn those who fear their Lord unseen and have established prayer. And whoever purifies himself only purifies himself for [the benefit of] his soul. And to Allah is the [final] destination.

https://www.searchtruth.com/chapter_display_all.php?chapter=35&from_verse=3&to_verse=18&mac=&translation_setting=1&show_transliteration=1&show_yusufali=1&show_mkhan=1&show_saheeh=1&show_urdu=1

PART 21: A little effort to put down some good qualities of a character, described by the Holy Qura’an

٭ قُرآنِ پاک میں بیان کردہ شخصی اوصاف میں سے چند ایک ، اختصار کے ساتھ، حصہ 21

PART 21: A little effort to put down some good qualities of a character, described by the Holy Qura’an

-پارہ21ـ

-1-دیگر مذاہب کے لوگوں کے ساتھ بداخلاقی نہ برتی جائے اور کسی بات پر اختلاف ہو تو اپنی راہ لیں۔
-سورۃ العنکبوت/46

-وَلَا تُجَادِلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِلَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ ۖ وَقُولُوا آمَنَّا بِالَّذِي أُنزِلَ إِلَيْنَا وَأُنزِلَ إِلَيْكُمْ وَإِلَـٰهُنَا وَإِلَـٰهُكُمْ وَاحِدٌ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ

– ترجمہ: اور اہل کتاب سے نہ جھگڑو مگر ایسے طریقے سے جو عمدہ ہو مگر جو ان میں بے انصاف ہیں اور کہہ دو ہم اس پر ایمان لائے جو ہماری طرف نازل کیا گیا اور تمہاری طرف نازل کیا گیا اور ہمارا اور تمہارا معبود ایک ہی ہے اور ہم اسی کے فرمانبردار ہونے والے ہیں۔

-2- سوچنے اور غور و فکر کی عادت پیدا کی جائے۔
اپنی خلقت، اور اپنے بارے میں سوچیں کہ انسان کے اپنے اندر اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں۔
-سورۃ الروم/8

-أَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوا فِي أَنفُسِهِم ۗ مَّا خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا إِلَّا بِالْحَقِّ وَأَجَلٍ مُّسَمًّى ۗ وَإِنَّ كَثِيرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَاءِ رَبِّهِمْ لَكَافِرُونَ

– ترجمہ: کیا وہ اپنے دل میں خیال نہیں کرتے کہ الله نے آسمانوں اور زمین کواور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے عمدگی سے اور وقت مقرر تک کے لیے بنایا ہے اور بے شک بہت سے لوگ اپنے رب سے ملنے کے منکر ہیں۔

-3- میاں بیوی کے تعلق میں مودت اور رحمت کا معاملہ ہی سکون دیتا ہے(کیونکہ یہ اللہ کی کارسازی ہے کہ وہ نکاح کے بعد دلوں میں اُنس پیدا کردیتا ہے۔)
-سورۃ الروم/21

-وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً ۚ إِنَّ فِي ذَ‌ٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ

-ترجمہ: اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ تمہارے لیے تمہیں میں سے بیویاں پیدا کیں تاکہ ان کے پاس چین سے رہو اور تمہارے درمیان محبت اور مہربانی پیدا کر دی جو لوگ غور کرتے ہیں ان کے لیے اس میں نشانیاں ہیں۔

-4- مخلوقِ خدا کو زبان اور رنگ کی بنیاد پر برتر یا کمتر نہ سمجھا جائے (مخلوق میں مختلف رنگ و نسل اور لب ولہجے کا فرق بھی اللہ تعالیٰ کی نشانی ہے۔)
– سورۃ الروم/22

– وَمِنْ آيَاتِهِ خَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوَانِكُمْ ۚ إِنَّ فِي ذَ‌ٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّلْعَالِمِينَ۔

– ترجمہ: اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا اور تمہاری زبانوں اور رنگتوں کا مختلف ہونا ہے بے شک اس میں علم والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔

-5- قرابت داروں کے حقوق ادا کئے جائیں، مساکین اور مسافروں سے اچھا معاملہ کریں۔ یہ اللہ کو راضی کرنے والی بات ہے۔
-سورۃ الروم/38

– فَآتِ ذَا الْقُرْبَىٰ حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ ۚ ذَ‌ٰلِكَ خَيْرٌ لِّلَّذِينَ يُرِيدُونَ وَجْهَ اللَّهِ ۖ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ

– ترجمہ: پھر رشتہ دار اور محتاج اور مسافر کو اس کا حق دے یہ بہتر ہے ان کے لیے جو الله کی رضا چاہتے ہیں اور وہی نجات پانے والے ہیں۔

-6- عاجزی سے نرم چال چلیں اور دھیمی آواز میں بات کرنے کا طریقہ اپنائیں۔
-سورۃ لقمان/19

-وَاقْصِدْ فِي مَشْيِكَ وَاغْضُضْ مِن صَوْتِكَ ۚ إِنَّ أَنكَرَ الْأَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِيرِ

– ترجمہ: اور اپنے چلنے میں میانہ روی اختیار کر اور اپنی آواز پست کر بے شک آوازوں میں سب سے بری آواز گدھوں کی ہے۔

Part 21:

-1- Do not dispute with the People of the Book:
AlQuran/ Alankaboot/ 46/ And do not argue with the People of the Scripture except in a way that is best, except for those who commit injustice among them, and say, “We believe in that which has been revealed to us and revealed to you. And our God and your God is one; and we are Muslims [in submission] to Him.”

-2- Think about one’s creation:
AlQuran/ Alroom/ 8/ Do they not think deeply (in their ownselves) about themselves (how Allah created them from nothing, and similarly He will resurrect them)? Allah has created not the heavens and the earth, and all that is between them, except with truth and for an appointed term. And indeed many of mankind deny the Meeting with their Lord. [Tafsir At-Tabari].

-3- Affection and mercy among the couples is His blessing:
AlQuran/ Alroom/ 21/ And of His signs is that He created for you from yourselves mates that you may find tranquillity in them; and He placed between you affection and mercy. Indeed in that are signs for a people who give thought.

-4- Diversity of languages and colours is His sign:
AlQuran/ Alroom/ 22/ And of His signs is the creation of the heavens and the earth and the diversity of your languages and your colors. Indeed in that are signs for those of knowledge.

-5- Paying (help) dues to the passenger, relative and the needy:
AlQuran/ Alroom/ 38/ So give the relative his right, as well as the needy and the traveler. That is best for those who desire the countenance of Allah, and it is they who will be the successful.

-6- Walk moderately and speak softly:
AlQuran/ luqman/ 19/ And be moderate in your pace and lower your voice; indeed, the most disagreeable of sounds is the voice of donkeys.”
Ref: https://www.searchtruth.com/chapter_display_all.php

PART 20: A little effort to put down some good qualities of a character, described by the Holy Qura’an

قُرآنِ پاک میں بیان کردہ شخصی اوصاف میں سے چند ایک ، اختصار کے ساتھ، حصہ 20

PART 20: A little effort to put down some good qualities of a character, described by the Holy Qura’an.

-پارہ 20-
-1-اچھا گمان رکھیں۔
چیونٹی کی مثال دی گئی ہے کہ اُس نے حضرت سلیمان کے لشکر کے بارے میں اچھا گمان کیا۔ اپنی ساتھی چیونٹیوں سے یہ کہا کہ اپنے بلوں میں چلی جائیں، ایسا نہ ہو کہ لشکر بےخبری میں انہیں پاؤں تلے روند دے۔
-سورۃ النمل/18

-حَتَّىٰ إِذَا أَتَوْا عَلَىٰ وَادِ النَّمْلِ قَالَتْ نَمْلَةٌ يَا أَيُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوا مَسَاكِنَكُمْ لَا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمَانُ وَجُنُودُهُ وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ

-ترجمہ: یہاں تک کہ جب چیونٹیوں کے میدان پر پہنچے ایک چیونٹی نے کہا اے چیونٹیو اپنے گھروں میں گھس جاؤ تمہیں سلیمان اور اس کی فوجیں نہ پیس ڈالیں اور انہیں خبر بھی نہ ہو۔

-2- اللہ کی ہر نعمت پر خوش ہونا چاہیے اور شکر کی توفیق طلب کرنی چاہیے۔
-سورۃ النمل/19

-فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّن قَوْلِهَا وَقَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَأَدْخِلْنِي بِرَحْمَتِكَ فِي عِبَادِكَ الصَّالِحِينَ

-ترجمہ: پھر اس کی بات سے مسکرا کر ہنس پڑا اور کہا اے میرے رب مجھے توفیق دے کہ میں تیرے احسان کا شکر کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیا اور یہ کہ میں نیک کام کروں جوتو پسند کرے اور مجھے اپنی رحمت سے اپنے نیک بندوں میں شامل کر لے۔

-3- بیرونی حملہ آور کسی بستی میں بدامنی اور بےعزتی کا سبب بنتے ہیں لہذاٰ اپنی سالمیت کی حفاظت کریں۔
سورۃ النمل/34

-قَالَتْ إِنَّ الْمُلُوكَ إِذَا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوهَا وَجَعَلُوا أَعِزَّةَ أَهْلِهَا أَذِلَّةً ۖ وَكَذَ‌ٰلِكَ يَفْعَلُونَ

-ترجمہ: کہنے لگی بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں اسے خراب کر دیتے ہیں اور وہاں کے سرداروں کو بے عزت کرتے ہیں اور ایسا ہی کریں گے۔

-4- اضطراری حالت میں صرف اللہ ہی کی مدد طلب کرنی چاہیے۔
-سورۃ النمل/62

-أَمَّن يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ ۗ أَإِلَـٰهٌ مَّعَ اللَّهِ ۚ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ

-ترجمہ: بھلا کون ہے جوبے قرار کی دعا قبول کرتا ہے اوربرائی کو دور کرتا ہے اور تمہیں زمین میں نائب بناتا ہے کیا الله کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے تم بہت ہی کم سمجھتے ہو۔

-5- مشکل وقت انسان کی پرکھ کے لئے آتے ہیں۔ ایمان کی پرکھ فتنوں کی صورت میں ہوتی ہے۔ انسان کو دلجمعی سے مشکل وقت کا سامنا کرنا چاہیے۔
-سورۃ العنکبوت/2

-وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۖ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذِينَ صَدَقُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِينَ

-ترجمہ: اور جو لوگ ان سے پہلے گزر چکے ہیں ہم نے انہیں بھی آزمایا تھا سو الله انہیں ضرور معلوم کرے گا جو سچے ہیں اور ان کو بھی جو جھوٹے ہیں۔

-6- والدین سے اچھا سلوک کریں۔ اگر وہ برائی کا حکم دیں تو بھی حسنِ سلوک سے منع کریں۔
-سورۃ العنکبوت/8

– وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا ۖ وَإِن جَاهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا ۚ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ

-ترجمہ: اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا ہے اور اگر وہ تجھے اس بات پر مجبور کریں کہ تو میرے ساتھ اسے شریک بنائے جسے تو جانتا بھی نہیں تو ان کا کہنا نہ مان تم سب نے لوٹ کرمیرے ہاں ہی آنا ہے تب میں تمہیں بتا دوں گا جو کچھ تم کرتے تھے۔

Part 20:

-1- Always keep positive perception:
AlQuran/ Alnamal/ 18: Until, when they came upon the valley of the ants, an ant said, “O ants, enter your dwellings that you not be crushed by Solomon and his soldiers while they perceive not.”

-2- Be thankful for Allah’s blessings:
AlQuran/ Alnamal/ 19: So [Solomon] smiled, amused at her speech, and said, “My Lord, enable me to be grateful for Your favor which You have bestowed upon me and upon my parents and to do righteousness of which You approve. And admit me by Your mercy into [the ranks of] Your righteous servants.”

-3- External invaders do ruin the peace of place they step in:
AlQuran/ Alnamal/ 34: She said, “Indeed kings – when they enter a city, they ruin it and render the honored of its people humbled. And thus do they do.

-4- A desperate person surely finds an answer to his call from Allah:
AlQuran/ Alnamal/ 62: Is He [not best] who responds to the desperate one when he calls upon Him and removes evil and makes you inheritors of the earth? Is there a deity with Allah? Little do you remember.

-5- Trials come to test us:
AlQuran/ Alankaboot/ 2: Do people think that they will be left alone because they say: “We believe,” and will not be tested.

-6- Behave in good manners with parents:
AlQuran/ Alankaboot/ 8: And We have enjoined upon man goodness to parents. But if they endeavor to make you associate with Me that of which you have no knowledge, do not obey them. To Me is your return, and I will inform you about what you used to do.

Ref: https://www.searchtruth.com/chapter_display_all.php

Part 19: A little effort to put down some good qualities of a character, described by the Holy Qura’an

٭ قُرآنِ پاک میں بیان کردہ شخصی اوصاف میں سے چند ایک ، اختصار کے ساتھ، حصہ 19

Part 19: A little effort to put down some good qualities of a character, described by the Holy Qura’an.

-پارہ 19-
-1- زمین پر دھیرے چلیں اور کم علم یا جاہل لوگوں کے ساتھ بات بڑھانے کی بجائے سلام پر اکتفا کریں۔
-سورۃ الفرقان/ 63

– وَعِبَادُ الرَّحْمَـٰنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا

-ترجمہ: اور رحمنٰ کے بندے وہ ہیں جو زمین پردبے پاؤں چلتے ہیں اورجب ان سے بے سمجھ لوگ بات کریں تو کہتے ہیں سلام ہے۔

-2- رات کی تنہائی میں رب کی عبادت کریں۔
-سورۃ الفرقان/ 64

– وَالَّذِينَ يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَقِيَامًا

-ترجمہ: اور وہ لوگ جو اپنے رب کے سامنے سجدہ میں اور کھڑے ہوکر رات گزارتے ہیں۔

-3- مال خرچ کرتے ہوئے فضول خرچی اور کنجوسی سے بچیں۔
-سورۃ الفرقان/ 67

– وَالَّذِينَ إِذَا أَنفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوا وَلَمْ يَقْتُرُوا وَكَانَ بَيْنَ ذَ‌ٰلِكَ قَوَامًا

-ترجمہ: اوروہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو فضول خرچی نہیں کرتے اور نہ تنگی کرتے ہیں اور ان کا خرچ ان دونوں کے درمیان اعتدال پر ہوتا ہے۔

Part 19:

1- Walk on earth humbly and ignore the fools:
AlQuran / Alfurqan/ 63: And the servants of the Most Merciful are those who walk upon the earth easily, and when the ignorant address them [harshly], they say [words of] peace.

2- One must spend the night in adoration:
AlQuran/ Alfurqan/ 64: And those who spend [part of] the night to their Lord prostrating and standing [in prayer].

3- Spend, neither extravagant nor sparingly, but hold the medium way:
AlQuran/ Alfurqan/ 67: And [they are] those who, when they spend, do so not excessively or sparingly but are ever, between that, [justly] moderate.

Ref: https://www.searchtruth.com/chapter_display_all.php

Part 18: A little effort to put down some good qualities of a character, described by the Holy Qura’an.

قُرآنِ پاک میں بیان کردہ شخصی اوصاف میں سے چند ایک ، اختصار کے ساتھ، حصہ اٹھارہ

Part 18: A little effort to put down some good qualities of a character, described by the Holy Qura’an.

-پارہ 18-

-1- بھلائی کے کاموں میں آگے آگے ہونا:
– سورۂ مومنون/61/

أُولَـٰئِكَ يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَهُمْ لَهَا سَابِقُونَ-

-ترجمہ: یہی لوگ نیک کامو ں میں جلدی کرتے ہیں اور وہی نیکیوں میں آگے بڑھنے والے ہیں۔

-2- برائی کا جواب بھی بھلائی سے دیا جائے۔
-سورۂ مومنون/96/

-ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ السَّيِّئَةَ ۚ نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَصِفُونَ

– ترجمہ: بری بات کے جواب میں وہ کہو جو بہتر ہے ہم خوب جانتے ہیں جو یہ بیان کرتے ہیں۔
-3- نیک پاک عورتوں پر تہمت لگانے سے باز رہنا۔
-سورۂ نور/23/

-إِنَّ الَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ لُعِنُوا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ۔

-ترجمہ: جو لوگ پاک دامنوں بے خبرایمان والیوں پر تہمت لگاتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت ہے اوران کے لیےبڑا عذاب ہے۔
-4-پرائے گھر میں بلا اجازت داخل نہ ہوں، دوسرے کی پرائیویسی کا لحاظ کریں۔
-سورۂ نور/27/

-يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ بُيُوتِكُمْ حَتَّىٰ تَسْتَأْنِسُوا وَتُسَلِّمُوا عَلَىٰ أَهْلِهَا ۚ ذَ‌ٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ

-ترجمہ: اے ایمان والو اپنے گھروں کے سوا اور کسی کے گھروں میں نہ جایا کرو جب تک اجازت نہ لے لو او رگھر والوں پر سلام نہ کر لو یہ تمہارے لیے بہتر ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔
-5- کوئی اپنے گھر سے واپس لوٹ جانے کا کہے تو واپس چلے آئیں۔
-سورۂ نور/28/

-فَإِن لَّمْ تَجِدُوا فِيهَا أَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوهَا حَتَّىٰ يُؤْذَنَ لَكُمْ ۖ وَإِن قِيلَ لَكُمُ ارْجِعُوا فَارْجِعُوا ۖ هُوَ أَزْكَىٰ لَكُمْ ۚ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ

-ترجمہ: پھر اگر وہاں کسی کو نہ پاؤ تو اندر نہ جاؤ جب تک کہ تمہیں اجازت نہ دی جائے اور اگر تمہیں کہا جائے کہ لوٹ جاؤ تو اپس چلے جاؤ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو الله جانتا ہے۔
-6- تجارت کے دوران بھی عبادت کی پابندی ہو اور مال کی زکاۃ بھی دی جائے۔
-سورۃ النور/37/

-رِجَالٌ لَّا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَن ذِكْرِ اللَّهِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ ۙ يَخَافُونَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيهِ الْقُلُوبُ وَالْأَبْصَارُ

-ترجمہ: ایسے آدمی جنہیں سوداگری اور خرید و فروخت الله کے ذکر اور نماز کے پڑھنے اور زکوٰة کے دینے سے غافل نہیں کرتی اس دن سے ڈرتے ہیں جس میں دل اور آنکھیں الٹ جائیں گی۔

Part 18:

-1-Always leading the good deeds:
AlQuran/ Almominoon/61: It is those who hasten to good deeds, and they outstrip [others] therein.
-2- Replying in a polite way, even to the rude talk:
AlQuran/ Almominoon/96: Repel, by [means of] what is best, [their] evil. We are most knowing of what they describe.
-3- Never to accuse a chaste lady:
AlQuran/ Alnoor/ 23: Verily, those who accuse chaste women, who never even think of anything touching their chastity and are good believers – are cursed in this life and in the Hereafter, and for them will be a great torment.
-4- Never enter a home without permission:
AlQuran/ Alnoor/ 27: O you who have believed, do not enter houses other than your own houses until you ascertain welcome and greet their inhabitants. That is best for you; perhaps you will be reminded.
-5-Return back if not welcomed or invited:
AlQuran/ Alnoor/ 28: And if you do not find anyone therein, do not enter them until permission has been given you. And if it is said to you, “Go back,” then go back; it is purer for you. And Allah is Knowing of what you do.
-6-To be mindful for prayers and charity while doing business:
AlQuran/ Alnoor/37: Men whom neither trade nor sale (business) diverts from the Remembrance of Allah (with heart and tongue), nor from performing As-Salat (Iqamat-as-Salat), nor from giving the Zakat. They fear a Day when hearts and eyes will be overturned (out of the horror of the torment of the Day of Resurrection).

Ref: https://www.searchtruth.com/chapter_display_all.php

Part 17, A little effort to put down some good qualities of a character, described by the Holy Qura’an

قُرآنِ پاک میں بیان کردہ شخصی اوصاف میں سے چند ایک ، اختصار کے ساتھ، حصہ سترہواں

Part 17, A little effort to put down some good qualities of a character, described by the Holy Qura’an

-پارہ 17-

-1- جلد بازی انسان کی فطرت میں ہے چنانچہ اِس کا منظّم کرنا لازم ہے۔
– سورۃ الانبیاء/37/

-خُلِقَ الْإِنسَانُ مِنْ عَجَلٍ ۚ سَأُرِيكُمْ آيَاتِي فَلَا تَسْتَعْجِلُونِ

-ترجمہ: آدمی جلد باز بنایا گیا ہے میں تمہیں اپنی نشانیاں ابھی دکھاتا ہوں سو جلدی مت کرو
-2- اُمت میں وحدت اور اتفاق صرف اللہ کی عبادت کے نتیجے میں پیدا ہوسکتا ہے، توحید ہی اُمت کی وحدت کی بنیاد ہے۔
-سورۃ الانبیاء/92/

-إِنَّ هَـٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُونِ

-ترجمہ: یہ لوگ تمہارے گروہ کے ہیں جو ایک ہی گروہ ہے اور میں تمہارا رب ہوں پھر میری ہی عبادت کرو
-3- جھوٹی بات سے بچو
-سورۃ الحج/30/

-ذَ‌ٰلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ حُرُمَاتِ اللَّهِ فَهُوَ خَيْرٌ لَّهُ عِندَ رَبِّهِ ۗ وَأُحِلَّتْ لَكُمُ الْأَنْعَامُ إِلَّا مَا يُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ ۖ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ

-ترجمہ: یہی حکم ہے اور جو الله کی معزز چیزوں کی تعظیم کرے گا سو یہ اس کے لیے اس کے رب کے ہاں بہتر ہے اور تمہارے لیے مویشی حلال کر دیئے گئے ہیں مگر وہ جو تمہیں پڑھ کر سنائے جاتے ہیں پھر بتوں کی ناپاکی سے بچو اور جھوٹی بات سے بھی پرہیز کرو
-4-اللہ کے ذکر سے کانپ اُٹھنے والے دل
-سورۃ الحج/35/

-الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَالصَّابِرِينَ عَلَىٰ مَا أَصَابَهُمْ وَالْمُقِيمِي الصَّلَاةِ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ

-ترجمہ: وہ لوگ جب الله کا نام لیا جائے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب ان پر مصیبت آئے تو صبر کرنے والے ہیں اور نماز قائم کرنے والے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں

Part 17

1. Human nature has some hastiness in it so this should be managed:
AlQuran/Alanbiaya/37/ 37: Man is created of haste. I will show you My Ayat (torments, proofs, evidence, verses, lessons, signs, revelations, etc.). So ask Me not to hasten (them).
2. Worshiping one Allah leads to ultimate unity in the Ummah:
AlQuran/ Alanbiaya/92/ Verily, this brotherhood of yours is a single brotherhood, and I am your Lord and Cherisher: therefore serve Me (and no other).

3. Avoid false statements:
AlQuran/ Alhajj/30/That [has been commanded], and whoever honors the sacred ordinances of Allah – it is best for him in the sight of his Lord. And permitted to you are the grazing livestock, except what is recited to you. So avoid the uncleanliness of idols and avoid false statement.

4. Hearts do fill with fear when Allah is mentioned:
AlQuran/Alhajj/35/ Who, when Allah is mentioned, their hearts are fearful, and [to] the patient over what has afflicted them, and the establishers of prayer and those who spend from what We have provided them.

Ref: https://www.searchtruth.com/chapter_display_all.php

New year 2020 سالِ نو

‎سالِ نو 2020

‎انسان کی تمام تاریخ اور ارتقاء، بہت سی لسانی اور نسلی اقسام و انواع پر مشتمل ہے۔ کرہء ارض کے اردگرد انسانی جِلد کا رنگ بدلتا چلا جاتا ہے۔انسانی تاریخ میں گُوناگوں زبانیں پائی جاتی ہیں اور خود ہر زبان کے بےشمار لہجے ہیں۔ مترجمین اور رابطہ کاروں کو ایک پیغام کو دوسری زبان اور دنیا کے دوسرے خطّے کے لئے قابلِ فہم بنانے میں بہت محنت کرنا پڑتی ہے۔ ڈب شدہ مواد کو ترجمہ کے کڑے عمل سے گزارا جاتا ہے۔ یہی معاملہ سب ٹائٹل یعنی تحریر کردہ ترجمے کا ہے۔

‎ترجمہ شدہ عالمی ادب بھی قارئین میں بہت پسندیدہ رہا ہے۔ ایک بار رنگا رنگ ادب کا ذائقہ منہ کو لگ جائے، تو پڑھنے والا بار بار اُسی لذت کی خواہش کرتا ہے۔

‎مختلف زبانوں، نسلوں اور معاشروں کو قریب لانے کے لئے ترجمے اور رابطے کی کوشش کے باوجود ہر انسان کے لئے جذبات و احساسات ، ایک سے ہیں۔

‎سب انسان ایک ہی طرح روتے ہیں۔

‎آنسوؤں کو ترجمے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کوئی بھی نسل ہو، سب کو درد ایک ہی جیسا ہوتا ہے۔ ہر انسان کے زخم سے خون ہی بہتا ہے اور دنیا کے سب انسانوں کا ، ہر فلم میں، ہر تحریر میں خون کا رنگ ، سُرخ ہی ہے۔ اِس بات سے قطع نظر کے وہ کیا زبان بولتی ہے، ہر عورت اپنے بچے کو اپنی کوکھ میں رکھ کر، درد سہہ کر، اِس دنیا میں ایک نئی زندگی کو جنم دیتی ہے۔ ہر نومولود اپنی آبائی زبان سے انجان، اپنے خاندان کے اطوار و رسوم سے بےخبر روتا ہے۔ ایک بچے کی معصوم مسکراہٹ ہمیشہ قیمتی ہوتی ہے خواہ وہ کسی زبان کا کوئی لفظ بولنا نہ جانتا ہو۔

‎نفرت، لالچ، ظلم، رحمدلی، مہربان، مسکراہٹ اور محبت ، اِن سب کی اپنی مواصلاتی علامتیں ہیں، لسانیات اور زبان دانی سے پرے

. . . . .

‎ایک اور مشترکہ عمل، جس کا سب انسانوں کو مزہ چکھنا ہے، وہ موت کا عمل ہے۔ موت کا سامنا، ہر رنگ و نسل، قبیلے، قوم، خاندان اور نسل کو ہے، خواہ خطہء ارض پہ اُن کی کوئی بھی جگہ ہو، وہ کسی بھی جگہ ہوں۔

‎سو سادہ لفظوں میں، یوں کہہ لیجیئے کہ تمام انسانوں کا اندرونی سافٹ وئیر ایک ہی ہے چاہے ظاہری، زمانی اور مکانی اعتبار سے فرق بھی ہو۔

‎اللہ سے دعا ہے کہ، یہ اعدادی تبدیلی،یعنی 2019 سے2020، بہت سا سکون، اطمئنان، امن اور خوشی لے کر آئے، جو سرحدوں، نسلوں، زبانوں اور براعظموں کے قید سے آزاد ہو۔ کیونکہ انسان، کرہء ارض پر، کہیں کا بھی ہو ، اُسے ایک ہی طرح درد ہوتا ہے، اس کا ایک ہی طرح خون بہتا ہے، وہ ایک طرح محسوس کرتا اور مسکراتا ہے۔

‎دعا ہے کہ نیا سال خوشیاں اور آسانیاں لائے

‎سب کے لئے دِلی خواہشات

‎ثروت ع ج

THE YEAR 2020

Humans are divided in a diverse variety of languages and races. Skin colors vary around the globe. There are so many languages and every language has so many accents. It needs a lot of effort in the area of translation and correspondence to convey one message from one part of world to another. Dubbed content undergoes intense translation job to meet an exact impact in the re-produced work. Same is the case with the subtitling.

Translated foreign literature is majorly favorable among the readers. Once addicted to the immense variety of world literature, one desires for more of such festivities.

Despite all those translating and conversing steps that are taken to interconnect the humans of various languages and ancestry, feelings remain the same for every single human.

All humans cry in the same way.

Tears need not to be translated. Pain is equally suffered in the same way, whatever may be the race. All they bleed in the same way and human blood is always red in every movie, and every story of every part of world. A woman holds her child in her womb and bears labor pains to originate a new life on the planet, across all the continents, regardless of what she speaks in. A newborn cries with no specification of language, not knowing what is the color of his skin and whatever could be the rituals of his family for a newborn. A child’s smile is the most precious in every part of the world, even if he don’t knows to say any single word.

Hate, greed, cruelty, jealousy, generosity, kindness, smile and love have their own communication codes, that are beyond the limitations of linguistics and languages.

Another common phenomenon, that all humans face equally, is the end of life. Death is faced by each and every tribe, nation, family and ancestry of humans, whatever may be their location on the planet.

So, in simple words, let me put down, that all humans have a similar software inside, even if the hardware, location, language is different.

May this change in digit, that is, 2019 to 2020, brings a universal tranquility, contentment, peace and happiness, transcending beyond the limits of borders, races, languages and continents, because the man hurts, bleeds, feels and smiles in the same way throughout the globe.

MAY THE NEW YEAR BE A HAPPY ONE.

MY HEARTILY WISHES FOR ALL

Sarwat AJ

بے لاگ کی تیسری سالگرہ

گویا تین سال ہونے کو آئے جب بلاگرز کی “بےلاگ” کی تقریب رونمائی عمل میں آئی۔ اچھا یہ واقعہ اپنے دامن میں بہت سے مختلف رنگ لئے ہوئے ہے۔ سب سے انوکھی بات یہ کہ بلاگر نامی مخلوق کا بنیادی وصف بےنیازی ہے۔ یعنی بلاگ لکھ اور دریا میں ڈال۔ اب پڑھنے والے کی رضا کہ وہ کیا چاہتا ہے۔ پڑھے نہ پڑھے، نوازے نہ نوازے۔ اس بات کی تائید بہت سے لوگ کریں گے کہ بلاگ پہ زبردستی کی دعوت پہ مہمان نہیں بلائے جاسکتے اور جب بھی کسی بلاگر نے اپنے مزاج میں تندی، تیزی یا پھرتی پیدا کرنے کی کوشش کی، تو اس کی بلاگی پہچان قدرے متزلزل ہوئی۔

تو اس پس منظر میں جب “بے لاگ” یعنی ایک جیتی جاگتی کتاب وجود میں آئی تو بہت سے بلاگرز کے لئے یہ ناقابل یقین بات تھی گویا واقعی سرخاب کا پر دریافت ہوگیا۔ کیونکہ بلاگ ایسی تحریر ہے جسے آپ بجلی اور انٹرنیٹ کے دوش پر پڑھ سکتے ہیں اور اس کے صفحات کے حاشیے پر کچھ لکھنے اور صفحات کے کونے موڑنے کی شاہانہ سہولت دستیاب نہیں ہوتی۔ میں نے گزشتہ سالوں میں جب بلاگنگ ابھی نومولود تھی بالخصوص ہمارے یہاں، تو ایسے سوال سنے ہیں کہ تو کہاں للھتی ہیں آپ؟ مطلب سائل کا اشارہ اس بات کی طرف ہوتا کہ ثبوت نہیں ہے۔ ٹھوس جامد ثبوت دکھایا نہیں جاسکتا۔ برقی لہروں کے دوش پر آباد دنیا کے کچھ الفاظ کاغذ پر ثبت ہوئے اور کتاب کی شکل نے جنم لیا۔ کم سے کم “بےلاگ” کا حجم اور ماہیت ایسی ہے کہ اسے بآسانی لہرا کے دکھایا جاسکتا ہے۔ رسید کے طور پر رسید بھی کیا جاسکتا ہے۔

پھر بلاگر ایسی مشین ہے جس کا اصل پراسس اس کے دماغ میں ہوتا ہے اور شاید دیکھنے والے کو ایک غیر متحرک انسانی وجود نظر آرہا ہو لیکن اس بلاگر کا دماغ پوری رفتار سے سرگرم عمل ہو۔ جملوں کی تشکیل، موضوع کا چناؤ، کاٹ چھانٹ اور امیج کی جگہ کا تعین، یہ سب کام مل کر ایسا شور کرتے ہیں گویا بڑے پیمانے کا صنعتی یونٹ چل رہا ہو۔لیکن انسان وہیں اپنی جگہ پر اپنے برقی آلے لیپ ٹاپ اور اب سمارٹ فون تک محدود رہتا ہے۔ ایسے میں بےلاگ کی تقریب رونمائی میں بلاگرز کا بنفس نفیس پہنچنا ڈیسک پر بیٹھ کر رابطہ کرنے سے بہت الگ معاملہ ہے۔ بےلاگ کی تقریب میں اردو بلاگرز سے مل کر بلاگی اخوت کا احساس ہوا کہ آخرکار یہ سب روبوٹ نہیں، ہمارے جیسے انسان ہی ہیں۔

اس کتاب کی اشاعت کا سہرا جن محترم دوستوں کے سر جاتا ہے ان کی کوششیں واقعی لائق داد تھی اور ہیں کہ انہوں نے انوکھا کام سرانجام دیا۔

ہاں اب بلاگی دنیا صرف اردو ہی نہیں ، بلکہ بالعموم بھی کچھ سست روی کا شکار ہے۔ اسباب بہت ہیں۔ جن میں ذاتی اور مجموعی اسباب دونوں ہیں۔ جیسے جو وقت بلاگ پر دنیا بینی اور قلم چلانے کے لئےمختص تھا وہ اب دیگر سماجی ایپلیکیشنز میں منقسم ہوگیا ہے۔ وقت کی قلت کے سبب اکثر سیرحاصل مطالعہ ممکن نہیں ہوتا۔ سرسری پڑھنے کا رحجان بڑھ گیا ہے۔ ایک سے دوسرے پیراگراف تک لاڈ کرنے والی تحریر کے نخرے کم ہی کوئی اٹھاتا ہے۔ یہ بات الگ قابل غور کہ جو نسل ایک تحریر کی طوالت برداشت نہیں کرسکتی وہ دلجمعی، تحمل، مستقل مزاجی، دوراندیشی اور صبر کے مطالب سے کچھ اجنبی ہوگی۔

مدعا اس تحریر کا، بےلاگ کی تقریب رونمائی اور بلاگرز کی رونمائی کو تین سال مکمل ہونے کی یادداشت

اور ساتھ ہی اہلِ بلاگ کو اس بات پر سوچنے کی دعوت کہ

1۔ ان تین سالوں میں بلاگنگ میں کیا فرق آیا؟

2۔وہ فرق جو عمومی ہے، ان بلاگز میں جو آپ پڑھتے ہیں اور

3۔وہ فرق جو آپ کے بلاگ میں آیا؟ جو بھی فرق آیا وہ کیوں آیا؟

4۔اور سب سے اہم کہ آپ اب تک اپنے بلاگ کا کوئی مقصد متعین کرپائے؟

کچھ وقت سرکنے کے بعد دنیا کو دیکھنے والی نظر میں کیا تبدیلی آئی؟

دعاؤں کے ساتھ

ثروت ع ج

Part 16, A little effort to put down some good qualities of a character, described by the Holy Qura’an

قُرآنِ پاک میں بیان کردہ شخصی اوصاف میں سے چند ایک ، اختصار کے ساتھ، سولہواں حصہ

PART 16: A little effort to put down some good qualities of a character, described by the Holy Qura’an.

-پارہ 16:

– -1ہدایت کی آرزو کرنا اور اچھے کاموں کی کوشش کرنی چاہئے

-القرآن/سورۃ مریم/76/

وَيَزِيدُ اللَّهُ الَّذِينَ اهْتَدَوْا هُدًى ۗ وَالْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ خَيْرٌ عِندَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَخَيْرٌ مَّرَدًّا

-ترجمہ: اور جو لوگ ہدایت پر ہیں الله انہیں زیادہ ہدایت دیتا ہے اور باقی رہنے والی نیکیاں تیرے رب کے نزدیک ثواب اور انجام کے لحاظ سے بہت ہی بہتر ہیں۔

-2- ایمان اور نیک کام کرنے پر وِد/مودت/محبت کا انعام عطا کیا جائے گا۔

القرآن/سورۃ مریم/96/

إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمَٰنُ وُدًّا

-ترجمہ: بے شک جو ایمان لائے اور نیک کام کیے عنقریب رحمان ان کے لیے محبت پیدا کرے گالاشبہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے الله تعالیٰ ان کے لیے محبت پیدا کر ے گا

3-شرحِ صدر کی دعا کرنی چاہئے

القرآن/سورۃ طہٰ/25/26/27/28/

-قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي۔ وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي۔ وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّن لِّسَانِي۔ يَفْقَهُوا قَوْلِي۔

-ترجمہ: (موسیٰ نے) کہا اے میرے رب میرا سینہ کھول دے۔اورمیرا کام آسان کر۔اور میری زبان سے گرہ کھول دے۔کہ میری بات سمجھ لیں۔

-4- نیک کام کرنے والے خوفزدہ نہیں رہتے۔ نیک کاموں کو اپنایا جائے تو خوف سے بچا جا سکتا ہے۔

وَمَن يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا يَخَافُ ظُلْمًا وَلَا هَضْمًا

ترجمہ: اور جو نیک کام کرے گا اور وہ مومن بھی ہو تو اسے ظلم اور حق تلفی کا کوئی خوف نہیں ہو گا

Part 16:

1- One must seek guidance, as guidance and good deeds last forever and best in respect of return.

Al Quran/Maryam/76/And Allah increases in guidance those who go aright; and ever-abiding good works are with your Lord best in recompense and best in yielding fruit.

2- Allah’s love is blessed on doing righteous deeds and on believing in Allah.

Al Quran/ Maryam /96/Lo! Those who believe and do good works, the Beneficent will appoint for them love.

3-One is taught to pray for openness of heart and mind. Allah tells Moses’ words.
Al Quran/Taa haa/25, 26, 27, 28/ (Moses) said: “O my Lord! Open for me my chest (grant me self-confidence, contentment, and boldness). “And ease my task for me; and loose the knot (the defect/ impediment) from my tongue, (i.e. remove the incorrectness from my speech) [That occurred as a result of a brand of fire which Musa (Moses) put in his mouth when he was an infant]. (Tafsir At-Tabari). “That they understand my speech.

4-Good deeds bring strength and belief.
Al Quran/Taa haa/112/And whoever does good works and he is a believer, he shall have no fear of injustice nor of the withholding of his due.

Ref: https://www.searchtruth.com/chapter_display_all.php

15th Part, A glimpse of character sketch from Quran

15th Part, A glimpse of character sketch from Quran

قُرآنِ پاک میں بیان کردہ شخصی اوصاف میں سے چند ایک ، اختصار کے ساتھ

A little effort to put down some good qualities of a character, described by the Holy Qura’an.

-پارہ 15:

-1-بےجا خرچ کی بجائے قرابت داروں، مساکین اور مسافر کا خیال رکھا جائے۔

-القرآن/الاسراء/26

-وَآتِ ذَا الْقُرْبَىٰ حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا

ترجمہ: اور رشتہ دار اور مسکین اور مسافر کو اس کا حق دے دو اور مال کو بے جا خرچ نہ کرو

-2-ناپ تول میں ایمانداری

-القرآن/الاسراء/35

– وَأَوْفُوا الْكَيْلَ إِذَا كِلْتُمْ وَزِنُوا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِيمِ ۚ ذَ‌ٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا

-ترجمہ: اور ناپ تول کر دو تو پورا ناپو اور صحیح ترازو سے تول کر دو یہ بہتر ہے اور انجام بھی اس کا اچھا ہے

-3-غیریقینی بات اور ناقص معلومات کی بنیاد پر کوئی موقف نہ لیا جائے

القرآن/الاسراء/36/ وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ ۚ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَـٰئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا

-ترجمہ: اورجس بات کی تجھے خبر نہیں اس کے پیچھے نہ پڑ بے شک کان اورآنکھ اور دل ہر ایک سے باز پرس ہو گی

-4-غرور نہ کیاجائے اور اپنی چال ڈھال میں عاجزی اختیار کی جائے۔

-القرآن/الاسراء/37/ وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا ۖ إِنَّكَ لَن تَخْرِقَ الْأَرْضَ وَلَن تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُولًا

-ترجمہ: اور زمین پر اتراتا ہوا نہ چل بے شک تو نہ زمین کو پھاڑ ڈالے گا او رنہ لمبائی میں پہاڑوں تک پہنچے گا

-5-اچھی اور مثبت بات کی جائے، غلط بات کے ذریعے شیطان اختلافات اور ناچاقیاں پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

-القرآن/الاسراء/53/ وَقُل لِّعِبَادِي يَقُولُوا الَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ۚ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنزَغُ بَيْنَهُمْ ۚ إِنَّ الشَّيْطَانَ كَانَ لِلْإِنسَانِ عَدُوًّا مُّبِينًا

ترجمہ: اور میرے بندوں سے کہہ دو کہ وہی بات کہیں جو بہتر ہو بےشک شیطان آپس میں لڑا دیتا ہے بے شک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے

-اللہ کے بندوں کاساتھ اپنایا جائے

-القرآن/الکھف/28/ وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ ۖ وَلَا تَعْدُ عَيْنَاكَ عَنْهُمْ تُرِيدُ زِينَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ وَلَا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَن ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُطًا

-ترجمہ: تو ان لوگو ں کی صحبت میں رہ جو صبح اور شام اپنے رب کو پکارتے ہیں اسی کی رضا مندی چاہتے ہیں اور تو اپنی آنکھوں کو ان سے نہ ہٹا کہ دنیا کی زندگی کی زینت تلاش کرنے لگ جائے اور اس شخص کا کہنا نہ مان جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیاہے اور اپنی خواہش کے تابع ہو گیا ہے اور ا سکا معاملہ حد سے گزر ا ہوا ہے

Part 15:

  1. One must take care of relatives, poor and passenger.

Al Quran/alasraa/26/ And give to the near of kin his due and (to) the needy and the wayfarer, and do not squander wastefully.

  1. Measure right and honest

Al Quran/alasraa/35/ And give full measure when you measure, and weigh with a balance that is straight. That is good (advantageous) and better in the end.

  1. Stop and don’t follow rumors

AL Quran/ alasraa/36/ And follow not that of which you have not the knowledge; surely the hearing and the sight and the heart, all of these, shall be questioned about that.

  1. Be humble and abandon pride

Al Quran/ alasraa/37/ And walk not on the earth with conceit and arrogance. Verily, you can neither rend nor penetrate the earth, nor can you attain a stature like the mountains in height.

  1. Be positive, negativity brings many wrongs

Al Quran/ alasraa/53/ And say to My servants (that) they speak that which is best; surely the Shaitan sows dissensions among them; surely the Shaitan is an open enemy to man

6.Keep a good company

Al Quran/ alkahaf/28/ And withhold yourself with those who call on their Lord morning and evening desiring His goodwill, and let not your eyes pass from them, desiring the beauties of this world’s life; and do not follow him whose heart We have made unmindful to Our remembrance, and he follows his low desires and his case is one in which due bounds are exceeded.