مامتا

مامتا

image

ایک شخص، اپنے مرتبے کی عکاسی کرتے نفیس اور عمدہ لباس میں ملبوس، چہرے پر قابلیت کی لکیریں سجائے، اپنے ملازم کے ہمراہ کمرے میں داخل ہوا۔ معلوم ہوتا ہےکہ افسر صاحب کا مزاج برہم ہے اور ملازم خجل ہے۔ ہوا یوں کہ صاحب کی کوئی اہم فائل تھی جو ملازم کہیں رکھ کےبھول گیا ہے اور اب ماحول میں شدید تناوٴ ہے۔ ملازم جھڑکیاں کھانے کے بعد فائل کی تلاش میں دوسرے کمرے میں چلا گیا۔ صاحب جھنجھلاہٹ میں اپنی اکڑی ہوئی گردن جھکا کر ایک درازمیں فائل ڈھونڈ رہے ہیں۔ کہ شاید غلطی سےفائل وہاں نہ رکھی گئی ہو۔

دراز کے کاغذات کی ترتیب ہلنے کی باعث بدلی ، اور کاغذ کا ایک ٹکڑا . . . ، ا ُلٹتا . . . پلٹتا . . . ، صاحب کے قدموں میں آن گرا۔ صاحب جھکے، کاغذ اٹھایا، دیکھا تو یکایک کائنات ہی بدل گئی ۔ پریشانی اور مزاج کی تلخی ایکدم کہیں غائب ہوگئی۔ یہ ماں کی تصویر تھی۔ جانے کب اس دراز میں رکھ کےبھول گئے۔ آج اچانک ماں کاچہرہ دیکھا تو دل میں مدھر احساس بھر گیا۔ فائل کاخیال ایک لمحے کو پس منظر میں چلا گیا۔

ماں کی شفیق صورت سے جُڑی، کئی چھوٹی بڑی تصویریں ذہن کے پردے پہ تیرنے لگیں ۔ وہ بچپن کے دن، ماں کا نوالے توڑ کے اپنے ہاتھ سے کھلانا، سکول چھوڑنے جانا، نہلانا، ساتھ کھیلنا، سکول کا ہوم ورک کروانا، ٹسٹ یاد کروانا، سکول کاکام کروانے کو ماں کیا کیا جتن نہ کرتی، کبھی ٹافی کا لالچ، کبھی بسکٹ کا، جیسےتیسے سبق یاد کروادیا کرتی، کبھی روٹی بناتے ہوئے، کبھی سلاتے ہوئے، دھوپ میں کھیلنے پہ ڈانٹنا، بےوقت گھر سے باہر نہ جانےدینا، کپڑے جوتے، ہر چیز وقت پہ تیار رکھنا، گھر سےباہر ایک ذرا دیر کیا ہوجایا کرتی، تو ماں پریشان بیٹھی ہوتی۔ ہرمشکل میں ، آڑے وقت میں ماں حوصلہ دیا کرتی۔

چھوٹی چھوٹی دعائیں ماں نے نجانے کب یاد کروادی تھیں، آج بھی وہ کپڑے، جوتے، اورجراب پہنتے ہوئے کبھی بایاں پہلے نہیں پہنتا تھا۔ کہ ماں ہمیشہ دایاں پہلے پہننے کو کہتی تھی۔ جب وہ ماں کے گلے لگتا تھا، کیسی پیاری خوشبو اسےگھیرلیتی تھی۔ ماں کی گود کتنی اپنائیت بھری ہواکرتی تھی۔

آہ . . . . . .آج ماں پاس نہیں ہے۔ وہ اس دیس چلی گئی جہاں سے واپسی کے راستے نہیں ہوا کرتے
وہ خوشبو والی گود،
وہ شفقت بھرا لمس،
وہ محبت برساتی نظریں،
دعائیں دیتے ہلتے لب، ۔ ۔ ۔ آج کہاں ۔ ۔ ۔

اےرب ! ماں کو اپنی رحمتوں سے مالامال کردینا۔ ماں کا ابدی ٹھکانہ جنت کا اعلٰی مقام ہو۔

صاحب ہاتھ میں ، ماں کی تصویر تھامے ، میٹھی سہانی یادوں میں کھوئے ہوئے تھے ۔ ۔ ۔ کہ ایک دم وحشت میں دروازہ کھُلا۔

بیگم صاحبہ بولائی ہوئی اندرآئیں۔ ۔ ۔ صاحب نے سوچا . . . یاالٰہی یہ عورت کیا چیز ہے

بیگم بےحال ہو رہی تھیں۔ ” احمر فٹ بال کھیلتے ہوئے گرگیا ہے، اس کےگھٹنےسے خون نکل رہا ہے۔ پلیز اسے دیکھیں۔

افسر صاحب کو اپنی ماں سے تصوراتی ملاقات میں بیگم کا یوں مُخل ہونا بہت ہی ناگوار گزرا۔ ۔ ۔موڈ ایکدم بدل گیا۔

تم بھی بچوں کا دھیان نہیں رکھتی، اور پھر ذرا ذرا بات پہ ہنگامہ کر دیتی ہو، چلو میں دیکھتا ہوں۔

بیگم سے آنسو سنبھالے نہیں جارہے تھے۔ احمر کو کرسی پہ بٹھا کر وہ پٹی کا سامان لائی۔ صاحب نے گھٹنے سے خون صاف کیا اور اسی دوران قہرآلود نظروں سے بیگم کو سرزنش کرتے رہے کہ یہ سب اس کی لاپرواہی کے سبب ہوا۔

احمر میاں کے پٹی بندھ چکی تھی۔ بیگم صاحبہ کو خاطرخواہ تنبیہ ہو چکی تھی۔ احمر کو لِٹا کر اسے ایک کپ دودھ ،ہزار جتن سے پلایا۔ ٹی وی پہ کارٹون لگا کے دئیے۔ سٹوری بُک سے بہلایا۔ ماتھا چوما۔ احمر کا درد کم ہوا تو بیگم قدرے پرسکون ہوئیں ۔ صاحب نے نہایت افسوس بھرے لہجے میں بیگم سے کہا: یہ ہر وقت شرارتیں کرتا رہتا ہے، تمہارے لاڈ نے اِسے بگاڑ دیا ہے۔

بیگم نے مامتا بھری نگاہ سے احمر کو دیکھتے ہوئےکہا: اتنا چھوٹا تو ہے۔ بچوں کو کھیلنا بھی تو ہوتاہے۔ بڑا ہوگا تو خود ہی سمجھ جائے گا۔ بیمار بچے نہیں کھیلا کرتے۔ شکر ہے کہ میرا بچہ صحت مند ہے جوکھیلتا بھی ہے اور شرارتیں بھی کرتا ہے۔

صاحب بڑے افسوس سے اپنی احمق بیوی کو دیکھ رہے تھے جس میں نہ انھیں مامتا نظر آئی نہ ماں۔
نہ اپنے بیٹے کے لئے خوشبو بھری گود،
نہ شفقت بھرا لمس،
نہ محبت بکھیرتی آنکھیں،
نہ دعائیں دیتے لب، ۔ ۔

حالانکہ ماں کا وجود تو آج بھی اُن کے پاس موجود تھا، ایک نئے روپ میں، ایک نئے تعلق سے، زمانے کے ارتقاکے مطابق ، کچھ فرق لیکن رشتہ وہی ۔ ۔ ۔

کیا یہ خود غرضی تھی یا نرگسیت، کہ اپنی ماں کی ہر ادا پہ پیار، اور اس عورت پہ حماقت کا گمان جو اُن کی اولاد کی ماں ہے ! اس میں مامتا تلاشی ہی نہیں نہ ہی کسی بھاوٴ اس کے جذبے کو مول ڈالا۔ ایسی نجانے کتنی ہی خوبصورتیاں ہمارے اطراف اپنی قدر پانے کی منتظر رہتی ہیں، جن پہ ہماری نگاہ ِ ناز کبھی پڑتی ہی نہیں ۔ اور ہم زمانے بھر سے نالاں رہتے ہیں۔

Can Water Be Dry?

Can water be dry

We all are very familiar to a topic, that is, which language to learn as a priority and which one is to be ignored? In our way to find a suitable answer for this question, we must have a clear definition of “language”

Language is a communicating tool at the first place and it also contains all the flavour of its specific background. You can never remove this flavouring content from a language. It’s just like having DRY WATER. So if there can’t exist any dry water, there can’t be a language without its cultural flavour

Letting a language enter your world, you can’t escape the cultural impact of it. It comes all together. There could be some questions popping in the minds at this point. How can we manage this cultural impact of a language? How many languages could be adopted then? Does this cultural impact really matters

Yes, it does. In a very effective and long-lasting way. We must be fully aware of this fact. And in the mean time, we must have a clear picture of the importance that a language holds

Learning one language never means to ignore the other one. Every language has its own place and purpose. Not one can take the place of the other. This is the very point to be made clear at all levels. This shift in the vision will affect the whole perspective regarding areas of learning, teaching, behaving, speaking and thinking

You cant reach your roots if you keep at a distance from your native language. Roots are what meant for originality, simply. An origin is from where all your existence finds it’s all traits and trends. It’s the way you behave, apparently and inside. The way your gesture reflects and your thought flows

You can have a proof of this concept if you have ever tried to copy a person of any foreign language. Or whenever you tried to speak to a kid in his accent. You cant get the very idea of a book in a foreign language until you are aware of the cultural flavour and spice of that language. Foreign songs take you to the feeling of that specific culture. So, . . . .the language must be taken as a tool and meant to contain a whole set of thinking and behaviour

Frankly speaking, one or more foreign languages must be adopted for the means of approach and exposure and the native language must have a firm connection within a person to solidify the originality. It all goes smooth without any confusion. It must never be taken as a matter of classification

پھول کی پتی سے

پھول کی پتی سے . . . .

image

کہتے ہیں آگہی بہت دردناک ہوتی ہے۔ جب تک انسان لاعلمی کے باغیچے میں گھومتا رہے اُس کو حقائق کی کڑی دھوپ کا اندازہ نہیں ہوتا۔

شاید یہی وجہ ہے کہ ایسے بہت سے لوگ جو زندگی کی حقیقتوں سے آشنا ہوجائیں، جان کر یا انجانے میں، اُن کے اندر ایک تلخی سی رچ جاتی ہے۔ مسکرانا بھول جاتے ہیں، چہرہ تنا رہتا ہے، آنکھیں سوچ میں غرق، اور بات بے بات کڑوی بات کر دیتے ہیں۔ اور آہستہ آہستہ معاشرہ اُن کو اس بات کی رعایت دینے لگتا ہےکہ وہ اپنی کڑواہٹ اور خفگی کا بآسانی اظہار کرسکیں۔

ایسے افراد کو پہچاننا آسان ہے۔ معاشرے میں جابجا ایسی علامات نظر آجائیں گی۔ یہی علامات اکثر و بیشتر سمجھداری ظاہر کرنے کے لئے بھی استعمال کی جاتی ہیں۔ چار لوگوں کی محفل ہو تو جس کو سمجھداری کا سب سے زیادہ زعم ہوگا وہ شخص چہرے پہ سب سے زیادہ لکیریں پیدا کرنے کی کوشش میں ہوگا۔ ہنسنے میں شدید تاٴمل ہوگا، دیگر ہنستے مسکراتے چہروں پر تنقیدی نگاہیں ڈال رہا ہوگا گویا ان کی طفلانہ سوچوں پر افسوس ہورہا ہے۔ یہ باتیں معاشرے میں بہت عام ہیں اور بآ سانی ان کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ اس زمرے میں وہ مصنوعی حرکات اور سکنات بھی شامل کرلیں جو عام طور پہ خود طاری کی جاتی ہیں تاکہ خود کو زیادہ سے زیادە سنجیدہ اور سمجھدار ثابت کیا جاسکے۔ تنی ہوئی بھنویں، چہرے پہ وحشت، قلق اور توتر، تیوری چڑھی ہوئی اور ان سب میں جس بات پہ سب سے زیادہ توجہ مرکوز رکھی جاتی ہے وہ یہ کہ دوسرے پہ اپنی ٹینشن اور تناوٴ زیادہ سے زیادہ ثابت کیا جاسکے۔ اس روئیے میں از خود طاری کردہ کیفیت کے ساتھ فطری ردِعمل بھی شامل ہے۔ گویا زبانِ حال سے مدعا ہو کہ کاش کوئی عقلمندی اور فراست کی سند لکھ کر دے دے۔

معاشرے میں یہ سب علامات سنجیدہ اور سمجھدار لوگوں سے منسوب ہیں۔ نادراً ہی کوئی ہشاش بشاش اور مسکراہٹ سے سجا چہرہ سینئر سطح پر نظر آتا ہے۔ اس بات کا مشاہدہ کرنا ہو تو کسی تقریب، موقع کی یا ذاتی تصاویر دیکھ لیں۔ لوگ فوٹوگراف بنواتے ہوئے جس لمحے کو محفوظ کرنا چاہتے ہیں اس کے لئے درُشت تاٴثر پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ شناختی کارڈ، گروپ فوٹوز، انگیٹھیوں اور فریموں میں سجی تصویروں میں ایک جامد تاٴثر ملے گا۔ خود کو سیانا سمجھنے والا ہر شخص چہرے پہ انتہائی متفکرانہ تاٴثرات پیدا کرکے بیٹھا نظر آئے گا۔ خوشی کے موقعے کی تصاویر میں “فکرآور” مُورتیں عام ہیں۔

کرتے کرتے یہ معاشرتی وطیرہ ہوگیا کہ اداروں، گھروں، سکولوں، محلوں اور محفلوں میں سمجھدار، بڑے، بزرگ اور سینئر لوگ سنجیدگی کے خول میں نظر آئیں۔ نالاں بزرگ، تنہائی پسند بڑے لوگ، ہر دم پریشان شاکی آنٹیاں اور نرگسیت میں مبتلا سکالرز اور دانشور۔ اگر وہ اپنے شعور کو ظاہر کرنے والے چھلکے سے باہر نکل آئے تو مبادا ان کی ذہنی پہنچ پر کوئی حرف نہ آجائے۔ ان کے سامنے کوئی ایسی بات نہ کی جائے کہ خدانخواستہ “تبسم” پیدا ہوسکے۔ ہنسی اور قہقہہ تو بہت دور کی بات ہے۔ اگر آپ کے پاس کوئی پریشانی والی بات ہے تو خود کو معتبر ثابت کرنے کے لئے کہہ دیں ورنہ چُپ رہیں۔

اچھا. . . . . تو کیا عقلمندی کے، بصیرت کے، ذہانت کے اور آگہی کے اثرات اصولی طور پہ ایسے ہی ہونے چاہیں؟ مانا کہ شعور اور ادراک انسان کو ایک کرب سے دوچار کرتے ہیں لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ باشعور افراد ہمہ وقت کرب کی تصویر اور مصدر بن جائیں ؟ بلاشبہ یہ بات تنگ ظرفی کی ہے کہ انسان شعور کے کرب کو اپنے من میں سمیٹ نہ سکے اور پھر اُس رنج سے ادراک کا چین کشید نہ کرسکے ۔

اگر بزرگ، سرکردہ اور باشعور افراد یہ وطیرہ ہی اپنائے رکھیں گے اور خود کو سینیئر ثابت کرنے کے چکر میں اپنے خول تک محدود ہوجائیں گے تو کیا اپنا تجربہ آگے منتقل کر سکیں گے؟ بہت کم ایسے بزرگ اور سرکردہ افراد دیکھنے کو ملتے ہیں جو اپنی سمجھ، تجربے اور شعور کے ساتھ ساتھ حلیم اور شفیق بھی ہوں۔

ہمارے معاشرے کو شعور کے ساتھ اس مشفقانہ برتاوٴ اور نرم خوئی کی اشد ضرورت ہے۔ اس ضرورت کے پیچھے کئی وجوہات ہیں۔ جن میں اہم ترین یہ ہیں کہ یہ معاشرہ بیک وقت کئی طرح کی یلغار کا سامنا کر رہا ہے۔ جس میں معاشی، معاشرتی، سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی حملے بہت واضح ہیں۔

چنانچہ وہ افراد جو اپنی زندگی کے کئی ماہ و سال گزارنے کے بعد شعور اور آگہی کی کسی منزل پر پہنچتے ہیں، اُن پر اپنے معاشرے اور اپنے بعد آنے والی نسلوں کا یہ حق بنتا ہے کہ وہ اپنا تجربہ اور آگہی منتقل کریں ۔ اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر میں اپنا حصہ ڈالیں۔ اس عمل میں تحمل، نرمی اور شفقت بہت ضروری ہے تاکہ دوسرے متنفر ہونے کی بجائے راغب ہوں۔ اور دلچسپی قائم رہے۔ یہ قدم معاشرے کی تربیت اور مثبت روئیے پیدا کرنے کے بہت اہم ہے۔ لہٰذا بہت ضروری ہے کہ اس روئیے کو سوچا جائے، اس کی تیاری کی جائے، عادت ڈالی جائے، اس کی راہ میں آنے والی دشواریوں سے نمٹا جائے اور آہستہ آہستہ ایک معاشرتی طرزِعمل بنایا جائے. . . . . کہ   پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر۔

From Where Comes the Sorrow?

Academic years lay the basic ground of a student’s life. One learns to move ahead, compete, work hard, socializing class fellows and have knowledge. A student may never come across the experiences again which once he has been through in the school or college life.

They were all 5 hours at Air Base Inter College Mushaf on feb, 23, 2013. I have been to the annual awards ceremony and talent show at the college, with my daughter who was awarded for a position in her board exams.

The whole ceremony went quite good, in a routine way. A dinstinctive item in the talent show took my whole attention. It was a presentation of many famous noble personalities of sub-continent’s history. Very obvious to see that students of seniour school have done a great effort to find out exact details about the appearance of all the great people.

Mohammad bin Qasim was first to appear along with Mehmood Ghaznavi in their traditional get ups. The days are passed when these personalities were very familiar to general public.
Zaheer ud din Baber followed them, representing era when mughals were rulers. All the magnificience of mughals flashed in my mind, from their magestic life styles to architecture.

Names from the freedom movement were next to come. So adorable were those students, having practiced for many days and providing all the sufficient accessories to present every particular personality. I smiled to see a thin Sir Sayad Ahmad Khan, who was no doubt a healthy tall man. Two brothers, Moulana Mohammad Ali Johar and Moulana Shaukat Ali came and made me remember Bi Amma, whose famous line was “jaan beta khilafat pe dey do”.
Chaudhry Rehmat Ali was holding a play card displaying “Pakistan”. The great poet Allama Mohammad Iqbal came in his famous pose, thinking and meditating.

Then came the noble couple Liaqat Ali Khan and Begum Ra’na Liaqat. Such a beauty to have your life partner as a companion.

A shadow of grief has taken my heart at this point. How this great man departed this world? I was thinking if the loss happened because of this murder had ever been fulfilled. It was no doubt a murder of democracy. Why we are a nation who’s history has so many unsolved murders? Can ever we stand proud and high with the burden of these assassinations? All of such and similar events appeared flashing in my mind.

And finally, names of Quaid e Azam Mohamad Ali Jinnah and Fatima Jinnah were announced and came forward two students, in the lots of clapping from the audience.
The pain grew deeper.
More unanswered questions.
Blood- stained history and controversies.
Sorrow grabbed all my nerves, if my heart was sinking.

But still I can feel hope in my heavy heart, because they say that dusk must follow every dark night.
(Originally posted on February, 2013 on attending this occasion.)

سونے کا نوالہ

سونے کا نوالہ

image

چہکتے کھلکھلاتے باتیں کرتے بچے ہر جگہ رونق کا سبب ہوتے ہیں ۔ آجکل بچے بہت گہری باتیں کرتے ہیں ۔ اب بچوں کو بہت زیادہ پابند نہیں رکھا جاتا۔ بے تکلفی سے منہ پھٹ ہونے تک کے تمام معاملات عام ہیں۔ تربیت کے اعتبار سے معاشرےمیں بہت تبدیلی آچکی ہے

ایک وقت تھا جب خاموش گم سم اور مودب بچہ آئیڈیل سمجھا جاتا تھا۔ عرصہ دراز تک ہمارے گھروں میں یہ جملے سنائی دیتے تھے، دیکھو فلاں بچہ کتنا اچھا ہے، خاموش رہتا ہے اور کوئی شرارت نہیں کرتا۔ گویا خاموشی ہی قابلِ تعریف تھی اور شرارت کرنے کی خواہش سے عاری ہونا مثالی تھا۔

یہ سونے کے نوالے اور شیر کی آنکھ کا زمانہ تھا۔ سونے کا نوالہ تو وہی کھلاتے جن کے بس میں ہوتا لیکن شیر کی ایک آ نکھ اور بسا اوقات شیر کی دونوں آنکھیں تو ہر ایک کے بس میں تھیں اور وہ بھی بنا کسی لاگت کے۔لہٰذا اُس عہد نے وہ سپوت اور نسل پیدا کی جو گھر میں ہی آنکھیں دیکھ کر سہم جایا کرتی تھی۔

اِس سوچ کے حامل والدین اولاد کو تابعدار بنانا زندگی کا نصب العین سمجھتے تھے۔ اِس تابعداری کا حاشیہ بھی متعین نہیں تھا، نہ ہی کوئی قانون تھا ۔ عام طور پہ تابعداری کا امتحان ایثار اور قربانی سے لیا جاتا۔ خاموشی سعادت مندی کی اولین شرط تھی۔ اور جہاں ضرورت ہوتی فوراً والدین کو اُف تک نہ کہنے کی دلیل پیش کردی جاتی۔

شیر کی آنکھ سے دیکھنے کی ادا کسی حد تک ٹھیک تھی لیکن اس کے اثرات بہت عرصے میں سامنے آئے۔ معلوم ہوا کہ دبے سہمے خاموش طبع بچے جب گھر سے باہر نکلتے ہیں تو انھیں کئی طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ زیادہ تر اس لئے کہ ایسے بچے جدوجہد کی خواہش نہیں رکھتے اور قدم بڑھا کر جگہ لینا نہیں جانتے۔ جبکہ معاشرے کی ترقی کے لئے، اور باشعور انسان بننے کے لئے ہر خوف اور دباوٴ سے مبرا درست اور غلط کا واضح شعور ہونا لازمی ہے۔ آگے بڑھنے کی جستجو، تڑپ اور مقابلے کا رحجان ہونا بہت ضروری ہے۔

والدین کی تابعداری اور فرمانبرداری بہت اچھی چیز ہے مگر یہاں جو امر قابلِ غور ہے وہ یہ کہ تقدس اتنا بلند کردیا گیا کہ والدین سےسوال کرنا فرمانبرداری کے منافی قرار پایا۔ والدہ سے تو پھربھی دبے لفظوں میں کوئی فرمائش یا سوال کرنا روا تھا مگر والد ایسی ہستی تھے جن کے گھر میں قدم رکھتے ہی کایا پلٹ ہوجاتی تھی۔ مسکراہٹیں، قہقہے اور فی البدیہہ سرزد ہونے تمام حرکات معطل کردی جاتیں۔ کسی کو کچھ پوچھنا کہنا روا نہ تھا۔ ایلی شدید خواہش کے باوجود تمام عمر باپ سے سوال کرنے کی جراٴت نہ کرسکا۔

۔ ۔ ۔ یہ سب ادب کے لوازمات تھے۔

حالانکہ ادب اور استفسار کے دائرے الگ الگ ہیں۔ سوال، وضاحت، نصیحت، تشریح، ۔ ۔ ۔ یہ سب باتیں ادب کو متاٴثر نہیں کرتی، لیکن شیر کی آنکھ کا معاملہ تھا۔ بہت سے لوگ جنگل کے بادشاہ کے اس قانون کو آج سنہرے دور سے تعبیر کرتے ہیں۔ لیکن اس قانون کے اثرات پہ نظر نہیں کرتے۔

      <p style="direction:rtl;font-family:'Alvi lahori Nastaleeq ', 'Jameel Noori Nastaleeq', 'Urdu Naskh Asiatype', Arial, Tahoma;font-size:30px;line-height:1.5em;text-align:right;">اس بات پہ کوئی اختلاف نہیں کہ ؂ ادب پہلا قرینہ ہے۔ ۔ ۔ ۔ </p>

مگر یہ بھی دیکھئے کہ ادب ”محبت” کے قرینوں میں پہلا قرینہ ہے ۔ ۔ ۔ نہ کہ خوف اور ڈر کے ساتھ ادب کو جوڑا جائے۔

ایسی موٴدبانہ روک ٹوک ہر تعلق کو پھیکا بنا دیتی ہے۔ اس کےساتھ ساتھ نفسیاتی گِرہیں پڑنے کا سبب بھی بنتی ہے۔ لہٰذا یہ بہت ضروری ہے کہ ادب اور بے تکلفی میں فرق کو سمجھا جائے اور سمجھایا بھی جائے۔

دبے اور سہمے ہوئے ماحول میں پلے بڑھے افراد کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ وہ غلط بات کے سامنے مزاحمت کرنے کی کوشش نہیں کرتے، نہ ہی ایسی خواہش رکھتے ہیں۔ ایک عرصے تک دبے سہمے ماحول میں رہنے کے بعد ایسے افراد میں شعورمندمل ہوجاتا ہےاور اگر اس طرح کا کوئی روئیہ ظاہر کریں بھی تو وہ اپنے دبےہوئے ماحول کے ردعمل کے طور پر ہوتا ہے۔ آج ہمارا معاشرہ ہر سطح پہ ایسی ہی دو انتہائی سوچوں کی وجہ سے الجھاوٴ کا شکار ہے۔ بہت سے لوگوں کے بہت سے نظریات کی نہ سمت ہے اور نہ منطق۔

نارمل روئیے پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ افراد کی تربیت میں کسی بھی طرح کی انتہا سے کام نہ لیا جائے۔ اس قدر بےتکلفی نہ ہو کہ کسی حد کا پاس ہی نہ رہے اور نہ ہی اس قدر سختی ہو کہ پابندی میں رہتے ہوئے صحیح اور غلط کا شعور ختم ہوجائے۔

Moment of charm. . .can go more

Moment of charm. . .can go more

happy_face_wall_clock

Not a strange thing for any one of us to move in any moment of past in no time. That one connecting moment takes you to the most of your beautiful feelings. Its recalling your beloved ones, such as, mother, father, brother, sister, friends, toys, car, pet, …….and so on. All such memories mostly come with tears and wet eyes. Thats very natural. Intesity of feeling is what makes you cry and wipe out your eyes

Its a common tradition of love and affection to shadow it with gloomy shades. To listen a sad song in nostagia, to have tearful eyes whenever remembering the persons who were source of love and courage, sighing and smiling on silly things with friends, recalling childhood, school and college days. . . . . . This all seems so ćharming

This charm is endless. Although very first feeling about memories is, a feeling of some thing has happened a long time ago, and slipped out of your hand. Gone. Spend. But this is not all the charm and beauty of our sweet moments. Sweetness of every beauty in life decends in our being. It diffuses in our whole existence. Its not gone, rather present somewhere inside us

You may still love that chips, you once shared with school friends, when the whole world revolved around chips and bottle and cone. I may tap my fingers while listening the music, exactly as my baba used to. Your dinning likes and dislikes may turn out to be same as your mother’s. you still wish to scream and jump after listening to an exciting news. I may be very choosy and picky about my shoes, as my sister or brother

So the charm is there. Dont we have the ability to connect it further? Yes, let it pass through. Be the one,…..who you are missing,…..for those who are around you

Retain the charm of your sweet moments and . . . .be a source of it, once again

Its just like adjusting the bass settings of an audio player, lessen the saddening effect and increase the encouraging and uplifting impact

Add-on sweetness, share it, spread it, be a source, to be remembered some day. . . .after finishing your pile of moments. Expand the charm out of gloomy shade and let it have the joyful shine. Grasp all that beauty that you miss and be its source