11 th Part, character hints by Quraan

قُرآنِ پاک میں بیان کردہ شخصی اوصاف میں سے چند ایک ، اختصار کے ساتھ

A little effort to put down some good qualities of a character, described by the Holy Qura’an.

-پارہ 11:

-1- سچ بولنا اور سچائی کا ساتھ دینا:

– سچ ہی بولا جائے اور حقائق کو چھپایا نہ جائے، سچائی کی تائید اور معاونت کرنی چاہیئے۔

-التوبۃ/ 119/يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ

-ترجمہ: اے ایمان والو! الله سے ڈرتے رہو اور سچوں کے ساتھ رہو

-2- بدگمانی نہ کی جائے:

– اپنے تئیں قیاس آرائی پہ مبنی بُرے گمان قائم نہیں کرنے چاہیئں۔

سورۃ یونس/36/وَمَا يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنًّا ۚ إِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِمَا يَفْعَلُونَ

-ترجمہ: اور وہ اکثر اٹکل پر چلتے ہیں بےشک حق بات کے سمجھنے میں اٹکل ذرا بھی کام نہیں دیتی بے شک الله جانتا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں

-3- اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کو نہ پُکارا جائے:

– مدد، مناجات اور داد رسی کے لئے صرف اللہ کو ہی پُکارا جائے۔

-سورۃ یونس/ 106/وَلَا تَدْعُ مِن دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَنفَعُكَ وَلَا يَضُرُّكَ ۖ فَإِن فَعَلْتَ فَإِنَّكَ إِذًا مِّنَ الظَّالِمِينَ

-ترجمہ: اور الله کے سوا ایسی چیز کونہ پکار جو نہ تیرا بھلا کرے اور نہ برا پھر اگرتو نے ایسا کیا تو بے شک ظالموں میں سے ہو جائے گا

Juz’ 11:

  1. To speak the truth and to approve the righteous opinionand factful approach.
    -Quraan says/ Altawba/ 119/O you who believe! Be afraid of Allah, and be with those who are true (in words and deeds)
  2. Not to prejudice and misunderstand anyone.
    -Quraan says: Sura Yunus/36/And most of them follow not except assumption. Indeed, assumption avails not against the truth at all. Indeed, Allah is Knowing of what they do

3.Not to ask anyone except Allah in all the situations.
-Quraan says/ Sura Yunus/106/And do not invoke besides Allah that which neither benefits you nor harms you, for if you did, then indeed you would be of the wrongdoers.

Advertisements

9th Part, Character Hints by Quraan

حصہ نواں، قُرآنِ پاک میں بیان کردہ شخصی اوصاف میں سے چند ایک ، اختصار کے ساتھ

(یعنی کردار کو قرآن کے مطابق بنانے کے لئے کیا کرنا چاہیئے)

9th part, A little effort to put down some good qualities of a character, described by the Holy Qura’an.
(What Character Quraan wants you to attain)

-1- اللہ کو اسمائے حسنیٰ سے پکارا جائے اور بحث مباحثہ نہ کرنا :

– دعا میں اور عبادات میں اللہ تعالیٰ کو اسمائے حسنیٰ اور صفاتی ناموں سے پکارنا چاہیئے اور لا حاصل بحث سے بچنا چاہیئے ۔

– سورۃ الاعراف/ آیت 180/

وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ فَادْعُوهُ بِهَا ۖ وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَائِهِ ۚ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ

-ترجمہ: اور سب اچھے نام الله ہی کے لیے ہیں سو اسے انہیں نامو ں سے پکارو اور چھوڑ دو ان کو جو الله کے نامو ں میں کجروی اختیار کرتے ہیں وہ اپنے کیے کی سزا پا کر رہیں گے۔

-2- عفو و درگزر کرنا اور جاہلوں سے پہلو بچانا:

-دوسروں کی غلطیوں اور تلخیوں سے درگزر کرنا چاہیئے، اچھی بات کہی جائے اور جاہل سے کنارہ کشی اختیار کرنی چاہیئے۔

– سورۃ الاعراف/ آیت 199/

خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ

-ترجمہ: درگزر کر اور نیکی کا حکم دے اور جاہلوں سے الگ رہ

-3-ہر شیطانی حربے سے بچاؤ کے لئے اللہ سے پناہ طلب کرنا :

– ہر برائی اور شیطانی وسوسے سے بچنے کے لئے اللہ سے پناہ اور حفاظت طلب کرنی چاہیئے۔

-سورۃ الاعراف/ آیت200/

وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ ۚ إِنَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ

-ترجمہ: اور اگر تجھے کوئی وسوسہ شیطان کی طرف سے آئے تو الله کی پناہ مانگ لیا کر بے شک وہ سننے والا جاننے والا ہے

-4- خیانت نہ کرنا خواہ کیسی بھی ہو

– سورۃ الانفال/آیت 27/

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَخُونُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ وَتَخُونُوا أَمَانَاتِكُمْ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ

-ترجمہ: اے ایمان والو الله اور اس کے رسول سے خیانت نہ کرو اور آپس کی امانتوں میں بھی خیانت نہ کرو حالانکہ تم جانتے ہو

-Juz’ 9
.1. Asking Allah with his fine names and to avoid useless discussions.
* Quraan says: Al’aaraaf/180/ And (all) the Most Beautiful Names belong to Allah , so call on Him by them, and leave the company of those who belie or deny (or utter impious speech against) His Names. They will be requited for what they used to do

.2. To forgive and avoid ignorant people.
*Quraan says: Al’aaraaf/199/ Hold to forgiveness; command what is right; But turn away from the ignorant.

.3. Always seek refuge from Allah against all evil and satanic attacks.
*Quraan says: Al’aaraaf/ 200/ And if an evil whisper comes to you from Shaitan (Satan), then seek refuge with Allah. Verily, He is All-Hearer, All-Knower.

.4. Not to betray
*Quraan says: Alanfaal/ 27/ O ye that believe! betray not the trust of Allah and the Messenger, nor misappropriate knowingly things entrusted to you.

8th Part, Character Hints by Quraan

حصہ آٹھواں ، قُرآنِ پاک میں بیان کردہ شخصی اوصاف میں سے چند ایک ، اختصار کے ساتھ

5th part, A little effort to put down some good qualities of a character, described by the Holy Qura’an

-پارہ 8

-1- بھیڑ چال اور اکثریت کی پیروی نہ کرنا

– اِس دلیل کا شکار نہ ہونا کہ سب لوگ ایسا کرتے ہیں، لوگ معیار نہیں ہیں ، سند کا معلوم کرنا لازمی ہے، اندھا دھند تقلید نہیں کرنی چاہیئے

-سورۃ الانعام/ 116/وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ ۚ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَإِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُصُونَ

ترجمہ: اور اگر تو کہا مانے گا اکثر ان لوگو ں کا جو دنیا میں ہیں تو تجھے الله کی راہ سے ہٹا دیں گے وہ تو اپنے خیال پر چلتے اور قیاس آرائیاں کرتے ہیں۔

-2- شرحِ صدر ، ہدایت کی نشانی ہے

– سورۃ الانعام/ آیت 125/فَمَن يُرِدِ اللَّهُ أَن يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ ۖ وَمَن يُرِدْ أَن يُضِلَّهُ يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقًا حَرَجًا كَأَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِي السَّمَاءِ ۚ كَذَ‌ٰلِكَ يَجْعَلُ اللَّهُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ

ترجمہ: سو جسے الله چاہتا ہے کہ ہدایت دے تو اس کے سینہ کو اسلام کے قبول کرنے کے لیے کھول دیتا ہے اور جس کے متعلق چاہتا ہے کہ گمراہ کرے اس کے سینہ کو بے حد تنگ کر دیتا ہے گو کہ وہ آسمان پر چڑھتا ہے اسی طرح الله تعالیٰ ایمان نہ لانے والوں پر پھٹکار ڈالتا ہے۔

-3- مالِ یتیم پر لالچ کی نظر نہ رکھنا

-سورۃ الانعام/ آیت 152/وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ حَتَّىٰ يَبْلُغَ أَشُدَّهُ ۖ وَأَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ ۖ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۖ وَإِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوا وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَىٰ ۖ وَبِعَهْدِ اللَّهِ أَوْفُوا ۚ ذَ‌ٰلِكُمْ وَصَّاكُم بِهِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ

ترجمہ: اور سوائے کسی بہتر طریقہ کے یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچے اور ناپ اور تول کو انصاف سے پورا کرو ہم کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے اور جب بات کہو انصاف سے کہو اگرچہ رشتہ داری ہو اور الله کا عہد پورا کرو تمہیں یہ حکم دیا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو ۔

-4- معاملاتِ غیر میں دلچسپی نہ لی جائے

– دوسرے لوگوں کے معاملا ت میں دلچسپی نہ لی جائے اور نہ ہی بےجا دخل اندازی کی جائے کیونکہ ہر شخص اپنے عمل کا خود ذمہ دار اور جوابدہ ہے۔ کوئی نفس دوسرے کا بوجھ نہ اُٹھائے گا۔ دوسرے تک اچھی بات پہنچا کر اپنی راہ لینی چاہیے۔

– سورۃ الانعام/ آیت 164/ قُلْ أَغَيْرَ اللَّهِ أَبْغِي رَبًّا وَهُوَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ ۚ وَلَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ إِلَّا عَلَيْهَا ۚ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ ۚ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّكُم مَّرْجِعُكُمْ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ

-ترجمہ: کہہ دو کیا اب میں الله کے سوا اور کوئی رب تلاش کروں حالانکہ وہی ہر چیز کا رب ہے اور جو شخص کوئی گناہ کرے گاتو وہ اسی کے ذمہ ہے اور ایک شخص دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا پھر تمہارے رب کے ہاں ہی سب کو لوٹ کر جانا ہے سو جن باتو ں میں تم جھگڑتے تھے وہ تمہیں بتلاد ے گا

-5- مسجد کے لئے اہتمام کرنا

عبادت کے لئے مسجد جاتے ہوئے آرائش، صفائی اور پاکی کا اہتمام کرنا چاہیے

-سورۃ الاعراف/ آیت 31/يَا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ

-ترجمہ: اے آدم کی اولاد تم مسجد کی حاضری کے وقت اپنا اچھا لباس پہن لیا کرو اور کھاؤ اور پیئو اور حد سے نہ نکلو بے شک الله حد سے نکلنے والوں کو پسند نہیں کرتا

-Juz’ 8

1- Being a common trend is not a validity certificate. Not to follow the majority without authentication.

-Quraan says: Al-ana’am/116/And if you obey most of those upon the earth, they will mislead you from the way of Allah. They follow not except assumption, and they are not but falsifying

2- A muslim must be open hearted, easy-go and positive.

-Quraan says: Al anaam/125/ So whoever Allah wants to guide – He expands his breast to [contain] Islam; and whoever He wants to misguide – He makes his breast tight and constricted as though he were climbing into the sky. Thus does Allah place defilement upon those who do not believe.

3- Any property of an orphan must not be misused by some guardian.

-Quraan says: Al anaam/ 152/ And come not near to the orphan’s property, except to improve it, until he (or she) attains the age of full strength; and give full measure and full weight with justice. We burden not any person, but that which he can bear. And whenever you give your word (i.e. judge between men or give evidence), say the truth even if a near relative is concerned, and fulfil the Covenant of Allah. This He commands you, that you may remember

4- To keep one’s own business

-Quraan says: Al anaam/164/ Say, “Is it other than Allah I should desire as a lord while He is the Lord of all things?
And every soul earns not [blame] except against itself, and no bearer of burdens will bear the burden of another. Then to your Lord is your return, and He will inform you concerning that over which you used to differ.”

5- Being well-dressed while praying

-Quraan says: al a’araaf/ 31/ O Children of Adam! wear your beautiful apparel at every time and place of prayer: eat and drink: But waste not by excess, for Allah loveth not the wasters

MAY THE NEW YEAR BE A HAPPY ONE

سالِ نو 2016

انسان کی تمام تاریخ اور ارتقاء ، بہت سی لسانی اور نسلی اقسام پہ مشتمل ہے۔ کرہء ارض کے اردگرد انسانی جِلد کا رنگ بدلتا چلا جاتا ہے۔ انسانی تاریخ میں گُوناگوں زبانیں پائی جاتی ہیں اور خود ہر زبان کے بےشمار لہجے ہیں۔ مترجمین اور رابطہ کاروں کو ایک پیغام کو دوسری زبان اور دنیا کے دوسرے خطّے کے لئے قابلِ فہم بنانے میں بہت محنت کرنا پڑتی ہے۔ ڈب شدہ مواد کو ترجمہ کے کڑے عمل سے گزارا جاتا ہے۔ یہی معاملہ سب ٹائٹل یعنی تحریر کردہ ترجمے کا ہے۔

ترجمہ شدہ عالمی ادب بھی قارئین میں بہت پسندیدہ رہا ہے۔ ایک بار رنگا رنگ ادب کا ذائقہ منہ کو لگ جائے، تو پڑھنے والا بار بار اُسی لذت کی خواہش کرتا ہے۔

مختلف زبانوں، نسلوں اور معاشروں کو قریب لانے کے لئے ترجمے اور رابطے کی کوشش کے باوجود ہر انسان کے لئے جذبات و احساسات ، ایک سے ہیں۔

سب انسان ایک ہی طرح روتے ہیں۔

آنسوؤں کو ترجمے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کوئی بھی نسل ہو، سب کو درد ایک ہی جیسا ہوتا ہے۔ ہر انسان کے زخم سے خون ہی بہتا ہے اور دنیا کے سب انسانوں کا ، ہر فلم میں، ہر تحریر میں خون کا رنگ ، سُرخ ہی ہے۔ اِس بات سے قطع نظر کے وہ کیا زبان بولتی ہے، ہر عورت اپنے بچے کو اپنی کوکھ میں رکھ کر، درد سہہ کر، اِس دنیا پہ ایک نئی زندگی جنم دیتی ہے۔ ہر نومولود اپنی آبائی زبان سے انجان، اپنے خاندان کے اطوار و رسوم سے بےخبر روتا ہے۔ ایک بچے کی معصوم مسکراہٹ ہمیشہ قیمتی ہوتی ہے خواہ وہ کسی زبان کا کوئی لفظ بولنا نہ جانتا ہو۔

نفرت، لالچ، ظلم، رحمدلی، مہربان، مسکراہٹ اور محبت ، اِن سب کی اپنی مواصلاتی علامتیں ہیں، لسانیات اور زبان دانی سے پرے

. . . . .

ایک اور مشترکہ عمل، جس کا سب انسانوں کو مزہ چکھنا ہے، وہ موت کا عمل ہے۔ موت کا سامنا، ہر رنگ و نسل، قبیلے، قوم، خاندان اور نسل کو ہے، خواہ خطہء ارض پہ اُن کی کوئی بھی جگہ ہو، وہ کسی بھی جگہ ہوں۔

سو سادہ لفظوں میں، یوں کہہ لیجیئے کہ تمام انسانوں کا اندرونی سافٹ وئیر ایک ہی ہے چاہے ظاہری، زمانی اور مکانی اعتبار سے فرق بھی ہو۔

اللہ سے دعا ہے کہ، یہ اعدادی تبدیلی، یعنی2015سے2016، بہت سا سکون، اطمئنان، امن اور خوشی لے کر آئے، جو سرحدوں، نسلوں، زبانوں اور براعظموں کے قید سے آزاد ہو۔ کیونکہ انسان، کرہء ارض پہ کہیں کا بھی ہو ، اُسے ایک ہی طرح درد ہوتا ہے، اس کا ایک ہی طرح خون بہتا ہے، وہ ایک طرح محسوس کرتا اور مسکراتا ہے۔

دعا ہے کہ نیا سال خوشیاں اور آسانیاں لائے

سب کے لئے دِلی خواہشات

ثروت ع ج

THE YEAR 2016
rose in a book
Humans are divided in a diverse variety of languages and races. Skin colors vary around the globe. There are so many languages and every language has so many accents. It needs a lot of effort in the area of translation and correspondence to convey one message from one part of world to another. Dubbed content undergoes intense translation job to meet an exact impact in the re-produced work. Same is the case with the subtitling.

Translated foreign literature is majorly favorable among the readers. Once addicted to the immense variety of world literature, one desires for more of such festivities.

Despite all those translating and conversing steps that are taken to interconnect the humans of various languages and ancestry, feelings remain the same for every single human.

All humans cry in the same way.

Tears need not to be translated. Pain is equally suffered in the same way, whatever may be the race. All they bleed in the same way and human blood is always red in every part of world. A woman holds her child in her womb and bears labor pains to originate a new life on the planet, across all the continents, regardless of what she speaks in. A newborn cries with no specification of language, not knowing what is the color of his skin and whatever could be the rituals of his family for a newborn. A child’s smile is the most precious in every part of the world, even if he don’t knows to say any single word.
Hate, greed, cruelty, jealousy, generosity, kindness, smile and love have their own communication codes, that are beyond the limitations of linguistics and languages.

Another common phenomenon, that all humans face equally, is the end of life. Death is faced by each and every tribe, nation, family and ancestry of humans, whatever may be their location on the planet.

So, in simple words, let me put down, that all humans have a similar software inside, even if the hardware, location, language is different.
May this change in digit, that is, 2015 to 2016, brings a universal tranquility, contentment, peace and happiness, transcending beyond the limits of borders, races, languages and continents, because the man hurts, bleeds, feels and smiles in the same way throughout the globe.
MAY THE NEW YEAR BE A HAPPY ONE.
MY HEARTILY WISHES FOR ALL
Sarwat AJ

fa43d9e8606cfe72a28af59d68809d351

6th Part, Character Guidelines by Qura’an

حصہ چھٹا، قُرآنِ پاک میں بیان کردہ شخصی اوصاف میں سے چند ایک ، اختصار کے ساتھ

-6th part of/A little effort to put down some good qualities of a character, described by the Holy Qura’an.

-پارہ 6:

-1- بدی کے ذکر سے گریز

– بُری بات/کام کے اعلانیہ ذکر سے بچا جائے، اگر معلوم ہو تو بھی ذکر نہ کریں، صرف ایک صورت کے علاوہ کہ بدی کے ذکر سے مظلوم کی مدد کرنا مقصود ہو

-سورۃ النساء / آیت 148/

لَّا يُحِبُّ اللَّہ الْجَہرَ بِالسُّوءِ مِنَ الْقَوْلِ إِلَّا مَن ظُلِمَ ۚ وَكَانَ اللَّہ سَمِيعًا عَلِيمًا

ترجمہ: الله کو کسی بُری بات کا ظاہر کرنا پسند نہیں مگر جس پر ظلم ہواہو اور الله سننے والا جاننے والا ہے

-2- تمام نبیوں کا احترام اور بےجا بحث سے پرہیز

-اس موضوع پہ مسلمان اُن معلومات پہ موقوف رہیں جو اللہ اور اُس کے نبیﷺ کے ذریعے حاصل ہوئیں اور لاحاصل بحث میں نہ پڑیں

– سورۃ النساء / آیت 150 /

إِنَّ الَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِاللّہِ وَرُسُلِہِ وَيُرِيدُونَ أَن يُفَرِّقُوا بَيْنَ اللَّہِ وَرُسُلِہِ وَيَقُولُونَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَكْفُرُ بِبَعْضٍ وَيُرِيدُونَ أَن يَتَّخِذُوا بَيْنَ ذَ‌ٰلِكَ سَبِيلً

ترجمہ: بے شک جو لوگ الله اور اس کے رسولوں کے ساتھ کفر کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ الله اوراس کے رسولوں کے درمیان فرق رکھیں اور کہتے ہیں کہ ہم بعضوں پر ایمان لائے ہیں اور بعضوں کے منکر ہیں اور چاہتے ہیں کہ کفر اور ایمان کے درمیان ایک راہ نکالیںً

-3- پاکی کا اہتمام کرنا اور پاکی اختیار کرنا

– وضو اور تیمم کے مسائل کا حکم بتایا گیا تاکہ مسلمان ہر حالت اور مقام پر پاکیزگی حاصل کرسکے

– سورۃ المائدہ/ آیت 6/

يَا أَيُّہَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوھَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ۚ وَإِن كُنتُمْ جُنُبًا فَاطَّہَّرُوا ۚ وَإِن كُنتُم مَّرْضَىٰ أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِّنكُم مِّنَ الْغَائِطِ أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوہَكُمْ وَأَيْدِيكُم مِّنْہُ ۚ مَا يُرِيدُ اللَّہُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُم مِّنْ حَرَجٍ وَلَـٰكِن يُرِيدُ لِيُطَہِّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَہُ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ

ترجمہ: اے ایمان والو! جب تم نماز کے لیے اٹھو تو اپنے منہ دھو لو اور ہاتھ کہنیوں تک اور اپنے سروں پر مسح کرو اور اپنے پاؤں ٹخنوں تک دھو لو اور اگر تم ناپاک ہو تو نہا لو اور اگرتم بیمار ہو یا سفر پر ہو یا کوئی تم میں سے جائے ضرورت سے آیا ہو یا عورتوں کے پاس گئے ہو پھر تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کر لو اور اسے اپنے مونہوں او رہاتھوں پر مل لو الله تم پر تنگی کرنا نہیں چاہتا لیکن تمہیں پاک کرنا چاہتا ہے اور تاکہ اپنا احسان تم پر پورا کرے تاکہ تم شکر کرو

-Juz’u 6
-1. One must avoid to describe any evil, bad or mischievous things. Bad must not be a topic of discussion except one case that is to report some one’s suffering.
-Quraan says: Alnisa/ 148/ Allah does not like that the evil should be uttered in public except by him who has been wronged. And Allah is Ever All-Hearer, All-Knower.

-2. Respecting all the messengers of Allah, accordingly as they are described in Quraan, without unnecessary debate and discussion on unclear details.
-Quraan says: Alnisa/ 150/ Verily, those who disbelieve in Allah and His Messengers and wish to make distinction between Allah and His Messengers (by believing in Allah and disbelieving in His Messengers) saying, “We believe in some but reject others,” and wish to adopt a way in between

-3. Adopting cleanliness and neatness through wuzu, in the specified cases and to rely on Tayam-mum, if certain conditions do apply and water is not available.
-Quraan says: Al maida/ 6/ O you who believe! When you intend to offer As-Salat (the prayer), wash your faces and your hands (forearms) up to the elbows, rub (by passing wet hands over) your heads, and (wash) your feet up to ankles . If you are in a state of Janaba (i.e. after a sexual discharge), purify yourselves (bathe your whole body). But if you are ill or on a journey, or any of you comes after answering the call of nature, or you have been in contact with women (i.e. sexual intercourse), and you find no water, then perform Tayammum with clean earth and rub therewith your faces and hands. Allah does not want to place you in difficulty, but He wants to purify you, and to complete His Favour to you that you may be thankful

4th Part/ A Glimpse of Character Sketch by Qura’an

حصہ چوتھا، قُرآنِ پاک میں بیان کردہ شخصی اوصاف میں سے چند ایک ، اختصار کے ساتھ

4th part /A little effort to put down some good qualities of a character, described by the Holy Qura’an

-پارہ4:

-1- مسلمانوں میں باہم اتحاد ہونا

-اللہ پر ایمان لانے کے بعد آپس میں اتحاد قائم کرنا کیونکہ انسانوں کا تعلق، اللہ کے احکامات کے مطابق ہی، درست سمت میں پروان چڑھ سکتا ہے۔ تقویٰ کے ساتھ اتحاد کا حکم اِس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ سے ڈرنے والے ہی اتحاد کے باہمی تقاضے پورے کرسکتے ہیں۔

-سورۃ آلِ عمران / آیت 102-103/ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ- وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا ۚ اے ایمان والو الله سے ڈرتے رہو جیسا اس سے ڈرنا چاہیئے اور نہ مرد مگر ایسے حال میں کہ تم مسلمان ہو٭ اور سب مل کر الله کی رسی مضبوط پکڑو اور پھوٹ نہ ڈالو

-2- بھلے کاموں کی دعوت دینا اور برائیوں سے روکنا

-ایمان والوں کو مخاطب کرکے بتلادیا گیا کہ فلاح اور کامیابی کے لئے لازم ہے کہ اِن میں سے کچھ لوگ ایک اہم ذمہ داری نبھاتے رہیں اور یہ ذمہ داری نیکیوں کی دعوت دینے ، بھلائیوں کو عام کرنے اور بُرے کاموں سے روکنے کی ہے۔

-سورۃ آلِ عمران/ 104/ وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ ۚ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ/اور چاہیئے کہ تم میں سے ایک جماعت ایسی ہو جو نیک کام کی طرف بلاتی رہے اوراچھے کاموں کا حکم کرتی رہے اور برے کاموں سے روکتی رہے اور وہی لوگ نجات پانے والے ہیں۔

-3- یتیموں کے مال کی حفاظت کرنا

قرآن حکم دیتا ہے کہ یتیموں کا مال انھیں ایمانداری سے دے دیا جائے اور اُن کے مال میں سے اچھی چیز کے بدلے بُری چیز نہ ڈال دی جائے ، اور نہ ہی ان کے مال کو اپنے مال میں شامل کرنے کی گناہ گارحرکت کی جائے۔

-سورۃ النساء / آیت 2/ وَآتُوا الْيَتَامَىٰ أَمْوَالَهُمْ ۖ وَلَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِيثَ بِالطَّيِّبِ ۖ وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَهُمْ إِلَىٰ أَمْوَالِكُمْ ۚ إِنَّهُ كَانَ حُوبًا كَبِيرًا/ اوریتیموں کوان کے مال دے دو اور ناپاک کو پاک سے نہ بدلو اور ان کے مال اپنے مال کے ساتھ ملا کر نہ کھا جاؤ یہ بڑا گناہ ہے۔

-4-باہم عزتوں کا احترام کریں اور معاشرے کی بنیادی اکائی یعنی نکاح کی حُرمت اور تقدس کا خیال رکھا جائے، اللہ کی مقرر کردہ حدود کی پاسداری کی جائے

-سورۃ النساء/ آیت13/ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ ۚ وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ وَذَ‌ٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ/ یہ الله کی باندھی ہوئی حدیں ہیں اور جو شخص الله اور اس کے رسول کے حکم پر چلے اسے بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ان میں ہمیشہ رہیں گے اور یہی ہے بڑی کامیابی

-5-“جو ہو چکا سو ہو چکا ” کا اصول اپنائیں

-ایک بات سمجھادی گئی کہ اللہ اُن باتوں سے درگزر فرماتا ہے جو مخصوص حکم آنے سے پہلے سرزد ہوچکی ہیں ۔ اُن باتوں پر گرفت نہ ہوگی چنانچہ ایک مسلمان کو بھی پرانی اور گزری باتوں سے درگزر کرنا چاہیئے۔ اپنے دل میں بہت پرانے گِلے شکوے اور شکایتیں جمع نہیں رکھنی چاہیئں۔ یہ زیادہ آسانی دینے والی بات ہے۔

-سورۃ النساء/ آیت23/ ( – – – ) إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا/مگر جو پہلے ہو چکا بے شک الله بخشنے والا مہربان ہے

Chapter 4:
1. The believers of Allah must be united.
Belief on Allah is the main unifying force for the believers.
Quran says: Aal e Imran/ 102,103/ O you who believe! be careful of (your duty to) Allah with the care which is due to Him, and do not die unless you are Muslims. And hold fast, all of you together, to the Rope of Allah (i.e. this Qur’an), and be not divided among yourselves
2. A Muslim must be promoting good deed, and must be stopping, denying and discouraging the evil and bad deeds.
Quran says: Aal e Imran/ 104/And from among you there should be a party who invite to good and enjoin what is right and forbid the wrong, and these it is that shall be successful.
3. Taking very good care of orphans.
If an orphan is under some one’s custody, there by the custodian have to be fair in handing over the inherited money of that orphan.
Quran says: Al nisa/ 2/ And give unto orphans their property and do not exchange (your) bad things for (their) good ones; and devour not their substance (by adding it) to your substance. Surely, this is a great sin.
4. Mutual respect and honour for relations and social ties, is guided through many laws and codes.
Quran says: Al Nisa/ 13/ Those are limits set by Allah: those who obey Allah and His Messenger will be admitted to Gardens with rivers flowing beneath, to abide therein (for ever) and that will be the supreme achievement
5. Adopting the habit of “letting it go”
Quran tells us: Al nisa/23/ except what hath already happened (of that nature) in the past. Lo! Allah is ever Forgiving, Merciful.

بچپن کے روزے

بچپن کے روزے

بہت عزیز نورین تبسم کے چاہت بھرے حکم پہ ہمت باندھی کہ ذہن کے تہہ خانے میں جاکر ، بچپن کی یادداشتوں والا صندوق کھولوں اور پہلے روزے کے حوالے سے یادیں باہر نکال لاؤں۔ بچپن ، اور بچپن کی یادوں والا صندوق انسان کے شعوری اثاثوں میں سب سے خوشنما اور مضبوط بکسا ہوتا ہے۔ جس قدر یہ بکس مضبوط ہوتا ہے، اُسی مضبوطی سے ہم اِسے بند رکھتے ہیں، ورنہ شاید کبھی کوئی زندگی میں، بچپن سے آگے نہ بڑھ سکے۔ اردو بلاگرز کی انوکھی روزہ رکھوائی و کُشائی پارٹی، بچپن کی حسین اور میٹھی یادوں سے جگمگارہی ہے۔

خیر تمام یادیں کنگھالنے کے بعد پتہ چلا کہ . . . . . پہلے روزے کے نام کی کوئی بھی بات یاد نہیں۔ اِس کے ساتھ ہی یہ سب سوچیں بھی ذہن میں آئیں کہ اب یہ ایسا معاملہ ہے کہ . . . . . . . . جسے گوگل بھی نہیں کیا جاسکتا، نہ وکی پیڈیا پہ اِس بات کا سراغ ملے گا ، نہ ہی اُس وقت انسٹاگرام تھا کہ اماں ابا نے پہلی بیٹی کی پہلی افطاری کی تصویر بنائی ہوتی، یا بہت محتاط بھی ہوتے (جو کہ وہ تھے اور ہیں) تو محض افطاری والے دسترخوان کا عین اوپر والا ، عمودی شاٹ ہوتا یا شاید ساتھ میں میرا بچکانہ سا ہاتھ دھرا ہوتا ۔

اِن ناممکنات کے بعد صرف ممکنہ صورتوں پہ توجہ مرکوز کی تو چند متفرق ،بکھری اور قیمتی تصویریں ہاتھ لگیں جو یقیناََ پہلے روزے کی تو نہیں لیکن . . . . دُور پار کے اُس سنہرے بچپن کی ہیں جب ریاست ہی اپنی ہوا کرتی تھی اور سکّہ بھی اپنا ہی چلتا تھا۔

ایک جھلکی کہ سکول میں چھُٹی کا وقت ہے اور میں کینٹین سے فروٹ ٹیلا (وہی جو، اب بھی ملتی ہے) خرید رہی ہوں، جو کہ اُس دن روزے میں بہت یاد آئی تھی اور خود کو حوصلہ اور روزے کا انعام دینے کی خاطر ہنگامی فیصلہ کیا کہ اِسے افطاری کے لئے خرید کر ہی گھر جانا ہے۔

ایک اور یاد . . . . رمضان میں امّی کی کوشش ہوتی تھی کہ ہر روز مسجد میں افطاری ضرور بھیجی جائے۔ کبھی میری ڈیوٹی لگتی اور وقت کم رہ جاتا تو ہوا کی طرح بھاگتے ہوئے جانا اور آنا ہوتا اور اِس دوران راستے میں آنے والی رکاوٹوں (لوگوں کے گھروں کے گیٹ کی سیڑھی، فٹ پاتھ وغیرہ) کو پھلانگ پھلانگ کے عبور کرنا اور آناََ فاناََ دسترخوان پہ پہنچنا ۔ ایسا کرتے ہوئے ذہن میں خیال آتا کہ کبھی کارٹون والے سپر مین کی طرح اُ ڑنے کی پاورز ہوتی تو کیا ہی بات ہوتی۔ خیر اب بھی کچھ کسر نہیں تھی۔

سعودی عرب میں کام کرنے والوں کے اوقاتِ کار رمضان میں آٹھ سے چھ گھنٹے کردئیے جاتے ہیں تو . . . . ابّو کا گھر پہ زیادہ وقت گزرتا اور ہم بچوں کے لئے ایک تہوار کا سماں ہوتا ۔ ابو عصر کی نماز پڑھ کر آتے ، پھر بڑے سے کچن میں بچھے کارپٹ پہ ہی دسترخوان بچھا کر افطاری کی تیاری کا کام شروع ہوجاتا۔ ابو بہت شوق سے فروٹ چاٹ بنانے میں شامل ہوتے، کبھی پھل چھیل کر دیتے ، کبھی خود کٹنگ بورڈ سنبھالتے، بار بار امی سے کہتے: دیکھنا جی، میرا خیال سیب کافی رہیں گے، یا تُسی ایس ڈونگے وچ چینی تے ہور مصالحہ پا دیو ( آپ اس ڈونگے میں چینی اور باقی مصالحہ ڈال دیں) ، امی وہیں سامنے چولہے پر کڑاہی سے پکوڑے نکالتیں، ذرا دیر کو اِدھر آتیں، کچھ بتا جاتیں، یا نمک، کالی مرچ اور کلونجی پیس کے ڈال جاتیں۔ ایک بہن شربت پہ مامور ہوتی ، تو دوسری چٹنی بنارہی ہوتی۔

اِسی دوران سب باتیں جاری ہوتیں، مشورے، نصیحتیں، حکایتیں، رمضان کے فضائل، قصص الانبیاء، کالم، تفسیر، ہسپتال میں آج کیا ہوا، دوسرے ڈاکٹرز کی باتیں، کسی مریض کا ماجرا اور بچوں کو ڈانٹ شانٹ ، سب ۔ ایسی ہی اکثر نشستوں میں ابو اپنی پسندیدہ دعا کا مفہوم سمجھایا کرتے :

رَبَّنا اٰ تِنا فِی الدُّنیا حَسَنَۃََ وَ فی الآخِرۃِ حَسَنَۃََ و قِنا عذابَ النَّار

کہ دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی اور ابدی نجات ، سب ایک ہی دعا میں شامل ہوگئے۔

پھر وہیں افطار کی تیاری کا منظر بدل کر افطاری چُن دی جاتی، اِفطار کے بعد ابو اور بھائی مسجد چلے جاتے اور ہم گھر پہ نماز پڑھ لیتے۔ مردوں کے مسجد جانےکے بعد اگر کوئی بچہ کچھ کھانے لگتا تو امی کو اچھا نہ لگتا کہ آپ کے ابو بھی تو نماز پڑھنے گئے ہیں۔ نماز کے بعد افطاری کا دوسرا حصہ عمل میں آتا ، جس بہن کی برتن دھونے کی باری ہوتی ، وہ سِنک پہ پہنچ جاتی یا پہنچا دی جاتی۔

کچھ دیر آرام کے بعد عشاء کی تیاری شروع ہوجاتی، ابو ہسپتال کے لئے کپڑے بدل لیتے،ہم سب اکٹھے مسجد جاتے، ابو عشاء اور تراویح کے بعد وہیں سے ہسپتال چلے جاتے اور باقی گھر کو لوٹتے۔ صبح نو سے بارہ اور رات کو بھی نو سے بارہ ابو کی ڈیوٹی کا ٹائم ہوا کرتا تھا۔ تراویح کے لئے ہر مسجد میں خواتین کے لئے اہتمام کیا جاتا، ہم کبھی کبھار خصوصی طور پر شیخ احمد العجمی کی مسجد میں جاتے اور رُوح پرور تلاوت کے ساتھ تراویح ادا کرتے۔

مسجد میں چھوٹے بچوں والی خواتین کی وجہ سے خُوب رونق رہتی، بچوں کو جماعت کے دوران پچھلی خالی صفوں میں کھُلی آزادی حاصل ہوتی، جماعت کے دوران پیچھے اولمپک کی جھلکیاں چلتیں اور تشہد کے شروع ہوتے ہی سب بچے مؤدب بن کے بیٹھ جاتے۔ سعودی خواتین اور خاص طور پر گھرہستن اور بڑی عمر کی اکثر پانی کے کُولر اُٹھائے یا اُٹھوائے چلی آرہی ہوتیں۔ساتھ میں کاغذی (ڈسپوزیبل) گلاس اور کوُلر میں فلیورڈ پانی، عرقِ گلاب، زھری اور کھجور کی چھال کے عرق والا بھی پیا جو پینے میں اچھا سا لگتا ۔ وہ اُس کو ہاضمے کے لئے مفید بتایا کرتیں۔

وقت بِیت گیا ، یہی زمانے کی روایت ہے،سب بہنیں اور بھائی دنیا اور آخرت کی بھلائیوں سے مالا مال ہوں، اللہ تعالیٰ امی کو اپنی حفاظت میں رکھے اور صحت تندرستی کے ساتھ اولاد کی خوشیاں نصیب ہوں، اللہ تعالیٰ ابو کے درجات بلند کرے،اُنھیں اپنی خصوصی رحمت سے نوازےاور ہمیں ا ُن کے لئے صدقہءجاریہ بننے کی توفیق ، ہمت اور آسانی عطا فرمائے۔