Part 2: A Glimpse of Character Sketch

قُرآنِ پاک میں بیان کردہ شخصی اوصاف میں سے چند ایک ، اختصار کے ساتھ/ حصہ دوم

A little effort to put down some good qualities of a character, described by the Holy Qura’an/part2

-پارہ 2:

-1- اچھے کاموں کا حکم دینا اور بُرائیوں سے منع کرنا
کیونکہ یہی دو کام کرنے سے ، “عادل اُمت” کا مقام حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اچھے کام کی ترغیب اور بُرائی سے روکنا کسی شخصیت کے اٗن اوصاف میں سے جو قُرآن نے بتائے ہیں ۔ اچھے کاموں کو عام کرنے اور برائیوں کی روک تھام کی ذمہ داری پر، اِس اُمّت کو تمام لوگوں پر گواہ ہونا ہے جب کہ رسول ﷺ خود گواہ ہیں کہ انھوں نے اِس اُمّت تک پیغام پہنچادیا ۔

-سورۃ البقرہ/آیت 143/وَكَذَ‌ٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِّتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا/اور اسی طرح ہم نے تمہیں عادل امت بنایا تاکہ تم اور لوگوں پر گواہ ہو اور رسول تم پر گواہ ہو

-2- بھلائیوں اور اچھے کاموں میں مسابقت
آپس میں نیک کاموں میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی لگن رکھنا ، بجائے اِس کے ، کہ دُنیاوی معاملوں اور ظاہری باتوں میں ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی کوشش ہو

-سورۃ البقرہ/ آیت 148/فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ ۚ أَيْنَ مَا تَكُونُوا يَأْتِ بِكُمُ اللَّهُ جَمِيعًا ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ/ پس تم نیکیوں کی طرف دوڑو تم جہاں کہیں بھی ہو گے تم سب کو الله سمیٹ کر لے آئے گا بے شک الله ہر چیز پر قادر ہے

-3- صبر اور نماز سے مدد حاصل کرنا
ایمان کے بعد ہر مشکل وقت میں سہارا لیا جائے ، صبر اور نماز سے، صبر سے مراد ثابت قدمی، بلند ہمتی اور مستقل مزاجی پہ قائم رہنا اور دل تھوڑا نہ کرنا، قرآن کا بیان کردہ یہ شخصی وصف اس سلسلے کے پہلے حصے میں بھی آیا ہے

-سورۃ البقرہ/ آیت 153/يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ ۚ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ/اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد لیا کرو بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے

-4- کھانے کے لئے حلال اور طیب چیزیں پسند کرنا

-سورۃ البقرہ/ آیت 168/يَا أَيُّهَا النَّاسُ كُلُوا مِمَّا فِي الْأَرْضِ حَلَالًا طَيِّبًا وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ ۚ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ/اے لوگو ان چیزوں میں سے کھاؤ جو زمین میں حلال پاکیزہ ہیں اور شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو بے شک وہ تمہارا صریح دشمن ہے

-5- ایک دوسرے کا مال ناحق غصب نہ کرنا

-سورۃ البقرہ/آیت 188/وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ/اور ایک دوسرے کے مال آپس میں ناجائز طور پر نہ کھاؤ

-1- Being helpful and promoting good deeds, stopping and discouraging bad deeds. Quran says: Albaqara/143/Thus, have We made of you an Ummat justly balanced, that ye might be witnesses over the nations, and the Messenger a witness over yourselves

-2- Having a mind-set to compete each other about noble deeds instead of materialistic and fake causes. Quran says: Albaqara/148/ then strive together (as in a race) Towards all that is good. Wheresoever ye are, Allah will bring you Together. For Allah Hath power over all things

-3- Relying on patience and prayers in tough times, and not to be panic and upset. Quran says: Albaqara/153/O you who believe! Seek help in patience and As-Salat (the prayer). Truly! Allah is with As-Sabirun (the patient).

-4- Choosing halal and fine things for food.Quran says: Albaqara/168/O mankind! Eat of that which is lawful and wholesome in the earth, and follow not the footsteps of the devil. Lo! he is an open enemy for you.

-5- Not to take over on someone else’s riches by fraud. Quran says: Albaqara/188/And do not swallow up your property among yourselves by false means

A Glimpse of Character Sketch – 1

قُرآنِ پاک میں بیان کردہ شخصی اوصاف میں سے چند ایک ، اختصار کے ساتھ

A little effort to put down some good qualities of a character, described by the Holy Qura’an

-پارہ1:

-1-سیدھے راستے کی دعا ، لگن اور آرزو کرنا
انسان میں اِس خواہش کا ہونا کہ اُسے سیدھی راہ کا علم ہو اور اللہ تعالیٰ اُسے سمجھ عطا فرمائے جس کے لئے وہ دعا کرتا ہو۔
سورۃ الفاتحہـ آیت6/ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ/ہمیں سیدھے راستے کی ہدایت عطا فرما

-2-حقیقت جانتے بوجھتے ہوئے، حق کو باطل کے ساتھ خلط ملط نہ کرنا اور نہ ہی سچ بات کو چھُپانا، سچ اور جھوٹ کو الگ الگ واضح رہنے دینا
سورۃ البقرہ- آیت42/ وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُوا الْحَقَّ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ/ اور سچ میں جھوٹ نہ ملاؤ اور جان بوجھ کر حق کو نہ چھپاؤ

-3-تمام حالات اور خاص طور پہ مشکل حالات میں ، صبر اور نماز سے مدد حاصل کرنا ۔ صبر سے مراد ثابت قدمی، بلند ہمتی اور مستقل مزاجی پہ قائم رہنا اور دل تھوڑا نہ کرنا
سورۃ البقرہ-آیت45/ وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ ۚ وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلَّا عَلَى الْخَاشِعِينَ/ اور صبر کرنے اور نماز پڑھنے سےمدد لیا کرو اوربے شک نماز مشکل ہے مگر ان پر جو عاجزی کرنے والے ہیں

-4-معافی تلافی اور صَرفِ نظر سے کام لینا
سورۃ البقرہ-آیت109/ فَاعْفُوا وَاصْفَحُوا حَتَّىٰ يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ/ سو معاف کرو اور درگزر کرو جب تک کہ الله اپنا حکم بھیجے

-1- Seeking the right way and praying Allah for guidance. Holy Quran starts with a longing for the righteous direction.
Quran says: Al-Fatiha/6/ Guide us to the Straight Way.

-2-Neither to mix between truth and false, nor to conceal the facts since one knows the facts out of false.
Quran says: Al-Baqara/42/ And do not mix up the truth with the falsehood, nor hide the truth while you know (it)

-3-Persistence and praying in tough times. Being courageous and never to loose heart.
Quran says: Albaqara/45/ And seek assistance through patience and prayer, and most surely it is a hard thing except for the humble ones

-4- Making a habit of forgiveness and letting go.
Quran says: Albaqara/109/ But forgive and overlook, till Allah brings His Command. Verily, Allah is Able to do all things

روزہ . . . بھوک پیاس کیوں ؟

روزہ . . . بھوک پیاس کیوں ؟

ramadan-2012-calendar-dates-and-sehri-iftar-timetable1

روزے کی غرض و غایت تقویٰ ہے ۔ یہ فرضیت اور ماہِ مبارک کی آمد اور اہتمام ، اِس سب کے پیچھے جو مقصد کارفرما ہے ، وہ تقویٰ کا حصول ہے۔ اور دلیل اِس بات کی ، قرآن کی یہ آیت ہے :

يا ايا الذين آمنوا كُتب َ عليكم الصّيام كما كُتب علىٰ الذّين مِن قبلكُم لعلّكم تتّقون۔ البقرہ- 183

ترجمہ: اے ایمان والو تم پر روزہ فرض کیا گیا ہے جیسا کہ ان لوگوں پر فرض کیا گیا تھا جو تم سے پہلے تھے، تاکہ تم تقوی اختیار کرو-

ایسے روزے کے لئے ، جو دِل میں تقویٰ پیدا کرے ، انسان کو کچھ تقاضے پورے کرنے ہوں گے۔

پہلی اساسی بات یہ ہے کہ ، ایسا روزہ کبھی تقویٰ پیدا نہیں کرسکتا ، جس میں کسی بھی وجہ سے انسان کی کوئی نماز ضائع ہوجائے۔

رواج بن گیا ہے کہ رمضان کے خصوصی اہتمام کے سلسلے میں، سحر اور افطار میں اکثر کھانے کی مقدار ہی نہیں بڑھتی . . . بلکہ معیار اور تنوّع میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔ اِسی سے متعلقہ . . . .

دوسری نکتے کی بات یہ ہے کہ . . . .سحر اور افطار میں اعتدال سے زیادہ کھانے پینے کے ساتھ . . تقویٰ پیدا کرنے والا روزہ حاصل نہیں ہوسکتا ۔

روزے میں مخصوص اوقات میں ، کھانے پینے سے موقوف ہو کر، بھوک کی حالت میں . . . تمام جسم میں اُس بھوک کے لطیف اثرات کو محسوس کرنا اَزحد ضروری ہے۔ کیونکہ جب پیٹ بھوکا ہو تو باقی تمام اعضاء کو سَیری حاصل رہتی ہے۔ اور پیٹ جب بھر جائے تو دیگر اعضائے جسم کی بھوک جاگ اُٹھتی ہے اور وہ اپنی اپنی طلب پوری ہونے کا تقاضا کرنے لگتے ہیں ۔ اِسی لئے عام مشاہدہ ہے کہ رمضان میں شیاطین بند ہونے کے باوجود کئی منکرات اور برائیاں بڑھ جاتی ہیں۔

ایسا اِس لئے ہوتا ہے کہ کثرتِ طعام، ذہنی غفلت، کاہلی اور نیند کی زیادتی سے انسانی نفس کی خواہشات بھڑکتی ہیں اور . . .یہ خواہشاتِ نفسی انسان کے دِل پر مضر اثر ڈالتی ہیں۔

انسانی نفس میں بھوک کی جبلّت بہت اہمیت رکھتی ہے اور بھوک کے اثرات کو، عرصہء دراز سے، کئی طرح استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن روزے میں ، نفس پر بھوک اور پیاس سے پیدا ہونے والے ، اثر کو مختلف طرح ضائع کرلیا جاتا ہے۔ جیسے . . روزے کے دوران تکبر کے گمان اور زعم میں رہنا اور بار بار جتانا کہ بہت ہی پیاس لگی . . .بھوک نے کام کردیا . . روزہ لگا . . وغیرہ، روزے نہ رکھنے والوں کو حقارت سے دیکھنا ، بھوکا پیاسا ہونے کی وجہ سے اضطراب اور جھنجھلاہٹ کا شکار ہونا ، غصہ ہونا، زبردستی بہت زیادہ سو کر وقت گزاری کرنا . . . یا اپنے ہی بھوکا پیاسا ہونے پر خود ترسی میں مبتلا رہنا . . .

یہ سب باتیں نفسِ انسانی کو روزے میں پیدا ہونے والے اثر سے محروم کردیتی ہیں اور انسان کو روزے کی اِس کیفیت کا سرور، ٹھہراؤ اور آہنگی محسوس کرنے سے روک دیتی ہیں۔ انسان کی حسِیّات ایک دوسری جانب چل پڑتی ہیں اور اپنے نفس میں آنے والی اِس خوشگوار ، پاکیزہ چمک کو محسوس نہیں کرپاتی۔ روزے کی حالت میں انسانی دل اور جوارح میں ایک سکون قائم ہوتا ہے، جس سے سوچ کے نئے زاویے نظر آتے ہیں ، خضوع اور عبودیت کی لذت تک رسائی ہوتی ہے، باہر کی دنیا کی نسبت اندر کی دنیا کا دَرکھُلتا ہے۔

روزے کا وقت ختم ہوتا ہے تو انسان کا معدہ ناکو ناک کھانے سے بھر جاتا ہے ۔ معدے کے ساتھ ساتھ ذہن الگ کنفیوژن کا شکار ہوتا ہے کہ طعام کی اِس رنگا رنگی میں کیا کھایا جائے اور کیا چھوڑا جائے ۔ اِسی ذہنی اور جسمانی انتشار کے عالم میں انسان غیر صحت مند کھانا . . . غیر صحت مند انداز میں ٹھونس لیتا ہے۔

کھانے پینے کا کام جاری ہونے کے ساتھ ذہن اور جسم کی دیگر آوارگیوں کا وقت بھی آن پہنچتا ہے جس میں الیکٹرانک میڈیا، سگریٹ نوشی، بازاروں کے اخلاقی اور معاشی مفاسد وغیرہ شامل ہیں۔

13
12
Ramzan-Ramadan-Jokes-and-Humour-Eye-Specialist-checking-the-eyes-of-a-shopkeeper-during-Ramzan-Funny-Jokes-during-Ramzan

تو گویا تمام دن کی تپسیّا کے بعد ، روزے کو جو اثرات مرتّب کرنے تھے، وہ سب ختم ہوجاتے ہیں اور جن فوائد کو پیدا ہونا تھا ، اُن کا نام و نشان بھی نہیں ہوتا ۔ ایسے میں دِل کی سختی مزید بڑھ جاتی ہے، نفس مزید غافل ہوجاتا ہے ، دِل کو بینائی حاصل ہونے کی جگہ اندھیرا بڑھ جاتا ہے ۔

ایسے میں انسان اطاعت کے لئے رغبت اور شوق میں کمی محسوس کرتا ہے ۔ لذّتِ شوق اور عبودیت میں اضافہ نہیں ہوتا بلکہ یہ نعمتیں ہاتھ سے جانے لگتی ہیں ۔

روزے کے ساتھ تقویٰ کی نعمت ، اُس وقت نصیب ہوتی ہے جب کھانے پینے سے باز رہنے کے ساتھ ساتھ، اپنے نفس کو پابند اور محبوس کرکے ، غفلت کے اثر سے نکالا جائے اور خواہشات اور تقاضے کرنے سے روک کر اپنا تابع کیا جائے، نہ کہ خود نفس کی اتباع کی جائے۔

ماہِ مقدس کے اچھے آغاز کی شان یہ ہے کہ وہ اچھے نتائج پر اختتام پذیر ہو جن میں تربیتِ نفس لازمی ہے۔ یہ عزم ضروری ہے کہ روزے کے ساتھ تقویٰ کا حصول حتمی ہو کیونکہ اللہ رب العزت کے ہاں قبولیت کی ایک شرط تقویٰ ہے ۔ “اِنّما یتقبّلُ اللہُ منَ المتّقین”

ترجمہ و مفہوم از ڈاکٹر خالد بن عثمان السبت رحمہ اللہ

Phases-of-Ramadan-Symbol-Moon-Pictures-Images-Photos-2013
Once again on this Ramadan, with best of wishes.

A Saturated Heart

image

“Gaining”, as a word, on consulting a dictionary, stands for, . . . .
To come into possession or use of something,
To acquire,
To attain,
To have as profit or reward,
To gather, collect and increase. . .
A great number of meanings, infact ! All of which show increase in possession, that is a good sign.

As a common use, gaining power means to reach a specific position or seat, gaining profit indicates some good deal, bonus or unexpected fortune, and so on. . .many more meanings. Except gaining weight n pounds, all others synonyms for gaining are used in good sense.

image

image

One thing to notice: in any type of gaining, are we keeping the profit to ourselves ? Or just handing it over to someone else?

Spending, passing or sharing is not rare, people do share and spend lavishly, but what is missing, is to retain the fruits of our gains inside ourselves. Very little that we enjoy what we gained.

For example, after gaining money, we come across expenditures at once, without actually realising the blessing of that gain, without a mind to enjoy or to be thankful to be in a position to spend. And by here, ignoring all the positive impacts that this gain should place in our inner selves. Materially, there may be seen goodies, but no contentment inside the heart.

image

Gaining knowledge , either to earn a good life, or to deliver it further to students, or just to proof one’s intellectual value, is not just enough, for this gain. Very rare to find a situation, in which knowledge, of any kind, is gained to soothe and enlighten one’s inner self and soul. It is ok with commercial aspects of knowledge, but hopeless to find, that this knowledge, havent given a chance , to make some light and kindle the heart and mind of the bearer.

Retaining the impact of every gain in life, to be more positive, can bring out harmony and calm in life, to a considerable extent. Many of our gains, dont put any positive effect on our heart and psychological health. This leads to a kind of educated people with illiterate behaviours, wealthy persons with poorly sick attitudes, ill manners in well dressed bodies, weak and abnormal thoughts coming out of good looks, stuffed pockets and empty hearts, filled stomachs and hungry eyes.

The behaviour of not realising and containing a gain, makes us never feel content and saturated. A saturated heart is the actual fruit of life, a heart in peace, with zero negative feelings.

image

آ بتاؤں تجھ کو رمز آیہء “ان الملوک

آ بتاؤں تجھ کو رمز آیہء “ان الملوک”

“ان الملوک” . . . یہ دو لفظ ایک قرآنی قصّے کی طرف اشارہ کرتے ہیں

اور اِس پورے قصّے میں سے ، اِن ہی دو لفظوں کا انتخاب ، اِس بات کی دلیل ہے کہ علامہ اقبال کا قرآنِ کریم سے بہت الگ تعلق تھا اور انھوں نے بہت گہرائی سے اللہ کے کلام کی روشنی میں دنیا کے معاملات کو سمجھا اور اپنے اشعار میں سمویا ۔

اس قرآنی قصے کی طرف آتے ہیں ،سورۃ نمل کی آیت نمبر34 کی طرف اشارہ ہے . . . جب سباء کی ملکہ بلقیس کو ہُدہُد کے ذریعے حضرت سلیمان ؑ کا پیغام پہنچا۔

“وہ کہنے لگی: اے سردارو ! میری طرف ایک باوقعت خط ڈالا گیا ہے۔”

“یہ کہ تم میرے سامنے سرکشی نہ کرو اور مسلمان بن کر میرے پاس آجاؤ۔”

“اُس نے کہا : اے میرے سردارو! تم میرے اِس معاملے میں مجھے مشورہ دو۔ میں کسی امر کا قطعی فیصلہ نہیں کِیا کرتی، جب تک کہ تمھاری موجودگی اور رائے نہ ہو۔”

“اُن سب (سرداروں)نے جواب دیا: ہم طاقت اور قوّت والے، سخت لڑنے بِھڑنے والے ہیں۔ آگے آپ کو اختیار ہے ، آپ خود ہی سوچ لیجیئے کہ ہمیں آپ کیا حکم فرماتی ہیں۔”

“اُس (ملکہ)نے کہا: جب بادشاہ کسی بستی میں گھُستے ہیں تو اُسے اُجاڑ دیتے ہیں اور وہاں کے باعزّت لوگوں کو ذلیل کردیتے ہیں اور . . .یہ لوگ بھی ایسا ہی کریں گے۔”

” میں انہیں ایک ہدیہ بھیجنے والی ہوں ، پھر دیکھ لُوں گی کہ قاصد کیا جواب لے کر لَوٹتے ہیں۔”

سورۃ نمل- آیت29-35 ، ترجمہ مصحف الحرمین

گویا کہ ملکہ کے مشیر اور عمائدین ، ملکہ کو اپنے ساتھ کا بھر پور یقین دِلا رہے ہیں کہ آپ ہمارے قوّتِ بازو پہ بھروسہ کر سکتی ہیں، ہم اپنا بھر پور دفاع کریں گے لیکن ملکہ، جنگ کے نقصانات کے پیشِ نظر مصالحت کی طرف آمادہ ہیں۔

ـ “ان الملوک” . . . کا لفظی ترجمہ ہوا ” جب بادشاہ” جو کہ ملکہء بلقیس کے الفاظ ہیں کہ . . .

-1:” جب بادشاہ” کسی بستی میں گھُستے ہیں تو اُسے اُجاڑ دیتے ہیں اور

-2: وہاں کے باعزّت لوگوں کو ذلیل کردیتے ہیں۔

اس مصرعے میں علامہ اقبال نے “ملکہء بلقیس” کے اِن دو الفاظ کی مدد سے بادشاہت، بیرونی حملہ آوروں اور حاکمیت، محکومیت کے بارے میں اسرار و رموز کی سب بات کہہ دی ہے ، وہ اِس کے لئے رمز کا لفظ استعمال کرکے بات کی گہرائی کی طرف اشارہ کر رہے ہیں . . . کہ جب کوئی بادشاہ یا حکومت دوسری قوم پر غالب آجاتی ہے، تو وہ محکوم قوم کو تباہ و برباد کردیتی ہے اور اِس کے شرفاء کو ذلیل کر دیتی ہے۔ اُنھیں عزت دار اور با شرف لوگوں کی تمیز نہیں ہوتی اور محض اپنی حکومت مضبوط کرنے کے لئے مغلوب قوم کو ذلیل و رُسوا کردیتی ہے۔ بیرونی آقا ہر وہ حربہ استعمال کرتے ہیں جس کے ذریعے اپنا استعمار وہاں گاڑ سکیں ، اُس جگہ کی بنیادیں کمزور کرسکیں، اُس قوم کے وسائل اور مالیات پر قبضہ کرلیتے ہیں، احساسِ خودی ، عزّتِ نفس اور دفاع کی حِس کو مفلوج کردیتے ہیں . . . تاکہ محکوم میں مزاحمت ٹوٹ جائے۔

اِسی شعر کا دوسرا مصرعہ ہے :

سلطنتِ اقوامِ غالب کی ہے اِک جادوگری

اِن غالب اقوام کی سلطنت اور بادشاہت کا یہی راز ہے ، اور یہی ہنر ہے کہ یہ کسی قوم پر غالب ہو کر اُس کے اہلِ عزت اور معزز لوگوں کو رُسوا کردیتے ہیں۔ اسی طریقے سے یہ اپنا غلبہ قائم رکھ سکتی ہیں۔ اِن کے پاس یہی جادو کا ، وہ نسخہ ہے ، جس سے اقتدار اور تحکّم پہ قابض رہا جاسکتا ہے . . . .کہ عزّت اور غیرت مِٹا دو۔ اپنا استعمار اور تسلط قائم رکھنے کا یہی طریقہ ہے کہ جس قوم پہ قبضہ کرو ، اُسے بےعزت کردو، اُس کی حمیّت ختم کردو۔یہ مصرعہ استعمار کی تمام شکلوں کی بخوبی وضاحت کرتا ہے۔

۔ یہ بانگِ درا کی نظم ” خضرِ راہ” کا چھٹا بند ہے۔

اسلامیہ ہائی سکول لاہور کا مقام ہے، اپریل 1922 کا زمانہ ہے، انجمن حمایتِ اسلام کا سالانہ جلسہ جاری ہے ، علامہ محمد اقبال یہ نظم پڑھتے ہوئے رونے لگتے ہیں، رِقّت طاری ہوجاتی ہے اور سامعین بھی رونے لگتے ہیں۔

pic_iqbal_001 :::::: ”

خضر راہ“نظم اقبال نے انجمن حمایت اسلام کے 37 ویں سالانہ اجلاس میں جو 12 اپریل 1922ءاسلامیہ ہائی سکول اندرون شیرانوالہ میں منعقد ہوا تھا میں ترنم سے پڑھ کر سنائی۔ بعض اشعار پر اقبال خود بھی بے اختیار روئے اور مجمع بھی اشکبار ہو گیا۔ عالم اسلام کے لئے وہ وقت بہت نازک تھا۔ قسطنطنیہ پر اتحادی قابض تھے ۔ اتحادیوں کے ایماءپر یونانیوں نے اناطولیہ میں فوجیں اتار دی تھیں۔ شریف حسین جیسے لوگ انگریزوں کے ساتھ مل کر اسلام کا بیڑہ غرق کرنے میں پیش پیش تھے۔ خود ہندوستان میں تحریک ہجرت جاری ہوئی۔ پھر خلافت اور ترک موالات کا دور شروع ہوا۔ ادھر دنیائے اسلام کے روبرو نئے نئے مسائل آگئے۔ اقبال نے انہی میں سے بعض اہم مسائل کے متعلق حضرت خضر کی زبان سے مسلمانوں کے سامنے صحیح روشنی پیش کی۔ اور نظم کا نام خضر راہ اسی وجہ سے رکھا۔

مامتا

مامتا

image

ایک شخص، اپنے مرتبے کی عکاسی کرتے نفیس اور عمدہ لباس میں ملبوس، چہرے پر قابلیت کی لکیریں سجائے، اپنے ملازم کے ہمراہ کمرے میں داخل ہوا۔ معلوم ہوتا ہےکہ افسر صاحب کا مزاج برہم ہے اور ملازم خجل ہے۔ ہوا یوں کہ صاحب کی کوئی اہم فائل تھی جو ملازم کہیں رکھ کےبھول گیا ہے اور اب ماحول میں شدید تناوٴ ہے۔ ملازم جھڑکیاں کھانے کے بعد فائل کی تلاش میں دوسرے کمرے میں چلا گیا۔ صاحب جھنجھلاہٹ میں اپنی اکڑی ہوئی گردن جھکا کر ایک درازمیں فائل ڈھونڈ رہے ہیں۔ کہ شاید غلطی سےفائل وہاں نہ رکھی گئی ہو۔

دراز کے کاغذات کی ترتیب ہلنے کی باعث بدلی ، اور کاغذ کا ایک ٹکڑا . . . ، ا ُلٹتا . . . پلٹتا . . . ، صاحب کے قدموں میں آن گرا۔ صاحب جھکے، کاغذ اٹھایا، دیکھا تو یکایک کائنات ہی بدل گئی ۔ پریشانی اور مزاج کی تلخی ایکدم کہیں غائب ہوگئی۔ یہ ماں کی تصویر تھی۔ جانے کب اس دراز میں رکھ کےبھول گئے۔ آج اچانک ماں کاچہرہ دیکھا تو دل میں مدھر احساس بھر گیا۔ فائل کاخیال ایک لمحے کو پس منظر میں چلا گیا۔

ماں کی شفیق صورت سے جُڑی، کئی چھوٹی بڑی تصویریں ذہن کے پردے پہ تیرنے لگیں ۔ وہ بچپن کے دن، ماں کا نوالے توڑ کے اپنے ہاتھ سے کھلانا، سکول چھوڑنے جانا، نہلانا، ساتھ کھیلنا، سکول کا ہوم ورک کروانا، ٹسٹ یاد کروانا، سکول کاکام کروانے کو ماں کیا کیا جتن نہ کرتی، کبھی ٹافی کا لالچ، کبھی بسکٹ کا، جیسےتیسے سبق یاد کروادیا کرتی، کبھی روٹی بناتے ہوئے، کبھی سلاتے ہوئے، دھوپ میں کھیلنے پہ ڈانٹنا، بےوقت گھر سے باہر نہ جانےدینا، کپڑے جوتے، ہر چیز وقت پہ تیار رکھنا، گھر سےباہر ایک ذرا دیر کیا ہوجایا کرتی، تو ماں پریشان بیٹھی ہوتی۔ ہرمشکل میں ، آڑے وقت میں ماں حوصلہ دیا کرتی۔

چھوٹی چھوٹی دعائیں ماں نے نجانے کب یاد کروادی تھیں، آج بھی وہ کپڑے، جوتے، اورجراب پہنتے ہوئے کبھی بایاں پہلے نہیں پہنتا تھا۔ کہ ماں ہمیشہ دایاں پہلے پہننے کو کہتی تھی۔ جب وہ ماں کے گلے لگتا تھا، کیسی پیاری خوشبو اسےگھیرلیتی تھی۔ ماں کی گود کتنی اپنائیت بھری ہواکرتی تھی۔

آہ . . . . . .آج ماں پاس نہیں ہے۔ وہ اس دیس چلی گئی جہاں سے واپسی کے راستے نہیں ہوا کرتے
وہ خوشبو والی گود،
وہ شفقت بھرا لمس،
وہ محبت برساتی نظریں،
دعائیں دیتے ہلتے لب، ۔ ۔ ۔ آج کہاں ۔ ۔ ۔

اےرب ! ماں کو اپنی رحمتوں سے مالامال کردینا۔ ماں کا ابدی ٹھکانہ جنت کا اعلٰی مقام ہو۔

صاحب ہاتھ میں ، ماں کی تصویر تھامے ، میٹھی سہانی یادوں میں کھوئے ہوئے تھے ۔ ۔ ۔ کہ ایک دم وحشت میں دروازہ کھُلا۔

بیگم صاحبہ بولائی ہوئی اندرآئیں۔ ۔ ۔ صاحب نے سوچا . . . یاالٰہی یہ عورت کیا چیز ہے

بیگم بےحال ہو رہی تھیں۔ ” احمر فٹ بال کھیلتے ہوئے گرگیا ہے، اس کےگھٹنےسے خون نکل رہا ہے۔ پلیز اسے دیکھیں۔

افسر صاحب کو اپنی ماں سے تصوراتی ملاقات میں بیگم کا یوں مُخل ہونا بہت ہی ناگوار گزرا۔ ۔ ۔موڈ ایکدم بدل گیا۔

تم بھی بچوں کا دھیان نہیں رکھتی، اور پھر ذرا ذرا بات پہ ہنگامہ کر دیتی ہو، چلو میں دیکھتا ہوں۔

بیگم سے آنسو سنبھالے نہیں جارہے تھے۔ احمر کو کرسی پہ بٹھا کر وہ پٹی کا سامان لائی۔ صاحب نے گھٹنے سے خون صاف کیا اور اسی دوران قہرآلود نظروں سے بیگم کو سرزنش کرتے رہے کہ یہ سب اس کی لاپرواہی کے سبب ہوا۔

احمر میاں کے پٹی بندھ چکی تھی۔ بیگم صاحبہ کو خاطرخواہ تنبیہ ہو چکی تھی۔ احمر کو لِٹا کر اسے ایک کپ دودھ ،ہزار جتن سے پلایا۔ ٹی وی پہ کارٹون لگا کے دئیے۔ سٹوری بُک سے بہلایا۔ ماتھا چوما۔ احمر کا درد کم ہوا تو بیگم قدرے پرسکون ہوئیں ۔ صاحب نے نہایت افسوس بھرے لہجے میں بیگم سے کہا: یہ ہر وقت شرارتیں کرتا رہتا ہے، تمہارے لاڈ نے اِسے بگاڑ دیا ہے۔

بیگم نے مامتا بھری نگاہ سے احمر کو دیکھتے ہوئےکہا: اتنا چھوٹا تو ہے۔ بچوں کو کھیلنا بھی تو ہوتاہے۔ بڑا ہوگا تو خود ہی سمجھ جائے گا۔ بیمار بچے نہیں کھیلا کرتے۔ شکر ہے کہ میرا بچہ صحت مند ہے جوکھیلتا بھی ہے اور شرارتیں بھی کرتا ہے۔

صاحب بڑے افسوس سے اپنی احمق بیوی کو دیکھ رہے تھے جس میں نہ انھیں مامتا نظر آئی نہ ماں۔
نہ اپنے بیٹے کے لئے خوشبو بھری گود،
نہ شفقت بھرا لمس،
نہ محبت بکھیرتی آنکھیں،
نہ دعائیں دیتے لب، ۔ ۔

حالانکہ ماں کا وجود تو آج بھی اُن کے پاس موجود تھا، ایک نئے روپ میں، ایک نئے تعلق سے، زمانے کے ارتقاکے مطابق ، کچھ فرق لیکن رشتہ وہی ۔ ۔ ۔

کیا یہ خود غرضی تھی یا نرگسیت، کہ اپنی ماں کی ہر ادا پہ پیار، اور اس عورت پہ حماقت کا گمان جو اُن کی اولاد کی ماں ہے ! اس میں مامتا تلاشی ہی نہیں نہ ہی کسی بھاوٴ اس کے جذبے کو مول ڈالا۔ ایسی نجانے کتنی ہی خوبصورتیاں ہمارے اطراف اپنی قدر پانے کی منتظر رہتی ہیں، جن پہ ہماری نگاہ ِ ناز کبھی پڑتی ہی نہیں ۔ اور ہم زمانے بھر سے نالاں رہتے ہیں۔