New year 2020 سالِ نو

‎سالِ نو 2020

‎انسان کی تمام تاریخ اور ارتقاء، بہت سی لسانی اور نسلی اقسام و انواع پر مشتمل ہے۔ کرہء ارض کے اردگرد انسانی جِلد کا رنگ بدلتا چلا جاتا ہے۔انسانی تاریخ میں گُوناگوں زبانیں پائی جاتی ہیں اور خود ہر زبان کے بےشمار لہجے ہیں۔ مترجمین اور رابطہ کاروں کو ایک پیغام کو دوسری زبان اور دنیا کے دوسرے خطّے کے لئے قابلِ فہم بنانے میں بہت محنت کرنا پڑتی ہے۔ ڈب شدہ مواد کو ترجمہ کے کڑے عمل سے گزارا جاتا ہے۔ یہی معاملہ سب ٹائٹل یعنی تحریر کردہ ترجمے کا ہے۔

‎ترجمہ شدہ عالمی ادب بھی قارئین میں بہت پسندیدہ رہا ہے۔ ایک بار رنگا رنگ ادب کا ذائقہ منہ کو لگ جائے، تو پڑھنے والا بار بار اُسی لذت کی خواہش کرتا ہے۔

‎مختلف زبانوں، نسلوں اور معاشروں کو قریب لانے کے لئے ترجمے اور رابطے کی کوشش کے باوجود ہر انسان کے لئے جذبات و احساسات ، ایک سے ہیں۔

‎سب انسان ایک ہی طرح روتے ہیں۔

‎آنسوؤں کو ترجمے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کوئی بھی نسل ہو، سب کو درد ایک ہی جیسا ہوتا ہے۔ ہر انسان کے زخم سے خون ہی بہتا ہے اور دنیا کے سب انسانوں کا ، ہر فلم میں، ہر تحریر میں خون کا رنگ ، سُرخ ہی ہے۔ اِس بات سے قطع نظر کے وہ کیا زبان بولتی ہے، ہر عورت اپنے بچے کو اپنی کوکھ میں رکھ کر، درد سہہ کر، اِس دنیا میں ایک نئی زندگی کو جنم دیتی ہے۔ ہر نومولود اپنی آبائی زبان سے انجان، اپنے خاندان کے اطوار و رسوم سے بےخبر روتا ہے۔ ایک بچے کی معصوم مسکراہٹ ہمیشہ قیمتی ہوتی ہے خواہ وہ کسی زبان کا کوئی لفظ بولنا نہ جانتا ہو۔

‎نفرت، لالچ، ظلم، رحمدلی، مہربان، مسکراہٹ اور محبت ، اِن سب کی اپنی مواصلاتی علامتیں ہیں، لسانیات اور زبان دانی سے پرے

. . . . .

‎ایک اور مشترکہ عمل، جس کا سب انسانوں کو مزہ چکھنا ہے، وہ موت کا عمل ہے۔ موت کا سامنا، ہر رنگ و نسل، قبیلے، قوم، خاندان اور نسل کو ہے، خواہ خطہء ارض پہ اُن کی کوئی بھی جگہ ہو، وہ کسی بھی جگہ ہوں۔

‎سو سادہ لفظوں میں، یوں کہہ لیجیئے کہ تمام انسانوں کا اندرونی سافٹ وئیر ایک ہی ہے چاہے ظاہری، زمانی اور مکانی اعتبار سے فرق بھی ہو۔

‎اللہ سے دعا ہے کہ، یہ اعدادی تبدیلی،یعنی 2019 سے2020، بہت سا سکون، اطمئنان، امن اور خوشی لے کر آئے، جو سرحدوں، نسلوں، زبانوں اور براعظموں کے قید سے آزاد ہو۔ کیونکہ انسان، کرہء ارض پر، کہیں کا بھی ہو ، اُسے ایک ہی طرح درد ہوتا ہے، اس کا ایک ہی طرح خون بہتا ہے، وہ ایک طرح محسوس کرتا اور مسکراتا ہے۔

‎دعا ہے کہ نیا سال خوشیاں اور آسانیاں لائے

‎سب کے لئے دِلی خواہشات

‎ثروت ع ج

THE YEAR 2020

Humans are divided in a diverse variety of languages and races. Skin colors vary around the globe. There are so many languages and every language has so many accents. It needs a lot of effort in the area of translation and correspondence to convey one message from one part of world to another. Dubbed content undergoes intense translation job to meet an exact impact in the re-produced work. Same is the case with the subtitling.

Translated foreign literature is majorly favorable among the readers. Once addicted to the immense variety of world literature, one desires for more of such festivities.

Despite all those translating and conversing steps that are taken to interconnect the humans of various languages and ancestry, feelings remain the same for every single human.

All humans cry in the same way.

Tears need not to be translated. Pain is equally suffered in the same way, whatever may be the race. All they bleed in the same way and human blood is always red in every movie, and every story of every part of world. A woman holds her child in her womb and bears labor pains to originate a new life on the planet, across all the continents, regardless of what she speaks in. A newborn cries with no specification of language, not knowing what is the color of his skin and whatever could be the rituals of his family for a newborn. A child’s smile is the most precious in every part of the world, even if he don’t knows to say any single word.

Hate, greed, cruelty, jealousy, generosity, kindness, smile and love have their own communication codes, that are beyond the limitations of linguistics and languages.

Another common phenomenon, that all humans face equally, is the end of life. Death is faced by each and every tribe, nation, family and ancestry of humans, whatever may be their location on the planet.

So, in simple words, let me put down, that all humans have a similar software inside, even if the hardware, location, language is different.

May this change in digit, that is, 2019 to 2020, brings a universal tranquility, contentment, peace and happiness, transcending beyond the limits of borders, races, languages and continents, because the man hurts, bleeds, feels and smiles in the same way throughout the globe.

MAY THE NEW YEAR BE A HAPPY ONE.

MY HEARTILY WISHES FOR ALL

Sarwat AJ

بے لاگ کی تیسری سالگرہ

گویا تین سال ہونے کو آئے جب بلاگرز کی “بےلاگ” کی تقریب رونمائی عمل میں آئی۔ اچھا یہ واقعہ اپنے دامن میں بہت سے مختلف رنگ لئے ہوئے ہے۔ سب سے انوکھی بات یہ کہ بلاگر نامی مخلوق کا بنیادی وصف بےنیازی ہے۔ یعنی بلاگ لکھ اور دریا میں ڈال۔ اب پڑھنے والے کی رضا کہ وہ کیا چاہتا ہے۔ پڑھے نہ پڑھے، نوازے نہ نوازے۔ اس بات کی تائید بہت سے لوگ کریں گے کہ بلاگ پہ زبردستی کی دعوت پہ مہمان نہیں بلائے جاسکتے اور جب بھی کسی بلاگر نے اپنے مزاج میں تندی، تیزی یا پھرتی پیدا کرنے کی کوشش کی، تو اس کی بلاگی پہچان قدرے متزلزل ہوئی۔

تو اس پس منظر میں جب “بے لاگ” یعنی ایک جیتی جاگتی کتاب وجود میں آئی تو بہت سے بلاگرز کے لئے یہ ناقابل یقین بات تھی گویا واقعی سرخاب کا پر دریافت ہوگیا۔ کیونکہ بلاگ ایسی تحریر ہے جسے آپ بجلی اور انٹرنیٹ کے دوش پر پڑھ سکتے ہیں اور اس کے صفحات کے حاشیے پر کچھ لکھنے اور صفحات کے کونے موڑنے کی شاہانہ سہولت دستیاب نہیں ہوتی۔ میں نے گزشتہ سالوں میں جب بلاگنگ ابھی نومولود تھی بالخصوص ہمارے یہاں، تو ایسے سوال سنے ہیں کہ تو کہاں للھتی ہیں آپ؟ مطلب سائل کا اشارہ اس بات کی طرف ہوتا کہ ثبوت نہیں ہے۔ ٹھوس جامد ثبوت دکھایا نہیں جاسکتا۔ برقی لہروں کے دوش پر آباد دنیا کے کچھ الفاظ کاغذ پر ثبت ہوئے اور کتاب کی شکل نے جنم لیا۔ کم سے کم “بےلاگ” کا حجم اور ماہیت ایسی ہے کہ اسے بآسانی لہرا کے دکھایا جاسکتا ہے۔ رسید کے طور پر رسید بھی کیا جاسکتا ہے۔

پھر بلاگر ایسی مشین ہے جس کا اصل پراسس اس کے دماغ میں ہوتا ہے اور شاید دیکھنے والے کو ایک غیر متحرک انسانی وجود نظر آرہا ہو لیکن اس بلاگر کا دماغ پوری رفتار سے سرگرم عمل ہو۔ جملوں کی تشکیل، موضوع کا چناؤ، کاٹ چھانٹ اور امیج کی جگہ کا تعین، یہ سب کام مل کر ایسا شور کرتے ہیں گویا بڑے پیمانے کا صنعتی یونٹ چل رہا ہو۔لیکن انسان وہیں اپنی جگہ پر اپنے برقی آلے لیپ ٹاپ اور اب سمارٹ فون تک محدود رہتا ہے۔ ایسے میں بےلاگ کی تقریب رونمائی میں بلاگرز کا بنفس نفیس پہنچنا ڈیسک پر بیٹھ کر رابطہ کرنے سے بہت الگ معاملہ ہے۔ بےلاگ کی تقریب میں اردو بلاگرز سے مل کر بلاگی اخوت کا احساس ہوا کہ آخرکار یہ سب روبوٹ نہیں، ہمارے جیسے انسان ہی ہیں۔

اس کتاب کی اشاعت کا سہرا جن محترم دوستوں کے سر جاتا ہے ان کی کوششیں واقعی لائق داد تھی اور ہیں کہ انہوں نے انوکھا کام سرانجام دیا۔

ہاں اب بلاگی دنیا صرف اردو ہی نہیں ، بلکہ بالعموم بھی کچھ سست روی کا شکار ہے۔ اسباب بہت ہیں۔ جن میں ذاتی اور مجموعی اسباب دونوں ہیں۔ جیسے جو وقت بلاگ پر دنیا بینی اور قلم چلانے کے لئےمختص تھا وہ اب دیگر سماجی ایپلیکیشنز میں منقسم ہوگیا ہے۔ وقت کی قلت کے سبب اکثر سیرحاصل مطالعہ ممکن نہیں ہوتا۔ سرسری پڑھنے کا رحجان بڑھ گیا ہے۔ ایک سے دوسرے پیراگراف تک لاڈ کرنے والی تحریر کے نخرے کم ہی کوئی اٹھاتا ہے۔ یہ بات الگ قابل غور کہ جو نسل ایک تحریر کی طوالت برداشت نہیں کرسکتی وہ دلجمعی، تحمل، مستقل مزاجی، دوراندیشی اور صبر کے مطالب سے کچھ اجنبی ہوگی۔

مدعا اس تحریر کا، بےلاگ کی تقریب رونمائی اور بلاگرز کی رونمائی کو تین سال مکمل ہونے کی یادداشت

اور ساتھ ہی اہلِ بلاگ کو اس بات پر سوچنے کی دعوت کہ

1۔ ان تین سالوں میں بلاگنگ میں کیا فرق آیا؟

2۔وہ فرق جو عمومی ہے، ان بلاگز میں جو آپ پڑھتے ہیں اور

3۔وہ فرق جو آپ کے بلاگ میں آیا؟ جو بھی فرق آیا وہ کیوں آیا؟

4۔اور سب سے اہم کہ آپ اب تک اپنے بلاگ کا کوئی مقصد متعین کرپائے؟

کچھ وقت سرکنے کے بعد دنیا کو دیکھنے والی نظر میں کیا تبدیلی آئی؟

دعاؤں کے ساتھ

ثروت ع ج

قُرآنِ پاک میں بیان کردہ شخصی اوصاف میں سے چند ایک ، اختصار کے ساتھ، حصہ سولہواں

A little effort to put down some good qualities of a character, described by the Holy Qura’an.

-پارہ 16:

– -1ہدایت کی آرزو کرنا اور اچھے کاموں کی کوشش کرنی چاہئے

-القرآن/سورۃ مریم/76/

وَيَزِيدُ اللَّهُ الَّذِينَ اهْتَدَوْا هُدًى ۗ وَالْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ خَيْرٌ عِندَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَخَيْرٌ مَّرَدًّا

-ترجمہ: اور جو لوگ ہدایت پر ہیں الله انہیں زیادہ ہدایت دیتا ہے اور باقی رہنے والی نیکیاں تیرے رب کے نزدیک ثواب اور انجام کے لحاظ سے بہت ہی بہتر ہیں۔

-2- ایمان اور نیک کام کرنے پر وِد/مودت/محبت کا انعام عطا کیا جائے گا۔

القرآن/سورۃ مریم/96/

إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمَٰنُ وُدًّا

-ترجمہ: بے شک جو ایمان لائے اور نیک کام کیے عنقریب رحمان ان کے لیے محبت پیدا کرے گالاشبہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے الله تعالیٰ ان کے لیے محبت پیدا کر ے گا

3-شرحِ صدر کی دعا کرنی چاہئے

القرآن/سورۃ طہٰ/25/26/27/28/

-قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي۔ وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي۔ وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّن لِّسَانِي۔ يَفْقَهُوا قَوْلِي۔

-ترجمہ: (موسیٰ نے) کہا اے میرے رب میرا سینہ کھول دے۔اورمیرا کام آسان کر۔اور میری زبان سے گرہ کھول دے۔کہ میری بات سمجھ لیں۔

-4- نیک کام کرنے والے خوفزدہ نہیں رہتے۔ نیک کاموں کو اپنایا جائے تو خوف سے بچا جا سکتا ہے۔

وَمَن يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا يَخَافُ ظُلْمًا وَلَا هَضْمًا

ترجمہ: اور جو نیک کام کرے گا اور وہ مومن بھی ہو تو اسے ظلم اور حق تلفی کا کوئی خوف نہیں ہو گا

Part 16:

1- One must seek guidance, as guidance and good deeds last forever and best in respect of return.

Al Quran/Maryam/76/And Allah increases in guidance those who go aright; and ever-abiding good works are with your Lord best in recompense and best in yielding fruit.

2- Allah’s love is blessed on doing righteous deeds and on believing in Allah.

Al Quran/ Maryam /96/Lo! Those who believe and do good works, the Beneficent will appoint for them love.

3-One is taught to pray for openness of heart and mind. Allah tells Moses’ words.

Al Quran/Taa haa/25, 26, 27, 28/ (Moses) said: “O my Lord! Open for me my chest (grant me self-confidence, contentment, and boldness). “And ease my task for me; and loose the knot (the defect/ impediment) from my tongue, (i.e. remove the incorrectness from my speech) [That occurred as a result of a brand of fire which Musa (Moses) put in his mouth when he was an infant]. (Tafsir At-Tabari). “That they understand my speech.

4-Good deeds bring strength and belief.

Al Quran/Taa haa/112/And whoever does good works and he is a believer, he shall have no fear of injustice nor of the withholding of his due.

15th Part, A glimpse of character sketch from Quran

15th Part, A glimpse of character sketch from Quran

قُرآنِ پاک میں بیان کردہ شخصی اوصاف میں سے چند ایک ، اختصار کے ساتھ

A little effort to put down some good qualities of a character, described by the Holy Qura’an.

-پارہ 15:

-1-بےجا خرچ کی بجائے قرابت داروں، مساکین اور مسافر کا خیال رکھا جائے۔

-القرآن/الاسراء/26

-وَآتِ ذَا الْقُرْبَىٰ حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا

ترجمہ: اور رشتہ دار اور مسکین اور مسافر کو اس کا حق دے دو اور مال کو بے جا خرچ نہ کرو

-2-ناپ تول میں ایمانداری

-القرآن/الاسراء/35

– وَأَوْفُوا الْكَيْلَ إِذَا كِلْتُمْ وَزِنُوا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِيمِ ۚ ذَ‌ٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا

-ترجمہ: اور ناپ تول کر دو تو پورا ناپو اور صحیح ترازو سے تول کر دو یہ بہتر ہے اور انجام بھی اس کا اچھا ہے

-3-غیریقینی بات اور ناقص معلومات کی بنیاد پر کوئی موقف نہ لیا جائے

القرآن/الاسراء/36/ وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ ۚ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَـٰئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا

-ترجمہ: اورجس بات کی تجھے خبر نہیں اس کے پیچھے نہ پڑ بے شک کان اورآنکھ اور دل ہر ایک سے باز پرس ہو گی

-4-غرور نہ کیاجائے اور اپنی چال ڈھال میں عاجزی اختیار کی جائے۔

-القرآن/الاسراء/37/ وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا ۖ إِنَّكَ لَن تَخْرِقَ الْأَرْضَ وَلَن تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُولًا

-ترجمہ: اور زمین پر اتراتا ہوا نہ چل بے شک تو نہ زمین کو پھاڑ ڈالے گا او رنہ لمبائی میں پہاڑوں تک پہنچے گا

-5-اچھی اور مثبت بات کی جائے، غلط بات کے ذریعے شیطان اختلافات اور ناچاقیاں پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

-القرآن/الاسراء/53/ وَقُل لِّعِبَادِي يَقُولُوا الَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ۚ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنزَغُ بَيْنَهُمْ ۚ إِنَّ الشَّيْطَانَ كَانَ لِلْإِنسَانِ عَدُوًّا مُّبِينًا

ترجمہ: اور میرے بندوں سے کہہ دو کہ وہی بات کہیں جو بہتر ہو بےشک شیطان آپس میں لڑا دیتا ہے بے شک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے

-اللہ کے بندوں کاساتھ اپنایا جائے

-القرآن/الکھف/28/ وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ ۖ وَلَا تَعْدُ عَيْنَاكَ عَنْهُمْ تُرِيدُ زِينَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ وَلَا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَن ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُطًا

-ترجمہ: تو ان لوگو ں کی صحبت میں رہ جو صبح اور شام اپنے رب کو پکارتے ہیں اسی کی رضا مندی چاہتے ہیں اور تو اپنی آنکھوں کو ان سے نہ ہٹا کہ دنیا کی زندگی کی زینت تلاش کرنے لگ جائے اور اس شخص کا کہنا نہ مان جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیاہے اور اپنی خواہش کے تابع ہو گیا ہے اور ا سکا معاملہ حد سے گزر ا ہوا ہے

Part 15:

  1. One must take care of relatives, poor and passenger.

Al Quran/alasraa/26/ And give to the near of kin his due and (to) the needy and the wayfarer, and do not squander wastefully.

  1. Measure right and honest

Al Quran/alasraa/35/ And give full measure when you measure, and weigh with a balance that is straight. That is good (advantageous) and better in the end.

  1. Stop and don’t follow rumors

AL Quran/ alasraa/36/ And follow not that of which you have not the knowledge; surely the hearing and the sight and the heart, all of these, shall be questioned about that.

  1. Be humble and abandon pride

Al Quran/ alasraa/37/ And walk not on the earth with conceit and arrogance. Verily, you can neither rend nor penetrate the earth, nor can you attain a stature like the mountains in height.

  1. Be positive, negativity brings many wrongs

Al Quran/ alasraa/53/ And say to My servants (that) they speak that which is best; surely the Shaitan sows dissensions among them; surely the Shaitan is an open enemy to man

6.Keep a good company

Al Quran/ alkahaf/28/ And withhold yourself with those who call on their Lord morning and evening desiring His goodwill, and let not your eyes pass from them, desiring the beauties of this world’s life; and do not follow him whose heart We have made unmindful to Our remembrance, and he follows his low desires and his case is one in which due bounds are exceeded.

Bearing Colonial Germs

An articled recalled

SarwatAJ- ثروت ع ج

Bearing Colonial Germs

We as a society must face the truth, whether we are capable to change anything or not. Our main problem in all the areas of life is that we tend to behave like an ostrich and put our head beneath the sands

We have to seek and work for ways to develop moral courage at all levels. Our most common practice since a long time, is to build an imaginary world, make big castles in it, and to believe in unseen solutions that will come from nowhere. After planning such things we connect them with the beliefs. Now anyone talking about facts and dreadful realities can be accused of not believing in faith. Thats very much a wrong interpretation of faith. Believing in eternal powers of Allah gives courage and guidance to take steps and decisions

Looking back in chronology of such behavior we find that its…

View original post 184 more words

14th Part, A Character sketch by Al Quran

قُرآنِ پاک میں بیان کردہ شخصی اوصاف میں سے چند ایک ، اختصار کے ساتھ

A little effort to put down some good qualities of a character, described by the Holy Qura’an.

-پارہ 14:

-1-سلامتی اور دلوں سے کدورت کا نکل جانا بہت نعمت کی بات ہے اور یہ کامیابی کی نشانی ہے۔ کامیاب لوگ اِس نعمت سے نوازے جائیں گے۔

-القرآن/ الحجر/ 46/47

-ادْخُلُوهَا بِسَلَامٍ آمِنِينَ۔وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِم مِّنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَىٰ سُرُرٍ مُّتَقَابِلِينَ۔

-ترجمہ: ان باغوں میں سلامتی اور امن سے جا کر رہو۔اور ان کے دلوں میں جو کینہ تھا ہم وہ سب دور کر دیں گے سب بھائی بھائی ہوں گے تختوں پر آمنے سامنے بیٹھنے والے ہوں گے۔

-2- لوگوں کی باتوں پہ ضیقِ صدر ہونا برحق ہے، ایسے میں اللہ کی تسبیح اور نماز سے مدد لینا پیغمبروں کا شیوہ ہے۔

-القرآن/الحجر/97/98/99/

-وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ۔فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُن مِّنَ السَّاجِدِينَ۔وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ۔

-ترجمہ: اور ہم جانتے ہیں کہ تیرا دل ان باتوں سے تنگ ہوتا ہے جو وہ کہتے ہیں۔سو تو اپنے رب کی تسبیح حمد کے ساتھ کیے جا اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہو۔اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہو یہاں تک کہ تمہیں موت آجائے۔

-3-اللہ کی دی گئی نعمتوں سے فضل اور رزق تلاش کرنا اور اللہ ہی کا شکرگزار ہونا چاہئیے

-القرآن/النحل/14/15/16/17/18/

-وَهُوَ الَّذِي سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَأْكُلُوا مِنْهُ لَحْمًا طَرِيًّا وَتَسْتَخْرِجُوا مِنْهُ حِلْيَةً تَلْبَسُونَهَا وَتَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِيهِ وَلِتَبْتَغُوا مِن فَضْلِهِ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ

-وَأَلْقَىٰ فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَن تَمِيدَ بِكُمْ وَأَنْهَارًا وَسُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ

-وَعَلَامَاتٍ ۚ وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُونَ

-أَفَمَن يَخْلُقُ كَمَن لَّا يَخْلُقُ ۗ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ

-وَإِن تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا ۗ إِنَّ اللَّهَ لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ

-ترجمہ: اور وہ وہی ہے جس نے دریا کو کام میں لگا دیا کہ اس میں تازہ گوشت کھاؤ اور اسی سے زیور نکالو جسے تم پہنتے ہو اور تو اس میں جہازوں کو دیکھتا ہے کہ پانی کو چیرتے ہوئے چلے جاتے ہیں اور تاکہ تم اس کے فضل کو تلاش کرو اور تاکہ تم شکر کرو

-اور زمین پر پہاڑوں کے بوجھ ڈال دیے تاکہ تمہیں لے کر نہ ڈگمگائے اور تمہارے لیے نہریں اور راستے بنا دیے تاکہ تم راہ پاؤ

-اور نشانیاں بنائیں اور ستاروں سے لوگ راہ پاتے ہیں

-پھر کیا جو شخص پیدا کرے اس کے برابر ہے جو کچھ بھی پیدا نہ کرے کیا تم سوچتے نہیں

-اور اگر تم الله کی نعمتو ں کو گننے لگو تو ان کا شمار نہیں کر سکو گےبے شک الله بخشنے والا مہربان ہے

-4- عدل، احسان، قرابت داروں سے اچھائی کریں اور بےحیائی، منکر اور تکبر سے باز رہنے کا حکم دیتے رہیں۔

-القرآن/النحل/90

-إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَالْبَغْيِ ۚ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ

-ترجمہ: بے شک الله انصاف کرنے کا اوربھلائی کرنے کا اور رشتہ داروں کو دینے کا حکم کرتا ہے اوربے حیائی اوربری بات اور ظلم سے منع کرتا ہے تمہیں سمجھاتا ہے تاکہ تم سمجھو

-5-حکمت اور اچھے طریقے سے اللہ کے راستے کی طرف بلایا جائے، جب بحث یا اختلاف ہو تو احسن طریقہ اپنایا جائے۔

-القرآن/النحل/125

-ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ۖ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِ ۖ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ

-ترجمہ: اپنے رب کے راستے کی طرف دانشمندی اور عمدہ نصیحت سے بلا اور ان سے پسندیدہ طریقہ سے بحث کر بے شک تیرا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کے راستہ سے بھٹکا ہوا ہے اور ہدایت یافتہ کو بھی خوب جانتا ہے

Part 14:
1-It is a blessing to be safe and free of bitterness, and only the successful will be blessed with these qualities.
-AL Quran/alhijr/46/47/ (It will be said to them): ‘Enter therein (Paradise), in peace and security. And we shall remove from their breasts any deep feeling of bitterness (that they may have). (So they will be like) brothers facing each other on thrones.

2-It is completely natural to get sad on negative talk of people and one should seek help in prayer and Allah’s zikr.
-Al Quran/alhijr/97/98/99/We do indeed know how thy heart is distressed at what they say. But hymn the praise of thy Lord, and be of those who make prostration (unto Him). And serve thy Lord till the inevitable cometh unto thee.

3-Allah’s blessings are countless, in the whole universe and Allah is the merciful.
-Al Quran/alnahal/14/15/16/17/18/
-And He it is Who has subjected the sea (to you), that you eat thereof fresh tender meat (i.e. fish), and that you bring forth out of it ornaments to wear. And you see the ships ploughing through it, that you may seek (thus) of His Bounty (by transporting the goods from place to place) and that you may be grateful.
-And He has affixed into the Earth Mountains standing firm, lest it should shake with you; and rivers and roads, that you may guide yourselves.
-And landmarks (signposts during the day) and by the stars (during the night), they (mankind) guide themselves.
-Is then He, Who creates as one who creates not? Will you not then remember?
-And if you would count the favours of Allah, never could you be able to count them. Truly! Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful.

4-Being good to relatives, justice and kindness, and stopping from shameful deeds, injustice and rebellion is ordered by Allah.
-Al Quran/alnahal/90/Surely Allah enjoins the doing of justice and thedoing of good (to others) and the giving to the kindred, and He forbids indecency and evil and rebellion; He admonishes you that you may be mindful.5-One must use wisdom and beautiful preaching to place invitation to the way of Allah.-Al Quran/alnahal/125/Invite (all) to the Way of thy Lord with wisdom and beautiful preaching; and argue with them in ways that are best and most gracious: for thy Lord knoweth best, who have strayed from His Path, and who receive guidance.

Part 13, Qualities of a character by the Holy Quran

قُرآنِ پاک میں بیان کردہ شخصی اوصاف میں سے چند ایک ، اختصار کے ساتھ

A little effort to put down some good qualities of a character, described by the Holy Qura’an.

-پارہ 13:

-1-اللہ کی خلقت میں غور و فکر کرنا

-القرآن/الرعد/3

-وَهُوَ الَّذِي مَدَّ الْأَرْضَ وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ وَأَنْهَارًا ۖ وَمِن كُلِّ الثَّمَرَاتِ جَعَلَ فِيهَا زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ ۖ يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ ۚ إِنَّ فِي ذَ‌ٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ

-ترجمہ: اور اسی نے زمین کو پھیلایا اور اس میں پہاڑاور دریا بنائے اور زمین میں ہر ایک پھل دوقسم کا بنایا دن کو رات سے چھپا دیتا ہے بے شک اس میں سوچنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں

-2- ذکر اللہ سے دل کو اطمئنان ہونا

-القرآن/الرعد/28

– الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُم بِذِكْرِ اللَّهِ ۗ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ

-ترجمہ: وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کے دلوں کو الله کی یاد سے تسکین ہوتی ہے خبردار! الله کی یاد ہی سے دل تسکین پاتے ہیں

-3- اچھی بات کرنا ، ترغیب دلائی گئی کہ اچھی بات کے ظاہری اور باطنی ثمرات بڑھتے رہتے ہیں۔

-القرآن/ابراہیم/24/25

– أَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ۔ تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ بِإِذْنِ رَبِّهَا ۗ وَيَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ

-ترجمہ: کیاتو نےنہیں دیکھا کہ الله نے کلمہ پاک کی ایک مثال بیان کی ہے گویا وہ ایک پاک درخت ہے کہ جس کی جڑ مضبوط اور اس کی شاخ آسمان ہے۔وہ اپنے رب کے حکم سے ہر وقت اپنا پھل لاتا ہے اور الله لوگوں کے واسطے مثالیں بیان کرتا ہے تاکہ وہ سمجھیں۔

-4- مطلقاََ شکرگزاری اپنائی جائے کہ انسان اللہ کی نعمتوں کو شمار نہیں کرسکتا۔

-القرآن/ابراہیم/34

– وَآتَاكُم مِّن كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ ۚ وَإِن تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا ۗ إِنَّ الْإِنسَانَ لَظَلُومٌ كَفَّارٌ

-ترجمہ: اور جو چیز تم نے ان سے مانگی اس نے تمہیں دی اور اگر الله کی نعمتیں شمار کرنے لگو تو انہیں شمار نہ کر سکو بے شک انسان بڑا بےانصاف اور ناشکرا ہے

Part 13:

  1. Critically thinking in Allah’s creatures and nature and how the system of universer is working.
    -Quarn: Ra’ad/3/ And it is He who spread out the earth, and set thereon mountains standing firm and (flowing) rivers: and fruit of every kind He made in pairs, two and two: He draweth the night as a veil o’er the Day. Behold, verily in these things there are signs for those who consider!

2- Remembering Allah comforts one’s heart.
-Quran: Ra’ad/28/ “Those who believe, and whose hearts find satisfaction in the remembrance of Allah: for without doubt in the remembrance of Allah do hearts find satisfaction.

3- Always being positive and righteous brings many fruits spiritually and apparently.
-Quran: Ibrahim/24/25/Have you not considered how Allah sets forth a parable of a good word (being) like a good tree, whose root is firm and whose branches are in heaven, yielding its fruit in every season by the permission of its Lord? And Allah sets forth parables for men that they may be mindful.

4- One must adopt gratitude because there are countless blessings on the human.
-Quran: Ibrahim/34/And He gives you of all that you ask Him; and if you count Allah’s favors, you will not be able to number them; most surely man is very unjust, very ungrateful.

12th part, character glimpse by Quran

قُرآنِ پاک میں بیان کردہ شخصی اوصاف میں سے چند ایک ، اختصار کے ساتھ

A little effort to put down some good qualities of a character, described by the Holy Qura’an.

Part: 12

پارہ 12:

-1ـ سابقہ اقوام ِ عالم کے حالات سے سبق حاصل کرنا

-ہود/100/103

– ذَ‌ٰلِكَ مِنْ أَنبَاءِ الْقُرَىٰ نَقُصُّهُ عَلَيْكَ ۖ مِنْهَا قَائِمٌ وَحَصِيدٌ

-ترجمہ: یہ بستیوں کے تھوڑے سے حالات ہیں کہ تجھے سنا رہے ہیں ان میں سے کچھ تو اب تک باقی ہیں اورکچھ اجڑی پڑی ہیں۔

إِنَّ فِي ذَ‌ٰلِكَ لَآيَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْآخِرَةِ ۚ ذَ‌ٰلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذَ‌ٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ

– اس بات میں نشانی ہے اس کے لیے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہے یہ ایک ایسا دن ہوگا جس میں سب لوگ جمع ہوں گے اور یہی دن ہے جس میں سب حاضر کیے جائیں گے

-2-دن کے اطراف میں نماز ادا کرنا اور صبر پہ قائم رہنا

-ہود /114/115

– وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِّنَ اللَّيْلِ ۚ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ۚ ذَ‌ٰلِكَ ذِكْرَىٰ لِلذَّاكِرِينَ
– وَاصْبِرْ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ

-ترجمہ: اور دن کے دونو ں طرف اورکچھ حصہ رات کا نماز قائم کر بے شک نیکیاں برائیوں کو دور کرتی ہیں یہ نصیحت حاصل کرنے والوں کے لیے نصیحت ہے

– اور صبر کر بے شک الله نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا

-3- احتیاط کا تقاضا ہے کہ انسان اپنی کامیابیوں اور نعمتوں کی تشہیر نہ کرے تاکہ شیطان کو بدخواہ لوگوں میں حسد پیدا کرنے کا موقعہ نہ ملے۔

-یوسف/5

– قَالَ يَا بُنَيَّ لَا تَقْصُصْ رُؤْيَاكَ عَلَىٰ إِخْوَتِكَ فَيَكِيدُوا لَكَ كَيْدًا ۖ إِنَّ الشَّيْطَانَ لِلْإِنسَانِ عَدُوٌّ مُّبِينٌ

-ترجمہ: کہا اے بیٹا اپنا خواب بھائیوں کے سامنے بیان مت کرنا وہ تیرے لیے کوئی نہ کوئی فریب بنا دیں گے شیطان انسان کا صریح دشمن ہے

  1. Knowing the history and events from past leads one to be wise and careful.
    -Quran/Hood/100/103

– These are some of the stories of communities which We relate unto thee: of them some are standing, and some have been mown down (by the sickle of time).
– Indeed in that (there) is a sure lesson for those who fear the torment of the Hereafter. That is a Day whereon mankind will be gathered together, and that is a Day when all (the dwellers of the heavens and the earth) will be present.

2.Being consistent and stay punctual while offering prayers at various times.
-Quran/Hood/114/115
– And establish regular prayers at the two ends of the day and at the approaches of the night: For those things, that are good remove those that are evil: Be that the word of remembrance to those who remember (their Lord):
– And be patient; verily, Allah wastes not the reward of the good-doers.

  1. One should not show off his/her blessings and fortune so that bad wishers may not get a chance to be jealous by Satan.
    -Quran/Yusuf/5

    • He (the father) said: “O my son! Relate not your vision to your brothers, lest they should arrange a plot against you. Verily! Shaitan (Satan) is to man an open enemy!

11 th Part, character hints by Quraan

قُرآنِ پاک میں بیان کردہ شخصی اوصاف میں سے چند ایک ، اختصار کے ساتھ

A little effort to put down some good qualities of a character, described by the Holy Qura’an.

-پارہ 11:

-1- سچ بولنا اور سچائی کا ساتھ دینا:

– سچ ہی بولا جائے اور حقائق کو چھپایا نہ جائے، سچائی کی تائید اور معاونت کرنی چاہیئے۔

-التوبۃ/ 119/يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ

-ترجمہ: اے ایمان والو! الله سے ڈرتے رہو اور سچوں کے ساتھ رہو

-2- بدگمانی نہ کی جائے:

– اپنے تئیں قیاس آرائی پہ مبنی بُرے گمان قائم نہیں کرنے چاہیئں۔

سورۃ یونس/36/وَمَا يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنًّا ۚ إِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِمَا يَفْعَلُونَ

-ترجمہ: اور وہ اکثر اٹکل پر چلتے ہیں بےشک حق بات کے سمجھنے میں اٹکل ذرا بھی کام نہیں دیتی بے شک الله جانتا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں

-3- اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کو نہ پُکارا جائے:

– مدد، مناجات اور داد رسی کے لئے صرف اللہ کو ہی پُکارا جائے۔

-سورۃ یونس/ 106/وَلَا تَدْعُ مِن دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَنفَعُكَ وَلَا يَضُرُّكَ ۖ فَإِن فَعَلْتَ فَإِنَّكَ إِذًا مِّنَ الظَّالِمِينَ

-ترجمہ: اور الله کے سوا ایسی چیز کونہ پکار جو نہ تیرا بھلا کرے اور نہ برا پھر اگرتو نے ایسا کیا تو بے شک ظالموں میں سے ہو جائے گا

Juz’ 11:

  1. To speak the truth and to approve the righteous opinionand factful approach.
    -Quraan says/ Altawba/ 119/O you who believe! Be afraid of Allah, and be with those who are true (in words and deeds)
  2. Not to prejudice and misunderstand anyone.
    -Quraan says: Sura Yunus/36/And most of them follow not except assumption. Indeed, assumption avails not against the truth at all. Indeed, Allah is Knowing of what they do

3.Not to ask anyone except Allah in all the situations.
-Quraan says/ Sura Yunus/106/And do not invoke besides Allah that which neither benefits you nor harms you, for if you did, then indeed you would be of the wrongdoers.

10 th part, Charatcer hints by Quraan

قُرآنِ پاک میں بیان کردہ شخصی اوصاف میں سے چند ایک ، اختصار کے ساتھ ، حصہ دسواں

A little effort to put down some good qualities of a character, described by the Holy Qura’an. Part 10

-1- اللہ کی محبت پر کوئی چیز غالب نہ آئے:

– انسان کی تمام محبتوں کا دارومدار اللہ کی ذات ہو۔ اللہ کی محبت انسان کی زندگی کا محور و مرکز ہو۔

– سورۃ التوبہ / آیت24/

قُلْ إِن كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُم مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّىٰ يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ ۗ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ

-ترجمہ: کہہ دو اگر تمہارے باپ اور بیٹے اور بھائی اوربیویاں اور برادری اور مال جو تم نے کمائے ہیں اور سوداگری جس کے بند ہونے سے تم ڈرتے ہو اور مکانات جنہیں تم پسند کر تے ہو تمہیں الله اور اس کے رسول اوراس کی راہ میں جہد کرنے سے زیادہ پیارے ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ الله اپنا حکم بھیجے اور الله نافرمانوں کو راستہ نہیں دکھاتا

-2- ایمان والے باہم ایک دوسرے کے معاون و مددگار ہوتے ہیں۔

– اہلِ ایمان مِل جُل کر نیکی کے کاموں کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے ہیں۔ بھلائی کے کاموں کی اشاعت کے ساتھی اور برائیوں کی روک تھام میں مددگار بنتے ہیں۔

– سورۃ التوبہ/ آیت 71/

وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۚ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَيُطِيعُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ۚ أُولَـٰئِكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللَّهُ ۗ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ

-ترجمہ: اور ایمان والے مرد اور ایمان والی عورتیں ایک دوسرے کےمددگار ہیں نیکی کا حکم کرتے ہیں اوربرائی سے روکتے ہیں اورنماز قائم کرتے ہیں اور زکواة دیتے ہیں اور الله اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرتے ہیں یہی لوگ ہیں جن پر الله رحم کرے گا بے شک الله زبردست حکمت والا ہے

Juz’ 10:

-1-

Allah’s love should dominate a person’s whole life.
No other love should have a first place except Allah’s.
Quraan says: Al Tauba/24/ Say: If it be that your fathers, your sons, your brothers, your mates, or your kindred; the wealth that ye have gained; the commerce in which ye fear a decline: or the dwellings in which ye delight – are dearer to you than Allah, or His Messenger, or the striving in His cause;- then wait until Allah brings about His decision: and Allah guides not the rebellious

-2-

There should be a cooperating environment among the believers, and they should be helpful for each other, stand for the right and abandon the false things.
Quran says: Al Tauba/ 71/ The believing men and believing women are allies of one another. They enjoin what is right and forbid what is wrong and establish prayer and give zakah and obey Allah and His Messenger. Those – Allah will have mercy upon them. Indeed, Allah is Exalted in Might and Wise